تازہ ترین

تعلیم اور تعمیرِ معاشرہ!

خالق کائنات نے حضرت انسان کو باقی مخلوقات میں جو امتیاز عطا فرمایا ہے وہ بہترین ساخت (احسن التقویم) کے ساتھ ساتھ علم حاصل کرنے کی وہ صلاحیت ہے ،جو اسے اپنے آپ سے، اپنی خارجی دنیا سے اور حقیقت اعلی سے متعلق آگہی عطا کرتی ہے۔ یہی آگہی انسان کو دانشمند بنادیتی ہے اور اسے دنیا میں بحیثیت انسان اپنا تفوق اور امتیاز قائم رکھنے میں معاون ہوتی ہے۔ انسانیت کے لئے یہ علم کی اہمیت اور ضرورت ہی ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے علم، بنیادی ذریعہ علم (قلم) اور بیان (نطق) کی نسبت اپنے ساتھ کی ہے اور اس کو انسانیت پر اپنے احسان کے طور پر گنا ہے۔ عقلی، اخلاقی اور جمالیاتی وجود ہونے کی وجہ سے انسان کو جو ارتقائی منازل طے کرنا تھیں، ان کے حصول کے لئے اس کو تدریجی طور پر ایک ایسا معاشرہ قائم کرنے کی ضرورت تھی جو اس کے وجود کی تمام جہتوں کو اپنے اندر جگہ دینے کی اہلیت رکھتا۔ ساتھ ساتھ اس معاشرے کے اند

ہم اپنا محاسبہ کیوں نہیں کرپاتے ؟

یہ حقیقت بالکل عیاں ہے کہ جوانسان اپنے اندرون کو جھانکتا ہے، وہ بہت کچھ پاتا ہے۔ ہم اس کو نہ صرف مذہبی لحاظ سے بلکہ سائنسی لحاظ سے بھی سمجھ سکتے ہیں۔ایک انسان خلیات میں بنا ہوا ہےاور انہی خلیوں میں انسان کی ساری حقیقت پنہاں ہے۔گویا اس مادے کے چھوٹے چھوٹے ذرات وہ سارا علم رکھتے ہیں، جو آسمان کو چھونے والی ایک عمارت رکھتی ہے۔جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ گہرا مشاہدہ انتہائی ضروری ہے۔ ایک بلندو بالا عمارت کا راز اگر ایک چھوٹے سے ذرے میں مقید ہے، تو اِدھر اُدھر دیکھنے کی کیا ضرورت ہےجبکہ انسان ہی سب کچھ ہے۔ اس کو اگر دوسرے انداز میں سمجھا جائے تو خالق کو دیکھنا ہو، تو انسان کو دیکھو۔ اِس سے اُس مالک کی پہچان ہوگی،جس نے اس کی تخلیق کی ہے۔ چنانچہ خالق نے ہی اِس دنیا میں بدی کو بھی بنا کر ایک انسان کو اعلیٰ اشرف بننے کی گنجائش رکھی ہے۔ خوبصورت دنیا میں بدی کا عنصر رکھ کر ایک خوبصورت انسان م

ذہنی دباؤ کا کیسے مقابلہ کیا جائے؟

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ اسٹریس یا ذہنی دباؤ ہماری زندگیوں پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ البتہ اکثر لوگ اسے عارضی نفسیاتی خلل تصور کرتے ہوئے نظرانداز کردیتے ہیں۔ ذہنی دباؤ ہماری کوئی بھی کام انجام دینے کی صلاحیت کو متاثر کرنے کے علاوہ ہماری خوش و خرم اور صحت مند زندگی گزارنے کی استعداد بھی کم کرنے کا باعث بنتا ہے۔ جب آپ ذہنی دباؤ کا شکار ہوتی ہیں تو آپ ہر قدم پر خود کو نہ صرف بیمار اور بدمزاج محسوس کرتی ہیں بلکہ آپ کو غصہ بھی زیادہ آتا ہے۔ تھکادینے والے روزمرہ معمولات اور حد سے زیادہ ذمہ داریاںاس صورتحال کو مزید گھمبیر بنادیتی ہیں۔ ایسے میں یہ انتہائی ضروری ہوجاتا ہے کہ آپ زندگی گزارنے کے لیے ایسا راستہ اپنائیں، جس پر چلتے ہوئے آپ اپنے اسٹریس یا ذہنی دباؤ میں کمی لاسکیں۔ آج ہم آپ کے ساتھ کچھ مفید مشورے شیئر کررہے ہیں، جن پر عمل پیرا ہوکر آپ اپنی مصروف زندگی میں خود کو ذ

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

ایک سروے رپورٹ کے مطابق آج ہندوستان میں 14 ملین بچہ مزدور ہیں جو سماج کے ماتھے پر کلنک ہیں۔ ہندوسان نظام معیشت ایسا ہے جہاں ایک طرف رئیسوں کا ایک بڑا طبقہ ہے تو دوسری جانب بیشتر لوگ خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ آج ہندوستان میں غریبی، ناخواندگی، بچہ مزدوری، دہشت گردی اور بدعنوانی کا راج ہے۔ایسے بے شمار علاقے ہیںجہاں، 12 سال کے کم عمر بچے زر دوزی، کاغذ کے ڈبے، جوتے چپل بنانے والے کارخانوں، ہوٹلوں میں کم اجرت اور کم تنخواہ پر کام کرتے ہیں۔ کام ٹھیک ڈھنگ سے نہ کرنے پر مالکان کی طرف سے مار پڑتی ہے۔ 6 سے 7سال کے بچے بس اور ٹرام میں چاکلیٹ اور ٹافی فروخت کرتے نظرآتے ہیں۔ ان معصوم نونہالوں میں اور ان کے والدین میں تعلیم کے تحت شعوری بیداری نہیں ہے۔ لہٰذا ان بچوں کا مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔ بچوں کا ایک گروپ وہ ہے جن کے سر سے بد قسمتی سے والدین کا سایہ عالم طفلی میں اٹھ جاتا ہے