تازہ ترین

انسان کی خوشی قناعت میں پوشیدہ

آج کل کے مادی دور میں انسان کی خواہشات بڑھتی چلی جا رہی ہے جسکی وجہ سے اکثر لوگ اپنی زندگی کے ساتھ مطمئن نہیں ہے۔ کہتے ہیں کہ انسان کی ضرورتوں کی حد ممکن ہے لیکن اُسکی خواہشوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ انسان جتنی اپنی خواہشات پوری کرتا ہے اتنی ہی اُسکی لالچ بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ لہٰذا جو انسان اپنے رب کی عطا کردہ نعمتوں کے ساتھ مطمئن ہونے کے بجائے اپنی خواہشات کو پورا کرنے کو ہی اپنی زندگی کا مقصد سمجھتا ہے، وہ انسان کبھی بھی اپنی زندگی میں مطمئن نہیں رہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ اپنی زندگی سے ناخوش ہیں۔ زیادہ سے زیادہ کی چاہ میں رہنا انسان کی ایک بنیادی خصلت ہے۔ اگر ہمارے پاس ضرورت کے مطابق ایک گاڑی ہوتی ہے تو ہماری یہ خصلت ہمیں اُس سے بھی اچھی گاڑی خریدنے پر مجبور کرتی ہے۔ اگر ہمارے پاس رہنے کے لیے ایک عام سا مکان ہے تو ہم چاہتےہیں کہ ہمیں رہنے کے لئےاس سے بھی بہتر اور خو

اداریہ نگاری کیا ہوتی ہے؟

اخبار میں خبروں کے علاوہ اور بھی مواد شامل ہوتا ہے۔ جس میں اداریہ کی اہمیت اور افادیت مسلم ہے۔ اداریہ ’ مدیر‘ یا ’ اداریہ نویس ‘ کے اظہار خیال کو کہتے ہیں۔ یہ وہ صحافتی مقالہ ہے جس سے اخبار کی پالیسی ظاہر ہوتی ہے۔ اسے انگریزی میں Editorial یا Lead Editorial کہا جاتا ہے ۔اداریہ کو مقالہ افتتاحیہ بھی کہتے ہیں۔ جس صفحہ پر اداریہ شائع ہوتا ہے اسے ادارتی صفحہ کہا جاتا ہے۔ صحافتی اصطلاح میں اداریہ سے مراد وہ مضمون ہے جو اخبار یا رسالے کے ادارتی صفحہ پر اخبار کے نام کی تختی کے نیچے چھپتا ہے۔ اداریہ اس مضمون کو کہتے ہیں جو کسی ہنگامی موضوع پر لکھا گیا ہو اور جس میں قاری کی ایسی راہ پر ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے جو مضمون نگار کے خیال میں صحیح راہ ہے۔ اداریہ نویس قاری کو اپنے نقطہ نظر سے متفق کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ایسی باتیں لکھتا ہے، جس سے قاری قائل ہوجائے اور موافق

ہمارےمعاشرے کا اجتماعی شعور؟

وحی یا الہام یا القاء یا کوئی بھی شعوری یا قلبی واردات ایک ایسا الٰہی ہتھیار ہے جو اذہان اور قلوب پہ ضرب لگاتا ہے۔ جسمانی نشو و نما اور تزئین کی طرف کم یا بالکل دھیان نہیں دیتی۔ بلکہ اس کے برعکس اپنی جھولی میں ایسے ایسے ترکش یا ایمونیشن رکھتے ہیں جن سے اجسام پر مجاہدوں اور ریاضت سے قدقن لگائی جاتی ہے۔ اور صوم و صبر اور قلتِ طعام و منام و کلام کی شدید ضربوں سے اجسام اور انسانی وجود میں ودیت حیوانی نفس کو نکیل دی جاتی ہے۔ یہ ایک اٹل بات ہے اور ہماری مذہبی روایت اور تہذیب کا حصہ رہی ہے۔ اللہ کے بر گزیدہ بندوں کے علاوہ بھی قرونِ اولیٰ میں عام انسانوں نے اپنے اجسام سےزیادہ اپنے وجود و شعور اور روح کا سامان کرنے کی فکر کی ہے۔ اور وہ اسی کم مائیگی اور کم نفسی کو آزادی سے تعبیر کرتے تھے۔  ہمارے دور کا ایک بڑا المیہ ذہنی یا شعوری غلامی ہے۔ جو خارج میں جسمانی قدغن سے زیادہ خطرناک ہے او

ہمیں کیا کرنا ہے اور ہم کیا کررہے ہیں؟

 ہم ظاہری آرائش و زیبائش پر حد سے زیادہ فوقیت دیتے ہیں ،جس کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی مطلوب ہے ۔زندگی کو سنوارنے کے لیے کیا کرنا ہوتا ہے یہ بہت کم خواتین جانتی ہیں۔ یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لینا چاہئے کہ ہم  نہ صرف گھر اور معاشرہ کے ہر معاملے میں نہایت کار آمد ثابت ہوسکتی ہیںاور معاشرہ کےہر فرد کی مدد کرسکتی ہیں  بلکہ تاریخ بھی رقم کر سکتی ہیںتواسی لیے کہا گیا ہے :وجود زن سےہے تصویر کائنات میں رنگ ۔اگر نہیںتومیرے نزدیک یہ صنف نسواں کی توہین ہے۔ کیا ہم نے کبھی غور کیاہے کہ ہم جس صنف کو فقط حسن کی علامت سمجھ رہے ہیں اور دل رُبائی اور ستائشی القابات کے نا زیبا القابات سے نواز رہے ہیں تو کیا یہ عورت آپ کے لئے فقط ایک عورت ہی ہے؟ نہیں! یہ فقط عورت نہیں بلکہ اس کے ساتھ سے جڑے کئی مقدس رشتےہیں جو پاکیزگی کی مثال ہیں ۔عورت، اگر ماں ہے تو جنت، بیوی کے روپ میں راحت، بہن کی

علما، معاشرے کو اپنا دماغ تصور کرتے ہیں؟ | افراد کا مجموعہ بغیر دماغ کے کام نہیں کرسکتا

اگر علما معاشرے کا کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں توسب سے پہلےوہ خود کو معاشرے کا دماغ تصور کریں۔ ذرا غور کریں کہ سات براعظموں میں سے ایک بر اعظم کے ایک ملک کے ایک چھوٹے سے صحرائی شہر میں بیٹھا ایک غریب یتیم غیر حاکم شخص وسائل و طاقت کی عدم فراہمی کی باوجود یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں پوری دنیا کے لیے رحمت ہوں، بالفاظِ دیگر وہ پوری دنیا میں خیر پھیلانے اور برائی کو مٹانے کی ذمہ داری اپنے سر لے کر اس کی انجام دہی کے لیے متفکر اور تگ و دَو میں مصروف ہے، کون ہے وہ؟ احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم۔ اسی عظیم شخصیت نے العلماء ورثۃ الانبیاء کہہ کر اپنے بعد اسےمعاشرے کا دماغ بنایا ہے تو پھر ہم کیوں نہیں ان کی طرح سوچ سکتے؟ ہمیں ہر حال میں سوچنا ہوگا کیوں کہ جتنا غافل یہ دماغ ہوتا جائے گا اتنا ہی معاشرہ خراب ہوتا چلا جائے گا۔ غور کرنے کی بات ہے کہ نبیؐ نے اسے اپنا وارث بنایا، ہزاروں لاکھ

دُعا ہی سبیلِ واحد

   دعا،عاجزی،انکساری اور بے چارگی کے اظہار کو کہتے ہیں۔عبادت کی اصل روح اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کی قدرت و اطاعت اور اپنی کم مائیگی و ذلت کا اظہار کرنا ہے۔انسان رحمِ مادر میں جب نطفہ کی شکل میں قرار پاتا ہے تو اس وقت سے ہی وہ حاجتوں اور ضرورتوں کا غلام بن جاتا ہے اور اس کی حاجتوں اور ضرورتوں کا یہ سلسلہ زندگی کے آخری سانس تک ختم نہیں ہوتا۔دنیا میں اگرچہ انسان کو اپنے ہی جیسے انسانوں سے سابقہ پڑ کر ان کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے لیکن دنیا میں انسان کو سب سے بڑھ کر ضرورت اپنے خالقِ حقیقی کی ہوتی ہے،جو انسان کا سب سے زیادہ مشفق اور خیرخواہ ہوتا ہے۔جو ذات رگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہو، اُسے چھوڑ کر کسی اور کے در کا فقیر بننا دانشمندی کا کام نہیں ہو سکتا۔انسان کبھی کبھار مسائل کے بھنور میں اس طرح پھنس جاتا ہے کہ اسے کوئی امید باقی نہیں رہتی،سب سہارے ٹوٹ جاتے ہیں،سارے وسائل جواب دیتے ہی

کامیابی کےلئے ہمت و حوصلہ اور ایمانداری کی ضرورت!

یہ ایک اہم اور توجہ طلب مسئلہ ہے کہ جہاں آج کل ہمارے نوجوان روز بروز کسی نہ کسی امتحان میں حصہ لیتے رہتے ہیںوہیں انہیں کہیں نہ کہیں انٹرویوز بھی دینے پڑتے ہیںاور بعض اوقات ان امتحانات یا انٹرویو میں ناکام ہونے کے بعد زبردست مایوسی کے شکار ہوجاتے ہیں ۔ میں انہیں سے مشورہ دیتا ہوں کہ مایوس نہ ہوجائیں بلکہ حوصلہ رکھیں کیونکہ مایوس ہونے سے یہ نوجوانیا تو کوئی انتہائی قدم اٹھاتے رہتے ہیںیا کسی نشہ کے استعمال کی طرف مائل ہوجاتے ہیں،جس سے ان نوجوانوں کاحوصلہ دن بہ دن کمزور ہوتا ہے اور وہ غلط کاموں میں لگ جاتے ہیںاور اس طرح ان کی زندگیاں بگڑ کر تباہ ہو جاتی ہیں۔جبکہ یہ بات اٹل ہےکہ ہمت ،عزم اور استقلال برقار رکھنے سے ہی کامیابی پیر چوم لیتی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ زندگی امتحان ہی ہے، اس میں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ نوجوانوںکی کسی امتحان یا کسی انٹرویومیں ناکامی کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے

وہ شمع کیا بجُھے جسے روشن خدا کرے

کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کے لیے اس مذہب سے جڑی ہر ایک بات بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ بھارت ایک سکیولر ملک ہے، جہاں ہر ایک مذہب یکساں اہمیت کا حامل ہے اور یہی سبب ہے کہ سبھی مذہبوں کے ماننے والے لوگ اتحاد و اتفاق سے صدیوں سے رہتے آئے ہیں لیکن بات تب بگڑتی ہے ،جب کوئی شر پسند اور ذلیل انسان کسی مذہب کے تئیں نازیبا الفاظ یا حرکت عمل میں لاتا ہے ،جس سے اس مذہب کے ماننے والوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں اور کبھی کبھی خدا نخواستہ امن وامان میں بھی خلل آ جاتا ہے ۔یہ بات قابل مذمت ہے ،چاہئے کسی بھی مذہب کو نشانہ کیوں نہ بنایا جائے ۔اسلام کی بات کریں تو اس کے ماننے والوں کے لیے اللہ رب العزت، اللہ کے پیارے اور آخری رسول حضرت محمد صلی الله عليه وسلم، قرآنِ کریم، صحابہ غرض اسلام سے جڑی ہر کوئی شخصیت اور شے معتبر اور مقدس ہے ۔لیکن بے حد افسوس اور شرم ناک بات ہے کہ آج تک چند اسلام دشمن او

بہترین اُمیدوار کا انتخاب کیسے کیا جائے!

اپنے نئے کاروبار میں خالی اسامیوں کو پُر کرنے کے لیے قابل لوگوں کی تلاش مشکل ہوسکتی ہے اور آپ صرف بہترین کے خواہاں ہوتے ہیں۔ یہ یقیناً ایک اہم مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ کسی بھی کام کو کرنے کے لیے اگر درست شخص کا انتخاب ہوجائے تو کاروبار کو اس کا فائدہ ہوتا ہے۔ مختلف کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز اس حوالے سے کچھ مشورے دیتے ہیں کیونکہ وہ ملازمت کے لیے ان گنت امیدواروں کے انٹرویوز کرنے کے باعث مختلف طریقے سیکھ چکے ہوتے ہیں کہ امیدواروں کو کیسے جانچا جائے اور وہ ٹیم کے ساتھ کس طرح کام کریں گے۔ زیادہ تخلیقی اور مؤثر امیدوار کی خدمات حاصل کرنے کے لیے ان حکمت عملیوں کو جانیں جو بہتر امیدوار کی تلاش میں مدد کریں۔ عام انٹرویو سے گریز کریں :  ملازمت کے لیے ایک عام انٹرویو میں پوچھے جانے والے معمول کے سوالات عموماً ہر انٹرویو میں کیے جاتے ہیں جیسے کہ آپ اگلے 5سال میں خود کو کہاں دیکھ

کیا ہم چوتھے صنعتی انقلاب کیلئے تیار ہیں ؟

گزشتہ صدی کے اوائل میں زندگی بہت سادہ تھی۔ اس وقت کے جدید اور خوش حال گھرانوں میں مرفی یا فلپس کا گراموفون ہوا کرتا تھا، جس پر ماسٹرز وائس (ایچ ایم وی) کے ریکارڈ سُنے جاتے تھے۔ بھاپ کے انجن سے چلنے والی ٹرینیں سفر کا عام ذریعہ ہوا کرتی تھیں۔ بستیاں بجلی سے محروم تھیں۔ نصف صدی قبل تک سڑکوں پر اِکّا دُکّا کاریں اور موٹر سائیکلیں نظر آتی تھیں۔ تار، تیز ترین ذریعۂ پیغام رسانی ہوا کرتا تھا۔ 21ویں صدی شروع ہوتے ہی ٹیکنالوجی میں تیزی سے ترقی دیکھنے میں آئی۔ کمپیوٹر نے دنیا بھر میں دھوم مچا دی اور انسانی زندگی کے ہر شعبے پر چھا گیا۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس وقت ہم ٹیکنالوجی کے ایک نئے انقلاب کے دہانے پر کھڑے ہیں، جو ہمارے معیارِ زندگی، تصورِ خودی، ثقافت، معیشت اور سیاست سمیت زندگی کے ہر پہلو کو بدل رہا ہے۔ معیشت کی زبان میں ہم چوتھے صنعتی انقلاب میں داخل ہوچکے ہیں۔ پہلا صنعتی ان

جہاںعدل و انصاف | وہاں سکون و عافیت

یہ حقیقت ہے کہ ہمارا ملک ہندوستان صدیوں سے امن و اتحا داورفرقہ وارانہ ہم آہنگی کا گہوارہ رہا ہے، صوفی سنتوں کی آماجگاہ رہا ہے اور گنگا جمنی تہذیب کا سنگم رہا ہے ۔جہاں مختلف مذ اہب کے ماننے والے ساتھ ساتھ رہتے تو وہیں ایک دوسرے کے خوشی و غم میں برابر کے شریک ہوتے آئے ہیں مگر افسوس کہ نفرت اور ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنے کی خطرناک و افسوسناک روش نے سب کچھ بدل کررکھ دیا ہے۔ چنانچہ اب پچھلے کچھ عرصہ سے ملک بھرمیں کبھی مذہب کی بنیادپر موب لنچگ ہوتی ہے تو کبھی نعروں کی تکرار ہوتی ہے ،جب نفرت میں اندھے ہوکرجھنڈ کی شکل میں کچھ لوگ کسی نہتے اوربے گناہ انسان کو پکڑ لیتے ہیں تو اسے مختلف طریقوں سے مجبور کرتے ہیں اور ایسا بھی مرحلہ آیا ہے کہ اسے پیٹ پیٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے، اس طرح کے واقعات ہندوستان کے ماتھے پر کلنک اور بدنما داغ ہیں ۔ایسا لگتا ہے کہ سرکاری مشینری نہ صرف اسے شہہ دے

ماسک۔۔۔

کیا زمانہ تھا وہ جب لوگ مفلس تھے لیکن مخلص تھے ۔ اگر چہ وسائل کم‌ اور کچے تھے پر لوگ من کے سچے تھے۔ماحول صاف ستھرا اور پاک تھا ۔نہ دل میں بغض تھا اور نہ ہی دماغ میں شیطانی طرز کا ادراک ۔لوگ خود ایک دوسرے کے خیرخواہ تھے اور قدرت ان پر مہربان ۔میں گھر میں اکثر اپنے والدین کے ساتھ بیٹھ کر ان کے زمانے کی باتیں سنتا رہتا ہوں ۔وہ سننے میں عجیب لگتی ہیں پر اچھی لگتی ہیں ۔ایک دن کووڈ کے خطرات کو مدنظر رکھ کر میں نے والد سے کہا :’’اباجان ماسک لگا کر باہر جایا کرو ‘‘کووڈ نے نہ جانے کتنی قیمتی جانیں تلف کی ہیں ؟ اباجان نے تلخ انداز میں کہا : ’’میں نے ایسا کوئی گناہ نہیں کیا ہے،نہ کسی کی عزت و عفت پر ہاتھ مارا ہے اور نہ ہی کوئی چوری کی ہے،نہ میرے منہ سے شراب کی بدبو آتی ہے اور نہ ہی میں نے کسی کا حق مارا ہےجو میں منہ چھپا کے چلوں ۔‘‘ می

حقوق انسانی کا عالمی منشور | اسلام کے عطا کردہ بنیادی حقوق

انسانی حقوق کا متفقہ منشور (United Declaration of Human Rights) اقوام امتحدہ کی تصدیق شدہ دستاویز اورقرارداد ہے جو 10دسمبر1948ء کو پیرس کے مقام پر منظور کی گئی۔ اس قرار داد کے دنیا بھر میںتقریباً 375 زبانوں اور لہجوں میںتراجم شائع کئے جاچکے ہیں جس کی بنیاد پر اس دستاویز کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ تراجم کی حامل دستاویز کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ قرار داد دوسری عالی جنگ عظیم کے فوراً بعد منظر عام پر آیا جس کی رو سے دنیا بھر میں پہلی بار ان تمام انسانی حقوق کے بارے میں اتفاق رائے پیدا کیا گیا جو ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور بلا امتیاز ہر انسان کو فراہم کئے جانے چاہئے۔ اس قرار داد میں کل30 شقیں شامل کی گئی ہیں جو تمام بین الاقوامی معاہدوں ، علاقائی انسانی حقوق کے علاوہ  قومی دستوروں اورقوانین سے اخذ کی گئی ہیں۔  محترم قائین! راقم کی تحریر کے دو حصہ ہیں۔ پہلا ’’حقوق ان

طلبا میں کون سی خصوصیات ہونی چاہئے؟

حصولِ تعلیم کے دوران اچھا پڑھنے کے ساتھ ساتھ مختلف تکنیک سیکھنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے، اسی لیے اساتذہ کرام کو چاہیے کہ اپنے طلبا کو ایسی بنیادی صلاحیتیں بھی سکھائیں جن کا انھیں پیشہ ورانہ زندگی میں فائدہ ہو۔ دیکھا جائے تو ہمارا بنیادی طرزِ تدریس ابھی بھی پرائمری سطح پر طالب علموں کے توجہ دینے اور یاد رکھنے کی مہارت پر منحصر ہے۔  تاہم، مستقبل میں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو روایتی صلاحیتوں کے حامل ہونے کے ساتھ ساتھ اختراعی ، موافقت پذیر، فوری سیکھنے والے اور اپنی راہ خود تلاش کرنے والے ہوں۔ آج کے طلباکو اپنے اساتذہ سے بہت زیادہ توقعات ہیں۔ بطور استاد اگر آپ اپنے طلبا کو مستقبل کے لیے تیار کرنا چاہتے ہیں تو کچھ مہارتیں ایسی ہیں جو اس حوالے سے معاون ہیں۔ کمیونیکیشن یا ابلاغ :ہمارے پاس وسیع پیمانے پر ابلاغ کے ذرائع موجودہیں۔ ایک ذاتی خط لکھنے سے لےکر ذاتی بیان لکھنے یا پھر سوشل

آج بھی علم کی ضرورت ہے!

 زندگی میں ہر جگہ علم کی ضرورت ہے۔ کوئی بھی کام ہو، علم کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے۔ دنیا کی مذہبی اور غیر مذہبی کتب میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ عالم ایک اعلیٰ پایہ کا انسان ہوتا ہے۔ علم کی بہت سارے تاویلات ہیں، مگر بنیادی طور پر علم کا مطلب جاننے کے ہیں۔ اسلام میں بھی علم کی فضیلت پر زور دیا ہے ۔ انبیاء کرام میراث میں مال اور دولت چھوڑ نہیں چھوڑتے ہیں بلکہ وہ علم لوگوں کے لئے  چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ ایک عالم کی فضیلت ایک عابد پر بہت زیادہ ہے۔ شہید کا خون اور ایک عالم کی قلم کی سیاحی قیامت کے دن برابر ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ علم کتناضروری ہے۔         مگر آج کے زمانے میں زیادہ تر لوگ علم کے نام پر جہالت سیکھتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے کہا گیا کہ علم کا بنیادی مقصد ہے کہ لوگ اپنے آپ کو پہچانیںاور جس سماج میں وہ رہتے ہیں اس کو بھی جانیں۔

تربیت ِ اولاد کی اہمیت اور ہماری ذمہ داری

اسلام دنیا کا ایسا واحد مذہب ہے جو اپنے ماننے والوں کو ایک دقیقہ کے لیے بھی تنہا نہیں چھوڑتا ، اسلام مسلمانوں کو جہاں ایک طرف فرائض و واجبات اور سنن و مستحبات کی ادائیگی پر ابھارتا ہے تو وہیں نوع بنی آدم کے ہر شعبہ حیات میں بھی مکمل طور سے رہنمائی کرتا ہوا نظر آتا ہے، اگر ہم اولاد کی بات کریں تو ہر انسان کی اللہ تبارک و تعالی کی بارگاہ میں یہی دعا ہوتی ہے کہ اللہ تعالی اسے نیک صالح اولاد عطا فرمائے جو کہ زوجین کی زندگیوں کو خوشیوں سے بھر دے اور مستقبل میں ان کے بڑھاپے کا سہارا بنے، بلاشبہ ہر والدین اپنے بچوں کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں ، خود تو فاقہ کشی کی صعوبتیں جھیل لیتے ہیں ، خود تو پھٹے پرانے کپڑوں پر اکتفا کر لیتے ہیں، لیکن اپنے لعل کے لیے اچھے سے اچھا کھانا اور مناسب کپڑوں کا انتظام کرتے ہیں اور پوری دنیا کے والدین کا یہی حال ہے گویا کہ یہ ایک فطری چیز ہے جسے من جانب ا

عوام کب تک پیاس سے نڈھال رہے ؟

جموںو کشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ کے سب ڈویژن مینڈھر میں سرکار کے کروڑوں روپے کی لاگت سے تکمیل کیئے گئے محکمہ جل شکتی کی زیرِ نگرانی لگائے گئے پروجیکٹوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے ۔جن میں سے انتظامیہ کی نظروں کے سامنے والی لفٹ اسکیمیں ضرور کام کر رہی ہیں لیکن آنکھوں اور پہاڑ سے اوجھل دور دراز دیہاتی علاقوں میں کئی اسکیمیں فعال نہیں ہیں۔ سب ڈویژن مینڈھر میں محکمہ جل شکتی کی ناقص کاکردگی کی وجہ سے پسماندہ اور سرحدی علاقوں کی عوام صاف پینے کے پانی کی سہولیات سے محروم ہیں جس کی وجہ سے علاقہ کی عوام کو عالمی وبائی مرض کویڈ۔19 کے دوران بھی کئی کلو میٹر دور کا سفر طے کرکے چشموں سے پانی لانا پڑتا ہے۔واضح رہے اس سرحدی اور پسماندہ علاقہ کے اندرصاف پانی کے چشمے کم تعداد میں موجود ہیںاور ان کے علاوہ علاقہ جات کے اندر ہینڈ پمپ کی سہولیات بھی انتظامیہ کی جانب سے مہیانہیں کروائی گئی ہیں ۔تاحال جہاں ہینڈ پ

زرعی قوانین منسوخ لیکن کسان غیر مطمئن

         مرکز ی حکومت نے گزشتہ سال ستمبر میں جس طرح جلدبازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں تین زرعی قوانین کو منظور کیا تھا، اب اَس سال اُسی طرح ان زرعی قوانین سے دستبرداری کا بِل پارلیمنٹ میں پیش کرتے ہوئے منظور کرلیا۔ وزیراعظم نریندرمودی نے گرونانک جینتی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ ان کی حکومت تین زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کرتی ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں ملک کے کسانوں سے معذرت خواہی کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حکومت ان قوانین کے مثبت پہلوؤں کو کسانوں کے سامنے واضح کرنے میں ناکام ہو گئی ۔ اس لئے کسانوں کے مطالبہ کو قبول کرتے ہوئے ان قوانین کو بہت جلد منسوخ کردیا جائے گا۔ وزیراعظم کی اس یقین دہانی سے ملک کے کسانوں نے خوشی تو ظاہر کی کیا لیکن تا حال اطمینان کا اظہار نہیں کیا  ہے، جب کہ پارلیمنٹ میں بھی ان متنازعہ قوانین کی تن

پاکستان۔کیا پھر حکومت تبدیل ہوگی؟

پاکستان کے حالیہ حالات اس بات کی جانب اشارہ کررہے ہیں کہ وہاں جلد ہی حکومت تبدیل ہوسکتی ہے اور ایک مرتبہ پھر یا تو فوج یا پھر اس کا کوئی معتبر فرد پاکستان حکومت کی کمان سنبھال سکتا ہے۔ حالیہ عرصے میں پاکستان میں دو ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جن کا اثر پاکستانی سیاست اور جمہوریت پر کافی دور رس ہوسکتا ہے۔ گزشتہ ہفتے ایک پاکستانی نیوز ویب سائٹ فیکٹ فوکس نے ایک آڈیو کلپ اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا جس میں پاکستان کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار احتساب بیورو کے ایک جج سے یہ کہہ رہے تھے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم کو جیل میں بند رہنے دیا جائے۔ دوسرا واقعہ بھی تقریباً دس -پندرہ دن پرانا ہے اور اس میں پاکستانی حکومت نے ایک نوٹیفیکشن کے ذریعہ ممنوعہ مذہبی تنظیم تحریک لبیک پاکستان یعنی TLPکو ممنوع تنظیموں کی فہرست سے ہٹا دیا ہے۔ پہلے بات کرتے ہیں نواز شریف کی۔ گزشتہ ایک دو

زمین کی اتھاہ گہرائی میں کیا ہے؟ | آ گ ہی آ گ یا گرم آبی محلول !

زمین اپنی جز ترکیبی کے حوا لے سے اوپر سے نیچے تک ایک جیسی نہیں ہے اور نہ ہی نیچے سے اوپر تک یہ ایک ہی کرہ (Sphere) یا تہہ (Layer) پر مشتمل ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ زمین کئی کروں پر مشتمل ہے پھر یہ کہ زمین کا سینٹر ’’مرکز‘‘ مائع تا نیم مائع حالت میں تبدیل ہوتا رہتا ہے۔  اس اہم سائنسی حقیقت تک پہنچنے و الا ’’اٹلی‘‘ کا رہنے و الا دنیا کا ایک عظیم سائنس دان ’’حکیم میثاغورث‘‘ تھا ،جس نے پہلی مرتبہ سائنسی شاہوں اور شواہد سے اس پوشیدہ حقیقت کا اظہار اس وقت کیا جب اس نے اٹلی کی سرزمین پر نپلز (Naples) کے نزدیک ویسوئیس (Vesuvius) نامی آتش فشاں کے ذریعہ زمین کے اندر سے آنے والے محاصل (Products) کا بغور مشاہدہ اور تجزیہ کیا اور ساتھ ہی فلک سے گرنے والے ’’شہاب ثاقب‘‘ سے پیدا ہونے والے گڑھوں