تازہ ترین

کون کٹھ پتلی ہے ایوانِ تماشہ کس کا؟

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے ایودھیا معاملے میں متنازعہ فیصلہ سنا کر جو لکیر کھینچی تھی وہ اب بڑی ہوتی جا رہی ہے۔ یہ بتانے کی چنداں ضرورت تو نہیں، لیکن آموختہ کوئی بری چیز بھی نہیں ہے، ا س لیے یہ یاد دلا دیتے ہیں کہ فیصلہ سنائے جانے سے قبل کس طرح ایک ماحول بنایا گیا تھا اور پورے ملک میں یہ پرچار کیا گیا تھا کہ عدالت جو بھی فیصلہ سنائے گی اسے عوام تسلیم کریں گے۔ مسلم رہنماؤں اور سرکردہ شخصیات سے بار بار یہ بیان دلوایا جا رہا تھا کہ اگر ہمارے خلاف بھی فیصلہ آیا تب بھی ہم مانیں گے۔ اس طرح اس وقت ملک میں ایک ایسی فضا بنا دی گئی تھی جیسے ملک کے دو بڑے فرقوں نے ماضی کی اپنی تمام تلخیوں کو پس پشت ڈال کر اور رام مندر کے نام پر چلائی جانے والی تحریک کے نتیجے میں ہونے والی خوں ریزی کو بھلا کر آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جب عدالت عظمیٰ نے فیصلہ سنانا شروع کیا تو ساری باتیں باب

ماہ ِ رمضان اورکورونالاک ڈائون! | خالق کائنات ہم سے اتنے روٹھے کیوں ہیں؟

کرونا وائرس !اک ایسی وباء جو چین کے شہر وہان سے دندناتی انسان جانوں کو ختم کرتے ہوئے پوری دنیا میں ملک الموت کی طرح ابھی بھی منڈلا رہی ہے،پہلے پہل تو اِس خونخوار وبا ء نے دنیا بھرمیں اِس طرح کا خوف بپا کر دیا کہ انسان گھروںمیںقیدی ہو کر رہ گیا۔رب ِ کائنات کے جلال کے سامنے اچھے بھلے،چست تندرست انسان معذور ہو کر رہے گئے، خدائی دعوے کرنے والے ممالک اک نظر ناآنے والے وائرس کے سامنے بے بس ہوگئے، تمام تر ٹیکنالوجی بیکار ثابت ہوئی۔ ایسے میںبیشتر ممالک نے وبا سے بچنے کیلئے لاک ڈائون کا اہتمام کیا، جو جہاںتھا وہیں کا ہو کر رہ گیا۔ اِسی طرزعمل کو اپناتے ہوئے ملک ِ ہندوستان میںارباب ِ حل و عقد نے بھی آؤ دیکھا نہ تاؤ اک دم سے لاک ڈائوں کا اعلان کر دیا۔لاک ڈائون کے اِ س اچانک اعلان سے کتنی مصیبتیں جھیلنی پڑیں یہ سب ہمارے سامنے اک کھلی کتاب ہے۔گزشتہ برس کے لاک ڈائون اور رواں برس کے لاک ڈاؤن میں

ابوبکرمحمدبن زکریارازی | عظیم سائنس داں،مشہورِ عالم طبیب اور نفسیاتی معالج

رازی عظیم سائنسداں ہی نہیں ، کثیرالمطالعہ مفکر اور فلسفی بھی تھے۔ انہوں نے یونان کی تمام کتابوں کا مطالعہ کیا تھا۔ نیز وہ اپنے پیشرئوںکی کتابوں سے بھی آگاہ تھے۔وہ حریت ضمیر اور آزادی فکر کے قائل تھے۔ متاخرین کو متقدمین پر فوقیت دیتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ متاخرین کے پاس متقدمین کا علم بھی ہوتا ہے۔ وہ افلاطون کو ارسطوپر فوقیت دیتے تھے اور اپنے آپ کو افلاطون اور ارسطو دونوں سے برتر سمجھتے تھے ۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ فلسفہ میں سقراط اور طب میں بقراط کے ہم پایہ ہیں۔  رازی کسی بات کو صرف اس لئے صحیح نہیں سمجھتے تھے کہ اسے اگلے کہہ گئے ہیں یا کوئی یونانی فلسفی اسی کا قائل رہا ہے۔ وہ کسی چیز کو اسی وقت صحیح مانتے تھے جب تجربے اور مشاہدے سے اس کی تصدیق ہوتی تھی۔ انہوں نے ارسطو پر تنقید کی اور ان کے بعض نظریات مسترد کردئے۔ جالینوس پر اعتراضات کئے اور ان کی غلطیوں کی نشاندہی کی۔ ماہر

روزہ اور حصولِ تقویٰ… چند احکام و مسائل

نزولِ قرآن کیلئے ماہِ رمضان کا انتخاب ماہِ رمضان کو ایک فضیلت یہ بھی حاصل ہے کہ اس مہینے میں قرآن کا نزول ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے(شَھْرُرَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰںُ ھُدًی لِّلْنَاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَان)’’رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن اُتارا گیا جو لوگوں کے لئے سراسر ہدایت ہے‘اورجس میںہدایت کی اور (حق وباطل میں ) فرق کرنے کی واضح دلیلیں ہیں۔ ایک اور جگہ پر یوں ارشاد ہوا ہے’’اِنِّااَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ‘‘’’بے شک ہم نے اس(قرآن)کو قدر والی رات میں اُتارا‘‘۔ اِن آیات کے معنی اور مفہوم میں اکثر علماء نے سکوت اختیار کیاہے۔امام ابنِ کثیر ؒنے البتہ ابنِ عباس ؓ کے حوالے سے رقم کیا ہے کہ رمضان کے مہینے میں قرآن آسمان سے بیت العزت کی طرف نازل ہوا اور پھر وہاں

’ حضرت بل ‘ باغ صادق آباد

مغل حکمرانی کے ساتھ اتفاق اور اختلاف کی گنجائش ہوسکتی ہے لیکن ان کی حسن نظر کے بارے میں کوئی دو رائے نہیں۔ مغلوں نے اپنے دور میں جو خوبصور ت عمارات ،باغات ، محلات اور قلعے تعمیر کئے ہیں،ان کی اب تک کوئی مثال نہیں اور ان سب  بے انتہا حسین تعمیرات کی روح ’’تاج محل‘‘ آگرے کے سینے پر آج بھی لافانی حسن اور ابدی چاہت کی ایک لازوال ، بے مثال اور حسن و عشق کے چشموں کی آماجگاہ انسانی عقول اور نئی ٹیکنالوجی کو بھی محو حیرت کئے ہوئے ہے ۔اس طرح یہ حسن پرستی اور حسن پرستانہ نگاہ کشمیر میں  اپنے شباب کو چھوگئی اور عام لوگ صرف کچھ بین ا لاقوامی شہرت کے باغات کے نام سے واقف ہیں لیکن یہاں سینکڑوں ایسے باغات اور تعمیرات ہیں جن کے نام سے بھی ہم واقف نہیں ۔یک ایسا ہی با غ ، باغ صادق آباد بھی ہماری تاریخ کی ایک بھولی بسری یاد ہوتی لیکن اللہ نے امیر صادق خان کے اس باغ ک

خیراتی اداروں کی جوابدہی

گزشتہ فروری میں کمشنر سیکریٹری منوج کمار دِویدی کی طرف سے ایک حکم نامہ جاری کیا گیا۔ اس میں تمام خیراتی اداروں، فلاحی انجمنوں اور دیگر غیرسرکاری تنظیموں کو 31 مارچ تک مطلوبہ کاغذی کاروائی مکمل کرنے کو کہا گیا۔حکم نامے میں بتایا گیا تھا کہ باریک تفتیش کے بعد معلوم ہوا ہے کہ اکثر ادارے ضروری ضوابط کی خلاف ورزی میں نہ تنظیمی ڈھانچے کے لئے انتخابات کرتے ہیں، نہ وہ رجسٹریشن کی تجدید کرواتے ہیں اور نہ ہی مالی معاملات کی تفصیل مشتہر کرتے ہیں۔ اس حکمنامے انتباہ دیا گیا کہ مطلوبہ کاغذی کاروائی نہ کرنے کی پاداش میں ایسے اداروں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔  راقم نے گزشتہ برس ان ہی سطور میں عرض کیا تھا ہر چہار سو گاڑیوں پر لائوڈ سپیکر لگا کر متعدد انجمنیں لوگوں کا جذباتی بلیک میل کرکے اْن سے پیسے اینٹھتے ہیں اور بچارے معصوم لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ اپنے لئے جنت خرید رہے ہیں۔ اور یہ سل

بے قراری کا سبب بننے لگی دانشوری

دانشوری کا ابدی تعلق دانش ، عقل ، فہم، حکمت، دانائی، ذہانت اور علم سے ہے ۔ یعنی جب بندۂ خداحکمت سے کام لیتا ہے تو دانشور کہلایا جا سکتا ہے ۔اب یہ حکمت مختلف معنوں میں استعمال کی جا سکتی ہے ۔کبھی حکمت حماقت اور چالاکی یا مکاری کا اشتراک ہوتی ہے اور کبھی یہ دانائی مقرر کردہ اصولوں کو توڑنے کانام ہوتی ہے ،چاہئے جو بھی ہو دانشوری ہی کہلائی جاتی ہے ۔ ؎ ہمارے لوگ اسیران شعبدہ بازی ہمارے شہر میں دانشوری کا رونا ہے …(محسن جلگانوی ) دانشوری کا استعمال ہر شخص اپنی استعداد اور فہم و فراست کے مطابق کرتا ہے ۔ایک عام انسان کی دانشوری اس سب میں پنہاں ہے کہ وہ اپنی بات دوسروں تک بڑی وضاحت کے ساتھ عیاری کے انداز میں پہنچائے اور اس کی رسائی کے انداز بھی منفرد ہوتے ہیں۔ کبھی دوسرے لوگوں کی تعریف کر کے ،کبھی کچھ لوگوںکی برائی کر کے، کبھی مخالفین کی نکتہ چینی کر کے اور کبھی نہایت بے چا

’آخرمیں ہی کیوں‘

مولانا ابواکلام آزاد کی شہرۂ آفاق کتاب ’’غبارِ خاطر‘‘ چند سال قبل تحفے میں ملی ۔اس کا مطالعہ کیا تو میں کافی متاثر ہوا ۔اس کتاب میں مولانا نے ایک جگہ لکھا ہے کہ اصل عیش دماغ کا عیش ہے۔یعنی اگر انسان کے پاس عالیشان مکان ہو،مہنگی گاڑیاں ہو،لذیذ پکوان ہو لیکن ان سب کے باوجود وہ ذہنی انتشار میں مبتلا ہو تو وہ ’عیش‘ اُس کے کسی کام کے نہیں ۔اس کے برعکس اگر انسان کے پاس یہ سب چیزیں نا بھی ہو لیکن ذہنی سکون میسر ہو تو اصل عیش اُسی کے پاس ہے۔حالات کی چکی میں ہم گزشتہ چند سال سے اس طرح پِس گیے ہیں کہ یہ ’اصل عیش‘ کی دولت ہم سے چھِن چکی ہے۔راقم الحروف بھی  چند روز قبل ایک عجیب ذہنی کیفیت میں مبتلا ہوا۔چنانچہ نیم بے خودی کے عالم میں میں نے جھیل ڈل کا رخ کیا ۔درگاہ حضرت بل سے میں نے پیدل سفر شروع کیا اور نشاط پہنچ گیا۔حالانکہ میں باغ کے اندر ت

عظیم مہینہ اُمتِ مُسلمہ پرسایہ فگن

رسول اللہ ﷺ کا یہ معمول تھا کہ رمضان آنے سے پہلے آپ لوگوں کے ذہن استقبالِ رمضان کے لیے تیار کرتے تھے تا کہ اس عظیم مہینے سے پوری طور فائدہ اٹھا سکیں۔ احادیث میں ایسے خطبوں کا تذکرہ آتا ہے، جو خاص اس مقصد کے لیے آپﷺ نے رمضان کی آمد سے پہلے دئے ہیں۔ خاص طور پر وہ خطبہ مشہور ہے جو شعبان کی آخری تاریخ کو دیا گیا ہے، یہ نہایت ہی طویل اور مشہور خطبہ ہے اور اس کے راوی حضرت سلمان فارسیؓ ہیں، اس خطبہ میں آپ ؐ نے یہ خوش خبری دی ہے کہ : تم لوگوں پر جلد ہی ایک عظیم مہینہ سایہ فگن ہونے والا ہے، اس مہینے کی عظمت اور فضیلت کے مختلف پہلو پیش فرمائے۔ اس میں روزے کے فیوض و برکات کا ذکر فرمایا تاکہ لوگ اچھی طرح پورے ذوق و شوق کے ساتھ کمر بستہ ہو جائیں۔ خوش نصیب ہے وہ شخص جس کو پھر سے رمضان کی ساعتیں میسر آئیں۔ اور انتہائی بد نصیب ہو گا وہ جسے یہ ماہِ مبارک ملے اور وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ رم

فکری اختلاف…متوازن رویہ

غلبہ دین کے بارے میںغامدی صاحب لکھتے ہیں؛’رسالت یہ ہے کہ نبوت کے منصب پرفائزکوئی شخص اپنی قوم کے لئے اس طرح خداکی عدالت بن کرآئے کہ اس کی قوم اگراسے جھٹلادے تواس کے بارے میںخداکافیصلہ اسی دنیامیںاس پرنافذکرکے وہ حق کاغلبہ عملََااس پرقائم کردے:’’اورہرقوم کے لئے ایک رسول ؑہے ۔پھرجب ان کاوہ رسولؑ آجائے توان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیاجاتاہے اوران پرکوئی ظلم نہیںکیاجاتا۔‘(یونس۴۷) رسالت کایہی قانون ہے جس کے مطابق خاص نبیﷺکے بارے میںقرآن کاارشادہے:ـ’وہی ہے جس نے رسولؑ کوہدایت اوردینِ حق کے ساتھ بھیجاکہ اسے وہ(سرزمین عرب کے)تمام ادیان پرغالب کردے۔‘(الصف ۹)۔۔۔‘(میزان۷۲) قرآنی آیات سے استدلال کرکے ان کامانناہے کہ اظہارِدین رسولوںکے ساتھ خاص تھااوریہ دلیلِ نبوت میںسے ہے۔امتِ مسلمہ کویہ کام نہیںسونپاگیاہے۔امت کاکام شہادتِ حق اورانذارِ

مرحبا اے شہرالقرآن مرحبا

 اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’رمضان وہ مہینہ ہے ، جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے ، جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہے‘‘۔(185:02) ماہ رمضان ہم پرسایہ فگن ہورہا ہے اور اس کی آمد امت مسلمہ کے لئے باعث مسرت وتسکین ہے۔اس ماہ کی عظمت کا اعتراف یقینی ہے جہاں نیکیاں آسان اور برائیاں مشکل ہوتی ہیں،جہاں نفل کا ثواب فرض کے برابر کردیا جاتا ہے اور فرائض کا ثواب ستر گنا زیادہ،یہ مبارک ساعتیں جس میں شیطان زنجیروں میں جکڑ دئیے جاتے ہیں اور رحمت خداوندی اپنے عروج بالا پر ہوتی ہے۔موسلا دھار بارش کی مانند برستی رحمت،برکت،مغفرت کی بوندیں ہر آن مومنین کو بشارت و خوشخبری کی نوید سناتی ہیں۔ جس ماہ کی ایک رات کو ہزار مہینوں سے بہتر کہا گیا۔جو رات اتنی افضل ترین ہ

سیاحتی شعبے کی ترویج و ترقی ٹھیک لیکن۔۔۔؟

سال2016 کے بعد2019کے حالات اور 2020میں کورونا بحران کی وجہ سے پیدا صورتحال کے نتیجے میں پہنچے پے در پے دھچکوں کے بعد رواں برس کے آغاز میں وادی کشمیر کی سیاحتی صنعت اب لگتا ہے کہ پٹری پر آنے لگی ہے۔متعلقین کے دعوے صحیح مانے جائیں تو اس سال ابھی تک کم و بیش ڈیڑھ لاکھ سیاح وادی کشمیر میں وارد ہوئے ہیں۔ ان میں اگر چہ غیر ملکی سیاح برائے نام تھے ،لیکن پہلے گلمرگ میں سرمائی کھیلوں میں بھاری شرکت اور بعد میں باغ گل لالہ کی اچھی خاصی تعداد میں لوگوں کی سیاحت سے سال کا حوصلہ افزا آغازہوگیا۔متعلقین کا بھی ماننا ہے کہ اس سال ابھی تک ہوٹلوں کی بکنگ اچھی خاصی رہی۔اس کی وجہ شاید پہلے بھاری برفباری اور بعد میں ٹیولپ گارڈن کی بہتر مارکیٹنگ تھی۔ذرائع کے مطابق سرینگر، گلمرگ اور پہلگام میں قائم اکثرہوٹلوں کی ماہ جون تک اچھی خاصی بکنگ تھی تاہم اس میں کورونا پھیلائو میں اچانک آئی تیزی کی وجہ سے بعد میں

رمضان المبارک جلوہ افروز،حکومت اور ہم

 اسلامی مہینوں میں سب سے افضل و مقدس مہینہ رمضان المبارک جلوہ افروز ہوا ہے ۔مسلمانانِ عالم کی طرح وادیٔ کشمیر کے مسلمان بھی رضائے الٰہی کے جذبے کے تحت اس مہینہ کےتمام افضل ایام کا تزک و احتشام کے ساتھ اہتمام کرتے ہیںاور بظاہر وہ سبھی کام کرتے ہیں جو بحیثیت اُمتِ محمدی ؐاُن پر لازم ہیںلیکن اس مُبارک و افضل مہینےمیں کیا  وادی کےتمام مسلمان حقیقی معنوں میں وہ سبھی کام کرتے ہیں جوپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور دین ِ اسلام کے احکامات کے مطابق اُن پر عائد ہیں۔ یہاں کے پیروکارانِ اسلام، اقوامِ آدمیت ،انسان سے محبت ،بھائی چارہ گی،خوش اخلاقی ،ایمانداری ،حق پرستی ،خطائوں کی معافی ،گناہوں سے توبہ ،میانہ روی اور انصاف کے اصولوں پر کتنے کاربند رہتےہیں،کس حد تک اپنے دینی کاموںپر عمل کرتے ہیںاورانسان ہونے کے ناطے انسانیت کے اُن تقاضوںکا کہاں تک لحاظ رکھتے ہیں ،جس پر انسان ک

نافرمانی ۔۔۔۔ارادہ شامل ہوجائے تو ایمان ڈگمگا جاتا ہے

انسانی طبیعت میں غلطی اور بھول چوک داخل ہے،بہت سی غلطیاں بغیر ارادہ سرزَد ہوجاتی ہیں،مثلاً ایک کمپوزیٹر یا ٹائپِسٹ کو لیجئے ،پہلی بار ٹائپ یا کمپوز کرنے کے بعد متعدد غلطیاں نکل آتی ہیں پھر صحیح کرنے کے بعد غلطیاں ختم ہوجاتی ہیں۔کام کرنے والا تو یہی کوشش کرتا ہے کہ پہلی ہی بار میں کوئی غلطی نہ رہ جائے لیکن اس کے ارادہ و خواہش کے باوجود غیر ارادی طور پر غلطی ہوجاتی ہے۔درزی ایک بار ناپ لینے کے بعد پوری کوشش کرتا ہے کہ لباس بالکل فِٹ آجائے لیکن ایسا نہیںہوتا ،جسم پر پہنا کر دیکھنے سے ہی کسر سمجھ میں آتی ہے۔ظاہر ہے اس طرح کی کسی خامی میں انسانی ارادہ کا دخل نہیں ہوتا بلکہ خود بخود پیدا ہوجاتی ہے۔اسی طرح ایک مسلمان اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرسکتا ہے اور نہ ایسا چاہ سکتا ہے۔اگر اُس سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو اس پر قائم نہیں رہتا بلکہ کسی خطا کے بعد اُس کے دل میں جو ندامت پیدا ہوتی ہے وہ

ترقی کیسے پہنچے جب رابطہ پل موت کا کنواں ہو!

ہر دور میں ترقی اور خوشحالی کے ساتھ ساتھ بنیادی سہولیات کی فراہمی کے خواب دکھا کر صاحب اقتدار کرسی پر جلوہ گر ہوتے ہیں۔لیکن اب تک صاحب اقتدار بے بس ولاچار عوام کی جانب سے عطا کی گئی کرسی پر بیٹھ کر عوام کے دکھ درد کو بھول جاتے ہیں۔ جس عوام نے اپنے بہتر مستقبل کے لئے ہر قسم کی مصیبتوں کے باوجود اپنے نمائندگان کو منتخب کیا تھا۔عام عوام تو درکنار اپنے دور اقتدار کے دوران وہ  صنف نازک کی خاطر بھی سہولیات کا کوئی کام نہ کر پائے۔ جموں و کشمیر کے طول و عرض میں حسین و جمیل آبشار اور وادیاں بلند و بالا پہاڑیوں کو چیرتے ہوئے ہوئے دودھ کی طرح سفید برف کی طرح ٹھنڈے جڑی بوٹیوں کی آمیزش سے لبریز دریا اور نالے رواں دواں ہیں لیکن کبھی یہ خوبصورت دریا اور نالے یہاں کے مکینوں کے لئے پریشانی اور موت کا باعث بھی بن جاتے ہیں۔ جموں کشمیر کے ضلع پونچھ سے مشرق کی جانب تحصیل منڈی کا بلاک لورن واقع ہ

بوئے گل ہے،ہے فصل بہار بھی محبت !

شہید محبت نہ کافر ہے نہ غازی ! محبت کی رسمیں نہ ترقی نہ تازی وہ کچھ اور شے ہے محبت نہیں ہے سکھاتی ہے جو غزنوی کو ایازی یہ جوہر اگر کار فرما نہیں ہے تو ہے علم و حکمت فقط شیشہ سازی نہ محتاج سلطاں,نہ مرعوب سلطاں محبت ہے آزادی و بے نیازی   میرا فقر بہتر ہے اسکندری سے  یہ آدم گری ہے وہ أئینہ سازی (علامہ اقبالؒ) محبت دوستی کا نشان ہے،الفت کا بیان ہے،مسرت کی جان ہے،انسانیت کی پہچان ہے،رفعت کا سامان ہے، تلوار کی میان ہے،شرافت کی میزان ہے،رشتوں کی شان ہے،اور سچ پوچھئے تو اصل ایمان ہے۔ سلام ہے،پیام ہے،انعام ہے،اکرام ہے،الفت ہے ،اخوت ہے،شفقت ہے،برکت ہے،عزت ہے،رفعت ہے،مسرت ہے ،مروت ہے،راغ ہے ،سراغ ہے،شرم ہے ،کرم ہے،مید ہے،نوید ہے۔ دیکھتے ہیںوہ کون سے اعمال ہیں جو مینار محبت کی قباء کے دامن عفیف کو خاموشی سے نحیف و ضعیف کر کےانسانی و ایمانی رشتے

رمضان کےروزے کا مقصد

" روزے کی ریاضت کا بھی خاص مقصد اور موضوع یہی ہے کہ اس کے ذریعے انسان کی حیوانیت اور بہیمیت کو اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی اورایمانی وروحانی تقاضوں کی تابعداری وفرماں برداری کا خوگر بنایاجائے اور اللہ کے احکام کے مقابلے میں نفس کی خواہشات اور پیٹ اور شہوتوں کے تقاضوں کو دبانے کی عادت ڈالی جائے اور چوں کہ یہ چیز نبوت اور شریعت کے خاص مقاصد میں سے ہے ،اس لیے پہلی تمام شریعتوں میں بھی روزے کا حکم رہا ہے۔ اگرچہ روزوں کی مدت اور بعض دوسرے تفصیلی احکام میں ان امتوں کے خاص حالات اور ضروریات کے لحاظ سے کچھ فرق بھی تھا۔ قرآنِ کریم میں اس امت کو روزے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایاگیا ہے’’یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔ (سورة البقرہ آیت ۱۸۳) ترجمہ۔اے ایمان والو! تم پر روزے فرض

مشرق و مغرب میں سائنسی تحقیق کا معیار

سائنس میزانِ عقل میں اپنے معنوی ثقل کی وجہ سے خرد کے جملہ جزئیات کو متاثر کرتی ہے لیکن اپنے وجود کی تعبیر کے لئے عقل کی ہمیشہ محتاج  ہے۔سائنس نے انسانی دماغ کے مادی خلیوں کے باریک سے باریک گوشوں تک کا مشاہدہ اور معائنہ کیا لیکن عقل کے وجود پر اپنا حکم چلانے سے قاصر رہتے ہوئے اس کی وضاحت کرنے میں یکسر ناکام ہے۔سائنس عقل کی انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے ۔اگر سائنس کو عقل کی لونڈی کہا جائے تو بیجا نہیں ہوگا کیونکہ سائنس عقل کی مصروفیت ومشغولیت ،محنت و مشقت اور غور وفکر کی محتاج ہے۔اگر عقل کا وجود نہیں ہوتا  تو سائنس نام کی کوئی چیز وجود میں نہیں آتی۔دنیا کا کوئی سائنسی آلہ عقل کو ڈیفائین(Define) نہیں کر سکتا بجز اس کے کہ عقل کے شاہکار کے طور پر اپنا کرتب پیش کر پاتا ہے۔عقل ہی عقل کو کسی حد تک سمجھ سکتی ہے اور اس کے صغریٰ ، کبریٰ پرتبدیلی کیاثرات مرتب کر پاتی ہے۔جیسے اس دنیا  م

حضرت مولانا سید ولی رحمانی

 ۳ /اپریل ۲۰۲۱ ء کی صبح سویرے حضرت مولانا سید ولی رحمانی کی طبیعت زیادہ ناساز ہونے کی اطلاع ملی،اللہ تعالی سے جلد شفایابی کی دعاء  زبان پر جاری ہی تھی کہ کچھ گھنٹوں بعد اس اندوہناک خبر کی اطلاع  سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی ،جس کا خطرہ دل ودماغ کو صبح سے بے چین کر رکھا تھا،انتقال پر ملال کی یہ خبر ایک بجلی کی طرح ہم جیسے لاکھوں محبین ومعتقدین کے دلوں پر گری،انا للہ وانا الیہ راجعون، اللہم اغفرلہ وارحمہ۔ حضرت مولانا سید ولی رحمانی کا انتقال ایک عہد کا خاتمہ ہے،یہ کوئی الفاظ کی جادوگری نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ رب العزت نے ایک ساتھ جتنی خوبیوں سے آپ کو نوازا تھا، ان سب کا ایک شخصیت میں جمع ہونے کی مثال بہت نادر ہے،علم، تقوی، صلاح، تقریر کی جادوگری، تحریر کی چاشنی،عصر حاضر کی ذمہ داریوں سے آگہی، علم قانون شریعت میں پوری گہرائی وگیرائی،قانون ہند پر گہری نظر، جرأت

ماہِ رمضان تقویٰ کے حصول کا بہترین ذریعہ

رمضان المبارک کا مہینہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی بڑی عظیم نعمت ہے۔اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انوار وبرکات کا سیلاب آتا ہے اور اس کی رحمتیں موسلادھار بارش کی طرح برستی ہیں، مگر ہم لوگ اس مبارک مہینے کی قدرومنزلت سے واقف نہیں، کیونکہ ہماری ساری فکر اور جدوجہد مادّیت اور دنیاوی کاروبار کے لئے ہے۔ اس مبارک مہینے کی قدردانی وہ لوگ کرتے ہیں جن کی فکر آخرت کے لیے اور جن کا محور مابعد الموت ہو۔ آپ حضرات نے یہ حدیث شریف سنی ہوگی۔حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب رجب کا مہینہ آتا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے: اَللّٰہْمَّ بَارِک لَنَا فِی رَجَبَ وَشَعبَانَ وبَلِّغنَا رَمَضَانَ، (شعب الایمان۳/375، تخصیص شہر رجب بالذکر) ترجمہ: اے اللہ ہمارے لیے رجب اور شعبان کے مہینے میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان کے مہینے تک پہنچادیجیے، یعنی ہماری عمر اتنی دراز کردیج

تازہ ترین