تازہ ترین

خُلقِِ عظیم اور اسوہ ٔحسنہ

قرآن کے اسی اخلاقی ماڈل، جس کے اجزائے ترکیبی انبیاء علیہ السلام کے اخلاق رہے ہیں، کو مد نظر رکھتے ہوئے پتا چلتا ہے کہ اس کی تکمیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پر ہوئی۔ اس سلسلے میں سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کا ایک قول مشہور و معروف ہے کہ جب آپ ؓ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نے جواب دیا: "کان خلقہ القرآن یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق وہی تھا جو کچھ قرآن میں مندرج ہے!" اس کا مطلب ہے کہ آپ ؐ قرآن مجسم تھے۔ اس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس طرح بیان فرمایا ہے: "بعثت لاتم مکارم الاخلاق" یعنی "مجھے اعلی اخلاق کی تکمیل (اتمام) کے لئے مبعوث کیا گیا ہے۔" یہی مفہوم اس حدیث میں بھی تمثیلی طور پر بیان کیا گیا ہے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کو "پیغمبرانہ عمارت کی آخری اینٹ

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہندوپاک کی مشہور ونامور شخصیت سر سید احمد خان برطانوی ہند کے ماہر تعلیم مصنف اور اصلاح پسند ان کی یوم پیدائش ۷۱ اکتوبر ۷۱۸۱ مکمل نام سید احمد بن متقی خان المعروف سر سید ان کی والدہ کا نام عزیز النساء بیگم تھا۔عزیزالنساء بیگم اپنے والدین کی سب سے بڑی بیٹی تھیں۔اگرچہ زیادہ صرف قرآن مجید اور فارسی کی ابتدائی کتابیں پڑھی ہوئی تھیںمگر تھیں بہت ذہین روشن دماغ دانش مند سلیقہ شعار رحمدل بااخلاق اور نیک۔ انہوں نے اپنے بچوں کی تربیت بھی نہایت عمدگی سے کی وہ ہمیشہ اس مقصد کو مد نظر رکھ کر ان کی تر بیت کرتیں کہ یہ بچے بڑے ہوکرنیک اور اچھے انسان بنیں۔اچھے انسان بنے سے ماں کے علاوہ قوم کو بھی اس تربیت سے ایک سبق ملتا ہے کہ نیت صاف ہو تو منزلیں آسان ہوتی ہے۔اور ایک بات خاص طور سے یاد رکھئیے کہ جو آج بویا جارہا ہے وہ کل کاٹا جائے گا۔ ماں کی گود ہی بچے کی پہلی درس گاہ ہوتی ہے جس میں وہ زندگی کے بہتر

احمدِ مجتبیٰ محمد مصطفیٰؐ

وہ آئے جن کے آنے کی زمانے کو ضرورت تھی  وہ آئےجس کی آمد کے لیے بے چین فطرت تھی  اللہ تعالی کا بے حد حمد وثنا کہ جس نے ہمیں مسلمان بنا کر اُمتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم میں مبعوث فرمایا جوکہ پورے عالمین کیلئےرحمت بن کر آئے ۔ اللہ تعالی کافرمان ہے کہ میں نے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا والوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا۔ جب دنیا تاریکیوں میں گم ہوکر اپنا راہ راستہ بھول گئی تھی اور تمام خرابیوں ،بُرائیوں اور شرکیات کے دلدل میں لت پَت تھی  توآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمدنے پوری دنیا کوروشنی سے منور کر دیا۔ آپؐنے عرب کی اُن برائیوں کی جڑ مٹا دی،جن سے انسانیت شرمسار تھی اور انسان کی زندگی میں نظم و ضبط کا نام و نشان تک مٹ چکا تھا ۔بُت پرستی میں مبتلا انسان من مرضی کا مالک بن چکا تھا لیکن جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک قدم اس روئے زمین پہ پڑے توآپؐ نے ہر ایک

مسلمانوں میں تعلیمی بیداری

۔1857ء کی بغاوت تاریخ ہند میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ بغاوت 1857ء ناکام ہوئی۔ لیکن اس سے ہندوستانیوں کو آزادی حاصل کرنے کی راہ ہموار ہوئی اور ہندوستانیوں نے یہ ٹھان لیا کہ اب وطن عزیز ہندوستان میں غلام بن کر نہیں رہا جا سکتا۔ اس زمانے میں ہندوستان میں بہت عظیم مصلح پیدا ہوئے جیسے راجہ رام موہن رائے، ایشور چندر ودیاساگر، سوامی دیانند سرسوتی ، جیوتی راؤ پھولے، سوامی وویکا نند۔ اسی اثنا میں سرزمین ہند میں ایک عظیم مصلح سر سید احمد خان نے جنم لیا۔ جنہوں نے مسلمانوں کو تعلیمی میدان میں آگے بڑھانے کے لیے اپنی ساری زندگی وقف کردی۔ سر سید اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ سرسید کی شخصیت ہمہ گیر تھی۔ انگریزوں سے قبل یہاں یعنی ہندوستان میں ہندوؤں کی ابتدائی تعلیم کے لیے پاٹھ شالے تھے۔ جب کہ مسلمانوں کے لیے مدرسے اور مکتب تھے۔ لیکن ہندوستانی انگریزی اور مغربی تعلیم سے نابلد تھے۔مٹھی بھر ہندوستانی ایس

شہرِ عداوت میں بسیرا ہے

دوہفتے قبل اتر پردیش کے شہر لکھیم پور میں جو کچھ ہوا،کیا یہ ہمیں ورطہ ٔ حیرت میں نہیں ڈالتا؟۔ہوسکتا ہے آپ کو میری بات سے اتفاق نہ ہو ۔ہم وحشت و بربریت کے زیر سایہ زندگی گزارنے کے عادی ہوتے جارہے ہیں ،میں نے اس دن ہی خود کو تیار کرلیا تھا، جب وزیر مملکت اجے شرما کی یہ آڈیو سوشل میڈیا میں گردش کرنے لگی تھی کہ مجھے صرف ’’ایک لیڈر یا وزیر نہ سمجھا جائے ، وزیر بننے کے قبل کی میری شبیہ بھی یاد رکھیں‘‘ ۔یہ شبیہ 6 کسانوں کے وجود کو روندتی ہوئی موٹرکار تھی، جس نے 'دو منٹ میںاُن ’’ اَن داتائوں‘‘ کی زندگیاںختم کردیں،جس کا افسوس منتری مہودے کو کیا اُن کی حواریوں کو بھی شاید نہ ہوں کیوں کہ مجھے یاد آتا ہے اس پارٹی کے طاقت ور راہنما کا ایک بیان"کتاجب کار کے نیچے آجائے تو کچلا ہی جائے گا"۔ان کے نزدیک جو فرقہ ، جماعت یا فرد ان کی نظریات

عہدِ نو میں سرسید احمد

عہد نو میں سرسیدتاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ انسانوں کی بستيوں میں معماریت کے پُرعزم سالاروں نے ایثار و وفا کا لبادہ پہنے جب مسیحائی قوم کیلئے ہاتھ بڑھایا ہے تو متاعِ ناپایہ دار کی حقیر شہرتوں اور مسندوں کو گھماتے یا اشتہار چھپواتے نہیں کیا بلکہ اپنی ذات کو مثلِ شمع  ڈھلا کر رہتی دنیا کو سراغ مہیا کروائے ہیں۔اُنہیں تاریخ کے مسیحائوں میں سرسید احمد خاں انیسویں صدی کے اُفق پہ مسیحائی قوم کے تابناک کمک کی طرح روشن ہیں۔ہر شخص کیلئے سرسید کو دیکھنے کا مختلف انتخاب ہو سکتا ہے۔کوئی ادبی نقطہ نظر سے نثر کا ابا آدم مانتا ہے تو کوئی سیاسی و سماجی نظریہ میں فرقہ پرست اور استعماریت کا پیشوا کہتا ہے۔وہی قومی اعتبار سے تنگ نظری کا شکار سمجھتے ہیں تو مذہبی کٹہرے میں شیوخ کے نزدیک وہ ملحد تھے۔جیسے شیخانِ وقت نے سرسید احمد خاں کو مذہبی نقطہ نظر سے ملحد اور فرنگی ایجنٹ قرار دیا ۔ظاہر ہے سماجی سطح پر

ؐسرسید احمد اور ناموس رسالت

یہ کالم لکھنے کا مقصد قطعی طور پر سرسید کو مذہبی ثابت کرنا نہیں ہے ۔اس سال یوم سرسید اور بارہ ربیع الاول قریب قریب ہی آئے ،اس لئے کچھ حقائق کا انکشاف ضروری سمجھا۔ ربیع الاول محسن انسانیت آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا دن ہے، ٹھیک انیس اکتوبر کو بارہ ربیع الاول ہے اور اس سے دو دن پہلے یعنی یوم سرسید منایا گیا ۔ علی گڑھ یونیورسٹی میں یومِ سرسید ہر سال جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ زیادہ تر علیگ حضرات یا دوسرے اسکالرز بھی انہیں زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ انگریز سامراج کے عتاب کی شکار قوم کو از سر نو تعمیر کرنے میں سرسید کی خدمات کو یاد کیا جاتا ہے۔ مسلم قوم کا از سر نو ڈھانچہ کھڑا کرنے میں سرسید کا جو کردار ہے یقیناً وہ رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔ سرسید بھارتی مسلمانوں کو بیدار کرنے میں کتنا کامیاب ہوئے یہ ایک الگ موضوع ہے لیکن اس حقیقت سے انحراف بھی گ

سرسوں کی کاشت کیجئے ،زمین کو خالی نہ رکھیئے

کشمیر میں خریف کا موسم ختم ہوا ہے، الحمداللہ اس سال قدرت مہربان رہی اور اچھی دھان کی فصل نکلی، ہمارے کشمیر میں ایک المیہ ہے کہ یہاں کے کسان صرف سال بھر میں ایک ہی فصل یعنی دھان لگاتے ہیں اس کے بعد زمین کو خالی رکھتے ہیں جس کی وجہ کیی غلط فہمیاں ہیں مثلاً یہ زمین کو کمزور کرتی ہے وغیرہ ، بہت بڑے رقبے پر پھیلے زمین کو خالی رکھنا بہرحال نہ ہی اخلاقی طور صیح ہے اور نہ ہی ہماری معیشت کے لیے۔یہاں کی بڑی آبادی کا دارومدار زراعت پر ہے ایسے میں ہماری مذہبی ذمداری بھی یہ بنتی ہے کہ ہم زمین کے پیداوار کو بڑھاے، دین اس بات سے بندے کو روکتا ہے کہ وہ زمین خالی چھوڑے، بلکہ کاشت کاری اور شجر کاری میں سستی اور کاہلی کی ممانعت وارد ہوئی ہے '" اگر قیامت قائم ہوجائے ، تمہارے ہاتھ میں کوئی پیڑ یا پوداہو، اگر تم اس پودے کو لگا سکتے ہو تو لگاؤ ، اس سے تم کو اجر وثواب ملے گا(مسنداحمد) کاشت کاری جہا

بچت اور سرمایہ کاری کیسے کی جائے؟

جب بچت و سرمایہ کاری کی بات ہوتی ہے تو ہمارے یہاں حالات کچھ حوصلہ افزا نظر نہیں آتے۔ اوّل تو یہ کہ مہنگائی میں اضافہ کے باعث بچت کا رجحان عمومی طور پر کم ہی دیکھنے میں آتا ہے اور اگر کوئی بچت کرنا چاہے بھی تو بات ماہانہ کمیٹی سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔ بچت، سرمایہ کاری اور پھر اس سرمایہ کاری کے ذریعے ایک سے دو کیسے بنائے جائیں؟ یہ ایک مکمل سائنس ہے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو ابتدائی، ثانوی اور اعلیٰ ثانوی کلاسز تک ’پرسنل فائنانس‘ کا علم دیا ہی نہیں جاتا۔ ایسے میں ہمارے نوجوانوں کو ملک سے باہر ایسے رول ماڈلز کو دیکھنا پڑتا ہے، جنھوں نے پُرمغز سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی ایک ’مالیاتی سلطنت‘ قائم کی ہے۔ وارن بفٹ دنیا کے ایک ایسے ہی مایہ ناز سرمایہ کار ہیں۔ بچپن میں وہ اوہاما میں اپنی فیملی کےگروسری اسٹور پر کام کرتے تھے۔ انھوں نے پہلا ا

’معلم‘ کا مقام اور اہمیت

خداوند عالم نے انسان کی بناوٹ ہی اس طور پر رکھی ہے کہ ایک لا علم انسان کو کسی علم رکھنے والے انسان کا محتاج بنایا ہے۔ ایک انسان محض کتابوں سے وہ کچھ حاصل نہیں کر پاتا جو استاد کی شکل میں اللہ کی عطا اسے سکھا دیتی ہے۔ روز اول سے یہ روحانی رشتہ قائم ہے اور سینہ بہ سینہ علوم کی منتقلی کا سبب رہا ہے۔  ایک معلم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ چودہ سو سال پہلےاہل عرب جو باعتبار زبان فصیح و بلیغ تھے، ان کے لیے براہِ راست کلام اللہ سمجھنے میں کیا دقت ہوسکتی تھی ،جبکہ خود ان کا مطالبہ بھی یہی تھا کہ قرآن کا آسمان سے ہر فرد کے لیے علیحدہ نسخہ نازل ہوجائے، مگر باجود اس کے رب ذوالجلال نے اپنی سنت کے مطابق بطور معلم پیغمبر اسلام ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتخاب فرمایا اور حضو ؐکے ذریعے اپنی مقدس کتاب کے علوم ، رموز ، احکام اور قربِ خداوندی کے اسرار اس وقت کے مخاطبین اول کے

نصاب کو بدلنے کی ضرورت ہے؟

علم کا اصل مقصد ہے کہ ایک انسان اپنے خالق یعنی اللہ کو،اپنے آپ کو اور اپنے سماج کو پہچانے۔ اس کے علاوہ علم کا مقصد ہے کہ انسان پڑھائی کے باوصف اپنے درپیش مسائل کا حل ڈھونڈے ۔اپنے ارد گرد کے ماحول کےساتھ ساتھ سماجی مشکلات کا ازالہ کرنے کی بھی کوشش کرے اور اگر وسعت ہو تو مشکلات کا تدارک کرے۔ مزید براں وہ ایسے نئ چیزوں کو بنانے یا ڈھونڈنے میں کامیاب ہوسکے،جس سے زندگی آسانی سے گزاری جاسکے۔ یہ ساری چیزیں تب ہی حاصل ہوسکتی ہیں، جب طالب علم کو ایک ایسے نصاب کے تحت پڑھائی حاصل ہو سکے جس نصاب میں وہ اپنی نجی زندگی اور اپنےسماجی پہلوئوںکو ہر لمحہ ذہن میں محفوظ رکھ سکے۔ گیارہویں جماعت کی انگلش کتاب میں البرٹ آئنسٹائن کے بارے میں ایک مضمون موجود ہے۔ جس میں ایک تاریخ کے پروفیسر، البرٹ کو اس بات پر ڈانٹتے ہیں کہ وہ پڑھائی کی اصل تعریف کرتا ہے۔ البرٹ اپنے استاد سے مخاطب ہوکر کہتا ہے کہ’&rsqu

عہدِ نو میں سرسید احمد

عہد نو میں سرسیدتاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ انسانوں کی بستيوں میں معماریت کے پُرعزم سالاروں نے ایثار و وفا کا لبادہ پہنے جب مسیحائی قوم کیلئے ہاتھ بڑھایا ہے تو متاعِ ناپایہ دار کی حقیر شہرتوں اور مسندوں کو گھماتے یا اشتہار چھپواتے نہیں کیا بلکہ اپنی ذات کو مثلِ شمع  ڈھلا کر رہتی دنیا کو سراغ مہیا کروائے ہیں۔اُنہیں تاریخ کے مسیحائوں میں سرسید احمد خاں انیسویں صدی کے اُفق پہ مسیحائی قوم کے تابناک کمک کی طرح روشن ہیں۔ہر شخص کیلئے سرسید کو دیکھنے کا مختلف انتخاب ہو سکتا ہے۔کوئی ادبی نقطہ نظر سے نثر کا ابا آدم مانتا ہے تو کوئی سیاسی و سماجی نظریہ میں فرقہ پرست اور استعماریت کا پیشوا کہتا ہے۔وہی قومی اعتبار سے تنگ نظری کا شکار سمجھتے ہیں تو مذہبی کٹہرے میں شیوخ کے نزدیک وہ ملحد تھے۔جیسے شیخانِ وقت نے سرسید احمد خاں کو مذہبی نقطہ نظر سے ملحد اور فرنگی ایجنٹ قرار دیا ۔ظاہر ہے سماجی سطح پر

سرسید احمد اور ناموس رسالتؐ

یہ کالم لکھنے کا مقصد قطعی طور پر سرسید کو مذہبی ثابت کرنا نہیں ہے ۔اس سال یوم سرسید اور بارہ ربیع الاول قریب قریب ہی آئے ،اس لئے کچھ حقائق کا انکشاف ضروری سمجھا۔ ربیع الاول محسن انسانیت آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا دن ہے، ٹھیک انیس اکتوبر کو بارہ ربیع الاول ہے اور اس سے دو دن پہلے یعنی یوم سرسید منایا گیا ۔ علی گڑھ یونیورسٹی میں یومِ سرسید ہر سال جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ زیادہ تر علیگ حضرات یا دوسرے اسکالرز بھی انہیں زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ انگریز سامراج کے عتاب کی شکار قوم کو از سر نو تعمیر کرنے میں سرسید کی خدمات کو یاد کیا جاتا ہے۔ مسلم قوم کا از سر نو ڈھانچہ کھڑا کرنے میں سرسید کا جو کردار ہے یقیناً وہ رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔ سرسید بھارتی مسلمانوں کو بیدار کرنے میں کتنا کامیاب ہوئے یہ ایک الگ موضوع ہے لیکن اس حقیقت سے انحراف بھی گ

سرسوں کی کاشت کیجئے ،زمین کو خالی نہ رکھیئے

کشمیر میں خریف کا موسم ختم ہوا ہے، الحمداللہ اس سال قدرت مہربان رہی اور اچھی دھان کی فصل نکلی، ہمارے کشمیر میں ایک المیہ ہے کہ یہاں کے کسان صرف سال بھر میں ایک ہی فصل یعنی دھان لگاتے ہیں اس کے بعد زمین کو خالی رکھتے ہیں جس کی وجہ کیی غلط فہمیاں ہیں مثلاً یہ زمین کو کمزور کرتی ہے وغیرہ ، بہت بڑے رقبے پر پھیلے زمین کو خالی رکھنا بہرحال نہ ہی اخلاقی طور صیح ہے اور نہ ہی ہماری معیشت کے لیے۔یہاں کی بڑی آبادی کا دارومدار زراعت پر ہے ایسے میں ہماری مذہبی ذمداری بھی یہ بنتی ہے کہ ہم زمین کے پیداوار کو بڑھاے، دین اس بات سے بندے کو روکتا ہے کہ وہ زمین خالی چھوڑے، بلکہ کاشت کاری اور شجر کاری میں سستی اور کاہلی کی ممانعت وارد ہوئی ہے '" اگر قیامت قائم ہوجائے ، تمہارے ہاتھ میں کوئی پیڑ یا پوداہو، اگر تم اس پودے کو لگا سکتے ہو تو لگاؤ ، اس سے تم کو اجر وثواب ملے گا(مسنداحمد) کاشت کاری جہا

بچت اور سرمایہ کاری کیسے کی جائے؟

جب بچت و سرمایہ کاری کی بات ہوتی ہے تو ہمارے یہاں حالات کچھ حوصلہ افزا نظر نہیں آتے۔ اوّل تو یہ کہ مہنگائی میں اضافہ کے باعث بچت کا رجحان عمومی طور پر کم ہی دیکھنے میں آتا ہے اور اگر کوئی بچت کرنا چاہے بھی تو بات ماہانہ کمیٹی سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔ بچت، سرمایہ کاری اور پھر اس سرمایہ کاری کے ذریعے ایک سے دو کیسے بنائے جائیں؟ یہ ایک مکمل سائنس ہے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو ابتدائی، ثانوی اور اعلیٰ ثانوی کلاسز تک ’پرسنل فائنانس‘ کا علم دیا ہی نہیں جاتا۔ ایسے میں ہمارے نوجوانوں کو ملک سے باہر ایسے رول ماڈلز کو دیکھنا پڑتا ہے، جنھوں نے پُرمغز سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی ایک ’مالیاتی سلطنت‘ قائم کی ہے۔ وارن بفٹ دنیا کے ایک ایسے ہی مایہ ناز سرمایہ کار ہیں۔ بچپن میں وہ اوہاما میں اپنی فیملی کےگروسری اسٹور پر کام کرتے تھے۔ انھوں نے پہلا ا

’معلم‘ کا مقام اور اہمیت

خداوند عالم نے انسان کی بناوٹ ہی اس طور پر رکھی ہے کہ ایک لا علم انسان کو کسی علم رکھنے والے انسان کا محتاج بنایا ہے۔ ایک انسان محض کتابوں سے وہ کچھ حاصل نہیں کر پاتا جو استاد کی شکل میں اللہ کی عطا اسے سکھا دیتی ہے۔ روز اول سے یہ روحانی رشتہ قائم ہے اور سینہ بہ سینہ علوم کی منتقلی کا سبب رہا ہے۔  ایک معلم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ چودہ سو سال پہلےاہل عرب جو باعتبار زبان فصیح و بلیغ تھے، ان کے لیے براہِ راست کلام اللہ سمجھنے میں کیا دقت ہوسکتی تھی ،جبکہ خود ان کا مطالبہ بھی یہی تھا کہ قرآن کا آسمان سے ہر فرد کے لیے علیحدہ نسخہ نازل ہوجائے، مگر باجود اس کے رب ذوالجلال نے اپنی سنت کے مطابق بطور معلم پیغمبر اسلام ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتخاب فرمایا اور حضو ؐکے ذریعے اپنی مقدس کتاب کے علوم ، رموز ، احکام اور قربِ خداوندی کے اسرار اس وقت کے مخاطبین اول کے

نصاب کو بدلنے کی ضرورت ہے؟

علم کا اصل مقصد ہے کہ ایک انسان اپنے خالق یعنی اللہ کو،اپنے آپ کو اور اپنے سماج کو پہچانے۔ اس کے علاوہ علم کا مقصد ہے کہ انسان پڑھائی کے باوصف اپنے درپیش مسائل کا حل ڈھونڈے ۔اپنے ارد گرد کے ماحول کےساتھ ساتھ سماجی مشکلات کا ازالہ کرنے کی بھی کوشش کرے اور اگر وسعت ہو تو مشکلات کا تدارک کرے۔ مزید براں وہ ایسے نئ چیزوں کو بنانے یا ڈھونڈنے میں کامیاب ہوسکے،جس سے زندگی آسانی سے گزاری جاسکے۔ یہ ساری چیزیں تب ہی حاصل ہوسکتی ہیں، جب طالب علم کو ایک ایسے نصاب کے تحت پڑھائی حاصل ہو سکے جس نصاب میں وہ اپنی نجی زندگی اور اپنےسماجی پہلوئوںکو ہر لمحہ ذہن میں محفوظ رکھ سکے۔ گیارہویں جماعت کی انگلش کتاب میں البرٹ آئنسٹائن کے بارے میں ایک مضمون موجود ہے۔ جس میں ایک تاریخ کے پروفیسر، البرٹ کو اس بات پر ڈانٹتے ہیں کہ وہ پڑھائی کی اصل تعریف کرتا ہے۔ البرٹ اپنے استاد سے مخاطب ہوکر کہتا ہے کہ’&rsqu

اسوۂ حسنہ۔ تکمیل، عالمگیریت اور ابدیت

تخلیق آدم علیہ السلام کے وقت ملائکہ نے اللہ رب العزت سے استفسار کیا کہ "آپ ایک ایسی مخلوق کیوں تخلیق فرمارہے ہیں جو زمین میں قتل و غارت کا باعث بنے گی؟" اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ "میں جانتا ہوں، (جو) تم نہیں جانتے!" علماء کرام کا ماننا ہے کہ ملائکہ جن "چیزوں کا نام" بتانے سے قاصر رہے اور جن کا علم پاکر آدم  ؑ نے ملائکہ کے سامنے پیش کیا ان میں (مطلق علم کے ساتھ ساتھ) ذریت آدم ؑ میں سے ان گلہائے سرسبد کی فہرست بھی شامل تھی جو مختلف ادوار میں انسانیت کے لئے نہ صرف فکر و نظر کے لحاظ سے بلکہ اخلاق و عمل کے لحاظ سے بھی قابل اتباع نمونہ بننے والے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس فہرست میں آدم ؑ سے لیکر رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم تک آنے والے تمام انبیاء کرامؑ بدرجہ اتم موجود تھے۔ تاہم انبیاءعلیہ السلام کے ساتھ ساتھ پیدا ہونے والے صدیقین، شہداء اور صالحین (زہاد، اتقی

حضرت محمد ﷺ۔سارے جہاں کے لئے پیغامِ رحمت

ربیع الاول کا مقدس مہینہ سرو رِکائنات ،فخرِ موجودات ،خاتم النبین ،محبوبِ ربّ العالمین کی ولادت باسعادت ایمان افروز بشارت لے کر آیا ہے۔۱۲؍ ربیع الاول ایک ایسے دن کی یاد تازہ کرتی ہے جس نے فکر و عمل اور اعتقادات کی دنیا میں انقلاب ِعظیم برپا کردیا ۔اس دن نورانی ساعتوں میں حضرت ِ حق کی راہیں کھل گئیں۔دنیا کی بے چین و بے تاب ذرّوں نے وحدانیت کے نغمے گائے اور اُجڑے ہوئے چمن میں تروتازہ پھول کھل گئے،آفتاب ِ نبوت نے سر زمین عرب سے طلوع ہوکر سارے جہاں کو روشن کردیا ۔ قرآن پاک میں خداوند ِ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے :ہم نے آپ کو دونوں جہانوں کے لئے رحمت بناکر بھیجا ۔چنانچہ حضور پُرنور ؐ کی حیات ِ طیبہ کے کسی بھی پہلو پر نظر ڈالیں اس میں خیر ہی خیر اور رحمت ہی رحمت نظر آئے گی ۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت و شفقت کسی خاص طبقے کے لئے مخصوص نہ تھی بلکہ آپ کی ابر رحمت کے چھینٹوں نے ا

پیغمبر ﷺ دنیا کےلیے نمونہ عمل

ماہ ربیع الاول کو مقدس ومحترم مہینہ مانا جاتا ہے کیونکہ اس مہینے میں آفتاب نبوت سرور کائنات حضرت محمد صولی اللہ علیہ وسلم توولد ہوئے۔آپ کی ولادت باسعادت میں اگرچہ تھوڑا سا اختلاف ہے مگر سبھی مکتبہ فکر اس بات پر متفق ہیں کہ آپ کا ولادت باسعادت ربیع الاول کے مہینے میں ہی ہے۔آپؐ کا نور اقدس پہلے سے ہی موجود تھا ،آپؐ کا ظہوراس وقت ہوا جب دنیا میں فتنہ انگیزی،چاپلوسی،بدخواہی،ایک دوسرے کی نفرت،جہالت اور بدعنوانی زوروں پر تھی، لوگ قتل وغارت کو غیرت مندوں کا کام سمجھتے تھے۔بیٹیوں کو زندہ دفن کرنا عار نہیں سمجھاجاتا تھااور شریف لوگوں کا جینا حرام ہوا تھا تو اللہ تعالیٰ کی قدرت برجستہ آئی اور پیغمبر اکرمؐ کی صورت میں ایک منجی کو بھیجا تاکہ انسانیت بچ سکے ،اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ "اے رسول میں نے آپ کو عالمین کےلئےرحمت بنا کر بھیجا"یعنی آپ عال