تازہ ترین

پیپلز الائنس برائے گُپکار اعلامیہ

 دفعہ 370کی منسوخی کے بعد جموں کشمیر میں ہر طرح کا بدلائو نظر آ رہا ہے ۔وہ چاہے تجارت ہو یا سیاست ،تعلیم ہو یا زبان ،ہر چیز میں ایسی تبدیلیوں کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں ،جن کا کبھی یہاں کے سیاسی رہنمائوں نے گمان بھی نہیں کیا تھا ۔چند ماہ قبل تک ایسالگ رہا تھاکہ سیاسی کھلاڑیوں کے لیے اب یہاں سیاسی کھیل کھیلنے کا موقعہ مشکل ہی سے مل پائے گا۔ لیکن حالیہ کئی دنوں سے سیاسی گلیاروں میں دوبارہ گہما گہمی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔جموں کشمیر میں دفعہ کی منسوخی سے ٹھیک ایک دن قبل یعنی ۴؍ اگست 2019ء کو فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ پر سوائے بی جے پی ،باقی سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں تمام سیاسی جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اگر مرکزی حکومت کی جانب سے دفعہ 370اور 35 ؍اے کو مکمل طور پر ختم کیا گیا یا ریاست کو تقسیم کرنے کی کوشش کوئی کی گئی تو اس کے خلاف متحدہ طور پر جد

رشوت ایک معاشرتی ناسور

عصر حاضر میں کسی کام کیلئے استحقاق صرف اْسی کا ہے جو کسی نہ کسی شکل میں رشوت دے۔ رشوت ایک مہلک معاشرتی ناسور ہے جو تمام بدعنوانیوں کی جڑ ہے۔اخلاقی انحطاط کے شکار معاشرہ میں رہتے ہوئے انسان کو قدم قدم پر رشوت ستانی اور بدعنوانی سے واسطہ پڑتا ہے۔جو لوگ رشوت نہ دیں انہیں اپنے کام حل کرانے میں اکثر پریشانیوں اور مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔رشوت وہ چیز ہے جو کسی کو اپنا مطلب نکالنے کیلئے دی جاتی ہے۔ یہ رقوم و تحائف دینے کا وہ عمل ہے جو وصول کنندہ کے طرز عمل کو متاثر کرتا ہے۔یہ ایک ایسا معاوضہ ہے جو کسی کو خلاف قانون کارروائی کرنے کے صلے میں دیا جاتا ہے تاکہ وہ بد دیانتی سے کسی حقدار کو محروم کرکے رشوت دینے والے کو فائدہ پہنچائے ۔ زندگی کے مختلف شعبہ جات کے مشاہدات سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ رشوت اور بد عنوانی کا زہر پورے معاشرے میں سرایت کرچکا ہے۔آج ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس میں رشوت نے