تازہ ترین

۔26؍ نومبر ’’یومِ آئین ‘‘

26؍ نومبر آزاد ہندوستان کی تاریخ کا وہ یادگار دن ہے جب کہ اسی تاریخ کو 1949میں معمارانِ قوم نے ایک نئے دستور کو اپنایا تھا۔ ملک کی آزادی سے ایک سال پہلے ہی دستور ساز اسمبلی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ بہت جلد آزاد ہونے والے ملک کے لئے  ایک ایسا دستور مدوّن کرے جو اس ملک کے تمام طبقات کی آرزوؤں اور تمنّاؤں کی ترجمانی کرے۔ چناچہ دستو ر سازر اسمبلی (Constituent Assembly)نے ڈاکٹر بھیم راؤ امیڈکر کی قیادت میں ایک مسودہ ساز کمیٹی Drafting  Committee تشکیل دی۔ اس کمیٹی نے 2سال، 11 مہینے اور 18دن کی شبانہ روز مشقت کے بعد دستور کا مسودّہ تیار کیا ۔ دستور کے اس مسودے پر کافی مباحث ہوئے اور مختلف ترمیمات کے بعد دستور اسمبلی نے 26؍ نومبر 1949کو یہ دستور منظور کرلیا۔ اسی کی یاد میں ہر سال 26؍ نومبر کو ’’یوم دستور/یوم آ ئین /یوم قانون ‘‘کے طور پر منای

تجارت و معیشت اور کسبِ حلال

ارشادِ ربّانی ہے: اور ہم نے اسی زمین میں تمہارے لئے روزی کے سامان بنائے ہیں اور ان کے لئے بھی جنہیں تم روزی نہیں دیتے ہو (بلکہ ہم ہی انہیں روزی دیتے ہیں) (سورۃ الحجر)اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ہر جاندار کی روزی رزق اللہ تعالیٰ ہی دینے ولا ہے۔ غور کا مقام ہے کہ اللہ تعالیٰ کس کس انداز میں اپنی مخلوقات کی روزی کا بندوبست کرتا ہے۔  چرند پرند کو دیکھیں کہ رب تعالیٰ کس طرح انہیں رزق پہنچاتا ہے چوپایوں کو دیکھیں جو ہمارے لیے پیدا کئے گئے انہیں بھی اللہ ہی رزق دیتا ہے، اسی طرح جنگلی درندے اور کیڑے مکوڑے حشرات الارض ہیں وہ کہاں سے اپنی روزی حاصل کرتے ہیں، سب کے سب اللہ ہی سے رزق پاتے اور زندہ رہتے ہیں۔ تو پھرکیا اللہ تعالیٰ اپنی حسین ترین مخلوق جسے اس نے اشرف المخلوقات بنایا ،اسے بے یار و مددگار چھوڑ دے گا ۔نہیں ! ہر گز نہیں، بلکہ انسان کے لئے بھی اس نے بے پناہ ذرائع وسائل تخلیق ف