مثبت سوچ ایسا خزانہ ہے جو مٹی کو سونا بنادے

اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو سوچنے، سمجھنے، اور محسوس کرنے کی صلاحیتوں سے نوازا ہے، اگر وہ ان صلاحیتوں کا بروقت اور صحیح معنوں میں استعمال کرے تو وہ اپنے فیصلوں میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ زندگی کا ہر منظر’’ سوچ‘‘ سے ہی جنم لیتا ہے۔ سوچ کی مختلف اقسام ہیں جیسے مثبت سوچ، منفی سوچ۔ مثبت سوچ کی متضاد منفی سوچ ہے جو شکست، ناکامی، ناامیدی، غصہ، بدمزاجی، مایوسی، دوسروں کو نیچا دکھانے کی خواہش وغیرہ کا نتیجہ ہوتی ہے۔  منفی سوچ رکھنے والا نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ ہر شخص انہیں دھوکہ دےرہا ہے ۔ نہ خود کچھ کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کو کچھ کرتا دیکھ سکتے ہیں۔ یاد رکھیں منفی سوچ اور پاؤں میں موچ انسان کو کبھی آگے نہیں بڑھنے دیتی۔ سوچ سے الفاظ بنتے ہیں، الفاظ سے عمل، عمل سے کردار اور کردار سے آپ کی پہچان ہوتی ہے۔ ہر انسان کی زندگی پراُس کی سوچ اور خیالات اثر انداز ہوتے ہی

فکری دور میں لٹریچر کی اہمیت اور افادیت

حال ہی میں ہندوستان کی مشہور یونیورسٹی جے این یو کے نصاب میں اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی گئی اس حوالے سے '’’انڈیا ٹو مارو‘‘ کے ایڈیٹر سعید خلیق نے ایک مضمون لکھا ہے ۔لکھتے ہیں:"جواہر لال نہرو یونیورسٹی،وہ واحد یونیورسٹی ہے، جس نے اپنے تعلیمی کورس میں اسلام کے نام کو دہشت گردی سے باضابطہ جوڑ دیا ہے۔ یونیورسٹی میں ڈیزائن کیے گئے دہشت گردی کے خلاف تعلیمی کورس کے ذریعے اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کا کام کیا ہے ، جسے یونیورسٹی کی اکیڈمک اور ایگزیکٹو کونسل نے منظور کیا ہے۔"آجکل جہاں ہر طرف اسلامی فوبیا پایا جاتا ہے اس نصاب کے بہت ہی خطرناک اثرات پڑ سکتے ہیں جس سے ہندوستان کے سیکولر کلچر کو خطرہ ہے ۔لکھتے ہیں:" یہ کورس فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے نقطۂ نظر سے بہت خطرناک ہے۔ کیوں کہ اس کے ذریعے ہندوستان میں اسلاموفوبیا کو تقویت ملے گی۔&q

پروفیسر نصرت اندرابیؔ

ابھی وادی کے نامور استاد پروفیسر مخمور حسین بدخشی کے داغ مفارت سے ہماری آنکھیں پر نم ہی تھیں کہ ایک اور دل دہلانے والی  خبرموصول ہوئی کہ کشمیر کی ایک باغ و بہار شخصیت پروفیسر نصرت اندرابی اس جہاں فانی سے پرواز کر گئی۔(ا نا لللہ ونا الیہ راجعون)۔پروفیسر نصرت اندرابی کا شمار ان ماہر ین سماجیات میں سے ہوتا ہے جنہوں نے کشمیر میںتعلیم نسواں کو پروان چڑھانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔کشمیر کے علمی و ادبی پرستاروںمیں ایک نام پروفیسر نصرت اندرابی کا بھی ہے۔آپ کا اصلی نام نصرت گنائی  ہیں۔آپ کے والد خواجہ سیف الدین گنائی جو کہ سابقہ ڈی ،ائے جی پولیس  تھے۔ ۱۹۳۸ء  میں اننت ناگ کے ایک اہم تاریخی علاقے مٹن میں تولد ہوئی۔اپنے ہی علاقے میں میڑک کا امتحان پاس کر کے ۱۹۵۴ میں ومینس کالج (ایم ،روڈ) میں داخلہ لیا ۔  ومینس کالج سے بی اے کا امتحان پاس کرنے کے بعد کشمیر یونیورسٹی سے ا

دبستان کشمیر کے درخشاں ستارے

اللہ رب العزت نے انسان کو بہترین صورت میں تخلیق کیا ہے اور ساتھ ہی متنوع  خوبیوں سے اسے مزید پرکشش بنایا ہے۔کسی کو یہ ہنر دیا کہ مقرر اچھا ہے تو کوئی محرر بہترین۔اگر کسی پر اپنا خاص کرم کیا تو اس کو دونوں میں سلیقہ بخشا۔ جموں و کشمیر میں بھی ایسے اشخاص موجود ہیں، جن کو رب نے سلیقہ بخشا ہے کہ وہ افسانہ لکھتے ہیں تو خوبیوں سے آراستہ پیراستہ ۔غزل لکھتے ہیں تو وہ غزل ہوتی ہے اپنے احساسات و جذبات کی ترجمان۔انشائیہ لکھتے ہیں تو خوبیوں کا پیکر ،اداریہ لکھتے ہیں تو بے باکی کا نمائندہ۔بات کرتے ہیں تو ہر لفظ سے خوشبو آئے۔  ادبی دنیا کا ایسا ہی ایک معروف نام زاہد مختار کا ہے۔جو بیک وقت ایک بہترین مدیر ، عمدہ  شاعر ،افسانہ نگار ،ناول نگار ،انشائیہ نگار،ڈراما نگار ،اداکار،  اور سب سے بڑکر ایک بہترین انسان ہیں۔ زاہد مختار 15 جنوری 1956 ء میں چینی چوک اننت ناگ میں پیدا ہوئے۔

آہ! اختر رسول۔ ماہر گرافک ڈیزائنر خوش لحن سوز خواں

یوں تو کسی بھی انسان کا موت کے ذائقے کو چکھنا کوئی منفرد یا غیر معمولی واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ قانون قدرت ہے اور قرآن مجید کا واضح اعلان بھی کہ ہر ذی حیات کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔دنیا میں جاری موت و حیات کے منظم سلسلے سے ہی کائنات کا نظام متوازن ہے تاہم بعض شخصیتیں اپنے سماج کے کسی نہ کسی گوشے پر ایسے تابدار و شاندار نقوش مرتسم کرتی ہیں کہ ان کے ارتحال سے پیدا ہونے والے خلا کی بھر پائی نہ صرف ناممکن نظر آتی ہے بلکہ ان کی یادیں بھی لوگوں کے ذہنوں پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے گھر کر جاتی ہیں جنہیں لاکھ کوششوں کے باوصف بھی مٹایا جا سکتا ہے نہ پل بھر کے لیے فراموش کیا جاسکتا ہے۔ ایک ایسی ہی شخصیت سری نگر کے بابا پورہ حبہ کدل علاقے سے تعلق رکھنے والے اختر رسول تھے جو دس اکتوبر یعنی اتوار کی صبح اچانک راہی امصار افلاک ہو کر اپنے احباب و اقارب کو ہی نہیں بلکہ بیسیوں چاہنے والوں کو کرب و درد کے

فقہی موشگافیاں اور وقت کا تقاضا

فقہ ایک رحمت ہے اور متقدمین علماء کی خدمات اس حوالے سے قابلِ قدر ہیں۔ عوام قرآن و سنت کی باریک بینیوں سے عمومی طور پر بے خبر ہوتی ہے۔ اس لیے علماء وقت وقت پر اپنی ذہانت و فتانت کا استعمال کرتے ہوئے عوام کی رہنمائی کرتے ہیں۔ باریک سے باریک تر مسئلے کو بھی آسانی کے ساتھ حل کردیتے ہیں ۔ خود اس بات پر جھانک لیتے ہیں کہ عوام کو کون سی دشواریاں پیش آرہی ہیں اور آسان حل کیا ہو سکتا ہے ۔ لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس سخت آزما میدان میں بعض ایسے افراد آٹپکے جن کا مقصد خود کو فقہی ثابت کرنا تھا ۔ وہ صرف مسئلہ بیان کرنے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ اس مسئلے کے حوالے سے ایسے ایسےدلائل بھی دیتے رہتے ہیں کہ جن سے سب سے زیادہ نقصان دین ِ اسلام کو ہی پہنچتا ہے۔ عوام قرآن و سنت سے ڈرنے لگتی ہےاور وہ اپنے آپ کو اس قابل سمجھ ہی نہ پاتے کہ خود قرآن و سنت کا مطالعہ کریں ۔ باہر کی دنیا میں جس طرح جید ع

اخلاقیات سے عاری نسلِ نو

وہ بھی کتنا اچھا وقت تھا جب لوگ بہترین اخلاق واطوار سے پہچانے جاتے تھا، ضرورت پڑنے پر ایک دوسرے کا دستِ بازو بن جاتے تھے ۔نوجوان تو ایک طرح سے خدمتِ خلق کا ادارہ سمجھے جاتے تھے، کسی کو چوٹ لگ جائے ، محلے میں کسی کو بازار سے کوئی سامان منگوانا ہویا کسی کو اسپتال لے جانا ہو ، کسی کی تیمارداری کرنی ہو نوجوان سب سے آگے ہوتے تھے، کسی کے کام آنا ان کا دل پسند مشغلہ تھا۔ ماضی میں ایک ناخواندہ دیہاتی بھی اخلاقی خوبیوں کی دولت سے مالا مال تھا۔ کوئی مسافر گاؤں میں آجاتا تو سب ہی اس کی آؤ بھگت کرتے۔ کم پڑھا لکھا آدمی بھی جانتا تھا کہ مہذب اور شائستہ رویے کا مظاہرہ کیسےکرنا ہے لیکن رفتہ رفتہ جو تہذیبی روایات ختم ہوتی گئیںاب دور دور تک دکھائی نہیں دیتیں۔ نوجوان نسل تو اخلاقیات سے عاری ہوتی جا رہی ہے۔ وہ تو بہت سے اخلاقی آداب کو تکلفات سمجھنے لگی ہے ۔ مثلاً شکریہ ادا کرنا، کسی غلطی پر معذرت

تازہ ترین