تازہ ترین

تہذیبوں کا تصادم اورکشمیریت

آئیے آج بات کرتے ہیں اس قوم کی جس کا ہم حصہ ہیں ۔لیکن کیسے کریں ۔ ہمیں پہلے یہ پتہ لگانا ہوگا کہ قوم کیا ہے ۔ ہم مسلمان ہیں ،اس لئے امت مسلمہ کا حصہ ہیں ۔ ہم کشمیری ہیں، اس لئے کشمیری قوم کا حصہ ہیں ۔ ایک ساتھ ہم دونوں قومیتوں کا جزو نہیں ہوسکتے، نہ ہم دونوں میں سے ایک کو الگ کرکے ایک ہی قومیت کا حصہ بن کر رہ سکتے ہیں ۔یہ ہمارا ہی نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ اوراس کی پوری تاریخ کا انتہائی گھمبیر مسئلہ رہا ہے اور اسی مسئلے کی وجہ سے ایسے تضادات نے جنم لیا ہے جن کی وجہ سے مسلمانوں کی نسلی ، علاقائی ، لسانی، تہذیبی اور گروہی شناخت امت مسلمہ کی روحانی اور نظریاتی اساس کے سماتھ یا تو خلط ملط ہوکر ایک ابدی کنفیوژن کا باعث بنی یاایک دوسرے سے ٹکرا کر فساد اور شر پیدا کرتی رہی ۔آج ہر جگہ ہر مسلمان کی شخصیت کے اندر قومیت کا ٹکرائو موجود ہے ۔چودہ سو سال کی تاریخ میں مسلم عالموں نے اس مسئلے کی کوئ

خُود کشی ایک بُزدلانہ فعل

گزشتہ دنوںفجر کی نماز پڑھ کر معمول  کے مطابق سیروتفریح کے بعد گھر کے باغیچہ میں بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا کہ اچانک میری نظر ایک ایسی خبر پر پڑی جسے دیکھ کر میں دھنگ رہ گیا۔ خبر یہ تھی کہ ہندوستان کے مشہور اداکار سشانت سنگھ راجپوت نے خودکشی کرلی اور اپنی زندگی کو اپنے ہاتھوں سے تمام کرلیا ۔افسوس اس بات کا نہیں تھاکہ ایک اداکار کی موت واقع ہوئی ہے۔ بس میں اس سوچ میں الجھ گیا تھا کہ آخر جن وجوہات کی بنا پر ایک غریب شخص خودکشی کا شکار ہوتا ہے ،وہ سارے وسائل تو مہیا تھے ۔جو چیزیں اس دار فانی میں انسان چاہتا ہے وہ تمام تر وسائل موجود تھے ۔آخر کن باتوں پر ایسے لوگ اپنی جان لیتے ہیں۔ آخر خودکشی کیا ہے؟لوگ کیوں خودکشی کرتے ہیں؟تمام تر مذاہب خودکشی کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ اسلام نے اسے بزدلانہ عمل کیوں قرار دیا ہے؟۔ اس جیسے کئی سوالات میرے ذہن میں گردش کرنے لگے۔آخر کار تسکین قلب کی خ

گوشہ اطفال|19 ستمبر 2020

 روزانہ ایک گھنٹہ ورزش بچوں کی ذہنی نشونما کیلئے اہم   فکرِ اطفال   لیاقت علی   جہاں ایک طرف جدید سائنس نے انسان کے لیے کئی آسائشیں پیدا کردی ہیں تو وہیں دورِ جدید کی تیز رفتار زندگی نے انسان کو فطرت سے بھی دور کردیا ہے۔ آج کے زمانے میں انسان ’’اِن ڈور‘‘ ہوکر رہ گیا ہے۔ ہم اپنے اِرد گِرد بھی اگر ایک نظر دوڑا کر دیکھ لیں تو اندازہ ہوگا کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ گھر میں اور کام کی جگہ پر بھی ایک چھت تلے اپنا زیادہ تر وقت گزارتے ہیں۔  دورانِ سفر بھی زیادہ تر لوگ ایک طرح سے ’’اِن ڈور‘‘ ہی رہتے ہیں۔ ہمارا یہ ’’لائف اسٹائل‘‘ دیکھنے میں تو ہمیں بہت ہی سہل اور پْرآسائش معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کی وجہ سے ہم سست ہورہے ہیں اور ہماری صحت بھی متاثر ہوتی جار

تازہ ترین