تازہ ترین

بچہ مزدوری معاشرے پر بدنما داغ

بچہ بچہ ہی ہوتاہے۔چاہے وہ امیر کا ہویاپھر کسی غریب کے گھر میں جنم لیا ہو۔پیداکرنے والے نے اس کے ساتھ کوئی بھید بھاؤ نہیں کیا۔جسم کے تمام اعضاء ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔بس فرق اتنا کہ کوئی بچہ غریب کے گھر پیداہوااور کوئی صاحب مال کے گھر پیداہوا۔لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے بلکہ دکھائی بھی دے رہا ہےکہ یہاں مال ودولترکھنے والےلوگ غریبوں کے بچوں کو غلامی میں ہی دیکھنا پسند کرتے ہیںاور صرف اپنے ہی بچوں کے مستقبل کو تابناک بنانے کی فکر میں لگ چکے ہیںاور اس لئے وہ کچھ بھی کرنے کو تیار رہتےہیں،یہاں تک کہ وہ حق و ناحق ،جائز و ناجائز،ہلال و حرام میں بھی کوئی فرق نہیں کرتے ہیں۔گوکہ یہ سلسلہ دنیاپر آنے کے بعد دنیامیں شروع ہوجاتاہے۔اس وقت دنیا بھر میں کروڑوں بچے، بچہ مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔بچہ مزدوری کا یہ سلسلہ گھریلو کام کاج سے لیکر ہوٹل،لاجز،فیکٹریوں، وغیرہ تک جاری و ساری ہے۔ بچوں کے حقوق کی پاسداری م

بڑھتے سڑک حادثات، وجوہات اور سدِ باب

آمد ورفت کے جدید وسائل نے انسانی زندگی کے سفر کو آسان سے آسان تر بنایا ہے۔ایک زمانہ تھا جب انسان ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے پیدل سفر کرتا تھا ۔وہیں موجودہ دور کے جدید وسائل کی بدولت انسان مہینوں کا سفر گھنٹوں بلکہ منٹوں میں طے کرتا ہے ۔لوگ ہوائی جہاز، ریل، وغیرہ سے بڑی آسانی سے زیادہ سے زیادہ مسافت کو بھی بڑی آسانی اور بہت کم وقت میں طے کرتے ہیں ۔اتنا ہی نہیں ایک عام آدمی کے پاس اپنی گاڑی ہے، جسے چلانے کے لئے سرکار نے صاف ستھری سڑکیں تعمیر کیں ہیں۔لیکن ان سڑکوں پر چلنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر اپنانے کی سخت ضرورت ہے مگر بدقسمتی سے کچھ لوگ ان احتیاطی تدابیر کا خیال نہیں رکھتے ہیں جس وجہ سے انسان اپنے ساتھ دوسروں کے لیے بھی مصیبت کھڑی کر دیتا ہے ۔آئے روز سڑک حادثات کی ایسی خبریں سننے کو مل رہی ہیں کہ دل دہل جاتا ہے۔ ان حادثات میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں انسانی جانیں تلف ہوتی ہی

کیا ہم چوتھے صنعتی انقلاب کیلئے تیار ہیں ؟

گزشتہ صدی کے اوائل میں زندگی بہت سادہ تھی۔ اس وقت کے جدید اور خوش حال گھرانوں میں مرفی یا فلپس کا گراموفون ہوا کرتا تھا، جس پر ماسٹرز وائس (ایچ ایم وی) کے ریکارڈ سُنے جاتے تھے۔ بھاپ کے انجن سے چلنے والی ٹرینیں سفر کا عام ذریعہ ہوا کرتی تھیں۔ بستیاں بجلی سے محروم تھیں۔ نصف صدی قبل تک سڑکوں پر اِکّا دُکّا کاریں اور موٹر سائیکلیں نظر آتی تھیں۔ تار، تیز ترین ذریعۂ پیغام رسانی ہوا کرتا تھا۔21ویں صدی شروع ہوتے ہی ٹیکنالوجی میں تیزی سے ترقی دیکھنے میں آئی۔ کمپیوٹر نے دنیا بھر میں دھوم مچا دی اور انسانی زندگی کے ہر شعبے پر چھا گیا۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس وقت ہم ٹیکنالوجی کے ایک نئے انقلاب کے دہانے پر کھڑے ہیں، جو ہمارے معیارِ زندگی، تصورِ خودی، ثقافت، معیشت اور سیاست سمیت زندگی کے ہر پہلو کو بدل رہا ہے۔ معیشت کی زبان میں ہم چوتھے صنعتی انقلاب میں داخل ہوچکے ہیں۔پہلا صنعتی انقلاب اَٹھا

زمین کی سیر کرو

سیروا فی الارض زمین پر چلو ۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن پاک میں متعدد جگہوں پر ارشاد فرمایا: زمین پر چلو سیر و سیاحت کرو تاکہ اس کی قدرت کا مشاہدہ کر سکو ،زمین کی دلکشی، رنگ برنگے کلیاں، خوش نما فضائیں، حسین وادیاں جب تمہارے دل و دماغ کو جھنجھوڑ دے اور تمہاری عقلیں کام کرنا بند کر دیں اور تم سوچنے پر مجبور ہو جاؤ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کیسے ان سب چیزوں کو پیدا فرمایا، تو اس کا شکر بجا لاؤ۔ موجودہ دور میں سفر کرنا نہایت آسان اور آرام دہ ہے۔ ابھی ایشیا میں چائے کی چسکی لی تو یورپ میں لذیذ کھانوں سے شکم سیر ہو رہے ہیں۔ ایک ملک سے دوسرے ملک میں جانا، لمبی لمبی مسافت طے کرنا اب بس چند گھنٹوں کا کام ہے، وہ بھی بڑی آسانی اور پر لطف انداز میں، لیکن پہلے ایسا نہیں تھا ۔ایک شہر سے دوسرے شہر جانا بھی کافی دشوار تھا، سخت ترین جنگلوں پر پیچ راہوں کو طے کرنا، جس میں جانوروں کے ساتھ ڈاکوؤں

یہ دُنیا کھیل تماشہ ہے!

یہ حقیقت بھی خواب ہے شاید تِشنگی  بھی  سراب  ہے  شاید  سخت دھوپ اور سورج کی برستی تمازت میں دور کسی ریگستان کی ریت پر پانی کا گمان ہونا جیسے اس ریگستان میں کوئی چشمہ پھوٹ پڑا ہو ، لیکن اگر کوئی پیاسا ، پانی کا متلاشی اپنی رگیں تر کرنے کے ارادے سے اُس چشمے کی طرف سرپٹ دوڑے تو وہ چشمہ کسی ریت کے ڈھیر کی طرح پھسلتا چلا جائے اور انجام یہ ہو کہ ایک پیاسا شدتِ پیاس سے مرغِ بسمل بن جائے، اس اضطرابی حالت کو سراب کہتے ہیں ۔ سراب کنایہ کے طور پر دھوکا اور فریب کےلیے بھی استعمال ہوتا ہے، بالکل اسی طرح یہ دُنیا بھی عارضی اور سراب کی مانند ہے۔ خیال ہے یا خواب ہے یہ زندگی سراب ہے ریت کا سمندر ہے جو سامنے چناب ہے کانٹوں سے لہو رنگ یہ سُرخئ گلاب ہے    دُنیا کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ ’’ میں تم

نوجوان سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیں

کسی بھی قسم کی مثبت سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا نوجوانوں کو کافی فائدہ ہوتا ہے۔ والدین بھی اس حوالے سے بہت زیادہ سوچتے ہیں کہ انھیں اپنے بچوں کے لیے ایسے کیا کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بڑے ہوکر ترقی کریں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جب نوعمر افراد اپنی کمیونٹیز میں بامعنی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں تو وہ ترقی کی منازل طے کرتے ہیں۔جیسے جیسے بچے بڑے ہوتے ہیں وہ اپنے دوستوں، خاندان، کمیونٹی اور معاشرے کو زیادہ معنی خیز طریقوں سے جذباتی اور عملی مدد فراہم کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ حسن سلوک اور معاونت کرنے والا رویہ دراصل بچپن سے ہی فروغ پاتا ہے۔ نوعمری میں نوجوانوں کے خیالات اور سوچ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں آتی ہیں، ساتھ ہی ان کی جسمانی، علمی اور جذباتی صلاحیتیں یکجا ہوجاتی ہیں، جن کی بدولت وہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کو حقیقی فوائد پہنچانے میں اپن