تازہ ترین

اسوۂ حسنہ۔ تکمیل، عالمگیریت اور ابدیت

تخلیق آدم علیہ السلام کے وقت ملائکہ نے اللہ رب العزت سے استفسار کیا کہ "آپ ایک ایسی مخلوق کیوں تخلیق فرمارہے ہیں جو زمین میں قتل و غارت کا باعث بنے گی؟" اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ "میں جانتا ہوں، (جو) تم نہیں جانتے!" علماء کرام کا ماننا ہے کہ ملائکہ جن "چیزوں کا نام" بتانے سے قاصر رہے اور جن کا علم پاکر آدم  ؑ نے ملائکہ کے سامنے پیش کیا ان میں (مطلق علم کے ساتھ ساتھ) ذریت آدم ؑ میں سے ان گلہائے سرسبد کی فہرست بھی شامل تھی جو مختلف ادوار میں انسانیت کے لئے نہ صرف فکر و نظر کے لحاظ سے بلکہ اخلاق و عمل کے لحاظ سے بھی قابل اتباع نمونہ بننے والے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس فہرست میں آدم ؑ سے لیکر رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم تک آنے والے تمام انبیاء کرامؑ بدرجہ اتم موجود تھے۔ تاہم انبیاءعلیہ السلام کے ساتھ ساتھ پیدا ہونے والے صدیقین، شہداء اور صالحین (زہاد، اتقی

حضرت محمد ﷺ۔سارے جہاں کے لئے پیغامِ رحمت

ربیع الاول کا مقدس مہینہ سرو رِکائنات ،فخرِ موجودات ،خاتم النبین ،محبوبِ ربّ العالمین کی ولادت باسعادت ایمان افروز بشارت لے کر آیا ہے۔۱۲؍ ربیع الاول ایک ایسے دن کی یاد تازہ کرتی ہے جس نے فکر و عمل اور اعتقادات کی دنیا میں انقلاب ِعظیم برپا کردیا ۔اس دن نورانی ساعتوں میں حضرت ِ حق کی راہیں کھل گئیں۔دنیا کی بے چین و بے تاب ذرّوں نے وحدانیت کے نغمے گائے اور اُجڑے ہوئے چمن میں تروتازہ پھول کھل گئے،آفتاب ِ نبوت نے سر زمین عرب سے طلوع ہوکر سارے جہاں کو روشن کردیا ۔ قرآن پاک میں خداوند ِ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے :ہم نے آپ کو دونوں جہانوں کے لئے رحمت بناکر بھیجا ۔چنانچہ حضور پُرنور ؐ کی حیات ِ طیبہ کے کسی بھی پہلو پر نظر ڈالیں اس میں خیر ہی خیر اور رحمت ہی رحمت نظر آئے گی ۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت و شفقت کسی خاص طبقے کے لئے مخصوص نہ تھی بلکہ آپ کی ابر رحمت کے چھینٹوں نے ا

پیغمبر ﷺ دنیا کےلیے نمونہ عمل

ماہ ربیع الاول کو مقدس ومحترم مہینہ مانا جاتا ہے کیونکہ اس مہینے میں آفتاب نبوت سرور کائنات حضرت محمد صولی اللہ علیہ وسلم توولد ہوئے۔آپ کی ولادت باسعادت میں اگرچہ تھوڑا سا اختلاف ہے مگر سبھی مکتبہ فکر اس بات پر متفق ہیں کہ آپ کا ولادت باسعادت ربیع الاول کے مہینے میں ہی ہے۔آپؐ کا نور اقدس پہلے سے ہی موجود تھا ،آپؐ کا ظہوراس وقت ہوا جب دنیا میں فتنہ انگیزی،چاپلوسی،بدخواہی،ایک دوسرے کی نفرت،جہالت اور بدعنوانی زوروں پر تھی، لوگ قتل وغارت کو غیرت مندوں کا کام سمجھتے تھے۔بیٹیوں کو زندہ دفن کرنا عار نہیں سمجھاجاتا تھااور شریف لوگوں کا جینا حرام ہوا تھا تو اللہ تعالیٰ کی قدرت برجستہ آئی اور پیغمبر اکرمؐ کی صورت میں ایک منجی کو بھیجا تاکہ انسانیت بچ سکے ،اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ "اے رسول میں نے آپ کو عالمین کےلئےرحمت بنا کر بھیجا"یعنی آپ عال

مختصرحقوقِ نبوی ﷺ

اہل ایمان پر دعویٰ ایمان کے بعد واجب ہے کہ لوازمات ایمان پورے کریں۔لوازمات دین اور شعار اسلام کا بنیادی جُز رسالت پر ایمان ہے۔اہل اسلام اس بات سے باخبر ہیں کہ ماہ ربیع الاول کے ایام میں ہی تاجدار حرم کائنات کی طرف مبعوث فرمائے گئے۔مناسب ہے کہ ان ایام میں بالخصوص سیرت طیبہ کا مطالعہ کرکے اپنے نفوس کو نبوی سانچے میں ڈالا جائے۔ رسالت پر ایمان لانے کے بعد پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض حقوق ہم پر عائد ہوتے ہیں کہ ہم ان کی حق ادائیگی کریں۔ اختصاراً حقوق نبویؐ کا تذکرہ آرہا ہے۔  (۱) رسالت پر ایمان:اولاً اسلام کے متبعین پر لازم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور رسالت پر لسان، قلب و جوارح سے ایمان لائے۔ رسول رحمتؐ کو آخری نبی اور آخری رسول تسلیم کرلے۔ ختم نبوت پر کامل ایمان رکھے۔ مدعیان نبوت سے براءت کا اعلان کرے۔ قادیانی و دیگر جھوٹے مدعیان نبوت سے تحذیر

سیرت ِرسول اور جدید سائنس

اللہ تعالیٰ نے دیگر مخلوقات کے ساتھ ساتھ انسانوں سے دنیا کو آباد کیا۔ جس کا آغاز باضابطہ طور پر اول الذکر پیغمبر حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے کیا ۔ رب العالمین نے اپنی اس خاص مخلوق کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے تمام قسم کے وسائل دستیاب رکھے ہیں۔ انسان کو روحانی سکون اور قرب الٰہی حاصل کرنے کے لئے وقتاً فوقتاً مختلف پیغمبروں کو بحیثیت روحانی پیشوا اور رشد و ہدایت کا ذریعہ بنایا۔ یہ سلسلہ تسلسل کے ساتھ چلتا رہا اور عظیم الشان پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم پر ختم ہوا۔ اس طرح آپ ؐ اس روحانی قلعے کی آخری اینٹ اور سلسلہ روحانیت کی آخری کڑی بنائے گئے ہیں۔ ماہِ ربیع الاول میں دنیا کے تمام مسلمان اللہ کے آخری نبی رحمت للعالمینؐ سے اپنی عقیدت و محبت کا بھرپور اظہار کرتے ہیں ۔ سیرت کی محفلیں، مجلسیں و دیگر پروگرام منعقد کرتے ہیں ۔یہ پیغمبر الآخرالزمان صلی اللہ علیہ

سرورِ کائنات کا ذکرِ جمیل

حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ پاک کے انمٹ نقوش قرآن کریم کی آیاتِ مبارکہ میں موتیوں کی طرح چمک رہے ہیں۔ اللہ جلّ جلالہ نے اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ؐ کی سیرتِ مبارکہ کو قرآن کریم میں انتہائی جامع انداز میں بیان فرمایا ہے۔ قرآن کریم کے مقدس اوراق پر موجود آفاقی و الہامی تعلیمات کی روشن کرنیں جہاں چہار دانگِ عالم میں نور بکھیرتی نظر آتی ہیں، وہیں محبوبِ ربّ کائناتؐ کی سیرتِ مبارکہ اور حیاتِ طیبّہ کی عکاسی بھی کرتی نظرآتی ہیں۔ چناں چہ قرآن کریم میں نبی کریم ؐ کی بعثت ورسالت کا بھی تذکرہ ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا بیان بھی، رسول اللہؐ کےخلقِ عظیم کا ذکر بھی ہے اور آپ ؐکے اسوۂ حسنہ کو اپنانے کی تعلیم بھی، کہیں مزمّل و مدثّر کی صدائیں ہیں تو کہیں بشیر ونذیر اور رؤف ورحیم کے پیارے القابات۔ قرآن کریم کے مقدس اوراق میں کہیں رسالت مآب ﷺسے &rsq

نام ِ محمد ؐ کے کرشمے

 چند سال پہلے امریکی محکمہ خارجہ نے یہ اعلان کیا تھا کہ جن افراد کے نام میں ’’محمد‘‘ آئے گا‘ اُن کو ویزا کارروائی میں خصوصی تفتیش کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس رپورٹ کے منظر عام پر آتے ہی اہل ایمان کی غیرت نے انگڑائی لی اور بے شمار بچوں کا نام ’’محمد‘‘رکھا گیا۔ یورپ کی ایک تازہ خبر نے ثابت کر دیا ہے کہ مسلمان‘ اُس کا تعلق خواہ کسی رنگ‘ نسل‘ قوم‘ زبان یا علاقے سے کیوں نہ ہو‘ اُس کیلئے سب سے بڑی نسبت اور سب سے اہم شناخت پیارے آقا رحمۃ للعالمین ؐ کا نام نامی اسمِ گرامی ہے۔اس خبر پر نظر پڑی تو دل خوشی اور تشکر کے جذبات سے بھر گیا۔ آئیے! آپ بھی بی بی سی سمیت عالمی ذرائع ابلاغ میں آنے والی یہ خبر میرے ساتھ پڑھ لیں:’’محمد نام انگلینڈ‘ ویلز کے بعد اب ناروے کے دارالحکومت ا وسلو میں بھی سب