تازہ ترین

اقوام متحدہ کے 75سال

اقوا م متحدہ جنرل اسمبلی کا 75و اں اجلاس 15 ستمبر سے شرو ع ہوچکا ہے تاہم اس مرتبہ یہ اجلاس کئی معنوں میں سابقہ اجلاس سے مختلف اور اہم ہے۔کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے باعث اس سال بیشتر عالمی رہنما ذاتی طورپر خصوصی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے اور اس کی میٹنگ ورچوول ہوگی ، لیکن اس کا یہ قطعی مطلب نہیں ہے کہ عالمی سفارت کاری اور پائیدار ترقی کا پہیہ اپنے معمول کی رفتارسے نہیں گھومے گا۔ اقوام متحدہ کا قیام 1945میں عمل میں آیا تھا اور یہ اپنی 75ویں سالگرہ منا رہا ہے۔اقوا م متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس نے اس موقع پر ایک وسیع تر ’عوامی بحث‘ کی اپیل کی ہے جس میں ہمیں اپنے مطلوبہ مستقبل کی تعمیر سے متعلق اب تک کے سب سے جامع،  بامعنی اور پرمغز تبادلہ خیال کرسکیں۔ اقو ام متحدہ کی 75ویں سالگرہ کی مناسبت سے 21ستمبر کو ایک آن لائن تقریب کا انعقاد کیا جائے گا ، جس کا

حکومت کا اقتصادی پیکیج

جموں و کشمیر کی خستہ حال اور روبہ زوال مالی حالت کوبہتر خطوط پر استوار کرانے کے سلسلے میں جموں و کشمیر کے لیفٹینٹ گورنر منہوج سنہا نے ایک پریس کانفرنس کے دوران1350 کروڑ روپے پر مشتمل ایک پیکیج کا اعلان کیا جس پرتجارتی انجمنوں اور ماہرین اقتصادیات نے ملا جلا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں گزشتہ 14 مہینوں کے نا مساعد حالات کی وجہ سے معیشت وینٹی لیٹر پر ہے۔ کاروباری ادارے ہوں یا ٹرانسپورٹر، ٹورزم ہو یاعام مزدور غرض ہر فردِبشر حالات کی ناسازگاری اور کورونا کی مہا ماری سے بے حد متاثر ہوچکاہے ۔حد یہ ہے کہ خوشحال اور فارغ البال لوگوں کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں اور مفلوک الحال لوگوں کا خدا ہی حافظ۔قریہ قریہ اور گلی گلی میں یاس اور قنوطیت نے اپنا ڈھیرہ ڈالا ہوا ہے۔بھوک اور افلاس کے تھپیڑوںکی وجہ سے آئے روز خود کشی  کے بے شمارمعاملات واقع ہورہے ہیں۔چنا نچہ ایک قیامت صغریٰ ہے جہ

شادی بیاہ کی سادہ تقریبات

وادیٔ کشمیر میں ایک عرصے سے شادی بیاہ کی تقریبات میں رسوماتِ بد کی برمار عروج پر ہے جس نے لاکھوں غریب لڑکیوں کے لئے نت نئی مصیبتیں لا کھڑی کر دیں ہیں۔ان بے جا رسوم و رواج کی وجہ سے اب یہاں خاص و عام کا مزاج بھی بگڑ چکا ہے۔جس کا نتیجہ شادی میں تاخیر کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔ نت نئے خرافات سے معتدد پیچیدہ معاشرتی مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔جہاں عام اور سادہ لوح لوگ ان رسوماتِ بد سے بے خبر ہیں وہیں منافع خور طبقہ بھی ان کو بہ آسانی اسراف و تبذیر کی چیزیں فراہم کرنے میں مصروف عمل ہے۔ منافع خوری کے چکر میں وہ اس چیز کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ جن اشیائے تبزیر کی وہ بڑے شد و مد کے ساتھ خرید و فروخت کی سفارش بلکہ تشہیر و تاکید کر رہے ہیں، ان کی وجہ سے کتنے بسے بسائے گھر ویران ہو چکے ہیں۔ دراصل ہر سماجی پہلو کی طرح یہاں بھی افردِ سماج کی وہی خود غرضی اور خود خواہی اس مقدس عمل یعنی شادی

عوامی خدمات کی مختصر تاریخ

 اٹھارویں صدی کی بعد کی دنیا کو عمومی طور پر جدید دنیا کے لقب سے نوازا جاتا ہے۔ تادمِ اِیں دنیا کے حالات و واقعات کے حوالے سے حیرت انگیز تبدیلیاں ظہور پذیر ہو چکی ہیں۔ سیاست ہو یا معیشت، سماج ہو یا تعلیم، مشینری ہو یا ٹیکنالوجی، میڈیا ہو یا رسل و رسائل ، ایسے بے شمار شعبے ہیں جن کے اندر نِت نئے انقلابات آئے روز رونما ہوتے ہیں۔ وہیں آج اکیسویں صدی کے بیسویں سال، ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں ایک منٹ پہلے والی بریکنگ نیوز پرانی لگتی ہے۔ حالات و واقعات کے پھیر بدل اس طرح پیش آرہے ہیں کہ انسان ششدررہ جاتا ہے۔ ان معنوں میں موجودہ دور کو بعض لوگ ما بعد جدید دنیا کے لقب تک سے نوازتے ہیں۔  اس عرصے میں ملکوں کے نظاموں میں بھی خاصی تبدیلیاں وقوع پذیر ہو گئیں۔ بہت سارے نظام ہائے زندگیاں انسانیت نے آزمائے۔لوگوں کو راحت پہنچانے کے لیے مختلف النوع ذیلی منصوبے بنائے گئے۔ حکام

معاشرتی زوال و انحطاط

 افراد سے ہی معاشرہ بنتا سنورتا ہے اور بگڑتا بھی ہے ۔ افراد صالح اور نیک طینت ہوں تو صالح معاشرہ کا وجود میں آنا طے ہے ۔ ینز انہی کی کج روی اس کو تباہی کے دلدل میں دھنساتی ہے۔ یعنی سماجی امراض کے باعث افراد ہی ہیں اور انہی کے پاس بیمار سماج کے واسطے دوا بھی پائی جاتی ہے ۔جہاں کہیں سماج میں خرابی پیدا ہو جائے تو جان لینا چا ہئے کہ اس خرابی کا اصل ماخذ وہ دل و دماغ ہیں جن میں برائی پنپ کریہ برائی معاشرتی عفریت کا روپ دھار لیتی ہے۔ یوں ہی رفاہی معاشرہ (welfare society)کسی معجزے کے بدولت تشکیل پاتا ہے نہ اس کے قیام کی خاطر عالمِ ملکوت سے فرشتے نازل ہوتے ہیں بلکہ رفاہی معاشرے کا وجود بزبانِ حال اس میں رہ رہے فرشتہ صفت انسانو ں کی نشاندہی کرتا ہے ۔ اس دلیل کی روشنی میں اگر ہم اپنے معاشرے کی ابتری کی وجوہات دریافت کرنا چاہیں تو ہمیں سب سے پہلے اپنے گریباں میں جھانک کر دیکھنا ہو گا کہ کہ