تازہ ترین

مقامی صحافت:ماضی اور حال کے آئینے میں

پراسرار ویب سائٹوں پر کشمیر میڈیا کی کردار کشی کے بعد سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بھی اس مہم میںان کے ساتھ شامل ہوئے جب انہوں نے کشمیر ٹائمز کی انورادھا بھسین کے ایک ٹویٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب ان کی سمجھ میں آگیا ہے کہ کشمیر میڈیا کیوں سرکارنوازی پر اتر آیا ہے ۔ کشمیر میںخاص طور اخبارات پر سرکار نوازی کایہ الزام نیا نہیں ہے۔جب عمر عبداللہ کی حکومت تھی ،تب بھی مختلف حلقوں کی طرف سے یہ الزام اخبارات پر عاید کیا جاتا تھااور عمر صاحب اُس وقت مقامی اخبارات کے خلاف وہ سب اقدامات کرنے میں مصروف تھے جو آج روبہ عمل لائے جارہے ہیں ۔سچ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں کشمیر میڈیا کو سرکار نوازی پر مجبور کرنے کے لئے ہر وہ حربہ اختیار کیا جو وہ کرسکتے تھے ۔جس کشمیر ٹائمز کا فلیٹ سربمہر کرنے پر انہیں آج افسوس ہورہاہے اور جسے وہ آزاد صحافت پر حملہ قرار دے رہے ہیں، اسے فلیٹ خالی کرنے

جبری ریٹائرمنٹ

حکومت نے سِول سروس ضابطوں میں ترمیم کرکے سرکاری افسروں کو فعال اور مزید جوابدہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس فیصلے کے مطابق کوئی افسر ملک کی سالمیت اور سلامتی کے حوالے سے باغیانہ افکار کا حامل ہوکر ان خیالات کا کھلے عام اظہار کرے تو اْسے 48 سال کی عمر یا 22 سالہ سروس کو پہنچتے ہی تین ماہ کا نوٹس اور تنخواہ واگذار کرکے جبری ریٹائر کیا جاسکتا ہے۔  اس ضمن میں اگر افسر ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرے یا عہدے پر فائز رہنے کی اہلیت نہ رکھتا ہو تو اْس پر بھی نئے ضابطوں کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ ظاہر ہے سروس رْولز پہلے ہی بہت سخت تھے اور کوئی بھی افسر یاملازم سیاسی سرگرمیوں میں براہ راست حصہ نہیں لے سکتا نہ ہی وہ ایسے خیالات کا پرچار کرسکتا ہے جو عوام میں حکومت مخالف رجحانات کو بھڑکانے کا سبب بنے۔  اس نئے فیصلے کے دو پہلو ہیں۔ اظہار رائے اور عوامی خدمت۔ یعنی حکومت مخالف خیالات کی تشہیر اور ع

گوشہ اطفال|24اکتوبر 2020

بے زبان پر رحم   کہانی   عائشہ یاسین علی اپنے محلے کا سب سے شرارتی بچہ تھا۔ ہر وقت کسی نہ کسی کو تنگ کرتا رہتا۔ کلاس میں بھی سب اس سے بہت پریشان رہتے تھے۔ استانی صاحبہ بھی روز اس کو کسی نہ کسی بات پر سزا دیتی تھیں۔ کبھی کرسی پر کھڑا کر دیتی تو کبھی کلاس سے باہر بھیج دیتی اور کبھی مرغا بھی بنا دیا کرتی تھیں لیکن علی اپنی شرارتوں سے باز نہ آتا۔ اسکول سے آتے ہی وہ دن بھر گلی میں آوارہ لڑکوں کے ساتھ گھومتا رہتا۔ کبھی کسی کے گھر کی بیل بجا کے بھاگ جاتا تو کبھی کسی بچے کی چیز چھین لیتا۔ آج جب علی اسکول سے واپس آیا تو کھانا کھاتے ہی باہر کھیلنے چلا گیا۔ آج محلے میں سناٹا تھا۔ سخت گرمی ہورہی تھی۔ علی راستے میں پتھروں کو ٹھوکر مارتا ادھر ادھر ٹہل رہا تھا۔ کہ اچانک اس کو ایک گھر کے کونے میں ایک بلی بیٹھی ہوئی نظر آئی۔ علی نے دور سے اس کو ڈرانے کی کوشش کی

تازہ ترین