اختلاف رائے میں کوئی حرج نہیں،اعتدال برقرار رکھیں

آج کی دنیا میں اظہار رائے اورا ختلا ف رائے بنیادی انسانی حقوق تصور کئے جاتے ہیں اور ان حقوق پر کسی طرح کا قدغن انسانی حقوق کی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے لیکن یہ حق شروع سے ہی نزاع کا سبب بنا ہوا ہے۔ کسی معاشرے میں اختلاف رائے کا ہونا اس معاشرے میں زندہ انسانوں کے وجود کا ثبوت ہے۔ اختلاف رائے انسانی ذہن کے دریچوں کو کھولتا ہے اور اندازِفکر میں وسعت پیدا کرتا ہے۔ تاہم جہاں اختلاف رائے معاشرے کیلئے سود مند ہے وہیں آج کل کے معاشروں میں اختلاف رائے بگاڑ بھی پیدا کر رہا ہے اور اس کی سیدھی وجہ وہ رویے ہیں جو کسی صورت میں بھی کسی دوسری رائے کو سننا پسند نہیں کرتے اور اپنی بات کی صداقت کو ثابت کرنے میں انتہاء پسندی کی حد تک چلے جاتے ہیں جو معاشرے کی اخلاقی فضا کو آلودہ کرتی ہے۔ دنیا کا ہرانسان ایک ہی طرح کے افکار ونظریات کا حامل نہیں ہوسکتا۔ یہاں مختلف افکار، نظریات اور تخیلات رکھنے والے

معیارِ تکریم کیا ہے؟

اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر اٹھارہ ہزار سے زائد مخلوق کو پیدا کیا، ان سب میں انسانوں کو دوسری تمام مخلوق پر فضیلت و برتری عظمت و رفعت اور شرافت و عزت بخشی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مقدس میں بیان فرمایا ہے ’’ ولقد كرمنا بني آدم وحملناهم في البر والبحر ‘‘ ہم نے عزت دی ہے آدم کی اولاد کو اور سواری دی، ان کو جنگل اور دریا میں!( سوره اسراء، آيت 70 ) اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو قوموں اور نسلوں میں باہم تعارف کے لئے تقسیم کیا ہے نہ کہ آپس میں فخر کرنے کے لئے۔ لیکن معاشرہ میں لوگ قوموں، ملکوں، خاندانوں اور مال وزر کو معیار تکریم بنا کر فخر کرتے ہیں جو کہ سراسر اسلامی نقطہء نظر سے غلط ہے ۔  اس بات کو اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب میں یوں بیان فرمایا ہے ’’يا اَيها الناس اِنا خلقناكم من ذكر وانثى وجعلناكم شعوباً وقبائل لتعارفوا، اِن ا

اقلیت کا تحفظ اکثریت کی ذمہ داری ہے

اے پی جے عبد الکلام سے کون واقف نہیں ہوگا۔ میزائل مین اور People's President کے نام سے دنیا بھر میں اپنی شہرت رکھتے ہیں۔پچھلے دنوں بندہ ان کی کتاب Wings Of Fire کا مطالعہ کررہا تھا، اس کتاب میں انہوں نے مذہب کی بنیاد پر اپنے ساتھ ہونے والی ایک زیادتی کا واقعہ بیان کیا ہے۔ وہ رقمطراز ہیں: میں پانچویں کلاس کا طالب علم تھا، درجہ میں پہلی صف میں ہمیشہ بیٹھا کرتا تھا اور میرے ساتھ میرا بہت پرانا دوست بھی بیٹھتا تھا، وہ دوست ہمارے گاؤں کے ہیڈ پجاری کا بیٹا تھا اور ہم دونوں کی دوستی بہت گہری تھی۔ ایک دن کلاس میں ایک نئے ٹیچر آئے اور انہوں نے جب مجھے ایک ہندو لڑکے کے ساتھ پہلی صف میں بیٹھے دیکھا اور انہیں جب یہ معلوم ہوا کہ میں مسلمان ہوں اور ہیڈ پجاری کے بیٹے کے ساتھ بیٹھتا ہوں تو انہوں نے مجھے سب سے پچھلی صف میں بیٹھنے کا حکم دیا۔ میں بادِل ناخواستہ پچھلی صف میں چلا تو گیا لیکن پیچھ

چمن کا وہ دیدہ ورغلام نبی شیدا

19 جنوری کو اس مردِ آہن کو ہم سے جُدا ہوئے ایک سال بیت گیا۔ غلام نبی شیدا ،جو اپنے زمانے کے یکتائے روزگار سرکردہ صحافی اور ایک تجربہ کار اردو روزنامہ وادی کی آواز کے مدیرِ اعلیٰ یعنی عام لوگ انہیں اسی طرح جانتے تھے۔ لیکن وہ لوگ جن کو ان کے قریب بیٹھنے اور ان کی شخصیت کو پڑھنے پرکھنے کا موقع ملا تھا وہ انہیں ایک عظیم شخص کے طور پریادکر تے ہیں۔ غلام نبی شیدا سے ملاقات کے دوران کوئی بھی اجنبی شخص نفاستی طور پر خود کو محفوظ محسوس کرتا تھا ، کیونکہ شیدا صاحب کی عادت تھی کہ وہ ہر ایک سے خیریت پوچھتے تھے اور اس کے بعد ہر اس شخص سے تعارف ہوتا تھا جو ان کے دفتر میں ان سے ملنے آیا ہوتا تھا یا کہیں اور ملتا تھا۔ بطور صحافی وہ ایک منجے ہوئے پیشہ ور تھے اور انہیں اس وقت کے صحافیوں / کشمیر پریس ایسوسی ایشن یا اِس جیسےعنوان کے صدر بننے کا اعزاز حاصل ہے ۔آج کے بہت سارے نامور اور اعلیٰ سطح کے صحافی

غریب والدین کی بیٹیاں اور مجبوریاں

اسلامی معاشرہ میں عام طور پر ماہِ صیام کی آمد آمد اور موسم سرما سے پہلے پہلے شادیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ان شادیوں میں اہم کردار ائمہ مساجد (نکاح خوانوں )کا ہو تا ہے ۔ جن کی منصبی ذمہ داری ہوتی ہے کہ معاشرہ میں پھیلی ہوئی بدعات و خرافات اور غیر مشروع رسو مات کا حکمت سے خاتمہ کریں۔ یہ دینی المیہ ہے کہ عام طور پر نکاح، شادی، بیاہ ، منگنی اور رخصتی کی تقریبات میں اسلام کی روح کو مجروح کیاجاتا ہے۔ شادی بیاہ میں جہاں تک لڑکی (دلہن) کی شادی خانہ آبادی کا تعلق ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دلہن والوں کے ہاں دعوت کھانا اخلاقی لحاظ سے غیر مستحسن  ہےلیکن صورتِ حال یہ ہے کہ یہ صرف کہنے کی بات ہے حق بات یہ ہے کہ وادِی چناب میں بھی جموں و کشمیر کی طرح دولھا کے ساتھ رشتہ داری دوست و احباب کا ایک ذی شان جلوس ہوتا ہے۔  دینی المیہ یہ ہے کہ عالم طور پر مہنگی نکاح اور شادی بیاہ (رخصتی)

جنوری اور جمہوریت

قارئین کرام! یہ جنوری کا مہینہ چل رہا ہے اور اس میں ایک دن انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اور وہ ہے یوم جمہوریہ۔ یوم جمہوریہ کی اہمیت اس وجہ سے ہے کہ ۲۶/ جنوری، ۱۹۵۰ء کو ہندوستان پر ایک جمہوری نظام، ہندوستانی آئین اور دستور کی صورت میں ہندوستان پر نافذ ہوا۔ یہ جمہوری نظام اور یہ دستور ایک منصفانہ دستور تھا، جس میں ہر مذہب، ہر قوم، ہر انسان کی رعایت کی گئی تھی اور سب کو برابری کا درجہ دیا گیا تھا۔ مگر دھیرے دھیرے اس جمہوریت سے اس کا منصفانہ مزاج چھیننے کی کوششیں ہونے لگیں اور اس کی روح سے چھیڑ چھاڑ ہونے لگی، یعنی کہ جمہوریت سے کھلواڑ کیا جانے لگا۔ جمہوریت کا نام تو باقی رہ گیا مگر اس کا نام لے لے کر بے حد ظلم و زیادتی ہونے لگی۔ کمزوروں اور غریبوں کو کچلا جانے لگا۔ فرقہ پرستوں نے فسادات مچانے شروع کیے اور مسلمانوں کو ظلم کی چکی میں دھکیلا جانے لگا۔ کئی بار آئین ِ ہند کو داغ دار کیا گیا، کئی

یقین کا سلسلہ اوہام تک ہے ۔ ۔۔!

ابن آدم کی تخلیق کے ساتھ ہی اس کے خلد سے نکالے جانے کے امکانات روشن نظر ارہے تھے جن کی شروعات ابلیس کے سجدہ انکار سے ہوئی تھی ۔ شجرہ ممنوع سے لیکر حضرت آدم کی دنیاوی زندگی تک کے تمام مسایل کی بنیاد شک و شبہات اور یقین کی ان منزلوں تک رسائی رکھتے ہیں جن کی آخری سر حد فطرت قدرت یا خدائی کے یہاں سربسجود ہونے کی کیفیت تک مقرر ہے۔ جہاں سے طاقت، قوت یا پاور کے تمام کنارے خودبخود خالق حقیقی کے سامنے زانو تہہ کئے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس عمل کے دوران صرف ایک باطنی قوتِ یقین ہی آدم کو سنبھالتی ہے اور سنبھالتی آئی ہے، جس کو اپنانے کی تلقین ہر مذاہب کے ہدایت ناموں اور انکے پیمبروں یا اوتاروں نے اپنےاپنے پیروکاروں کو کی ہے ۔ تاریخی اوراق گواہ ہیں اس بات کے کہ یقین ایک ایسی شٔے ہے، جس کا براہ راست یا راست مقابلہ وہم کے ساتھ رہتا ہے۔ اس وہم کے ساتھ جس کو کسی بھی علمی اصول ،عقلی منطق یا مذہبی ق

چین کی بڑھتی ہوئی اختراعی بالا دستی

ایک بڑے ملک اور دنیا کی دوسری بڑی معیشت کے طور پرسال ۲۰۲۲ء چین کے لیے کئی لحاظ سے اہم ہے، اور آج کل چین میں ایسے بہت سے ترقیاتی منصوبے چل رہے ہیں جن کا ایک صدی قبل تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ چین جہاں دنیا کی مضبوط ترین معیشتوں میں سے ایک بن گیا ہے، وہیں سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراعات کے لحاظ سے سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی طاقتوں میں سے ایک بن گیا ہے۔ بیجنگ چین کا مصروف ترین تجارتی اور سیاحتی شہر جسے ایک صدی قبل غاصب سامراجیوں نے تباہ کر دیا تھا، اب دوسری بار ۲۰۲۲ء کے اولمپک گیمز کی میزبانی کر کے تاریخ رقم کرنے جا رہا ہے۔ موجودہ وبائی صورتحال میں بیجنگ اولمپک گیمز کی میزبانی یقیناً دنیا کے لیے اتحاد، تعاون، طاقت اور یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہونے کا ایک موقع ہوگا۔ ورلڈ آرگنائزیشن فار انٹلیکچوئل پراپرٹی کے ’گلوبل انوویشن انڈیکس۲۰۲۱ء کے مطابق چین کی مجموعی اختراعی صلاحیت اب بارو

بیٹے کی آس میں بیٹیوں کوقتل نہ کریں!

اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت ساری نعمتیں عطا کی ہیں ۔ ان ہی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت جو جنتی والدین کو عطا کی جاتی ہے، وہ نعمت بیٹی ہے مگر دور حاضر میں بھی ماضی کی طرح بیٹیوں کی عظمت اور اہمیت کو گھٹا کر پیش کیا جارہا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اب ہمیں بیٹیوں کو بچانے کیلئے دیواروں اور چوراہوں پر لگے بورڈوں پر نعرے لکھنے پڑتے ہیں ۔جس وادی کو ہم صوفیوں،سنتوں،فقیروں اور مقدس ہستیوں کی سرزمین مانتے ہیں، اُسی سرزمین میں اب ہمیں شیطان اور راون جیسے لوگ مل رہے ہیں، جو آئے دن کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر اسلامی افکار سے بھرپور سرزمین کو جہنم ِزار بنانے میں پیش پیش ہیں ۔راقم کواس کا احساس اُس وقت ہوا، جب کسی ایمرجنسی میں ایک مقامی اسپتال میں جانا پڑا اورمیری نظر اسپتال کے دیوار پر لگے اُس بورڈ پر پڑی، جس پر موٹے الفاظ میں یہ عبارت لکھی تھی کہ "بیٹے کی آس میں بیٹیوں کی بَلی نہ چڑھائ

بُراگمان اور غلط نظریہ !

معمول کے مطابق عشاء نماز کی اذان سنتے ہی میں لایبریری سے نکلا کہ راستے پہ ایک شخص پر نظر پڑی۔ جو شکل سے تو عرب ممالک کا لگ رہا تھا ۔ بوڑھا رسید عمر کا بزرگ، لاٹھی کے سہارے چل رہا تھا کہ اس کا پیٹ پھولا ہوا تھا۔ چنانچہ میں لایبریری میں دن بھرمختلف ڈیزیز / بیماریوں کے بارے میں پڑھ رہا تھا اوریہاںاس شخص کو دیکھ کر من ہی من میں سوچ رہا تھا کہ اگر انسان جوانی سے ہی اپنی صحت کا خیال رکھتا تو بوڑھاپے میں اتنی ساری بیماریاں آ نہیں گھیرتیں۔ خیر میں گھر کی جانب چل پڑا اور وضو کرکے مسجد میں نماز پڑھنے گیا۔ اس پھولے ہوئے پیٹ والے بزرگ شخص کو بھی پہلی صف میں پایا، جو کرسی پہ نماز پڑھ رہا تھا۔ بہرحال نماز پڑھ کے میں گھر واپس آ گیا۔ بہت دیر تک میرے بڑے بھائی مسجد سے واپس نہیں آئے، جن کے ساتھ میں جموں میں رہتاتھا ۔ میں اُنہیں ڈھونڈنے پھر مسجد گیا۔ وہاں زور زور سے آوازیں آرہی تھیں گو یا جیسےکوئی ل

سوڈان میں جاری سیاسی خلفشار

براعظم افریقہ کے شمال مشرق میں واقع سوڈان کو اسلامی علم و ادب کا ایک اہم مرکز  مانے جانے کے علاوہ اس کا دارالحکومت خرطوم اپنے کثیر الثقافتی مزاج کی بنیاد پر دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔ تاہم گزشتہ تقریباً دو سالوں پہلے سوڈان میں عمر البشیر کی آمرانہ قیادت کا تختہ پلٹنے کے بعد سے سوڈان میں نیم جمہوری حکومت کا قیام عمل میں آیا تھا، جو کہ عرب بہار کے زیر اثر ممکن ہوسکا تھا۔2019میں عمرالبشیر کی تیس سالہ حکومت ختم ہونے کے بعد سوڈان میں ایک نئی خود مختار کاؤنسل یا Sovereign Council کا قیام عمل میں آیا تھا جس میں کہ  فوج اور عوامی نمائندوں کی شمولیت تھی اور وزیر اعظم کی قیادت میں ایک عبوری حکومت قائم کی گئی تھی۔تاہم گزشتہ سال 25اکتوبر کو فوج نے عبداللہ حمدوک کی عبوری حکومت کو ہٹاکر حکومت پر اپنا قبضہ کرلیا۔ جنرل عبدالفتح البرہان کی قیادت میں ہونے والے اس فوجی بغاوت کو عوام نے یکسر

پارٹی بدلنے سےفکر وفہم بدل جاتا ہے؟

اترپردیش میں اسمبلی الیکشن کا بگل بجتے ہی سبھی سیاسی پارٹیاں حرکت میں آگئیں۔ سیاسی لیڈران اپنی اپنی سیاسی زمین ہموار کرنے میں مصروف ہوگئے ،پارٹیاں بدلنے کے ساتھ ساتھ یوپی کابینہ سے وزراء کے مستعفی ہونے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ مستعفی ہونے والے وزراء کا کہنا ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ کی کابینہ میں رہ کر پوری ایمانداری کے ساتھ کام کیا تو کیامگر ہمیں وہ عزت نہیں ملی جو ملنی چاہیے۔ ریاست کے دلتوں، پچھڑوں، غریبوں، کسانوں، مزدوروں اور متوسط طبقے کے لوگوں کے مسائل کو مسلسل نظر انداز کیا گیا اور ریزرویشن پر بھی یو پی سرکارکی نیت صاف نہیں ۔ ان وزراء کی بات میں کتنی سچائی ہے یہ تو وہی بتا سکتے ہیں مگر اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بہت زیادہ ایسے بھی سیاسی لیڈران ہیں جنہیں عوام سے اور عوامی مسائل سے کوئی مطلب نہیں ہے نہ تو وہ ملک کے مفاد میں الیکشن لڑتے ہیں اور نہ قوم کی خدمت کے لئے۔ وہ تو مح

دعا ہی سبیل ِ واحد

سورۃ الفرقان میں اللہ تعالیٰ نے’’عباد الرحمٰن‘‘ کے جو صفات گنوائے ہیں ان میں ایک صفت یہ بھی ہے کہ سچ مُچ میں میرے بندے وہ لوگ ہیں جو میرے ساتھ کسی اور کو نہیں پُکارتے ہیں بلکہ میرے دَر کا سوالی بنے رہنے میں ہی اپنی شان و بان اور عافیت سمجھتے ہیں۔فرمانِ الٰہی ہے:’’اور (عبادالرحمن وہ لوگ ہیں) جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے ہیں۔‘‘(الفرقان:68)    مولانا ڈاکٹر محمد اسلم صدیقیؒ نے اس آیتِ مبارکہ پر ایک ایسا معلوماتی نوٹ لکھا ہے کہ جسے پڑھتے ہی انسان کو توحید کی جڑ ہاتھ آتی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کو مُختارِ کُل سمجھ کر اپنے تمام معاملات کو اس کے حوالے کر ہی دیتا ہے۔لکھتے ہیں:’’توحید اسلام کے تمام عقائد کی بنیاد ہے۔اسلامی زندگی کا اصل الاصول اور اس کا مبدا و معاد ہے۔اسی سے پہلا قدم اٹھتا ہے اور یہی ایک م

کرونائی لہر

سال 2019میں چین کے وہان شہر سے نکلنے والے کرونا وائرس کی وجہ سے تمام ممالک پر ایک قیامت برپا کردی۔کوویڈ۔ 19 نے ایسی دستک دی کہ تمام ممالک کی معاشی حالت تباہ ہو چکی ہے۔ اسی کے ساتھ ہندوستان میں بھی اس وائرس نے قہر مچا دیا۔پہلی لہر میںلاک ڈائون کے بعد دوسری لہر نے جو قیامت برپا کیا تھا، اس بھیانک منظر کو کوئی بھول نہیں سکتا ہے۔ ملک میں ایک بار پھر سے کرونا کیسیز میں دن بدن اضافہ ہوتا نظر آرہا ہے۔ اس وبا کا ملک کے ہر چھوٹے بڑے اورامیر غریب پرگہرا اثر پڑا ہے۔ گزشتہ سال بھی چند ماہ لاک ڈائون رہا اور اس سال بھی کچھ ماہ لاک ڈائون ہونے کی وجہ سے عام عوام کی معمولات زندگی متاثرہو رہی ہے۔گذشتہ سال کی طرح اس بار بھی تمام شہریوں کو گھرپرہی رہنے کی ہدایت دی گئی ہے اور احتیاتی تدابیروں پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کی جا رہی ہے۔اومیکرون کے بڑھتے خطروںکے مدّنظرایک بار پھر سے لاک ڈائون لگا دی گئی ہے۔ جس

پوائنٹ آف سیل سسٹم کیا ہے؟

ویسے تو کاروبار کا ہر پہلو ہی اہم ہوتا ہے، لیکن پوائنٹ آف سیل (POS) کی اہمیت کافی زیادہ ہوتی ہے۔ دراصل، یہ وہ لمحہ ہے جب ایک ممکنہ کلائنٹ بالآخر ادائیگی کرنے والے صارف میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ زیادہ تر کاروبار کے پاس پہلے سے ہی ایک قائم کردہ پوائنٹ آف سیل سسٹم موجود ہے جیسے کہ ریٹیل دکانوں پر کیش رجسٹر یا چیک آؤٹ کاؤنٹر جبکہ آن لائن پر آرڈر کی تصدیق اور چیک آؤٹ کی صورت میں۔ پوائنٹ آف سیل سسٹم کی مختلف قسمیں ہیں، جن کو حاصل کرنے کی مختلف وجوہات ہیں۔  یہ وہ پلیٹ فارم ہے جو خریداری کے لین دین کا انتظام کرتا ہے۔ یہ کاروبار اور صنعت کی اقسام کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔ ان دنوں زیادہ تر پوائنٹ آف سیل سسٹم پہلے ہی ڈیجیٹل ہو چکے ہیں۔ پوائنٹ آف سیل سسٹم بہت واضح ہوتے ہیں۔ یہ سسٹم جو پہلا کام انجام دیتا ہے، وہ تمام آرڈرز کو اکٹھا کرنا ہے۔ اینالاگ سسٹم مصنوعات پر لگے بارکوڈ کو ا

میوہ صنعت کی تباہی کا ذمہ دار کون؟

عجیب بحث جاری ہے کہ میوہ صنعت کی تباہ کاری کا ذمہ دار کون ہے، کہیں محکمہ اور حکومت کی عدم توجہی کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے اور کہیں باغ بانوں کی غلط پریکٹس کو بھی مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ مسائل بہت زیادہ ہیںاور ان کی کئی پرتیں ہیں۔ لیکن سب سے پہلے کچھ اعدادوشمار کا جائزہ لیا جائے۔ تاکہ ہمیں پتہ چلیں کہ ہم اس دوڑ میں کہاں کھڑے ہیں۔ دنیا میں ایسے بہت سے ممالک ہے جن کی معیشت کا پہیہ پھلوں کی بدولت چلتا ہے۔ اس نیلگوں سیارے پر بالترتیب انگور، سٹرس یا سنگترے، کیلے اور چوتھے نمبر پر سیبوں کی کاشت equator کے دونوں اطراف میں یعنی North hemisphere اور South hemisphere میں کی جاتی ہے۔۔۔۔ گو کہ زیادہ تر سیب شمالی نصف کرہ ارض ہی میں پیدا کئے جاتے ہیں۔ چین دنیا کا سب سے بڑا سیب پروڈیوسر اور ایکسپورٹر ہے، دنیا کی کل پیداوار کا لگ بھگ 50 فیصدسیب چائنا پیدا کرتا ہے۔  بین الاقوامی پیداوار

رشتہ داروں سے قطعِ تعلق۔خوفناک سماجی وائرس

یہ ایک اہم مسئلہ ہے ، لوگ آئے دن پوچھتے ہیں کہ میرے فلاں رشتے دار نے مجھ پہ زیادتی کی ہے یا فلاں رشتہ دار کی طرف سے مجھے تکلیف پہنچ رہی ہے، وہ مجھ سے علیک سلیک بند کرچکے ہیں بلکہ رشتہ بھی توڑچکے ہیں ۔صورت ایسی ہے کہ رشتہ نبھانا مشکل ہو گیا ہے۔ ایک طرف سے بےحد زیادتی ہے، دوسری طرف سے خون کے رشتوں سے کھیلا جارہا ہے۔یہ ایسے مسائل ہیں جن سے اکثر لوگ جوجھ رہے ہیں ۔ دراصل یہی مسائل گھروں کی تباہی ، گھریلوتنازعات، خونی رشتوں میں دراڈ ، صلہ رحمی کےخاتمےاور فردوجماعت کی بربادی کا سبب بنے ہوئے ہیں ۔ میں اپنی ذاتی رائے یہی ہے کہ ایسے مسائل میں اکثر یک طرفہ نہیں بلکہ دوطرفہ منفی رویہ یا زیادتی ہوتی ہے جو عام طور سے مشاہدے میں آرہی ہے اور منطق بھی یہی کہتی ہے کہ اگر ایک طرف سے ظلم وزیادتی ہو تو معاملہ شدت نہیں پکڑے گااور تنازع کی صورت اختیارنہیں کرسکتا ہے۔ اس کی مثال میں یہ واقعہ پیش کرنا شائ

اُترپرد یش اسمبلی الیکشن | سیاسی جماعتوں کے لئے مہا بھارت

   ملک میں تیزی سے پھیلتے ہوئے کورونا وائرس کی تیسری لہرکے بیچ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اُ تر پردیش سمیت پانچ ریاستوں کے اسمبلی الیکشن کا شیڈول 8؍ جنوری  2022کو جاری کردیا۔ ایک طرف حکومت عوام سے مطالبہ کر رہی ہے کہ اس وبائی وباء پر قابو پانے کے لئے ماسک منہ کو لگائے بغیر گھر سے باہر نہ نکلیں اور ہر حال میں سماجی فاصلہ کو بر قرار رکھیں، کورونا کے اثر سے کئی ریاستوں میں ہفتہ واری کر فیو نافذ کرنے کی نوبت آ گئی۔ تمام قسم کی مذہبی اور ثقافتی تقاریب کو ممنوع قرار دے دیا گیا۔ بہت ساری ریاستوں میں نائٹ کرفیو کے ذریعہ عوام کوگھومنے پھرنے سے روک دیا گیا۔ یہ سارے اقدامات لائقِ خیرمقدم ہیں ، کیوں کہ کسی جان لیوا مرض سے چھٹکارا پانے کے لئے کوئی احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں تو عوام کی ذ مہ داری ہے کہ وہ اپنی اور پورے ملک کی عوام کی صحت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے حکومت سے ہر مر حلہ

انسان کی جدوجہد اور علم کا محاصل

ہر انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسکی زندگی منفرد ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جب پہلے آدم کو زمین پہ اتارا گیا، تو اس کے بعد ایک ہی کہانی بار بار دہرائی جارہی ہے ۔ انسان کودنیا میں ہزار قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بیٹا بیمار ہے، بیٹی پڑھائی میں دلچسپی نہیں لیتی جبکہ بھائیوں کی اولادیں ہر سال پوزیشن لیتی ہیں۔ ایک عورت کا شوہر کام نہیں کرتا جبکہ اس کی بہن کا شوہر لاکھوں روپے ماہانہ کما رہا ہے۔ ایک شخص بھرپور محنت کرنے کے بعد بھی بمشکل اتنا کماپاتا ہے کہ اپنے اخراجات پورے کر سکے جبکہ اس کے دوست کو ورثے میں سونے کی تین دکانیں ملی ہیں۔ میرے دوست رشتے دار اکثر میرا مذاق اڑاتے ہیں۔ وہ میری اٹکتی ہوئی زبان، لرزتے ہوئے ہاتھوں، کالی رنگت، چھوٹے قد اور کم تعلیم کا مذاق اڑاتے ہیں۔ وہ میرے سامنے جان بوجھ کر انگریزی میں باتیں کرتے اور بھرپور قہقہے لگاتے ہیں۔ میرا اکلوتا بیٹا کچھ بھی نہیں کھاتا۔ وہ س

لاک ڈاون میں طالب علم کیا کریں؟

جب یہ کائنات وجود میں آئی تو انسان کی بھی تخلیق ہوئی۔خالق کائینات نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا۔جب ہمارے جدامجد حضرت آدم علیہ سلام کو خالق ارض وسماء نے بنایا تو پھر آدم علیہ سلام کو چیزوں کے نام سکھائیے۔ان چیزوں کے نام سکھانے کو ہم علم کہتے ہیں،جو ﷲربالعزت نے حضرت آدم علیہ سلام کو عطا فرمایا۔اس طرح یہ دنیا کا کارواں رواں دواں رہا۔اس دنیا میںا ﷲ کی طرف سے بہت سے انبیاء بھی تشریف لائیے۔آخر پر ﷲ رب ّالعزت نے آخری نبی حضرت محمد صلﷲ علیہ وسلم کو نبوت عطا کی۔جب وحی کا نزول ہوا تو سب سے پہلے جو وہی نازل ہوئی، وہ سورہ العلق کی ابتدائی آیات ہیں۔پہلی ہی وہی میں نبی اکرم صلﷲ علیہ وسلم سے فرمایا گیا "اقراء"یعنی پڑھو۔اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ سلام سے لے کر آخری نبی حضرت محمد عربی صلﷲ علیہ وسلم تک تمام انبیاءکرام کو علم جیسی دولت لافانی سے نوازا گیا۔اور ہم

تازہ ترین