تازہ ترین

خصوصی پوزیشن کی بحالی

ایک شخص کے پاس ایک خوبصورت گھوڑی تھی - ایک دوسرا ٹھگ قسم کا شخص آیا اور گھوڑی والے سے پوچھا کہ کیا اسکو بیچ رہے ہو۔ گھوڑی مالک نے کہا جی حضور ۔ ٹھگ خریدار نے کہا چیک کرنے کے لئے مجھے دو تاکہ تھوڑا سا چلا کے دیکھ لوں۔ گھوڑی مالک نے پوچھا کہ آپ کا نام کیا ہے۔ ٹھگ خریدار نے اپنا نام 'اپنی' بتایا اور چیک کرنے کے بہا نے گھوڑی لیکر تھوڑا آگے گیا اور یوں گھوڑی سمیت فرار ہو گیا۔ گھوڑی مالک جب اس بابت پولیس اسٹیشن رپورٹ درج کروانے پہنچا تو دوران تفتیش داروغہ جی نے گھوڑی مالک سے پوچھا کہ جو شخص گھوڑی لے کر بھاگا ہے اسکا کیا نام ہے ، گھوڑی مالک نے جواب دیا کہ جناب داروغہ جی "اپنی گھوڑی لے کر بھاگ گیا" ۔ تھانے دار کو کچھ سمجھ نہ آیا اور سوال دہرایا کہ گھوڑی لے کر بھاگنے والے کا کیا نام ہے، کس کیخلاف رپورٹ درج کریں ۔گھوڑی مالک نے پھر وہی جواب دیا "صاحب اپنی گھوڑی لے کے بھ

درود پاک کی اہمیت وفضیلت

 مورخہ ۴ ستمبر کو میں نے جس مسجد میں نماز جمعہ پڑھی وہاں ایک صاحب تقریر کررہے تھے۔ انہوں نے کئی ایسے مسائل پر’’ہل من مبارز‘‘ کا اعلان کیا جن پر ماضی میں پورے بر صغیر میں بہت لے دے ہوچکی ہے۔ مناظرے ہوچکے ہیں۔ لڑائی جھگڑے ہوچکے ہیں۔ ہرچند کہ موجودہ حالات اس بات کے متحمل نہیں کہ ایسے مسائل پر بات کی جائے جن سے ملت میں انتشار ہو۔ افتراق ہو۔ ملی وحدت پارہ پارہ ہو لیکن کچھ لوگوں کے پاس ان مسائل کے علاوہ صلاحیت ہی نہیں ہوتی کہ وہ کسی اور علمی موضوع پر علمی انداز میں مدلل گفتگو کرسکیں۔ مذکورہ خطیب نے جن مسائل پر گفتگو کی ان میں درود وسلام کا بھی موضوع تھا۔ موصوف نے ایک دو مسلک کا نام لے کر انہیں چیلنج کیا اور فرمایاکہ یہ لوگ نہ درود پڑھتے ہیں اورنہ پڑھنے دیتے ہیں اورایسے لوگ اسلام سے خارج قرار پاتے ہیں۔ میں بھی یہاں ان تمام مسائل سے پہلو تہی کرتے ہوئے صرف درود

سیرتِ طیبہ ؐ نعوت کے آئینے میں

نعت چاہے عربی میں ہو، فارسی میں ہو یا اْردو میں، سیرتِ سرکار دوعالمؓکے ساتھ اس کا براہِ راست تعلق ہے۔ عربی اور فارسی نعت گوئی میں واقعاتِ سیرت کا بیان یہاں پر ہمارا موضوع نہیں ہے۔ ہم اْردو نعت گوئی کے حوالے سے بات کریں گے اوریہ دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ نعتیہ منظومات میں سیرت طیبہؐ کا بیان کس انداز و اسلوب میں ملتا ہے۔ نعت کا مرکزی موضوع اگرچہ مدحِ رسولؐ ہے لیکن مدح و ثنا کے ساتھ ساتھ سیرتِ پاک سے بھی نعت کا گہرا تعلق ہے اور یہ تعلق دو طرح سے ہے۔ اوّلاً یوں کہ قرآن مجید اور احادیث نبویؐ کے بعد نعت کے مآخذ میں تیسرا نام کتبِ سیرت کا آتا ہے۔ چنانچہ سیرت النبیؐ پر لکھی گئی ہزاروں کتابوں اور بالخصوص سیرت کی امہات الکتب کہلانے والی دس بارہ کتابوں کا نعت کی تدوین و تخلیق میں بڑا اہم اور نمایاں مقام ہے۔ ایک تو ان امہات الکتبِ سیرت میں وہ تمام اشعار محفوظ ہوگئے جو رسول اکرمؐ کے غزوات او