تازہ ترین

مقامی صحافت:ماضی اور حال کے آئینے میں

پراسرار ویب سائٹوں پر کشمیر میڈیا کی کردار کشی کے بعد سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بھی اس مہم میںان کے ساتھ شامل ہوئے جب انہوں نے کشمیر ٹائمز کی انورادھا بھسین کے ایک ٹویٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب ان کی سمجھ میں آگیا ہے کہ کشمیر میڈیا کیوں سرکارنوازی پر اتر آیا ہے ۔ کشمیر میںخاص طور اخبارات پر سرکار نوازی کایہ الزام نیا نہیں ہے۔جب عمر عبداللہ کی حکومت تھی ،تب بھی مختلف حلقوں کی طرف سے یہ الزام اخبارات پر عاید کیا جاتا تھااور عمر صاحب اُس وقت مقامی اخبارات کے خلاف وہ سب اقدامات کرنے میں مصروف تھے جو آج روبہ عمل لائے جارہے ہیں ۔سچ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں کشمیر میڈیا کو سرکار نوازی پر مجبور کرنے کے لئے ہر وہ حربہ اختیار کیا جو وہ کرسکتے تھے ۔جس کشمیر ٹائمز کا فلیٹ سربمہر کرنے پر انہیں آج افسوس ہورہاہے اور جسے وہ آزاد صحافت پر حملہ قرار دے رہے ہیں، اسے فلیٹ خالی کرنے

جبری ریٹائرمنٹ

حکومت نے سِول سروس ضابطوں میں ترمیم کرکے سرکاری افسروں کو فعال اور مزید جوابدہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس فیصلے کے مطابق کوئی افسر ملک کی سالمیت اور سلامتی کے حوالے سے باغیانہ افکار کا حامل ہوکر ان خیالات کا کھلے عام اظہار کرے تو اْسے 48 سال کی عمر یا 22 سالہ سروس کو پہنچتے ہی تین ماہ کا نوٹس اور تنخواہ واگذار کرکے جبری ریٹائر کیا جاسکتا ہے۔  اس ضمن میں اگر افسر ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرے یا عہدے پر فائز رہنے کی اہلیت نہ رکھتا ہو تو اْس پر بھی نئے ضابطوں کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ ظاہر ہے سروس رْولز پہلے ہی بہت سخت تھے اور کوئی بھی افسر یاملازم سیاسی سرگرمیوں میں براہ راست حصہ نہیں لے سکتا نہ ہی وہ ایسے خیالات کا پرچار کرسکتا ہے جو عوام میں حکومت مخالف رجحانات کو بھڑکانے کا سبب بنے۔  اس نئے فیصلے کے دو پہلو ہیں۔ اظہار رائے اور عوامی خدمت۔ یعنی حکومت مخالف خیالات کی تشہیر اور ع

گوشہ اطفال|24اکتوبر 2020

بے زبان پر رحم   کہانی   عائشہ یاسین علی اپنے محلے کا سب سے شرارتی بچہ تھا۔ ہر وقت کسی نہ کسی کو تنگ کرتا رہتا۔ کلاس میں بھی سب اس سے بہت پریشان رہتے تھے۔ استانی صاحبہ بھی روز اس کو کسی نہ کسی بات پر سزا دیتی تھیں۔ کبھی کرسی پر کھڑا کر دیتی تو کبھی کلاس سے باہر بھیج دیتی اور کبھی مرغا بھی بنا دیا کرتی تھیں لیکن علی اپنی شرارتوں سے باز نہ آتا۔ اسکول سے آتے ہی وہ دن بھر گلی میں آوارہ لڑکوں کے ساتھ گھومتا رہتا۔ کبھی کسی کے گھر کی بیل بجا کے بھاگ جاتا تو کبھی کسی بچے کی چیز چھین لیتا۔ آج جب علی اسکول سے واپس آیا تو کھانا کھاتے ہی باہر کھیلنے چلا گیا۔ آج محلے میں سناٹا تھا۔ سخت گرمی ہورہی تھی۔ علی راستے میں پتھروں کو ٹھوکر مارتا ادھر ادھر ٹہل رہا تھا۔ کہ اچانک اس کو ایک گھر کے کونے میں ایک بلی بیٹھی ہوئی نظر آئی۔ علی نے دور سے اس کو ڈرانے کی کوشش کی

پیپلز الائنس برائے گُپکار اعلامیہ

 دفعہ 370کی منسوخی کے بعد جموں کشمیر میں ہر طرح کا بدلائو نظر آ رہا ہے ۔وہ چاہے تجارت ہو یا سیاست ،تعلیم ہو یا زبان ،ہر چیز میں ایسی تبدیلیوں کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں ،جن کا کبھی یہاں کے سیاسی رہنمائوں نے گمان بھی نہیں کیا تھا ۔چند ماہ قبل تک ایسالگ رہا تھاکہ سیاسی کھلاڑیوں کے لیے اب یہاں سیاسی کھیل کھیلنے کا موقعہ مشکل ہی سے مل پائے گا۔ لیکن حالیہ کئی دنوں سے سیاسی گلیاروں میں دوبارہ گہما گہمی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔جموں کشمیر میں دفعہ کی منسوخی سے ٹھیک ایک دن قبل یعنی ۴؍ اگست 2019ء کو فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ پر سوائے بی جے پی ،باقی سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں تمام سیاسی جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اگر مرکزی حکومت کی جانب سے دفعہ 370اور 35 ؍اے کو مکمل طور پر ختم کیا گیا یا ریاست کو تقسیم کرنے کی کوشش کوئی کی گئی تو اس کے خلاف متحدہ طور پر جد

رشوت ایک معاشرتی ناسور

عصر حاضر میں کسی کام کیلئے استحقاق صرف اْسی کا ہے جو کسی نہ کسی شکل میں رشوت دے۔ رشوت ایک مہلک معاشرتی ناسور ہے جو تمام بدعنوانیوں کی جڑ ہے۔اخلاقی انحطاط کے شکار معاشرہ میں رہتے ہوئے انسان کو قدم قدم پر رشوت ستانی اور بدعنوانی سے واسطہ پڑتا ہے۔جو لوگ رشوت نہ دیں انہیں اپنے کام حل کرانے میں اکثر پریشانیوں اور مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔رشوت وہ چیز ہے جو کسی کو اپنا مطلب نکالنے کیلئے دی جاتی ہے۔ یہ رقوم و تحائف دینے کا وہ عمل ہے جو وصول کنندہ کے طرز عمل کو متاثر کرتا ہے۔یہ ایک ایسا معاوضہ ہے جو کسی کو خلاف قانون کارروائی کرنے کے صلے میں دیا جاتا ہے تاکہ وہ بد دیانتی سے کسی حقدار کو محروم کرکے رشوت دینے والے کو فائدہ پہنچائے ۔ زندگی کے مختلف شعبہ جات کے مشاہدات سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ رشوت اور بد عنوانی کا زہر پورے معاشرے میں سرایت کرچکا ہے۔آج ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس میں رشوت نے

مسابقتی امتحانات اور کشمیر ی اُمیدوار

 وادیٔ کشمیر کی مردم خیز بستی میں زرخیز نسل نو گزشتہ تیس برسوں سے تیغوں کے سائے میں پل کر جوان ہوچکی ہی۔گزشتہ تیس برسوں سے چل رہے نامساعد حالات کی وجہ سے ایک غیر یقینی صورتِ بن چکی ہے۔ وادی میں کبھی ہرتال،کبھی کرفیو،کبھی کریک ڈاون،کبھی لاک ڈاون،کبھی انکاونٹر اور کبھی اور کوئی نا خوش گوار واقعہ رونما ہونے کی وجہ سے تعلیمی ادارے اکثر مقفل رہتے ہیں۔ چنا نچہ اس شورش زدہ علاقہ میں گزشتہ کہیں دہائیوں سے زندگی کے جملہ شعبہ جات کے ساتھ ساتھ تعلیمی شعبہ بْری طرح سے متا ثر ہوچکا ہے۔ہزاروں نوجوان طرفین کی تنا تنی کی وجہ سے اپنی تعلیم مکمل نہیں کرسکے۔ ایک طرف سے سیاسی اْتھل پتھل اور دوسری طرف سے تعلیمی اداروں میں تد ریسی عملہ کی کمی،بہتر تعلیمی ماحول کی عدم دستیابی اور غربت و عسرت کے باوجود بھی وادی کے ہزاروں طلباء ہر سال مختلف امتحانات میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنی قابلیت کا لوہا منوا رہے

’بکھرے رنگ ‘

''بکھرے رنگ'' ڈاکٹر عقیلہ کے خوبصورت افسانوں کا مجموعہ ہے۔ ڈاکٹر عقیلہ دل والوں کے شہر یعنی دلّی سے تعلق رکھتی ہیں۔ دہلی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے کے بعد آپ جموں وکشمیر کے ضلع راجوری کی یونیورسٹی بابا غلام شاہ بادشاہ میں بحیثیت معلمہ کم کر رہی ہیں۔ ڈاکٹر عقیلہ کا یہ پہلا افسانوی مجموعہ ہے جو منظر عام پر آیا ہے۔ اس کتاب کے کل صفحات 141 ہیں اور یہ مجموعہ حسب ترتیب گیارہ افسانوں پر مشتمل ہے۔پیڑ کا جن، بکھرے رنگ، قاتل، طلاق، فریب، آخر میں نے پا لیا تجھے، سرجو، چھوٹی سی محبت، شادی کا تحفہ، پچھتاوے کا  بھنور اور چال۔ ان سبھی افسانوں میں کسی نہ کسی سماجی پہلو کو بڑے دلچسپ انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ افسانہ نگار چونکہ عورت ہیں، اس لئے ان افسانوں میں خواتین کے مسائل کو ابھارنے کی بھر پور کوشش کی گئی ہے۔ ان افسانوں کو پڑھنے کے دوران قاری کبھی زور زور ٹھاٹھے ما

جذبات اور منطق

جذبہ (Emotion)اُردو میں عربی سے ماخوذ لفظ ہے جس کے معنی کشش یا کھنچاو کے ہیں۔جذبات جمع ہے جذبہ کی او ر جذبہ اُس وقت پیدا ہو تا ہے جب بیرونی عوامل(Factors)انسانی شعور کو اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں۔مثال کے طور پر عشق ایک جذبہ ہے او ر یہ اُس وقت تک اپنا صحیح اثر نہیں دکھا سکتا جب تک یہ انسانی شعور کو اپنے اندر جذب نہ کرلے۔ ہم ہر لمحہ کسی نہ کسی جذبہ کے تجرِبے سے گزر رہے ہوتے ہیںیا کوئی جذباتی کیفیت محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ جذبات یا احساسات دو قسم کے ہوتے ہیں…مثبت یا منفی(Positive or Negative) اور  تعمیری یا تخریبی (Constructive or Destructive) ۔ انسان کی خوشی ، راحت او ر کامیابی میں در حقیقت اُس کے جذبات یا جذباتی کیفیات سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جذبات ہو نا کوئی بُری چیز نہیں ہے۔ آخر ایمان بھی تو ایک جذبہ ہی ہے۔لیکن جذبات میں بہہ کر کوئی غلط قدم اُٹھانا غلط ہے۔جذباتی

والدین اور شاگرد نجی تعلیمی ٹکسالوں کے یر غمال

۱۵گست ۲۰۱۹ سے کشمیر اب تک پہلے تو سیاسی لحاظ اور اس کے چند ماہ بعد کوؤڈ کی مار مسلسل سہہ رہا ہے  اور اس میں ابھی تک کوئی اور کسی طرح کی کمی نہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ لوگ موت و حیات سے بے نیاز ہوچکے ہیں جس کا مطلب ہے کہ یہ بھی ایک طرح کا ٹروما ہی ہے۔مجموعی طور پر تمام نجی تعلیمی ادارے بھی پچھلے چودہ مہینوں سے بند ہیں ، کہیں بھی کسی قسم کا تعلیمی و تدریسی عمل ہونے کا ابھی کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن اس بیچ پچھلے ایک دو مہینوں سے نجی اداروں نے والدین کے لئے احکامات جاری کئے کہ ہم اب آن لائن کلاسوں کا اہتمام کر رہے ہیں ، اس کے باوجود کہ کشمیر میں فور جی پر پابندی عائد ہے اور براڈ بینڈ کا ٹو جی خراماں خراماں اپنی مرضی اور منشا پر کبھی چلتا  ہے تو کبھی نہیں ۔ ایک سیدھا سا سوال ہے کہ کیا ہر طالب علم کے گھر میں یہ ٹو جی ہے ؟ زمینی سطح پر یہ طریق کا ر ہماری جیسی سر زمین کے لئے

انسانی جان کا احترام

 انسانی تمدن کی بنیاد جس چیز پر قائم ہے اس کی پہلی دفعہ یہی ہے کہ انسان کی جان اور اس کا خون محترم ہو۔ انسان کو جینے کا حق دیا جائے۔جب انسان سے اس کے جینے کا حق ہی چھین لیا جائے تو اس کا لازمی نتیجہ خوف ، ہراس اور بد امنی کی صورت میں نکلتا ہے۔ دُنیا میں جتنی شریعتیں اور مذہب قوانین ہیں اُن میں انسان کی جان اور اس کا خون محترم ہے۔ انسان کی ضروریات زندگی تب ہی پوری ہو سکتی ہیں جب کہ اس کی جان محترم ہو اور ضروریات زندگی سے قطع نظر کر کے اگر خالص انسانیت کی نظر سے دیکھا جائے تو روز روشن کی طرح یہ بات عیاں ہو جائے گی کہ قتلِ نا حق احسنِ تقویم سے گر کر اسفل السّٰفلین میں پہنچنے کا نام ہے۔ اسلام ہی وہ واحد دین ہے جس میں احترام نفس کے متعلق صحیح اور مؤثر تعلیم دی گئی ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ مختلف پیرایوں سے اس تعلیم کو دل نشین کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سورۃ المائدہ میں ارشاد ربّانی ہے:&rsquo

تاخیر سے شادی نوجوان نسل کی تباہی

شادی ایک پاکیزہ اور مقدس بندھن ہے جس سے کئی رشتے وجود میں آجاتے ہیں۔ اس لحاظ سے اگر شادی کو تمام انسانی رشتوں کی ماں کہا جائے تو نا مناسب نہ ہوگا۔ شادی اگر مناسب وقت پر کی جائے تو بہتر، افضل و خیر ہے اور تاخیر سے کی جائے تو کئی ایک مسائل کو اپنے ساتھ لے آتی ہے۔ شادی اگر بر وقت ہو تو اس سے وجود میں آنے والا خاندان اپنے فرائض بہتر انداز میں سر انجام دے سکتا ہے۔ اسلام نے شادی کے سلسلے میں بہت زیادہ تاکید کی اور اسے انسانی سماج کی بنیادی ضرورت قرار دیا ہے نیز مرد و عورت کی تکمیل کا ذریعہ گردانتے ہوئے اپنے وقت پر انجام دینے پر زور دیا ہے۔ بلکہ اس سے آسان سے آسان تر بنانے کی تاکید اسلامی تعلیمات میں جا بجا دیکھنے کو ملتی ہے۔  سورۃ النور آیت نمبر 32 کے اندر سرپرستوں (Guardian) سے خطاب ہے کہ وہ اپنی زیر ولایت غیر شادی شدہ لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی کی تدبیر و سعی کریں، رشتوں کی تل

سیمینار سے ویب نار تک

آدھے برس سے زیادہ عرصے سے ساری دنیا لاک ڈاؤن موڈ پر ہے۔ بازاروں میں چہل پہل نہیں۔ دانش گاہوں میں گہما گہمی نہیں۔ لوگ اپنے اپنے گھروں میں بند ہیں اور عالمی وباء سے بچنے کی تدبیر کررہے ہیں۔ لیکن ایسے ساکت وصامت ماحول میں ہاتھ پر ہاتھ دھرکربیٹھا بھی نہیں جاسکتا۔ The show must go on کے فلسفے کے تحت اس دنیا کو آگے بھی جانا ہے۔چنانچہ اہل علم وفن، مفکر، مدبر اوردانشور حضرات خاص طور سے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارموں پر اخذ وعطا ، افادے واستفادے اور علمی وادبی، ثقافتی وتمدنی، تعلیمی وتجارتی مصروفیات کو آن لائن جاری رکھ کر کائنات کو بھاری بھرکم خسارے سے بچانے کی پوری تگ ودومیں ہمہ تن مصروف عمل ہیں۔ادبی سرگرمیاں بھی جاری ہیں اور علمی بھی۔ شعر وسخن کی محفلیں بھی جوان ہیںاور علم وفن کی مجلسیں بھی۔  کرونا سے قبل کی دنیا کی علمی وادبی سرگرمیوں کا ایک اہم جزء مختلف علمی وادبی اکیڈمیوں، کالجو

عالمی تجارت کے ہر روز بدلتے انداز

حالیہ مہینوں میں عالمی سطح پر بین الاقوامی تجارت اور اس سے جڑے مسائل، میڈیا اور ہیڈ لائنز کی زینت بن رہے ہیں۔ زیادہ تر بحث کا مرکز عالمی تجارتی جنگ کے خطرات، ردِ عمل میں تجارتی ٹیرف کا اطلاق اور اس کے نتیجے میں عالمی تجارت کا مستقبل رہا ہے۔ ہرچند کہ، یہ بحث اپنی جگہ انتہائی اہم ہے، تاہم اسی دوران عالمی تجارت کے حوالے سے کئی ایسے روشن پہلو بھی اْبھر کر سامنے آرہے ہیں، انھیں بالکل نظرانداز کردیا گیا ہے۔ یہ روشن پہلو، چوتھے صنعتی انقلاب کے نتیجے میں سامنے آنے والی جدت سے بھرپور ٹیکنالوجیز کے مرہونِ منت ہیں، جو تجارت کے عمل کو زیادہ مشمولہ اور مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ عالمی تجارتی نظام ( System  Trade  Global )میں ٹیکنالوجی کے تغیر ( Disruption  Technological)کا آنا کوئی نئی بات نہیں۔ بھاپ کی طاقت سے جنم لینے والے انقلاب نے دنیا کو کچھ ایسے بدلا کہ اس

’عوامی اتحاد‘ کو عوامی اعتماد کا فقدان!

جموں کشمیر کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں، نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی نے آخری انتخابات کے بعد حکومت سازی کیلئے ہاتھ ملایا ہوتا تو علاقائی مفادات کا تحفظ بھی ممکن ہوتا اور عوام کے’ وقار‘ کو بھی بر قرار رکھنے میں مدد ملتی۔نیز دونوں پارٹیوں کو شاید نئی دلی کے ہاتھوں اُس ہزیمت کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑتا جو اب تاریخ کا حصہ ہے۔اب دونوں نے باقی ماندہ چھوٹی پارٹیوں کے ہمراہ ایک ایسے وقت ’عوامی اتحاد‘ عمل میں لایا ہے جب جموں کشمیر کی سابقہ پوزیشن کی بحالی کیلئے فقط عدلیہ کا واحد دروازہ کھلا ہے۔عوامی حلقوں کو شکوہ ہے کہ این سی اور پی ڈی پی ایسی سیاسی پارٹیاں ہیں جن کا مقصداول روز سے حصول اقتدار رہا ہے اور اس کیلئے دونوں نے کبھی بھی عوامی جذبات، احساسات اور مفادات کو خاطر میں نہیں لایا ہے۔ جموں کشمیر کی سب سے بڑی اور تاریخی سیاسی پارٹی نیشنل کانفرنس نے ہمیشہ&r

محکمہ مال پر ایک نظر

فصلوں کی پیداوار اور اراضی کی ملکیت کی تفصیل سرکاری طور جمع کرنے کا نظام ہندوستان میں شیرشاہ سْوری نے متعارف کرایا تھا، لیکن انگریزوں نے باقاعدہ محکمہ مال کی بنیاد ڈال کر آباد اور غیر آباد زمینوں کا شمار کرنے اور اراضی کے ریکارڈ رکھنے کو ایک منضبط عمل میں تبدیل کردیا۔ اس نظام میں تحصیل دار کی ماتحتی میں نائب تحصیل دار ، گرداوار اور پٹواری ہوتے ہیں، جو زمینوں کی خریدوفروخت کے وقت اس کا اندراج محکمہ مال کے ریکارڈ میں کرتے ہیں۔ تاہم پٹواری اس نظام کی مرکزی کڑی ہوتا ہے۔ سادہ لفظون میں سمجھیں تو پٹواری محض ایک ریکارڈ کیپر ہوتا ہے، جسکے ذمے یہ ہوتا ہے کہ زمینوں کی ملکیت باقاعدہ مندرج ہو، اور کسی کے ساتھ کوئی حق تلفی نہ ہونے پائے۔ لیکن ایک معلوم حقیقت ہے کہ عرصہ دراز سے کشمیر میں پٹواری سب سے زیادہ طاقت ور شخص کے طور اْبھرا ہے، اور پٹواری کا نام سْنتے ہی لوگوں پر خوف طاری ہوجاتا ہے۔&nbs

جموں کشمیر میں اردو طالبانِ تحقیق کے مسائل

روزِ اول سے ہی انسانی سرشت میں چیزوں کو جاننے اور کائنات کو مسخر کرنے کی جستجو اور لگن ودعیت کی گئی ہے۔ ہبوط آدم سے لے کر آج تک انسان نت نئے تجربات اور مشاہدات سے انسانی علوم و فنون اور دانش میں اضافہ کرتا آیا ہے۔ گویا تحقیق زندگی کی ہر سطح پر ایک زندہ معاشرے کی اہم اور بنیادی پہچان ہے۔ کسی معاشرے میں اگر تحقیقی عمل رک جائے تو اس معاشرے میں ہزاروں جھوٹ سچ کا لبادہ اختیار کرکے اسے دھیمک کی طرح چاٹتے رہتے ہیں۔ تحقیق غلط فہمیوں کا ازالہ کرکے کسی امر کو اس کی اصل شکل میں منظر عام پر لا کر سماج و معاشرے سے ظلمت کی تلچھٹ دور کرکے روشنی بکھیر دیتا ہے۔ گویا تحقیق انسان کو ’’صداقتوں کا چراغ جلانے‘‘ کی دعوت عمل دیتا ہے   ؎ بھٹک رہے ہیں اندھیروں میں کارواں کتنے جلا سکو تو جلاؤ صداقتوں کے چراغ کھوجنے اور تحقیقی عمل سے انسانی ذہن ارتقائی مراحل طے کر

علی گڑھ تحریک اور پونچھ کے شیخ محمدعبداللہ

18اکتوبر2020کو برصغیر ہندکے نامور عالم، دانشور، مصنف، رہبر اور مفکرقوم سرسید احمد خان کو 203ویں یومِ پیدائش پریادگیا، اسی روز علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام کے سوبرس بھی مکمل ہوئے جس پر خصوصی طور دنیا بھر میں سرسید احمد کے چاہنے والوں اور علیگ نے جوش وخروش کے ساتھ اِس دن کو منایا۔مسلمانان ِ ہند کو جدید تعلیم کے زیور سے آراستہ کرانے کے لئے سرسید احمد خان نے جو تحریک شروع کی اُس میں جموں وکشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا بھی اہم رول رہا، جنہوں نے سرسید احمد خان کے شانہ بشانہ کام کیا اور ’تعلیم ِ نسواں ‘کے لئے ناقابل فراموش خدمات انجام دیں۔ علی گڑھ تحریک یا پھر سرسید احمد خان کا جب بھی ذکر آتا ہے تو اگر اُس شخص کی خدمات کو فراموش کردیں تو بہت زیادتی ہوگی۔  اِس شخص کو دنیا آج’شیخ محمداللہ‘کے نام سے جانتی ہے،خاص کر ’علیگ &lsquo

سرسیدؔ ۔گوہر نایاب

ہر سال 17 اکتوبر کو یوم سرسید کے بطور منایا جاتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح رواں سال میں بھی اس تاریخ کو سرسید کی یاد تازہ کرنے کے لئے ادبی محفلوں اور سمیناروں کا ملک بھر میں جوش وخروش کے ساتھ انعقاد کیا گیا لیکن اس سال کچھ الگ ہی اس کو اہمیت وافادیت بخشی گئی ہے کیوں کہ سال 2020ء کو سرسید کے ہاتھوں لگایا گیا تعلیمی پودا جو آج بھی گل سرسیدکے مانند ہے ،اس کی صد سالہ جشن میں سرسید کی یاد کچھ زیادہ ہی اہل ادب کے دلوں کو لبھا کر مسرت وانبساط کی لامتناہی شکل اختیار کر گئی ہے ۔ سرسید احمد خان اردو ادب میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ ادبی دنیا میں انہیں ہمیشہ عزت کی نگاہوں سے دیکھا جائے گا۔ انہوں نے اردو ادب میں وہ کارہائے انجام دئیے جن کے عوض اردو ادب کے اوراق میںانکا نام ہمیشہ سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔  سرسید بیک وقت مفسر قرآن،ماہر تعلیم،انشاپرداز،جاں باز سپاہی،دانشور،مفکر،قوم کے ہمدرد،و

سیاسی غیر یقینیت میں ٹھہرائو آنے کا امکان | اتحاد و اتفاق سے پہاڑ کو رائی بنانا نا ممکن نہیں

کسی بھی قوم یا معاشرے کی سب سے بڑی بدقسمتی یہی ہوتی ہے کہ وہ جذبات کی رَو میں بہہ کر کسی بھی انسان کو دیوتا کا درجہ دے دیتی ہے یہ سمجھے بغیر کہ انسان بالآخر انسان ہی ہوتا ہے جو اپنی نفسیاتی اور فطری خواہشات کا محتاج ہوتا ہے جن کو پورا کرنے کے لئے وہ کسی بھی وقت اپنے درجے سے انتہائی حد تک گِر بھی جاتا ہے۔اس لئے یہ کہنا غلط نہیں کہ انسانی زندگی میں مشکلات زیادہ تر خود انسانوں کی اپنی خواہشات کے پیچھے اندھے ہوجانے اور اپنے طرزِ عمل کی پیدوار ہوتی ہے۔ سچ تو یہ بھی ہے کہ قومی مفاد یا عوامی خدمت کا نعرہ انسانی تاریخ کے ہر دور میں بےدردی سے استعمال ہوا ہے اور اِس نعرے کے ذریعےدنیا بھر میں 90   فیصد سے زائد لوگوں کابدترین استحصال ہوا ہے۔ جو جتنا بڑامکار یا عیار ہوتا ہے،وہ اتنے ہی بلند بانگ نعرے لگاتا اورلچھے دار تقاریر کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ایسے مداری، ڈرامے باز کی اصلیت کو پہچاننا ک

ہند۔امریکا تعلقات میں اچانک گرمجوشی کا سبب؟

ایشیائی خطے میں ہندوستان کے رول کے متعلق امریکی وزارت خارجہ کے حالیہ بعض تبصروں اور بیانات سے یہ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ ہندوستان اور اس کی صلاحیتوں کے متعلق امریکا کے نقطہ نظر میں قابل ذکر تبدیلی آئی ہے۔امریکاکے نائب وزیر خارجہ اسٹیفن ای بیگن ، پچھلے ہفتے ہندوستان کے تین روزہ دورے پر تھے۔ اس سے ایک ہفتہ قبل ہی ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ٹوکیو میں اپنے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو سے ملاقات کی تھی۔یہ ملاقاتیں ،مذاکرات اور دورے امریکا کی جانب سے چین کے خلاف تقریباً ہر محا ذ پر بالواسطہ جنگ شروع کردینے کے بعد ہوئے ہیں اور اسے بیجنگ کے لیے ایک واضح اسٹریٹیجک اشارے کے طورپر دیکھا جارہا ہے۔ امریکا نے حالیہ دنوں میں کورونا وائرس، تجارت، ٹکنالوجی، ہانگ کانگ، تائیوان اور حقوق انسانی کے معاملات پر بھی بیجنگ کی نکتہ چینی میں شدت آئی ہے۔چین ان تمام الزامات کی تردید کرتا ہے اور امریکا پر

تازہ ترین