تازہ ترین

کشمیر اور اقوام عالم | چمن ویران ہیں لیکن زمیں گُل رنگ ہے ساری

یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جموں و کشمیربھارت کی آزادی اورقیام پاکستان کے دن سے متناعہ چلا آرہا ہے اور اس مسئلہ کے باعث جنوبی ایشیا میں قیام امن کی صورت حال بدستورغیر مستحکم ہے جبکہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ اقوام عالم کے سلامتی کونسل کی قرار داتوں میں در ج’ مسئلہ کشمیر‘  کا حل بھارت او ر پاکستان کے درمیان دوستی کا اہم ترین اور کلیدی ذریعہ ہے،جس کی ضرورت کی طرف کشمیری عوام گذشتہ سات عشروں سے توجہ مبذول کرتا چلا ٓرہا ہے۔ جس کی طرف عدم دلچسپی کے نتیجہ میں جموںو کشمیر کے لاکھوں مسلمانوں کی جانوں اور حقوق کی درد ناک پامالی ہورہی ہےاور گزشتہ 70سالوں سے بھارت کے زیر انتظام جموںو کشمیر کے 80 لاکھ کشمیریوں کو یرغمالی بناکے رکھا گیا ہے۔اس طویل عرصے کے دوران اگرچہ وقفہ وقفہ کے بعد ہند و پاک حکومتوں کے سربراہوں کی طرف سے اس متنازعہ مسئلے کو حل کرنےکے لئے بڑی بڑی بیان بازی

شیخ محمدعبداللہ کو بہکانے والے کون تھے؟ | جیل سے لکھے گئے خط میں شیخ نے اْنہیں ’دانا لوگ‘ کہا تھا

یہ 1975کے بعد کی بات ہے۔ مرحوم شمیم احمد شمیم نے کشمیر کے کئی سیاسی رہنماوں سے متلعق خاکوں پر مشتمل ہفت روزہ آئینہ کا خصوصی نمبر شائع کیا تھا۔ شیخ محمد عبداللہ سے متعلق خاکے کی شروعات اْنہوں نے اس تاریخی جملے سے کی تھی: ’’شیخ محمد عبداللہ: وہ شخصیت جس سے ہماری صبح بھی عبارت ہے اور شام بھی۔‘‘   شمیم صاحب نے شیخ عبداللہ کے کم و بیش چار دہائیوں پر محیط سیاسی سفر کو فقط ایک جملے میں سمیٹ دیا تھا۔ شیخ عبداللہ واقعی کشمیر کی سیاسی تاریخ کی وہ کڑی ہیں جن کے بغیر یہ تاریخ نامکمل ہے۔ اْن کے بعض حامی کہتے ہیں کہ شیخ صاحب نے عوام سے قْربانی وصول کر کے لیڈری نہیں کی، بلکہ خود قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرکے لوگوں کی نمائندگی کی۔ تاہم محاذ رائے شماری کی تحریک کو لپیٹ کر خودمختاری کے عوض چیف منسٹری قبول کرنا اْن کے لئے سیاسی خودکشی سمجھی جاتی ہے۔ 1982میں جب اْ

ذہنی صحت کا خاص خیال رکھیں | ذاتِ حق پر توکل پریشانیوں سے برأت کی سبیل

گھبراہٹ ایک عام انسانی احساس ہے۔ ہم سب کو اس کا تجربہ اس وقت ہوتا ہے جب ہم کسی مشکل یا کڑے وقت سے گذرتے ہیں۔خطرات سے بچاؤ، چوکنا ہونے اور مسائل کا سامنا کرنے میںعام طور پر خوف اور گھبراہٹ مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔ تاہم اگر یہ احساسات شدید ہوجائیں یا بہت عرصے تک رہیں تو یہ ہمیں ان کاموں سے روک سکتے ہیں جو ہم کرنا چاہتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ہماری زندگی تکلیف دہ ہوسکتی ہے۔فوبیا کسی ایسی مخصوص صورتحال یا چیز کا خوف ہے جو خطرناک نہیں ہوتی اور عام طور پر لوگوں کے لیے پریشان کن نہیں ہوتی۔ اب اگر ہم آج اپنے معاشرے میں دیکھیںتو کافی لوگ ڈپریشن کا شکار ہوئے ہیں۔ جب سے یہ COVID-19 کی بیماری شروع ہوئی تو زندگی کا ہر کوئی شعبہ متاثر ہوا۔ لوگ اپنے گھروں تک ہی محدود رہے اور سارے کام کاج موبائل فون یا لیپ ٹاپ پرکرنا پڑے۔ پھر بھی اب چونکہ تعلیمی اداروں کے بغیر باقی تقریباً سبھی شعبوں میں کام کاج د

مشرق و مغرب میں سائنسی تحقیق کا معیار | کشمیر کے تناظر میں

مکرم پروفیسر منظور احمد شاہ کے بقول "کشمیر یونیورسٹی میں بڑے بڑے ذہین دماغ کام کر رہے ہیں لیکن تحقیق کے معاملے میں دلچسپی، لگن اور جذبہ کا ہونا ازحد ضروری ہے۔ان خصوصیات سے عاری بڑی بڑی نابغہ شخصیات بیکار ہو جاتے ہیں۔وہ زندگی کی دوڑ میں باوجود اپنی صلاحیتوں کے پیچھے رہ جاتے ہیں۔یہی کچھ معاملہ ہماری یونیورسٹی کا ہے۔اگرچہ یہ بات بھی درست ہے کہ کشمیر یونیورسٹی میں پورے بھارت میں سائنسی تحقیق کے حوالے ایک مایہ ناز مقام حاصل کر رہی ہے۔لیکن جو صلاحیتیں قدرت کی طرف سے کشمیری نوجوانوں کو حاصل ہیں اس کے مقابلے میں کام لاغر محسوس ہوتا ہے".پروفیسر موصوف کی وساطت سے مجھے کشمیر یونیورسٹی میں جاری سائنسی تحقیقاتی کام کے متعلق کافی جانکاری حاصل ہوئی۔پروفیسر صاحب چونکہ ماحولیات کے محقق ہیں اس لئے ان کے زیادہ تر توجہ کشمیر میں سکڑتی ہوئی جھیلوں (Lakes)اور کشمیر میں اینویزیو پلانٹ سپیشس ( speci

کمپیوٹر کی زبان میں اعداد | ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر کااستعمال

1 )  بِٹ  Bit : کمپیوٹر گنتی کی زبان سمجھتا ہے اور ہر چیز کو گنتی کے نظریہ سے ہی پیمانہ دیتا ہے۔گنتی کا ’’ایک عدد‘‘ کمپیوٹر کی زبان میں ’’ایک بائنری ڈجٹ‘‘ One Binary Digit کو ’’بِٹ‘‘ Bit کہا جاتا ہے۔ایک ’’بٹ‘‘ Bit یا تو 0 ہوسکتا ہے یا 1 ہوسکتاہے۔ 2 )  بائٹ  Byte : آٹھ ’’بِٹ‘‘ Bit کے مجموعے کو ’’بائٹ‘‘  Byte کہا جاتا ہے اور عملی طور پر ایک ’’حرف‘‘ کو بھی ایک ’’بائٹ‘‘ Byte کے برابر گنتے ہیں۔کیونکہ آٹھ ’’بِٹس‘‘ Bits مل کر ایک ’’حرف‘‘ کو ظاہر کرتے ہیں۔ 3 )’’کے بی‘‘ کلو بائٹ  KB,Kilo

تازہ ترین