تازہ ترین

عیاری اور مکاری کے پر ستار لوگ | دنیاوی فوائد ہی کو سمیٹنے کی کوششوں میں مصروفِ

جموں و کشمیر کو انڈین ٹریٹری میں تبدیل کرنے کے ایک سال گزرنے کے بعد وادیٔ کشمیر میں جو گوناگوں صورت حال چلی آرہی ہے وہ سابقہ حکومتوں سے بھی کئی گنابدتر نظر آرہی ہے۔عوام کو عرصہ دراز سے درپیش مصائب و مشکلات سے نجات دلانے اور ہر معاملے میں راحت دلانے کے جو خوش کُن وعدے کئے گئے تھے ،وہ تاحال سراب ہی ثابت ہورہے ہیں۔جبکہ کڑوا سچ یہ ہے کہ جموں و کشمیر کے سرکاری انتظامی شعبوں کے اعلیٰ سے ادنیٰ ملازمین کی زیادہ تر تعداد سابقہ حکومتوں کے ادوار میں جس طرح بدنظمی ، بے راہ روی ،خود غرضی اور چاپلوسی کے تحت اپنے منصبی فرائض کی انجام دہی میں مصروف کار تھی آج کے اس گورنرراج میں بھی وہ اُسی روایتی پالیسی کے مطابق اپنی ملازمت کے فرائض منصبی انجام دے رہی ہے اور بدستور وہی کچھ کررہی ہے جس سے لوگوںکے مشکلات و مصائب میںمزید اضافہ ہورہا ہے ۔ بلا شبہ کسی بھی حکومت کے مستحکم ،مضبوط اور کامیاب ہونے کی وا

مُردے کہاں جائیں؟ | سرکاری تدفین اتھارٹی کے قیام کی ضرورت

مشہور یونانی فلسفی ڈائجینیس نے اپنے اقربا کو وصیت کی تھی کہ جب وہ مرجائے تو اْس کی میت کو شہر کی بڑی دیوار کے اوپر سے گرا دیا جائے تاکہ لاش کو جنگلی جانور نوچ کھائیں۔ بعد میں افلاطون نے ڈائجینیس کے بارے میں کہا کہ وہ ‘‘پاگل ہوچکا سقراط’’ تھا۔ مہذب دْنیا میں ڈائجینیس کے بارے میں افلاطون کا خیال صحیح ثابت ہوچکا ہے، کیونکہ دس ہزار سال سے لوگوں نے بلالحاظ رنگ و نسل ، مذہب و ملت مْردوں کو بڑی تکریم کے ساتھ سپرد خاک یا سپرد نار کیا ہے۔ مْردوں کے ساتھ مختلف معاشروں کے رویوں پر تھامس لاقویر نے اپنی کتاب ‘‘دا ورک اوف دا ڈیڈ: کلچرل ہسٹری اوف مارٹل رِمینز’’ میں تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے۔ کورنا وائرس کی وبا کے بیچ بڑی تعداد میں لاشوں کو ٹھکانے کا عمل جس بے مروتی کے ساتھ جاری ہے، کبھی کبھار یہ لگتا ہے کہ اکیسویں صدی کے بیدار عہد میں بھی ہم ڈائجینیس

علاج و معالجہ کے مراکزمیں نظم و ضبط کا فقدان | ہسپتال خود بیمار،مریضوں کاعلاج کہاں ہوگا؟

سسٹم اور ادارے قواعدوضوابط کے تحت چلا کرتے ہیں۔اگر ان کی فعالیت ضابطے کو درکنار کر کے کسی شخص یا چند شخصیات کی اپنی مرضی ومنشاء کے تابع ہوجائے تو نظام درہم برہم ہوجاتاہے۔اِس کا مشاہدہ جموں وکشمیر یوٹی میں یکم نومبر 2019کے بعد ایگزیکٹیو سطح پر کیا گیا۔ راج بھون، چیف سیکریٹری اور پولیس ہیڈکوارٹر کے مابین آپسی چپقلش، کھینچا تانی، رسہ کشی کی اطلاعات میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آئیں، حالانکہ جتنا تھا اُس سے بہت کم سننے ، پڑھنے کو ملا ، بہت کم ہی اِس سے آشنا ہیں۔ہم نے دیکھا کہ ایگزیکٹیو میں اہم عہدوں پر براجمان نوکرشاہ کے الگ الگ آقاہیں۔کسی کا ریموٹ کنٹرول نئی دہلی کا ساؤتھ بلاک ہے تو کسی کے سرپر ناگپور کا آشیرواد ہے۔ملکی سطح پر برسرِ اقتدارجماعت میں طاقتورلابی ازم کا رحجان بھی دیکھاگیا ہے اور اِس کا عمل دخل جموں وکشمیر یوٹی کی انتظامیہ پر واضح دکھائی دیا۔نتیجہ کے طور پر نظام پٹری سے اُ

مشرق و مغرب میں سائنسی تحقیق کا معیار | پسماندگی کا اصل سبب

  اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ مغربی سائنسی انقلاب اسلامی علوم اور عربی مسلمانوں کی انتھک محنت و مشقت کا مرہون منّت ہے جن کی علمی و تحقیقی بنیادوں پر دور جدید اپنی آن اور شان کے ساتھ قائم ہے۔ماضی میں مسلمانوں کے مشاہدات و تحقیقات اور تلاش و ایجادات کی وجہ سے ہی انسان کی سائنسی و تکنیکی ترقی آج حیرت انگیز عروج پر پہنچنے کے قابل ہو سکی ہے جس پر خود انسان بھی متحیر و مستعجب ہے۔ اس بات کا اعتراف نہ کرنا حقائق سے چشم پوشی ہے کہ یورپ نے حکمت و فلسفہ اور سائنس میں ترقی کرکے اس کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔اسی طرح اس حقیقت کا اعتراف مغرب کو بھی بغیر کسی ادنی اعتراض کے کرنا پڑا ہے کہ یورپ کی پوری زندگی اور اس کا تمدن اسلام سے متاثر ہوا ہے۔رابرٹ بریفالٹ Brifault Robert  اپنی کتاب میں لکھتا ہے:"یورپ کی ترقی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جس میں اسلامی تمدن کا دخل نہ ہو۔۔۔۔"۔کیتھ

کمپیوٹر کے بنیادی حصے سائینس و ٹیکنالوجی

4 )نیو میرک ’’کی پیڈ‘‘  Numeric Hey Pad :  ہمارے ’’کی بورڈ‘‘ پر دائیں جانب ’’نیو میرک کی پیڈ‘‘ ہوتا ہے۔جس میں ’’کلکولیٹر‘‘ جیسی بٹن ہوتی ہیں۔ اِن میں سے کچھ بٹن کے دو کام ہوتے ہیں ۔ مثلاً 7 نمبر والی بٹن پر Home بھی لکھا ہوتا ہے اِس طرح یہ بٹن دو کام کرسکتی ہے ۔ہمارے ’’کی بورڈ‘‘ میں دائیں طرف جو کی پیڈ بنا ہوا ہے اُس کے اوپر بائیں جانب کونے والی بٹن پر NumLock لکھا ہوا ہے۔ دو کاموں کو کرنے والی بٹن کا سوئچ آن NumLock سے ہوتا ہے۔ جب NumLock کی بٹن ہم دبائیں گے تو وہ آن ہوجائے گا اور ہمارے ’’کی بورڈ‘‘ دائیں طرف ’’کی پیڈ‘‘ کے اوپر تین لائیٹس ہیں جو جلتی بجھتی ہیں ۔ جب ہم NumLock آن کرتے ہیں تو اُس لائیٹ کے

تازہ ترین