تازہ ترین

کاش ہماری زندگی قرآن کی تفسیر ہوجائے

خالقِ کائنات انسان کو پُر خطر راہوں اور کفر و ضلالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکالنے کے لیے کچھ محبوب ہستیوں کو مبعوث فرماتا رہا تاکہ وہ انسان کو انسانیت کا درس دے سکیں۔ آپس میں اُخوت و محبت کا چراغ جلاکر اپنے پیدا کرنے والے معبودِ حقیقی سے بچھڑے بندوں کو قریب کرسکیں۔  چناں چہ خدا کا دستور رہا ہے کہ جب بھی اس نے کسی پیغمبر کو بھیجا تو اِسے گمراہوں کو راہِ راست پر لانے کے لیے کچھ نہ کچھ ایسے عاجز کن، انسانی عقل سے بعید دلائل و معجزات عطا کیے تاکہ انسان اُن کی طرف متوجہ ہوجائیں، اُن کی باتوں کو سننے لگیں اور ان کے پیغام کو قبول کرکے عہد کریں کہ ماضی سے ہٹ کر حال و مستبقل سنوار سکیں۔ لہٰذا جب بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تو فن سحر میں وہ کمال و معجزہ عطا فرمایا کہ بڑے بڑے جادوگروں کو شکست دے کر محو حیرت کردیاجس سے متاثر ہوکر وہ ایمان لانے پر مجبور ہوگئے۔&

سادگی اور سادہ طرزِ زندگی

آج معاشرے میں ڈپریشن، بے اطمینانی اور مسائل کا انبار صرف اس لیے ہے کہ ہماری تمنّائیں اور خواہشیںلامحدود ہیں۔ قناعت پسندی کا جذبہ مفقود ہے، عہدہ و منصب اور مال و دولت کی حرص و ہوس نے آدمی کو خواہشات کا غلام بنا دیا ہے، لیکن راحت اور سکون کوسوں دُور ہے۔ اس کی وجہ صرف اور صرف ایک ہے اور وہ ہے’’سادگی اور سادہ طرز زندگی‘‘سے گُریز۔معاشرے میں ایک دوسرے پر بڑائی کا اظہار کرنے، زیادہ سے زیادہ مال و متاع حاصل کرنے، دولت و ثروت کے انبار لگانے، حرص و ہوس اور بے جا تمنّائوں کی تکمیل کا یہی وہ قابلِ مذمّت عمل ہے، جو معاشرے میں بے اطمینانی،اعلیٰ انسانی اقدار اور مثالی تہذیبی اور اَخلاقی روایات کے زوال کا باعث بنتا اور نفرت و عداوت کو پروان چڑھاتا ہے ، درحقیقت یہی وہ مکروہ جذبہ ہے، جو چوری، ڈکیتی، قتل و غارت گری اور معاشرے میں دیگر جرائم کا باعث بنتا ہے۔  آنحضرت ﷺ ن

ماہِ صفر اور توہم پرستی

اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا: "اور تمہیں جو کوئی مصیبت پہنچتی ہے، وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کیے ہوئے کاموں کی وجہ سے پہنچتی ہے اور بہت سے کاموں سے تو وہ درگزر ہی کرتا ہے۔(سورۃ الشوریٰ) نحوست کا تعلق ہر گز کسی دن، وقت، تاریخ، مہینے یا سال سے نہیں ہوتا۔ کسی بھی انسان کا آزمائش میں مبتلا ہونا قانونِ قدرت ہے۔ وہ جو چاہے کرے، جسے جیسے چاہے آزمالے۔ کسی دن یا مہینے میں مصیبت نازل ہونے کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ اسے منحوس قرار دے دیا جائے۔ اسلامی سال کا دوسرا مہینہ صفر المظفرجاری و ساری ہے۔صفر کا مہینہ باقی دوسرے مہینوں کی طرح ہے۔اس مہینے میں آفات ومصائب نازل ہونے کا عقیدہ رکھنا غلط ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں اسے نحوست والا مہینہ سمجھا جاتا تھا، اس لیے وہ اس ماہ میں سفر کرنے سے گریز کیا کرتے تھے۔ حالاں کہ سرکارِ دوعالم ﷺ نے بہت ہی صاف اور واضح الفاظ میں اس مہینے اور اس مہینے کے حوالے