تازہ ترین

وادیٔ منشیات؟

 پولیس نے 18ستمبر کو دعویٰ کیا کہ انہوں نے شمالی ضلع بارہمولہ میں کروڑوں روپے مالیت کی منشیات(کوکین) ضبط کرکے 4 افراد کو گرفتار کرلیا ۔پولیس کے مطابق اُنہیں منشیات فروشوں کے بارے میں ایک خفیہ اطلاع ملی تھی جس کے بعد ایک ناکہ کارروائی کے دوران منشیات کی مذکورہ کھیپ بر آمدکی گئی۔اس سے قبل بھی ایسی متعدد کارروائیوں میں پولیس نے ایسے ہی دعویٰ کئے بلکہ پولیس کم و بیش ہر روز منشیات کے کاروبار اور اس کے استعمال کے الزام میں گرفتاریاں عمل میں لاتی رہتی ہے۔ پولیس کے روزانہ بیانات کو ملحوظ رکھتے ہوئے خطہ کشمیر ’وادیٔ منشیات‘ لگ رہی ہے جہاں کے لوگوں کی ایک اچھی خاصی تعداد عالم بے خودی کا سہارا لیکر معلوم اور نامعلوم غم کو غلط کرنے کی سعی لاحاصل کرتے ہیں۔   حکام نے گذشتہ برس کراس ایل او سی تجارت بند کرنے کے وقت یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس تجارت کی آڑ میں وادی کشمیر میں

اُردو کے تابوت میں آخری کیل

جب سے بھارتیہ جنتا پارٹی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے نئی دہلی میں اقتدار سنبھالا ہے، تب سے عوام کے اصلی مسائل و مشکلات اور مطالبات کو حل کرنے کی بجائے ان سے عوامی توجہ ہٹانے کے لئے حربے استعمال کئے گئے اور جموں و کشمیر کو بطور خاص’تجربہ گاہ‘کے طور استعمال کیاگیا۔یوں تو جموں وکشمیر پچھلے سات دہائیوں سے زائد عرصہ سے ’سیاسی تجربہ گاہ‘ہی ہے لیکن پچھلے چند برس کے دوران کئی بڑے تجربے کر کے پورے ملک کی عوام میں یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی گئی جیسے ہم نے خلاء میں ناقابل ِ تسخیر کامیابی حاصل کر کے وہاں نئی دنیا قائم کر لی ہو۔لکھن پور سے لیکر کرگل تک سابق ریاست جموں وکشمیر کی عوام گونا گوں مشکلات کا شکار ہے ، خصوصی درجہ کی تنسیخ کے بعد تعمیر وترقی کا انقلاب بپا کرنے اور دودھ کی نہریں چلانے کے خواب دکھا کر سب کچھ لٹ لیاگیا۔ مشکلات کو حل کرنے کی بجائے یہاں پر مختلف طریقو

جرنلزم و ماس کمیو نی کیشن

 جرنلزم اور میڈیا کی اہمیت سے موجودہ دور میں نہ انکار ممکن ہے اور نہ ہی فرار۔ میڈیا کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔ ٹیلی ویژن، اخبارات، میگزین روزانہ کے واقعات اور اہم خبریں ناظرین اور قارئین تک پہنچاتے ہیں۔ اس شعبہ میں محنتی اور ایماندار افراد کی کمی ہمیشہ سے رہی ہے ۔ ایسے نوجوان جو خبروں کے تجزیے، قومی و بین الاقوامی سیاسی و معاشی معاملات میں دلچسپی رکھتے ہوں اور مطالعہ کا بھی شوق ہو وہ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا میں اپنا کرئیر بنا سکتے ہیں۔  جرنلزم اور ماس میڈیا کا مفہوم و فرق : خبروں کی ترسیل کے تمام ذرائع چاہے وہ اخبارات، میگزین ، ٹی وی چینلس اور آن لائن ویب پورٹل سے متعلق ہوں وہ تمام جرنلزم کی تعریف میں شامل ہیں یعنی یہ کہا جا سکتا ہے خبروں کی رپورٹنگ کسی بھی ذریعے سے کرنا جرنلزم کہلاتا ہے جبکہ ماس میڈیا یا ماس کمیونکیشن میڈیا کے مختلف ذرائع سے عوام تک پیغام پہ

ملک کے تعلیمی نظام پر بھگوا چھاپ

آزادی کے بعدبھارت کا تعلیمی نظام مختلف ادوار میں جدید طرز پر نافذ کیا جاتا رہا ہے۔ جس میں زیادہ ترمغربی دنیا کے نظام تعلیم کی ہمیشہ نقل ہوتی رہی ہے ۔ مختلف ایجوکیشن کمیشنز بنتے رہے جیسے کتھاری کمیشن، ایجوکیشن کمیشن، وغیرہ وغیرہ ۔ان کی رپورٹس آتی رہیں۔پھر ہندوستان کے چوٹی کے ماہر تعلیم، ٹیکنوکریٹس اور سائنسدان اس پر بحث کرکے اس کمیشن یا تعلیمی پالیسی کو حتمی شکل دینے سے قبل ملک میںحالات کے مطابق اپنے ملک گیر سماجی، اقتصادی،مذہبی ،علاقائی تناظر اور تعلیمی معیار کو سامنے رکھ کر عملی جامعہ پہناتے رہے ہیں۔ جس میں تمام مذاہب ہندو،مسلم، سکھ، عیسائی،بودھ ،جین ، پارسی اور جن کا کوئی مذہب نہیں ان کو مد نظر رکھا جاتا رہا ہے جو کہ ایک جمہوری ملک کا نسب العین ہوتا ہے۔ملک بھر کی تمام اہم بولی جانے والی زبانوں: ہندی، اردو، بنگالی، تیلگو، تامل،پنجابی،کشمیری ، مراٹھی، بھوجپوری ،اڑیا،آسامی،کنڑوغیرہ ک

اصلی مُجرم کون ؟

ربّ ِ کائنات کی طرف سے انسان کو سب سے بڑی نعمت زندگی کی شکل میں دی گئی ہے او ر زندگی صرف ایک بار ملتی ہے ،اس لئے اس کی جتنی قدر کی جائے کم ہے۔ایسی بیش بہا زندگی سے لطف اندوز ہونا اور اُسے خوشگوار طریقے سے گزارنا انسان کی ذمہ داری ہے ،لیکن آج کل دُنیاوی اُلجھنوں اور مسائل کے شکنجوں میں اپنے آپ کو پھنساکر بیشتر لوگ اپنی زندگیاں عذاب بنائے ہوئے ہیں۔ہر طرف جنگل کا قانون ہے اور ہر سمت چیر پھاڑ کرنے والے درندے اپنے تیز اور نوکیلے دانتوں سے جامۂ انسانیت نوچنے میں ہمہ وقت مشغول دکھائی دیتے ہیں ۔ہر سُو خدا طلبی کے بجائے دنیا طلبی کا دور دورہ ہے۔غرض پوری بستی کے لوگ آج خواہش پرستی کی ادنیٰ سطح پر گِر کر درندوں اور چوپایوں کی زندگی جی کر زمانۂ جاہلیت کی یاد تازہ کرنے میں مصروف ہیں۔ اس بستی کے ہم لوگ جس دین کے پیرو کار ہیں اُس دین کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ یہ دین دینِ فطرت ہے کیونکہ زندگی ک