انتخابی حد بندی:ہندو مسلم زاویہ | جموںوکشمیر اقلیتوں کے تئیں انتخابی مساوات کا مثالی نمونہ

1۔ دیسائی حد بندی کمیشن کیلئے جو واحد کام رہ گیا ہے ،وہ پہلے سے طے شدہ114اسمبلی حلقوں میں سے90حلقوں کو تقسیم بلکہ سرنو تقسیم کرنا ہے جبکہ باقی ماندہ 24نشستیں پاکستانی زیر انتظام کشمیر کیلئے مخصوص ہیں۔ 2۔ معیار کے لحاظ سے اور مجموعی طور پر نقطہ نظر کے لحاظ سے بھی انتخابی حلقوں کی الاٹمنٹ کا تعین کس طرح ہوگا؟ حد بندی کمیشن کے پاس لکھنا شروع کرنے کے لئے صاف سلیٹ یا کورا کاغذ نہیں ہے ۔ میراث میں بہت سارے معاملات ہیں۔ شروعات کرنے والوں کیلئے نشستوںکی موجودہ تقسیم ہے جس کو علاقائی نمائندگی کے لحاظ سے غیر متوازن سمجھا جارہا ہے ،خاص کر جموں بمقالہ کشمیر کے لحاظ سے۔  3۔ جموں ، جو ہندو اکثریتی انتظامی صوبہ ہے ، کئی دہائیوں سے یہ بحث کر رہا ہے کہ اعلیٰ سیاسی ڈھانچے میں اس کی نمائندگی بہت زیادہ کم ہے۔ یہ ان کا مؤقف رہا ہے کہ نہ صرف 1951 سے ہی ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے ، بلکہ

سُکڑتی وُلر جھیل | کشمیر کا خزانۂ آب تباہی کے دہانے پر

ستمبر 2014کا سیلاب کشمیر میں ہرسوتباہی پھیلاکر مکانات، پلوں، سڑکوں، کھیت اورفصلوں کوجہاں اپنے ساتھ بہالے گیا،وہیں لوگوں کو آنے والے برسوں کیلئے تلخ یادوں کاایک خزانہ بھی دے گیا۔اس تباہ کن سیلاب کی ایک بڑی وجہ ماہرین کے مطابق ریاست کی متواتر حکومتوں کی براعظم ایشیاء کے سب سے بڑے میٹھے پانی کے جھیل ،ولر کوتحفظ فراہم کرنے میں ناکامی تھی کیونکہ یہ جھیل ہرگزرتے دن کے ساتھ سکڑتی ہی چلی جاتی ہے۔نہ صرف اس جھیل میں آس پاس رہائش پزیدلوگوں نے مداخلت کرکے اس کے پانیوں پرناجائزقبضہ کیا،بلکہ ریاست کے محکمہ جنگلات نے جھیل کے اندر لاکھوں کی تعدادمیں درخت اُگاکردریائے جہلم کے بہاؤمیں رکاوٹ پیداکردی اور جب اس دریا کا بہاؤجوبن پرتھا،تویہ خطرناک سیلاب کاموجب بنا۔ 1911میں جھیل ولرکارقبہ217مربع کلومیٹر تھاجواب نصف سکڑچکاہے،اوراس جھیل کے سیاحتی مقام بننے کی صلاحیت بھی برسوں قبل ختم ہوچکی ہے۔ویٹ لینڈا

ذیابطیس میں کون سے پھل کھائیں؟

ذیابطیس کے مریضوں کو کھانے پینے میں بہت احتیاط کی ضرور ت ہوتی ہے لیکن اکثر وہ میٹھے کی طلب میں بد احتیاطی کر بیٹھتے ہیں جو ان کیلئے نقصان دہ ہوسکتی ہے۔ تاہم قدرت نے پھلوں کی صورت ہمیں میٹھے کا متبادل دیا ہے۔ امریکن ڈائیبٹیس ایسوسی ایشن (ADA)مشور ہ دیتی ہے کہ ذیابطیس کا مریض ہر قسم کا پھل کھا سکتاہے، سوائے اس کے جس سے مریض کو الرجی ہوتی ہو۔ 2014میں شائع ہونے والے برٹش میڈیکل جرنل سے پتہ چلتا ہے کہ جتنا زیادہ آپ پھل کھائیں گے، آپ کو ٹائپ ٹو ذیابطیس ہونے کا خطرہ اتنا ہی کم ہوگا۔ اس ضمن میں تازہ پھل اور ان کا رس فائدہ مند ہوتا ہے، پروسیسڈ پھل یا پھلوں کے مصنوعی مشروبات سے اجتناب کرنے کی ضرورت ہے۔ آئیں دیکھیں ، ذیابطیس کے مریض کونسے پھلوں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ بیریز ADAکے مطابق بیریز (رس بیریز ، بلو بیریز اور اسٹرابریز)ڈائبیٹک سپر فوڈ ہیں کیونکہ ان میں موجو د کئی اقسام کے

منشیات کے آتش فشاں پر سوئے لوگ

ہمارےاس معاشرے کی صحت کو جو اخلاقی اور روحانی روگ اندر ہی اندر کھوکھلا کررہے ہیں فی الوقت ان سبھی کی گنتی مقصود نہیں ہے۔ بلکہ جو سب سے بڑا مسئلہ اس حوالہ سے آج سراْٹھا کر اور پھن پھیلا کر ہماری غفلتوں پر تازیانے برسار ہا ہے وہ منشیات اور دیگر نشہ آور ادویات کا وہ پھیلائو ہے جو ہر گذرتے دن کے ساتھ بغاوت پر اْتر آئے تندوتیز سیلاب کی مانند اس معاشرے کی اخلاقی اور روحانی بنیادوں کی نہ صرف یہ کہ چولیں ہلا رہا ہے بلکہ اس کے لرزہ براندام دیوار ودر بھی ڈرا رہے ہیں، کہ اگر انجام گلستان کی فکر نہ کی گئی تو پھر اس کے بنجر بن جانے میںکوئی شک باقی نہیں رہ جائے گا۔ یہ بات تو طے ہے کہ منشیات کی لت ہماری کثیر آبادی کے ایک بڑے حصہ کو لگ چکی ہے۔ اور اب کچھ چونکا دینے والے انکشافات نے تو حساس لوگوں کے پائوں کی زمین سرکا کے رکھدی ہے ۔ جنوبی کشمیر کے کئی علاقے خطر ناک حد تک اس وبائی مرض کی زد میں آچکے

کورونا وائرس کی نئی قسم 9گنا زیادہ متعدی

نوول کورونا وائرس کی نئی قسم پہلے سے زیادہ متعدی ہے مگر وہ پرانی قسم کے مقابلے میں لوگوں میں کووڈ 19 کی شدت میں اضافہ نہیں کررہی۔یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا۔اس تحقیق میں ایسے ٹھوس شواہد دریافت کیے گئے کہ یورپ سے لے کر امریکا تک اس وائرس کی نئی قسم زیادہ تیزی سے پھیلی اور یہ اب بالادست قسم بن چکی ہے۔لا جولا انسٹیٹوٹ فار امیونولوجی کی تحقیق میں شامل محقق ایریکا اولیمن شیپری کا کہنا تھا 'یہ نئی قسم اب وائرس کی نئی شکل ہے'۔ جریدے جرنل سیل میں شائع تحقیق اس تحقیقی ٹیم کے سابقہ کام پر مبنی تھی جو کچھ عرصے پہلے پری پرنٹ سرور میں شائع کی گئی تھی، جس میں جینیاتی سیکونس کے تجزیے کے بعد عندیہ دیا گیا تھا کہ ایک نئی قسم نے دیگر پر سبقت حاصل کرلی ہے۔اب تحقیقی ٹیم نے نہ صرف مزید جینیاتی سیکونسز کا جائزہ لیا بلکہ لوگوں، جانوروں اور لیبارٹری میں خلیات پر

طاعون میں خیر کے پہلو سے آشنائی

کورونا کی مہاماری سے پوری دنیا پریشانی کے عالم میں گرفتار ہو چکی ہے۔ لیکن یہاں بھی دین اسلام کی نمایاں راہنمائی خوب نظر آرہی ہے۔ اسلام کے سامنے آج تک کوئی بھی چیلنج زیادہ دیر تک ٹک نہ سکا۔ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو نہ ماضی میں نامراد ہو کر بے سہارا چھوڑا اور نہ مستقبل میں ایسا ہوگا۔ یہ چیلنج دراصل مسلمان کے سامنے ہے کہ وہ دنیا کے دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی رہنمائی قرآن کریم و احادیث مبارکہ سے کیسے کریں۔  لاک ڈاؤن کے دوران جہاں مسلمانوں میں مطالعہ کرنے کا رجحان کافی حد تک بڑھ چکا ہے۔ وہاں غیر مسلم ممالک میں بھی اسلام کا کافی بول بالا ہوگیا۔ ہر طرف سے اسلام کے علاوہ کردہ ہدایات کو اجاگر کیا گیا۔ تمام ممالک نے اللہ کے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے طاعون کے بارے میں ارشاد مبارک کے مطابق اپنی سرحدیں بند کیں۔ جس سے نہ وہاں سے کسی کو جانے دیا اور نہ آنے دیا۔ وہ الگ بات ہے کہ ان

انتخابی حد بندی:سیاق و سباق

وفاقی حکومت نے 6 مارچ 2020 کو جموں و کشمیر یونین ٹریٹری کے ساتھ ساتھ دیگر چار ریاستوں کے انتخابی حلقوں (پارلیمنٹ اور اسمبلی) کی سرنو حد بندی کے لئے ایک حد بندی کمیشن تشکیل دیا۔ بادی النظر میں یہ انتخابی انتظامیہ میں معمول کی مشق ہے جو وقتاً فوقتاً کرائی جاتی ہے تاہم سیاسی طور یہ دو انتہائی اہم نوعیت کے معاملات کا فیصلہ لیتی ہے۔اول یہ کہ تمام ریاستوں میں عوامی نمائندوںکی تعداد کیا ہوگی جن میں ممبرا ن پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے ممبران شامل ہوتے ہیں ۔دوم پارلیمانی و اسمبلی حلقوںکی سر نو حدبندی کا کی نشاندہی کرنا۔  اگر انتخابی حدود وقتا فوقتا ایڈجسٹ نہیں کیے جاتے ہیں تو ریاستوں ، خطوں، صوبوں اور اضلاع میں آبادی میں عدم مساوات پیدا ہوتاہے۔یوںآئین ہند کے آرٹیکل 82 میں یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ دس سال کے بعدہر مردم شماری کے بعد حد بندی کی جانی چاہئے۔ یہ لوگوں کی موجودہ اور ہم عصر

موبائل فون اور تعلیمی نظام

آپ سب نے موبائل سکولوں کا نام تو سنا ہی ہوگا ۔یہ وہ سرکاری سکول میں جو جموں وکشمیر انتظامیہ نے خانہ بدوش طبقہ کے بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کیلئے بنائے ہیں ۔ان موبائل سکولوں کے ذریعہ جموں و کشمیر کے میدانی علا قوں سے اپنے مال مویشیوں کے ہمراہ پہاڑی علا قوں کی جانب ششماہی ہجرت کرنے کے دوران بچوں کو ڈھوکوں و میدانی علا قوں میں تعلیم فراہم کر نے کیلئے خصوصی ٹیچر تعینات کرنے کیساتھ ساتھ دیگر اقدامات اٹھائے جاتے ہیں جبکہ موبائل سکولوں کی پوری کارکردگی پر متعلقہ چیف ایجوکیشن آفیسران نگرانی رکھتے ہیں لیکن لاک ڈائون کے دوران موبائل فون بھی اب سکولوں کو چلانے کا کام کرنے لگے ہیں ۔ جموں وکشمیر میں موبائل فون کی آمد کے ساتھ ہی تعلیمی اداروں کی جانب سے بچوں پر موبائل فون ساتھ لانے پر پابندی عائد کر دی گی تھی جبکہ سکولوں و کالجوں میں اگر کسی بھی بچے سے موبائل فون ملتا تو متعلقہ ٹیچر و پرنسپل ا

جَل شکتی یا جَل سختی !

وزیراعظم نریندر مودی نے ایک بہترین نعرہ دیا تھا’جل بنا جیون نہیں‘۔ اس کے بعد انہوں نے سبھی خطوں اور ریاستوں میں محکمہ واٹرورکس کا نام بدل کر جل شکتی رکھ دیا۔ مدھیہ پردیش، راجستھان، کرناٹک، بنگال اور دوسری ریاستوں کے اْن علاقوں میں بھی اب پینے کا پانی مہیا کیا گیا ہے جہاں لوگ ایک ایک بوند کے لئے ترس رہے تھے۔  لیکن کشمیر میں مرکز کے خوشگوار اعلانات کا بھی اْلٹا نتیجہ برآمد کیوں ہوتا ہے؟ جونہی کشمیر کا پی ایچ ای محکمہ جل شکتی کہلانے لگا ، پینے کے پانی کے لئے ہاہاکار نہ صرف چند علاقوں بلکہ وادی کے چپے چپے  پر گونج اْٹھی۔ مقامی اخبارات کی سرخیاں اور اداریے اس بات کا ثبوت ہیں کہ وادی میں محکمہ جل شکتی اب جل سختی بن گیا ہے۔ کشمیر میں محکمہ کے 24 انجینئرنگ ڈویژن ہیں، جسکا مطلب ہے کم از کم 100ماہر انجینئراور سینکڑوں معاون اہلکار۔  اس کے باوجود کھنہ بل سے کھاد

کشمیر یونیورسٹی اور انتظامی سُقم

 یہ لمحہ نہایت ہی اہم اور حوصلہ افزا ہے کہ کشمیر یونیورسٹی کو حال ہی میں قومی ادارہ جاتی درجہ بندی فریم ورک 2020 کے ذریعہ ہندوستان کی پہلی 50 یونی ورسٹیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے، جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔ اگر چہ اس مشہور جامعہ نے تعلیمی ترقی کے لیے کافی کوششیں کی، لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے ڈگریوں کو اپنے مقررہ وقت پہ پورا کرنے میں عدم دلچسپی کا اظہار کیاجس کی وجہ سے ڈگریوں کے لیے طے شدہ مقررہ وقت گزرجانے کے بعد بھی ابھی تک طلبہ کی تعلیم پائے تکمیل تک نہیں پہنچ پائی جو یونیورسٹی کی کارکردگی پر مسلسل سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ ابتدائی مراحل میں اگر چہ طلباء مختلف تعلیمی شعبوں میں داخلہ لینے کے بعد خوشی محسوس کرتے ہیںلیکن بعد میںیونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے تعلیمی انتظامات کے سلسلے میں غفلت شعاری اور ناقص رویہ کی وجہ سے جامعہ میں داخلہ لینے کے اس فیصلے پر سخت افس

چین میں مسلم کُشی

ویغور مسلمانوں پر جو ظلم وستم ڈھایا جا رہا ہے عام طور پر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اس کو بیان نہیں کرتے بلکہ اور تو اور حقوق انسانی کے نام پر نعرہ لگانے والے تمام ادارے خاموش ہو جاتے ہیں جو چیزیں ہم تک پہنچتی ہیں یا تو وہ بے بنیاد ہوتی ہیں یا دروغ گوئی پر مشتمل ہوتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں حقائق تک رسائی بڑی مشکل ہو جاتی ہے۔ چینی حکومت اپنی مسلم آبادی کو کم کرنے کے لیے نسلی اقلیت ایغور باشندوں کو شرح پیدائش کم کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ چینی حکومت ایغور مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ہاں بچوں کی پیدائش کی شرح پر کنٹرول کے لیے بہت سخت اقدامات کر رہی ہے۔ دوسری طرف ہان نسل کی اکثریتی آبادی کو زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ متعدد خواتین انفرادی طور پر جبری فیملی پلاننگ کے بارے میں اپنے خیالات اور تجربات کا اظہار کرتی آئی ہیں تاہم خبر رساں ادارے ایسو سی ایٹڈ پریس نے اس بارے

لالچوک | کشمیر کے نشیب و فراز کا عینی گواہ

لاک ڈائون میں بھٹکا ہوا ایک اجنبی مسافر گہرے اندھیرے میں رات گزارنے کیلئے ٹھکانے کی تلاش میں لالچوک سے گزر رہا تھا…اُسے دو لوگوں کی آپس میں باتیں کرنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں اور وہ ان آوازوں کا تعاقب کرتے ہوئے آگے کی جانب چل رہا تھا۔ گھنٹہ گھر کے قریب پہنچ کر کسی نے اُسے پکارا … ’’ارے بھائی رات کے اندھیرے میں کہاں جارہے ہو، یہاں تو آج کل دن میں بھی کوئی بھٹکتا نہیں ہے‘‘۔ اجنبی مسافر نے اِدھر اُدھر دیکھا لیکن اُسے کوئی بھی انسان دکھائی نہیں دیا، اُس نے سوچا کہ شائد یہ اُس کا وہم ہے اور اُس کے کان بج رہے ہیں۔ وہ آگے بڑھنے لگا لیکن پھر سے آواز آئی… ’’ارے بھائی ادھر دیکھو میں بول رہا ہوں‘‘…  مسافر دم بخود ہوگیااور ڈر کے مارے اُس کے پسینے چھوٹنے لگے… اُس کی ٹانگیں جیسے جم گئی

کووڈ 19- | سائنسی اور مذہبی تناظر میں

دسمبر 2019کے آخری ہفتے میں چین کے شہر وُہان (Wuhan) سے نمونیا نما ایک بیماری’’ کرونا وائرس‘‘ پھوٹ پڑنے کا خلاصہ ہوا جس نے پہلے پورے چین اور پھر پوری دُنیا کوتیز رفتاری سے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور وبائی شکل اختیار کی۔ عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگوں کی نظر بس اس وائرس کے طبی پہلوؤں(یعنی کتنی اموات ہوئی،کتنے لوگ اس کی زد میں آگئے وغیرہ) پر جاتی ہے ،چنانچہ اس وائرس کے کئی اور پہلو بھی ہے جن کی جانب ہماری توجہ مبذول نہیں ہوئی۔تجزیہ نگاروں کے مطابق اس وبا سے پوری دُنیا کا نظام بدل سکتا ہے۔عالمی سطح پر سیاسی اُتھل پتھل جنم لے سکتی ہے اور اقتصادی پہلو کی بات کی جائے تو اس حوالے سے شائد اتنا کہنا ہی کافی ہوگا کہ فقط چین میںماہِ جنوری اور فروری میں تقریباً پچاس لاکھ لوگ روزگار سے محروم ہوگئے(بحوالہ: CNBC)،دُنیا پر رعب جمانے والے اور خود کو سپر پاور کہنے والے ام

آہ! فدا ؔ راجوروی

’’دور تاحد نظر سبزہ ہی سبزہ پھیلا ہوا ہے۔ نظر خیرہ ہورہی ہے۔ کائنات جیسے اپنے سارے حسن وتنوع کے ساتھ دعوت نظارہ دے رہی ہے۔ میرے سامنے دور تک کھیت ہیں۔ سر سبز لہلہاتے کھیت، ہر یالی، پہاڑ، میدان، جہاں تک نظر جاتی ہے قدرت کی بوقلمونی، درخت سبزوردی میں ملبوس، جیسے پہرہ دے رہے ہوں۔ اونچے درمیانہ ، چھوٹے مگر وردی سب کی ایک۔ خدا کا کارخانہ بھی کیسا عجیب اور دعوت نظارہ دینے والا ہے۔(۱/ اگست ۲۰۰۳ء) ہر ذرہ ایک جہاں معنی لیے ہوئے ہے۔ ہر پتہ ایک گلستان رنگ وبو کا امین ہے۔ ہر لمحہ صدہا واقعات کا گواہ۔ ہر دل میں صدہا تار بجتے ہیں جن سے نغمے اور ساز ترتیب پاسکتے ہیں لیکن مغنی ومطرب کی تلاش وجستجو میں سرگرداں ساز اور نغمے وقت کے عمیق سمندر میں غرق ہوجاتے ہیں۔ ذرے بکھر جاتے ہیں لمحے گزر جاتے ہیں اور برگ وبار نذر خزاں ہوکر چمنستان رنگ وبو کی غمازی کے لیے باقی رہ جاتے ہیں۔ (۳ جولائی ۱۹۸۵ء

! وادیٔ گلوان سے کشمیر تک | تماشائے اہلِ سِتم دیکھتے ہیں

جب جنوب ایشیا کی دو بڑی طاقتیں لداخ کی گلوان وادی میں ایک دوسرے کے ساتھ ہتھیاروں کے بغیر نبرد آزما تھیں، ٹھیک اُسی وقت پاکستان کی درخواست پر ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رابطہ گروپ کے ورچیول اجلاس میں کشمیری عوام کی’’ جدوجہد‘‘ کی ایک بار پھر روایتی حمایت کا اعلان کیا گیا۔او آئی سی کا یہ روایتی اعلان اس بات کا غماز ہے کہ خطے میں موجود کشمیر مسئلہ اہمیت کا حامل ہے  اور دنیا کے کئی ممالک کی خارجہ پالیسیاں اس کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔اور تو اور چینی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک چھوٹے سے ویڈیو میں بھی وہاں کے خارجہ سیکریٹری کو جموں کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے۔  تین ایٹمی طاقتوں کے درمیان واقع جموں کشمیر کا خطہ کئی طرح کے پیچیدہ مسائل سے دوچار ہے اور ہر مسئلے کی بنیاد سیاست میں پیوست ہے۔یہاںہر طرف انسانی خون بہہ رہا ہے، چاہے وہ ج

سیاسی شراکت داری۔ نظام کو دوام بخشنے کا واحد ذریعہ

لفظ ’’سیاست‘‘ اردو میں ’’ساس ‘‘ سے مشتق ہے۔ انگریزی میں اِسے   کہتے ہیں جو کہ یونانی لفظ  سے اخذ کیا گیا ہے۔ دونوں کا مطلب شہر، ریاست، خطہ اراضی، ملک وغیرہ ہے۔ بالفاظ دیگر اس کا مطلب کسی خطہ اراضی کے نظام کو چلانا ہے۔ اول روز سے ہی یہ لفظ اہل علم کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔لیکن اِس علم میں باقی علوم کی طرح کوئی ایک مخصوص نظریہ نہیں پایا جاتا ہے۔ کیوں کہ کسی بھی خطہ اراضی کے نظام کو چلانے میں مختلف طریقہ کار ہو سکتے ہیں۔ لیکن اس علم کے معرض وجود میں آنے کے بعد اس کا سب سے زیادہ زُور اِس بات پر رہا ہے کہ کسی خطہ اراضی کے نظام کو چلانے میں کس طرح کے طریقہ ہائے کار اختیار کیے جائیں ۔ اُن طریقہ کاروں میں بھی جس ایک چیز پر سب سے زیادہ دھیان دیا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ جس خطہ اراضی کی آبادی کو کسی نظام کے تلے منضبط کرنا ہو ، اُس میں آ

آہ! فداؔ راجوروی | ’شہر دل‘ کا مسافر’ پتھرو ں کو آئینہ‘ بناکرابدی سفرپر روانہ

راجوری ہی نہیں،جموںوکشمیر کے مشہور شاعرو ادیب جناب عبد الرشید فدا صاحب ۲۴ جون ۲۰۲۰ء کو بوقت فجر اپنے آخری سفر پر روانہ ہوگئے۔ ان کی اچانک رحلت سے راجوری سمیت پورے جموںوکشمیر کی علمی وادبی فضا سوگوار ہوگئی۔ ان کے ساتھی ، دوست، احباب، شاگرد ، اہل خانہ سبھی اشکبار ہوگئے۔ وہ راجوری کی ادبی محفلوں کے لیے لازم وملزوم تھے۔ وہ ایک اچھے شاعر، اچھے قلمکارو ادیب ، مخلص استاد،صوم وصلوۃ کے بے انتہا پابند، نہایت حساس ذہن ودماغ اور فکر واحساس کے مالک تھے۔ ان کی اچانک رحلت سے راجوری کی علمی وادبی ادبی فضا میں خلا سا پیدا ہونا بالکل فطری ہے۔ میری جب سے ان کے ساتھ شناسائی ہوئی اس وقت سے لے کر ان کی وفات تک ان کے ساتھ میرا تعلق اور میری عقیدت کا رشتہ قائم رہا۔ اس لیے ا ن کی رحلت سے مجھے ذاتی طور سے صدمہ پہنچا۔ یہ غالبا ۲۰۰۷ء کی بات ہے۔ مجھے کسی صاحب نے ایک مختصر سا کتابچہ عنایت کیا۔ نام تھا’&rs

علم کی آن لائن شمع ! | روشنی کہاں تک پہنچ پائے گی ؟

کورونا وائرس کی وبا نے دنیا کو نئے انداز سے دیکھنے اور تصور کرنے پر مجبور کردیا ہے۔جہاں دنیا کے ہر شعبے میں حسبِ ضرورت کئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں وہیں تعلیمی شعبے میں بھی بہت کچھ بدل رہا ہے۔ اس بدلائو میں آن لائن کلاس سرِفہرست ہیں۔ یوں تو آن لائن کلاسوں کا رواج دنیا کے بیشتر ممالک میں پہلے سے ہی موجود تھا لیکن ہمارے یہاں کے طلبہ کے لیے درس و تدریس کا یہ ایک بالکل نیا طریقہ ہے جس کے لیے نہ ہمارے اساتذہ تیار تھے اور نہ ہی طالب علم، بلکہ ہمارا تو انفرااسٹرکچر بھی اس قابل نہیں ہے کہ ہم اس جدید طریقۂ تعلیم کو قبول کرسکیں، نہ ہی ہم جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہیں اور نہ تیز ترین انٹرنیٹ کی سہولت ہر گھر میں موجود ہے۔  شائد شہری علاقوں میں کسی حد تک اس نئے تعلیمی طریقہ کار پر عمل کیا جاسکتا ہے لیکن دیہی علاقوں میں کیا ہوگا؟ جہاں 3 جی اور 4 جی کی سہولت ہی میسّر نہیںہے، تو کیا و

جھیل ڈل گھٹن کا شکار | قدرت کا نایاب اثاثہ آلودگی میں غرق

اس کرئہ ارض پر ہوا کے بعد سب سے زیادہ اہم اور ضروری شئے پانی ہے۔پانی ایک عظیم نعمت ہے جو اللہ نے ہمیں مفت عطا کی ہے۔پانی ہماری تمام ضروریات کی تکمیل کے لئے لازمی ہے۔ہماری غذا،صحت ،حفظان صحت،صفائی وپاکیزی ،توانائی وغیرہ تمام کی تمام پانی کی مرہون منت ہیں۔پانی کا مناسب انتظام وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔پانی کے بغیر نہ تو سماج کا وجود ممکن ہے اور نہ معیشت وثقافت کا۔انسانی ضروریات کے لئے پانی کی فراہمی ایک بین الاقومی مسئلہ ہے لیکن پانی سے متعلق مسائل اور ان کا حل اکثر مقامی حیثیت کا حامل ہے۔ہمارا قدرتی ماحول ہمیں صاف ستھرا ،پینے کے قابل پانی مہیا کرتا ہے۔جہاں تک ہماری وادی  قدرتی خوبصورتی اور مسرت بخش آب و ہرا کی وجہ سے پورے برصغیر میں جنت کی بہن کہلاتی ہے۔ بقول کلہن :’’ یہاں سورج کی دھوپ نرم ہے ۔ یہ ایک ایسی جگہ ہے جسے کشیپ نے اپنی شان کے لئے تخلیق کیا۔مدارس کی اونچی اون

ماس پر موشن یا آن لائن امتحان | یا الٰہی یہ ماجراآخر کیا ہے؟

سماج کی بہبودی اور خوشحالی کو فروغ دینے کیلئے ، حکومتیں بنتی ہیں۔ استحصالی طبقوں کو کچل دینا، بے روزگاری کی لعنت کو دور کرکے روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور کرپشن کا خاتمہ کرکے ایمانداری اور دیانتداری کی فضا ہموار کرنا  سریرسلطنت پر براجماںحکمرانوں کا فرض منصبی ہے لیکن شومئی قسمت پچھلے ساٹھ ستربرسوںکا مشاہدہ اس بات کی غمازی کرتاہے کہ جموں و کشمیر میں ایسی کو ئی فضا قائم ہوتی نہیں دکھی۔5اگست کے تاریخی فیصلے کے بعد کہا جا رہا تھا کہ اب جموں کشمیر کے تمام مسائل حل ہونا شروع ہوں گے مگر ایسے بھی کوئی آثار نہیں مل پارہے۔ دورِ حاضر میں جموں و کشمیر میں بے روز گاری کے ساتھ ساتھ محکمہ تعلیم کی غیر سنجیدگی ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے ۔  وادی کشمیر میں گذشتہ ایک سال کے دوران جو شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے وہ تعلیم کا شعبہ ہے۔5اگست 2019 کے بعد پیدا ہوئے نامساعد حالات اوراس سال مارچ