تازہ ترین

عہدِ نو میں سرسید احمد

عہد نو میں سرسیدتاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ انسانوں کی بستيوں میں معماریت کے پُرعزم سالاروں نے ایثار و وفا کا لبادہ پہنے جب مسیحائی قوم کیلئے ہاتھ بڑھایا ہے تو متاعِ ناپایہ دار کی حقیر شہرتوں اور مسندوں کو گھماتے یا اشتہار چھپواتے نہیں کیا بلکہ اپنی ذات کو مثلِ شمع  ڈھلا کر رہتی دنیا کو سراغ مہیا کروائے ہیں۔اُنہیں تاریخ کے مسیحائوں میں سرسید احمد خاں انیسویں صدی کے اُفق پہ مسیحائی قوم کے تابناک کمک کی طرح روشن ہیں۔ہر شخص کیلئے سرسید کو دیکھنے کا مختلف انتخاب ہو سکتا ہے۔کوئی ادبی نقطہ نظر سے نثر کا ابا آدم مانتا ہے تو کوئی سیاسی و سماجی نظریہ میں فرقہ پرست اور استعماریت کا پیشوا کہتا ہے۔وہی قومی اعتبار سے تنگ نظری کا شکار سمجھتے ہیں تو مذہبی کٹہرے میں شیوخ کے نزدیک وہ ملحد تھے۔جیسے شیخانِ وقت نے سرسید احمد خاں کو مذہبی نقطہ نظر سے ملحد اور فرنگی ایجنٹ قرار دیا ۔ظاہر ہے سماجی سطح پر

ؐسرسید احمد اور ناموس رسالت

یہ کالم لکھنے کا مقصد قطعی طور پر سرسید کو مذہبی ثابت کرنا نہیں ہے ۔اس سال یوم سرسید اور بارہ ربیع الاول قریب قریب ہی آئے ،اس لئے کچھ حقائق کا انکشاف ضروری سمجھا۔ ربیع الاول محسن انسانیت آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا دن ہے، ٹھیک انیس اکتوبر کو بارہ ربیع الاول ہے اور اس سے دو دن پہلے یعنی یوم سرسید منایا گیا ۔ علی گڑھ یونیورسٹی میں یومِ سرسید ہر سال جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ زیادہ تر علیگ حضرات یا دوسرے اسکالرز بھی انہیں زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ انگریز سامراج کے عتاب کی شکار قوم کو از سر نو تعمیر کرنے میں سرسید کی خدمات کو یاد کیا جاتا ہے۔ مسلم قوم کا از سر نو ڈھانچہ کھڑا کرنے میں سرسید کا جو کردار ہے یقیناً وہ رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔ سرسید بھارتی مسلمانوں کو بیدار کرنے میں کتنا کامیاب ہوئے یہ ایک الگ موضوع ہے لیکن اس حقیقت سے انحراف بھی گ

سرسوں کی کاشت کیجئے ،زمین کو خالی نہ رکھیئے

کشمیر میں خریف کا موسم ختم ہوا ہے، الحمداللہ اس سال قدرت مہربان رہی اور اچھی دھان کی فصل نکلی، ہمارے کشمیر میں ایک المیہ ہے کہ یہاں کے کسان صرف سال بھر میں ایک ہی فصل یعنی دھان لگاتے ہیں اس کے بعد زمین کو خالی رکھتے ہیں جس کی وجہ کیی غلط فہمیاں ہیں مثلاً یہ زمین کو کمزور کرتی ہے وغیرہ ، بہت بڑے رقبے پر پھیلے زمین کو خالی رکھنا بہرحال نہ ہی اخلاقی طور صیح ہے اور نہ ہی ہماری معیشت کے لیے۔یہاں کی بڑی آبادی کا دارومدار زراعت پر ہے ایسے میں ہماری مذہبی ذمداری بھی یہ بنتی ہے کہ ہم زمین کے پیداوار کو بڑھاے، دین اس بات سے بندے کو روکتا ہے کہ وہ زمین خالی چھوڑے، بلکہ کاشت کاری اور شجر کاری میں سستی اور کاہلی کی ممانعت وارد ہوئی ہے '" اگر قیامت قائم ہوجائے ، تمہارے ہاتھ میں کوئی پیڑ یا پوداہو، اگر تم اس پودے کو لگا سکتے ہو تو لگاؤ ، اس سے تم کو اجر وثواب ملے گا(مسنداحمد) کاشت کاری جہا

بچت اور سرمایہ کاری کیسے کی جائے؟

جب بچت و سرمایہ کاری کی بات ہوتی ہے تو ہمارے یہاں حالات کچھ حوصلہ افزا نظر نہیں آتے۔ اوّل تو یہ کہ مہنگائی میں اضافہ کے باعث بچت کا رجحان عمومی طور پر کم ہی دیکھنے میں آتا ہے اور اگر کوئی بچت کرنا چاہے بھی تو بات ماہانہ کمیٹی سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔ بچت، سرمایہ کاری اور پھر اس سرمایہ کاری کے ذریعے ایک سے دو کیسے بنائے جائیں؟ یہ ایک مکمل سائنس ہے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو ابتدائی، ثانوی اور اعلیٰ ثانوی کلاسز تک ’پرسنل فائنانس‘ کا علم دیا ہی نہیں جاتا۔ ایسے میں ہمارے نوجوانوں کو ملک سے باہر ایسے رول ماڈلز کو دیکھنا پڑتا ہے، جنھوں نے پُرمغز سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی ایک ’مالیاتی سلطنت‘ قائم کی ہے۔ وارن بفٹ دنیا کے ایک ایسے ہی مایہ ناز سرمایہ کار ہیں۔ بچپن میں وہ اوہاما میں اپنی فیملی کےگروسری اسٹور پر کام کرتے تھے۔ انھوں نے پہلا ا

’معلم‘ کا مقام اور اہمیت

خداوند عالم نے انسان کی بناوٹ ہی اس طور پر رکھی ہے کہ ایک لا علم انسان کو کسی علم رکھنے والے انسان کا محتاج بنایا ہے۔ ایک انسان محض کتابوں سے وہ کچھ حاصل نہیں کر پاتا جو استاد کی شکل میں اللہ کی عطا اسے سکھا دیتی ہے۔ روز اول سے یہ روحانی رشتہ قائم ہے اور سینہ بہ سینہ علوم کی منتقلی کا سبب رہا ہے۔  ایک معلم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ چودہ سو سال پہلےاہل عرب جو باعتبار زبان فصیح و بلیغ تھے، ان کے لیے براہِ راست کلام اللہ سمجھنے میں کیا دقت ہوسکتی تھی ،جبکہ خود ان کا مطالبہ بھی یہی تھا کہ قرآن کا آسمان سے ہر فرد کے لیے علیحدہ نسخہ نازل ہوجائے، مگر باجود اس کے رب ذوالجلال نے اپنی سنت کے مطابق بطور معلم پیغمبر اسلام ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتخاب فرمایا اور حضو ؐکے ذریعے اپنی مقدس کتاب کے علوم ، رموز ، احکام اور قربِ خداوندی کے اسرار اس وقت کے مخاطبین اول کے

نصاب کو بدلنے کی ضرورت ہے؟

علم کا اصل مقصد ہے کہ ایک انسان اپنے خالق یعنی اللہ کو،اپنے آپ کو اور اپنے سماج کو پہچانے۔ اس کے علاوہ علم کا مقصد ہے کہ انسان پڑھائی کے باوصف اپنے درپیش مسائل کا حل ڈھونڈے ۔اپنے ارد گرد کے ماحول کےساتھ ساتھ سماجی مشکلات کا ازالہ کرنے کی بھی کوشش کرے اور اگر وسعت ہو تو مشکلات کا تدارک کرے۔ مزید براں وہ ایسے نئ چیزوں کو بنانے یا ڈھونڈنے میں کامیاب ہوسکے،جس سے زندگی آسانی سے گزاری جاسکے۔ یہ ساری چیزیں تب ہی حاصل ہوسکتی ہیں، جب طالب علم کو ایک ایسے نصاب کے تحت پڑھائی حاصل ہو سکے جس نصاب میں وہ اپنی نجی زندگی اور اپنےسماجی پہلوئوںکو ہر لمحہ ذہن میں محفوظ رکھ سکے۔ گیارہویں جماعت کی انگلش کتاب میں البرٹ آئنسٹائن کے بارے میں ایک مضمون موجود ہے۔ جس میں ایک تاریخ کے پروفیسر، البرٹ کو اس بات پر ڈانٹتے ہیں کہ وہ پڑھائی کی اصل تعریف کرتا ہے۔ البرٹ اپنے استاد سے مخاطب ہوکر کہتا ہے کہ’&rsqu

عہدِ نو میں سرسید احمد

عہد نو میں سرسیدتاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ انسانوں کی بستيوں میں معماریت کے پُرعزم سالاروں نے ایثار و وفا کا لبادہ پہنے جب مسیحائی قوم کیلئے ہاتھ بڑھایا ہے تو متاعِ ناپایہ دار کی حقیر شہرتوں اور مسندوں کو گھماتے یا اشتہار چھپواتے نہیں کیا بلکہ اپنی ذات کو مثلِ شمع  ڈھلا کر رہتی دنیا کو سراغ مہیا کروائے ہیں۔اُنہیں تاریخ کے مسیحائوں میں سرسید احمد خاں انیسویں صدی کے اُفق پہ مسیحائی قوم کے تابناک کمک کی طرح روشن ہیں۔ہر شخص کیلئے سرسید کو دیکھنے کا مختلف انتخاب ہو سکتا ہے۔کوئی ادبی نقطہ نظر سے نثر کا ابا آدم مانتا ہے تو کوئی سیاسی و سماجی نظریہ میں فرقہ پرست اور استعماریت کا پیشوا کہتا ہے۔وہی قومی اعتبار سے تنگ نظری کا شکار سمجھتے ہیں تو مذہبی کٹہرے میں شیوخ کے نزدیک وہ ملحد تھے۔جیسے شیخانِ وقت نے سرسید احمد خاں کو مذہبی نقطہ نظر سے ملحد اور فرنگی ایجنٹ قرار دیا ۔ظاہر ہے سماجی سطح پر

سرسید احمد اور ناموس رسالتؐ

یہ کالم لکھنے کا مقصد قطعی طور پر سرسید کو مذہبی ثابت کرنا نہیں ہے ۔اس سال یوم سرسید اور بارہ ربیع الاول قریب قریب ہی آئے ،اس لئے کچھ حقائق کا انکشاف ضروری سمجھا۔ ربیع الاول محسن انسانیت آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا دن ہے، ٹھیک انیس اکتوبر کو بارہ ربیع الاول ہے اور اس سے دو دن پہلے یعنی یوم سرسید منایا گیا ۔ علی گڑھ یونیورسٹی میں یومِ سرسید ہر سال جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ زیادہ تر علیگ حضرات یا دوسرے اسکالرز بھی انہیں زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ انگریز سامراج کے عتاب کی شکار قوم کو از سر نو تعمیر کرنے میں سرسید کی خدمات کو یاد کیا جاتا ہے۔ مسلم قوم کا از سر نو ڈھانچہ کھڑا کرنے میں سرسید کا جو کردار ہے یقیناً وہ رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔ سرسید بھارتی مسلمانوں کو بیدار کرنے میں کتنا کامیاب ہوئے یہ ایک الگ موضوع ہے لیکن اس حقیقت سے انحراف بھی گ

سرسوں کی کاشت کیجئے ،زمین کو خالی نہ رکھیئے

کشمیر میں خریف کا موسم ختم ہوا ہے، الحمداللہ اس سال قدرت مہربان رہی اور اچھی دھان کی فصل نکلی، ہمارے کشمیر میں ایک المیہ ہے کہ یہاں کے کسان صرف سال بھر میں ایک ہی فصل یعنی دھان لگاتے ہیں اس کے بعد زمین کو خالی رکھتے ہیں جس کی وجہ کیی غلط فہمیاں ہیں مثلاً یہ زمین کو کمزور کرتی ہے وغیرہ ، بہت بڑے رقبے پر پھیلے زمین کو خالی رکھنا بہرحال نہ ہی اخلاقی طور صیح ہے اور نہ ہی ہماری معیشت کے لیے۔یہاں کی بڑی آبادی کا دارومدار زراعت پر ہے ایسے میں ہماری مذہبی ذمداری بھی یہ بنتی ہے کہ ہم زمین کے پیداوار کو بڑھاے، دین اس بات سے بندے کو روکتا ہے کہ وہ زمین خالی چھوڑے، بلکہ کاشت کاری اور شجر کاری میں سستی اور کاہلی کی ممانعت وارد ہوئی ہے '" اگر قیامت قائم ہوجائے ، تمہارے ہاتھ میں کوئی پیڑ یا پوداہو، اگر تم اس پودے کو لگا سکتے ہو تو لگاؤ ، اس سے تم کو اجر وثواب ملے گا(مسنداحمد) کاشت کاری جہا

بچت اور سرمایہ کاری کیسے کی جائے؟

جب بچت و سرمایہ کاری کی بات ہوتی ہے تو ہمارے یہاں حالات کچھ حوصلہ افزا نظر نہیں آتے۔ اوّل تو یہ کہ مہنگائی میں اضافہ کے باعث بچت کا رجحان عمومی طور پر کم ہی دیکھنے میں آتا ہے اور اگر کوئی بچت کرنا چاہے بھی تو بات ماہانہ کمیٹی سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔ بچت، سرمایہ کاری اور پھر اس سرمایہ کاری کے ذریعے ایک سے دو کیسے بنائے جائیں؟ یہ ایک مکمل سائنس ہے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو ابتدائی، ثانوی اور اعلیٰ ثانوی کلاسز تک ’پرسنل فائنانس‘ کا علم دیا ہی نہیں جاتا۔ ایسے میں ہمارے نوجوانوں کو ملک سے باہر ایسے رول ماڈلز کو دیکھنا پڑتا ہے، جنھوں نے پُرمغز سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی ایک ’مالیاتی سلطنت‘ قائم کی ہے۔ وارن بفٹ دنیا کے ایک ایسے ہی مایہ ناز سرمایہ کار ہیں۔ بچپن میں وہ اوہاما میں اپنی فیملی کےگروسری اسٹور پر کام کرتے تھے۔ انھوں نے پہلا ا

’معلم‘ کا مقام اور اہمیت

خداوند عالم نے انسان کی بناوٹ ہی اس طور پر رکھی ہے کہ ایک لا علم انسان کو کسی علم رکھنے والے انسان کا محتاج بنایا ہے۔ ایک انسان محض کتابوں سے وہ کچھ حاصل نہیں کر پاتا جو استاد کی شکل میں اللہ کی عطا اسے سکھا دیتی ہے۔ روز اول سے یہ روحانی رشتہ قائم ہے اور سینہ بہ سینہ علوم کی منتقلی کا سبب رہا ہے۔  ایک معلم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ چودہ سو سال پہلےاہل عرب جو باعتبار زبان فصیح و بلیغ تھے، ان کے لیے براہِ راست کلام اللہ سمجھنے میں کیا دقت ہوسکتی تھی ،جبکہ خود ان کا مطالبہ بھی یہی تھا کہ قرآن کا آسمان سے ہر فرد کے لیے علیحدہ نسخہ نازل ہوجائے، مگر باجود اس کے رب ذوالجلال نے اپنی سنت کے مطابق بطور معلم پیغمبر اسلام ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتخاب فرمایا اور حضو ؐکے ذریعے اپنی مقدس کتاب کے علوم ، رموز ، احکام اور قربِ خداوندی کے اسرار اس وقت کے مخاطبین اول کے

نصاب کو بدلنے کی ضرورت ہے؟

علم کا اصل مقصد ہے کہ ایک انسان اپنے خالق یعنی اللہ کو،اپنے آپ کو اور اپنے سماج کو پہچانے۔ اس کے علاوہ علم کا مقصد ہے کہ انسان پڑھائی کے باوصف اپنے درپیش مسائل کا حل ڈھونڈے ۔اپنے ارد گرد کے ماحول کےساتھ ساتھ سماجی مشکلات کا ازالہ کرنے کی بھی کوشش کرے اور اگر وسعت ہو تو مشکلات کا تدارک کرے۔ مزید براں وہ ایسے نئ چیزوں کو بنانے یا ڈھونڈنے میں کامیاب ہوسکے،جس سے زندگی آسانی سے گزاری جاسکے۔ یہ ساری چیزیں تب ہی حاصل ہوسکتی ہیں، جب طالب علم کو ایک ایسے نصاب کے تحت پڑھائی حاصل ہو سکے جس نصاب میں وہ اپنی نجی زندگی اور اپنےسماجی پہلوئوںکو ہر لمحہ ذہن میں محفوظ رکھ سکے۔ گیارہویں جماعت کی انگلش کتاب میں البرٹ آئنسٹائن کے بارے میں ایک مضمون موجود ہے۔ جس میں ایک تاریخ کے پروفیسر، البرٹ کو اس بات پر ڈانٹتے ہیں کہ وہ پڑھائی کی اصل تعریف کرتا ہے۔ البرٹ اپنے استاد سے مخاطب ہوکر کہتا ہے کہ’&rsqu