تازہ ترین

خُلقِِ عظیم اور اسوہ ٔحسنہ

قرآن کے اسی اخلاقی ماڈل، جس کے اجزائے ترکیبی انبیاء علیہ السلام کے اخلاق رہے ہیں، کو مد نظر رکھتے ہوئے پتا چلتا ہے کہ اس کی تکمیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پر ہوئی۔ اس سلسلے میں سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کا ایک قول مشہور و معروف ہے کہ جب آپ ؓ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نے جواب دیا: "کان خلقہ القرآن یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق وہی تھا جو کچھ قرآن میں مندرج ہے!" اس کا مطلب ہے کہ آپ ؐ قرآن مجسم تھے۔ اس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس طرح بیان فرمایا ہے: "بعثت لاتم مکارم الاخلاق" یعنی "مجھے اعلی اخلاق کی تکمیل (اتمام) کے لئے مبعوث کیا گیا ہے۔" یہی مفہوم اس حدیث میں بھی تمثیلی طور پر بیان کیا گیا ہے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کو "پیغمبرانہ عمارت کی آخری اینٹ

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہندوپاک کی مشہور ونامور شخصیت سر سید احمد خان برطانوی ہند کے ماہر تعلیم مصنف اور اصلاح پسند ان کی یوم پیدائش ۷۱ اکتوبر ۷۱۸۱ مکمل نام سید احمد بن متقی خان المعروف سر سید ان کی والدہ کا نام عزیز النساء بیگم تھا۔عزیزالنساء بیگم اپنے والدین کی سب سے بڑی بیٹی تھیں۔اگرچہ زیادہ صرف قرآن مجید اور فارسی کی ابتدائی کتابیں پڑھی ہوئی تھیںمگر تھیں بہت ذہین روشن دماغ دانش مند سلیقہ شعار رحمدل بااخلاق اور نیک۔ انہوں نے اپنے بچوں کی تربیت بھی نہایت عمدگی سے کی وہ ہمیشہ اس مقصد کو مد نظر رکھ کر ان کی تر بیت کرتیں کہ یہ بچے بڑے ہوکرنیک اور اچھے انسان بنیں۔اچھے انسان بنے سے ماں کے علاوہ قوم کو بھی اس تربیت سے ایک سبق ملتا ہے کہ نیت صاف ہو تو منزلیں آسان ہوتی ہے۔اور ایک بات خاص طور سے یاد رکھئیے کہ جو آج بویا جارہا ہے وہ کل کاٹا جائے گا۔ ماں کی گود ہی بچے کی پہلی درس گاہ ہوتی ہے جس میں وہ زندگی کے بہتر

احمدِ مجتبیٰ محمد مصطفیٰؐ

وہ آئے جن کے آنے کی زمانے کو ضرورت تھی  وہ آئےجس کی آمد کے لیے بے چین فطرت تھی  اللہ تعالی کا بے حد حمد وثنا کہ جس نے ہمیں مسلمان بنا کر اُمتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم میں مبعوث فرمایا جوکہ پورے عالمین کیلئےرحمت بن کر آئے ۔ اللہ تعالی کافرمان ہے کہ میں نے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا والوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا۔ جب دنیا تاریکیوں میں گم ہوکر اپنا راہ راستہ بھول گئی تھی اور تمام خرابیوں ،بُرائیوں اور شرکیات کے دلدل میں لت پَت تھی  توآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمدنے پوری دنیا کوروشنی سے منور کر دیا۔ آپؐنے عرب کی اُن برائیوں کی جڑ مٹا دی،جن سے انسانیت شرمسار تھی اور انسان کی زندگی میں نظم و ضبط کا نام و نشان تک مٹ چکا تھا ۔بُت پرستی میں مبتلا انسان من مرضی کا مالک بن چکا تھا لیکن جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک قدم اس روئے زمین پہ پڑے توآپؐ نے ہر ایک

مسلمانوں میں تعلیمی بیداری

۔1857ء کی بغاوت تاریخ ہند میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ بغاوت 1857ء ناکام ہوئی۔ لیکن اس سے ہندوستانیوں کو آزادی حاصل کرنے کی راہ ہموار ہوئی اور ہندوستانیوں نے یہ ٹھان لیا کہ اب وطن عزیز ہندوستان میں غلام بن کر نہیں رہا جا سکتا۔ اس زمانے میں ہندوستان میں بہت عظیم مصلح پیدا ہوئے جیسے راجہ رام موہن رائے، ایشور چندر ودیاساگر، سوامی دیانند سرسوتی ، جیوتی راؤ پھولے، سوامی وویکا نند۔ اسی اثنا میں سرزمین ہند میں ایک عظیم مصلح سر سید احمد خان نے جنم لیا۔ جنہوں نے مسلمانوں کو تعلیمی میدان میں آگے بڑھانے کے لیے اپنی ساری زندگی وقف کردی۔ سر سید اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ سرسید کی شخصیت ہمہ گیر تھی۔ انگریزوں سے قبل یہاں یعنی ہندوستان میں ہندوؤں کی ابتدائی تعلیم کے لیے پاٹھ شالے تھے۔ جب کہ مسلمانوں کے لیے مدرسے اور مکتب تھے۔ لیکن ہندوستانی انگریزی اور مغربی تعلیم سے نابلد تھے۔مٹھی بھر ہندوستانی ایس

شہرِ عداوت میں بسیرا ہے

دوہفتے قبل اتر پردیش کے شہر لکھیم پور میں جو کچھ ہوا،کیا یہ ہمیں ورطہ ٔ حیرت میں نہیں ڈالتا؟۔ہوسکتا ہے آپ کو میری بات سے اتفاق نہ ہو ۔ہم وحشت و بربریت کے زیر سایہ زندگی گزارنے کے عادی ہوتے جارہے ہیں ،میں نے اس دن ہی خود کو تیار کرلیا تھا، جب وزیر مملکت اجے شرما کی یہ آڈیو سوشل میڈیا میں گردش کرنے لگی تھی کہ مجھے صرف ’’ایک لیڈر یا وزیر نہ سمجھا جائے ، وزیر بننے کے قبل کی میری شبیہ بھی یاد رکھیں‘‘ ۔یہ شبیہ 6 کسانوں کے وجود کو روندتی ہوئی موٹرکار تھی، جس نے 'دو منٹ میںاُن ’’ اَن داتائوں‘‘ کی زندگیاںختم کردیں،جس کا افسوس منتری مہودے کو کیا اُن کی حواریوں کو بھی شاید نہ ہوں کیوں کہ مجھے یاد آتا ہے اس پارٹی کے طاقت ور راہنما کا ایک بیان"کتاجب کار کے نیچے آجائے تو کچلا ہی جائے گا"۔ان کے نزدیک جو فرقہ ، جماعت یا فرد ان کی نظریات