تازہ ترین

انتخابی جنگ میں عوامی مسائل نظر انداز

 ملک کی چار اہم ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام ایک علاقہ میں اسمبلی انتخابات کی مہم کا فی زوروں پر چلی۔ سیاسی پارٹیوں نے اقتدار کے حصول کے لئے اپنی ساری طاقت جھونک دی۔ رائے دہندوں کو لبھانے اور للچانے کے لئے جو ترغیبات دی گئی اس کی کوئی حد باقی نہیں رہی۔ کسی سیاسی پارٹی نے خاتون رائے دہندوں کو اپنی جانب راغب کر نے کے لئے بر سر اقتدار آنے پرواشنگ مشین دینے کا وعدہ کیاتو کسی دوسری پارٹی نے ضعیفوں کے وظیفہ کو بڑھانے کا تیقن دیا۔ سیاسی پارٹیوں کی جانب سے الیکشن کے آ تے ہی وعدوں کی بارش کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہر الیکشن کے موقع پر وعدوں کی سوغات لے کر رائے دہندوں کے درمیان آنا اور الیکشن کے بعد ان وعدوں کو بڑی بے التفاتی سے بُھلا دینا ہمارے سیاستدانوں کی پہچان بنتی جا رہی ہے۔ ملک کی آزادی کے بعد جہاں عوامی زندگی کے مختلف شعبوں میں انحطاط آتا گیا وہیں ملک کے انتخابی نظام میں بھی کئی

کورونا:سازشی تھیوری اور لاپرواہی

کووڈ19 ایک عالمی وبا ہے۔اس کی لپیٹ میں دنیا کا تقریباً ہر چھوٹا بڑا ملک آچکا ہے۔عالمی اقتصادیات کو اس وبا نے تہس نہس کر کے رکھ دیا۔اس طور سے اگر دیکھا جائے تو یہ ایک آفت ہے، قہر ہے جو دنیا پر مسلط کیا گیا ہے۔یہ ایک لہر ہے جو لاکھوں کو بیمار بناتی ہے اور ہزاروں کو از جان کرتی ہے۔اقوام متحدہ نے اس وبا کو اب عام بیماریوں کی طرح ایک بیماری تسلیم کرلیا ہے جو ممکن ہے ہر سال مارچ کے مہینے سے سر اٹھائے گی۔اس بیماری کا تعلق نہ کسی مذہب ،علاقہ ،زبان ،رنگ ،نسل یا عمر سے ہے اور نہ ہی کوئی اس معاملے میں مستثنیٰ ہے۔بڑے بڑے رئیس ،عالم دین ،سادھو سنت ،ڈاکٹر ،سائنسدان ،سیاستدان ،بوڑھے ،جوان ،بچے ،مرد اور عورتیں اس بیماری کے شکار ہوگئے ہیں اور ہو بھی رہے ہیں۔ہزاروں بچے یتیم ہوگئے ،مرد اور عورتیں بیوہ بن گئے اور والدین بے اولاد۔نماز اور تہجد ادا کرنیوالے عابد ،زاہد اور عارف بھی اس بیماری سے نہیں بچ سکے

’شہر نامہ ‘(اوجڑی کیمپ کے حوالے سے)

اتوار 10اپریل1988ء کے روز صبح 9بجکر45 منٹ پر فیض آباد راولپنڈی کے اوجڑی کیمپ کے اسلحہ ڈپومیں ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ اس کے ساتھ ہی راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہروں پر راکٹوں اور میزائلوں کی بارش شروع ہوئی جو ایک گھنٹہ تک جاری رہی۔ ایک ہفتہ تک افراتفری کا عالم رہا۔ دھماکوں کی آوازوں سے ہر طرف وحشت، نفسانفسی اور افراتفری کا ماحول تھا۔ فضا میں جو گردو غبار اور دھواں چھایا ہوا تھا وہ اس قدر ہولناک تھا کہ قیامت کا سماں تھا۔  اوجڑی کیمپ اسی ایکڑ پر پھیلا تھا۔ افغان جنگجوئوں کیلئے امریکہ روس کے خلاف لڑنے کیلئے جو سامان پاکستان بھیج رہا تھا اس کا 70 فیصدی اسلحہ اسی کیمپ میں ذخیرہ کیا گیا تھا۔ پاکستان میں افغان جنگجوئوںکیلئے اسلحہ کے سولہ ڈیپو اور فوجی تربیت کے سڑسٹھ کیمپ موجود تھے مگر اوجڑی کیمپ ہیڈ کوارٹر تھا۔ جہاں امریکی اسلحے کا بڑا ذخیرہ تھا دوسو اڑ تالیس سٹنگر مزائل بھی اسی کی

فیملی فوٹو سے سیلفی فوٹو تک

رفتہ رفتہ سب تصویریں دھندلی ہونے لگتی ہیں کتنے چہرے ایک پرانے البم میں مر جاتے ہیں خوشبیر سنگھ شاد    انسانی تاریخ نے اپنے ماضی کو محفوظ کرنے ،حال کو دلچسپ بنانے کے لئے اور مستقبل میں ان گزرے اوقات کی تلخ وشیریں نیز حسین یادوں کے جروکوں میں باہیں وا کرنے کی خاطر مختلف تراکیب متعین کی ہیں جن میں تحریری ،تقریری، تصویری ،ویڈیوگرافی سے تیار کردہ مختلف مواد شامل ہیں۔مصور کے کیمرے سے لی گئی تصویروں کو سنبھال کر البم کی صورت میں محفوظ رکھنا ہمارے اسلاف کا ورثہ خاص مانا جاتا تھا اور ماننے کے قابل بھی تھا جس میں نئی نسل کے لئے وراثت کے بطور اسلاف کے ہنر، انکی کامیابی،ناکامی اور اجتماعی طور پر انکی زندگی کی تفصیلی صورت حال کو گویا تفسیر کی حالت پر بزبان حال تصویروں میں مقید کیا جاتا۔ اس طرح سے ہر خوشی ،غم،ہر قسم کی کیفیت ،تجربوں کی خوش کن تاریخ ،احساسات ،مشاہدات کی غیر

کورونا اور رمضان کی دو بارہ آمد

رمضان المبارک کا محترم مہینہ ایک بار پھر ہمارے اوپر سایہ فگن ہونے جارہا ہے۔ ایک طرف کورونا وائرس کی یلغار اب تک کم نہیں ہوئی ہے تودوسری جانب ایک مرتبہ پھر مسلمانوں بلکہ پورے عالم کے لئے ایک متبرک مہینہ کی آمد ہوا چاہتی ہے جو اپنے ساتھ رحمتیں، برکتیں اور بے شمار و لازوال چیزیں لیکر ہم پر کرم فرما ہونے والا ہے۔  رمضان کے مبارک مہینہ کا پہلا عشرہ رحمتوں کے نزول کا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمتوں کی بارش ہوتی ہے۔ دوسرا عشرہ گناہوں کی خلاصی کا ہے، انسان سے اگر برے کام سرزد ہوئے ہوں اور وہ گناہوں میں مبتلا ہو تو اپنے رب سے تعلق بناکر اس سے معافی تلافی اور مغفرت طلب کرکے اپنے آپ کو پاک کرنے کا ہے۔ اور تیسرا عشرہ نار جہنم سے نجات حاصل کرنے کا ہے۔ رمضان المبارک میں کیا ہوا ایک ایک عمل باعث اجر و ثواب اور نجات پانے کا ذریعہ ہے۔ اس مبارک ماہ میں قرآن کا نزول ہوا ہے جس وجہ سے اسے شہر

کرونا وائرس حقیقت ہے ،کوئی سازش نہیں

ہم اس بات سے بہ خوبی واقف ہیں کہ کوڈ 19 نے گزشتہ سال پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے کر کس حد تک انسانی جانوں کے زیاں کے ساتھ ساتھ نظام زندگی کو بھی درہم برہم کردیاتھا۔ کیا امیرکیا غریب کیا مزدور اور کیا پیشہ ور غرض سب کی زندگی قرنطینہ کی چار دیواریوں میں مقید ہوکررہ گئی تھی۔ہندوستان میں شروع سے ہی کرونا کو ’’بازیچہ ٔاطفال‘‘سمجھ کر شب و روز تماشے ہی تماشے دیکھنے کو ملے تھے۔ایک جرمن کہانی کا پائڈ پائپر(Pied Piper)تھا جس نے اپنی جادوئی پائپ سے چوہوں کو ندی کی طرف راغب کیا تھا جس میں وہ ڈوب گئے اور دوسرے نے تالی، تھالی اور شمع کے بہانے لوگوں کو گھروں سے باہر نکالنے کے لیے ورغلایا۔رہی سہی کسر میڈیا نے طبقاتی اور مذہبی منافرت پھیلا کر پوری کردی کہ تبلیغی جماعت نے ہندوستان میں کرونا پھیلایا ہے۔ خیر اس آپسی منافرت کی آڑ میں چند نیتاؤں نے خوب سیاسی روٹیاں سیک لیں۔جہاں

رمضان المباک… نیکیوں کا موسمِ بہار

رمضان المبارک کا مہینہ مسلمانوں کیلئے اللہ تعالیٰ کا بہت عظیم انعام ہے ۔ قرآن گواہ ہے :ترجمہ ’’اے باایما نو تم پر روزے فرض کئے گئے جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیروکاروں پر فرض کئے گئے تھے، اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی ، چند مقرر کئے گئے دن کے روزے ‘‘۔ رمضان کی فضیلت بیان کرتے ہوئے آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’رمضان وہ مہینے ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے جو انسانوں کیلئے سراسر ہدایت ہے اور واضع تعلیمات پر مشتمل ہے ‘‘۔ ایک حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ حضور اکرم ؐنے فرمایا ’’ اگر لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ رمضان کیا ہے تو میری امت تمنا کرے گی کہ ساراسال رمضان ہی ہوجائے‘‘۔رمضان کا مبارک مہینہ ان عظیم نعمتوں میں ایک نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے عنایت فرمائی ہے ۔اس مبارک مہینے میں محمد رسول اللہ ؐکو یہ ن

ایران۔چین اقتصادی معاہدہ اور ہندوستان

 امریکی اقتصادی پابندیوں کے باوجود ایران نے چین کے ساتھ 25 سالہ اقتصادی معاہدہ کرلیاہے۔یہ معاہدہ 400 ارب ڈالر کی مالیت پر مبنی بتایا جارہاہے۔ماہرین اقتصادیات اس معاہدہ کو عالمی اقتصادی نظام کے لیے بڑی حصولیابی مان رہے ہیں۔اس معاہدہ کا براہ راست اثر مشرق وسطیٰ کی سیاست پر بھی مرتب ہوگا۔خاص طورپر سعودی عرب،پاکستان ،افغانستان ،ہندوستان اور دیگر ممالک اس معاہدے سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔چونکہ اس وقت ان دونوں ملکوں کا مشترکہ دشمن امریکہ ہے اس لیے یہ معاہدہ مزید اہمیت کا حامل ہوجاتا ہے۔جوہری معاہدے سے امریکہ کے فرار کے بعد ایران عالمی بازار میں اپنی خاطر خواہ نمایندگی چاہتا تھا جو چین کے ذریعہ ممکن ہوگی۔وہیںامریکہ کی چین کے ساتھ کشیدگی نے اس تجارتی معاہدے کو مزید تقویت بخشی۔اس معاہدے کے نفاذ کے بعد چین ایران میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرے گا اور ایران سستے داموں پر اسے تیل ،گ

طبی ایمر جنسی کا دوسرا مرحلہ!

دنیا کے بیشتر حصوں کی طرح وادی کشمیر میں بھی مہلک کورونا وائرس کے بڑھتے معاملات سے تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ اس سلسلے کی جاری دوسری لہرکافی خطرناک ثابت ہورہی ہے ۔ماہرین بھی تیزی کے ساتھ پھیل رہے کورونا وائرس کو لیکر فکر مند ہیں اور وہ عوام کو احتیاطی تدابیر کی صلاح دے رہے ہیں۔لیکن بعض حقائق کو لیکر لوگوں کے استفسارات جواب طلب ہیں تاکہ پہلے کی طرح ہی ’سازش‘ کی تھیوری عوامی اذہان میں جگہ نہ بنانے پائے۔بارہویں جماعت تک کے تعلیمی ادارے احتیاطی طور بند کرنا تو ٹھیک ہے لیکن پبلک ٹرانسپورٹ کا کیا جہاں اور لوڈ میں لوگ ایک دوسرے کے سروں پر سوار رہتے ہیں؟چھوٹی گاڑیوں کو لیجئے تو ایک ساتھ نو دس افراد ایک دوسرے سے چمٹ کر بیسیوں کلو میٹر کا سفر بحث و مباحثوں میں طے کرتے ہوئے سماجی دوری یا ماہرین کی زبان میں بولیں تو ایس او پیز کی ایسی تیسی کرلیتے ہیں۔اور تو اور چہروں پرماسک کی بھی

کیا لاک ڈاون کرونا سے نمٹنے کا واحد راستہ ہے؟

کرونا وائرس نے پوری دنیا کو پریشان کر دیا ہے ۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے بھی گٹھنے ٹیک دئیے ہیں۔ دنیا کے سائنس دان اسی کوشش میں ہیں کہ اس بیماری کا کوئی علاج دریافت کیا جائے لیکن ابھی تک اس امر میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی مستقبل قریب میں اس طرح کا کوئی امکان نظر آرہا ہے ۔اگر چہ دنیا کے بیشتر ممالک نے ویکسین تیار کی ہے لیکن ماہرین کہ نظروں میں یہ ویکسین  اس بیماری کا مستقل علاج نہیں ہے بلکہ اس ویکسین سے صرف انسان کی قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ یہ ویکسین لینے کے بعد کچھ لوگ کرونا پازٹیو پائے گٰے دینا تقریباً ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصے سے اس وبائی مرض سے نمٹ رہی ہے، اس دوران لاک ڈاؤن بھی کر دیا گیا جس سے پوری دنیا کے ساتھ ساتھ ہندوستان بھی اقتصادی دلدل میں پھنستا ہوا نظر آرہا ہے ۔کرونا میں کمی آنے کے بعد لاک ڈاؤن میں نرمی کر دی گ

قدامت پسندانہ روایت اور خواتین کا حق

راجستھان کی تاریخ میں، راجا مہاراجوں کے زمانے سے ہی لڑکیوں اور خواتین کے سلسلے میں بہت سی رسوم و رواج اور روایات چلی آرہی ہے، جن میں سے کچھ ان کے حقوق کا دفاع کرتی ہیں تو کچھ ان کے حقوق کو سلب بھی کرتی ہیں۔ ایسی ہی ایک روایت ہے ناطہ روایت۔کہنے کو تو یہ روایت خواتین کو حق عطا کرنے اور من پسند ساتھی  کے ساتھ زندگی گزارنے کی وکالت کرنے والی ہے، لیکن فی الوقت یہ روایت خواتین کے حقوق کو سلب کرنے کا ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔ اس کی آڑ میں خواتین کا استحصال بھی کیا جا رہا ہے۔ ماہرین ناطہ روایت کو جدید لیو ان ریلیشن شپ کی ایک شکل مانتے ہیں۔ حالاں کہ ہندوستان میں لیو ان ریلیشن شپ آج بھی ایک متنازعہ اور موضوع بحث امر ہے۔ معاشرہ اسے مغربی تہذیب کی غلط روایت کہہ کر اس کی مخالفت کررہا ہے۔ تاہم راجستھان اور اس کے گردونواح میں یہ رسم صدیوں سے کسی نہ کسی شکل میں رائج ہے اور ناطہ روایت کی شکل میں اپ

ڈاکٹر ولیم سشلر اور بائیوکیمک طریقہ علاج

کالی فاس اختلاج قلب کی معروف دو ا کے طور پر بائیوکیمک دوائوں میں سرِ فہرست ہے۔ بائیوکیمک طریقہ  علاج کے موجد ولیم ایچ سشلر تھے۔وہ21 اگست 1821 کو اولڈن برگ جرمنی میں پیدا ہوئے تھے ۔اس دور کے مطابق انہوں نے میڈیکل کی ڈگریاں حاصل کیں اور اپنی دلچسپی کی بنا پر ہومیو پیتھی کی پریکٹس تقریباًپندرہ برسوں تک کرتے رہے۔ انہیں کافی شہرت حاصل ہوئی۔ انہوں نے مشاہدے میں پایا کی اگرچہ جسم کا بیشتر حصہ جسمانی (organic )مادوں سے بنا ہے جیسے شکر ، روغنیات وغیرہ ۔ لیکن  انسانی جسم میں کچھ غیر جسمانی نمکیات ہوتے ہیں جن کی موجودگی جسم کی صحت اور نشوو نما کے لئے ضروری ہوتی ہے۔ جو جسم میں ہونے والے کسی بھی قسم کے کیمیائی عمل میں حصہ لیتے ہیں ۔ انکی کمی ہی امراض کا سبب بنتی ہے۔انہوں نے اس طرح کے بارہ نمکیات دریافت کئے ۔انہوں نے ہومیو پیتھک طریقے پر انکی پوٹنسیاں تیار کیں اور انکا استعمال شروع کیا جس

اصولِ تغیر و تبدل

 تبدیلی فطرت کا ایک مسلمہ اصول ہے۔ کائنات کی ہر طرح کی اشیاء پر اس اصول کا مساوی اطلاق ہوتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ اشیاء پر اس اصول کی کارفرمائی ذرا نمایاں ہوتی ہے، جبکہ کچھ تغیر اور تبدل کے اس عمل مسلسل سے دوچار تو ہوتی ہیں لیکن ان میں تبدیلی کی رفتار ذرا سست ہوتی ہے۔ اس طرح یہ ایک ہمہ گیر اور آفاقی اصول ہے جو ہر آن جاری و ساری رہتا ہے۔ دراصل خالق کائنات نے اس اصول کے ذریعے نہ صرف  اپنی خلاقیت کے بحر ناپیدا کنار کو جاری کرکے کائنات کے عناصر ترکیبی کے اندر ایک حسین نظم و ضبط پیدا کیا ہے بلکہ کائنات کے تکمیل کی طرف سفر کو اسی اصول کے اندر پوشیدہ رکھا ہے! آفاق و افلاک کی مختلف اشیاء میں یہ تغیر انسان کی مقدار حیات کے مقابلے میں اتنا سست ہے کہ انسان اس کو محسوس کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ انسان کبھی کبھار اس اصول کو اس لئے بھی سمجھ نہیں پاتا کہ یہ اصول "بکھرائو" ا

پلاسٹک… انسانی صحت کا بڑا دشمن

۔1907ء سائنسی تاریخ کا اہم سال تھا۔ اس سال بیلجیئم نژاد امریکی کیمیا دان لیوبیکے لینڈ نے ’’بیکے لائٹ‘‘ ایجاد کیا۔ بیکے لائٹ کیمیائی فارمولے کے تحت بڑے پیمانے پر تیار کیا جانے والا دنیا کا پہلا اصلی پلاسٹک تھا، جو ابھی تک اسی حالت میں استعمال ہوتا ہے۔ دنیا نے اس ایجاد کو ایک بڑا انقلاب قرار دیا تھا۔ تاہم افسوس کہ آج ایک صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد وہی پلاسٹک دنیا کے لیے وَبالِ جان بن چکا ہے۔ ’شاپنگ بیگ‘، ’شاپر‘ یا ’تھیلی‘ اسی پلاسٹک کی پیداوار ہے اور کرہ ارض سے لے کر سمندر کی گہرائیوں تک آج شاید ہی کوئی ایسا جگہ باقی رہ گئی ہو، جہاں یہ پلاسٹک کی تھیلی سفر کرکے نہ پہنچی ہو۔ اگر یہ کہا جائے کہ ’تھیلی‘ روئے زمین سے لے کر سمندر تک، حیاتیات کے لیے زہر ِ قاتل بن چکی ہے تو غلط نہ ہوگا۔ صرف یہی نہیں، ہم پلاسٹک کو مخ

غیر یقینی صورت حال میں تبدیلی کے آثار

بلا شبہ ہر آدمی کی رائےاُس کے اپنے ذاتی تجربات کے مطابق ہوا کرتی ہے ۔بیشتر انسانوں کو زیادہ ترنقصانات اس وجہ سے اُٹھانے پڑے ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ اپنی ہی رائے کو مقدم سمجھ کردوسرے کی رائےخاطر میںنہیں لائی تھی۔اگرچہ کسی بھی مسئلہ پر یا کسی بھی معاملے میں کسی سے رائے لینا کوئی بُری بات تو نہیں ہوتی البتہ اُس رائےپر بلا غور و تامل کے عمل کرنا بُری بات ہے۔اس لئے مشکل مسائل حل کرنے کے لئے لگاتار غور و فکر کرنا اور صاحب ِ عقل سے رائے لینا دانشمندی ہی قرار دی جاتی ہے کیونکہ تقریر کے وقت اگر کوئی غلط رائے قائم کردی جائے تو بعد میں اسکی تشریح کی جاسکتی ہے لیکن جو بات تحریر میں آجائے اُس سے انکار ممکن نہیں رہتا۔ قارئین کرام!ایک طویل عرصہ سے غیر یقینی صورت حال کے شکار کسی خطے میں آبادباہمی رقابت سے لبریز دو پڑوسی ملکوں کے درمیان چلی آرہی رَسہ کشی،کشیدگی اور دشمنی میں جب ٹھہرائو کی صورت حا

ماحولیاتی تحفظ میں ہی ہماری بقا

ذرہ ذرہ ہے میرے کشمیر کا مہمان نواز راہ میں پتھر کے ٹکڑوں نے دیا پانی مجھے اللہ تعالیٰ نے ارضِ کشمیر کو دلکش و دل فریب، خوبصورت، دیدہ زیب مناظرسے نوازا ہے۔یہاں کا موسم ،ندی نالے، آبشار، یہاں کے پہاڑ، یہاں کی تہذیب، ثقافت، کلچر اور یہاں کی مہمان نوازی کی نظیر نہیں ملتی۔اسی لئے شُعراء، ادبا، دانشوروں نے کشمیر کو جنتِ بے نظیر کے القاب سے نوازا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو شعور کے ساتھ تخلیق کیا اور اچھے بُرے کی تمیز انسان میں الہامی طور پیوست ہے ۔گو ہم یہ کہہ سکتے ہے کہ انسان کو یہ شعور ہے کہ اللہ نے جن خوبصورت دنیاوی مناظرسے اُسے نوازا ہے، ان کی بقاء کی حفاظت اور قدر کرنا ہر ذی شعور انسان کی انفرادی ذمہ داری ہے اور اگر کوئی طبقہ یا کوئی فرد اس خوبصورتی کو زک پہنچانے کی سعی کرے تو اُسے روکنا بھی ہماری  اجتماعی و انفرادی ذمہ داری ہے۔  ہمارے سامنے شہرہ آفاق جھیل ڈل کی

آں کتاب زندہ، قرآن حکیم

صاحبؐ قرآن کی ذات اقدس کے ساتھ ساتھ قرآن مقدس بھی زمانہ نزول سے ہی منکرین اور معاندین حق کی طعن و تشنیع کا شکار ہوتا رہا ہے۔ دراصل جہل مرکب کے مریضوں نے سیدالانبیاء ؐ کے اعلان بعثت کے ساتھ ہی اپنے آپ کو علم کے زعم باطل میں صرف اس وجہ سے مبتلا کیا کہ نور حق سے ان کے دلوں کا انشراح تو نہ ہوسکا، لیکن ان کی آنکھیں ضرور چندھیا گئیں۔ حسد و عناد نے ان کے سینوں کو کچھ اس طرح سوختہ کیا کہ وہ اسی آگ میں اندر ہی اندر جل بھن گئے۔ نور حق نے جہاں اپنی ضیاء پاشی سے ان گنت لوگوں کی راہوں کو روشن کیا وہاں عقل کے ان اندھوں کی بصارت اسی روشنی سے صلب ہوگئی! جہاں آوازہ حق کی گونج نے اوروں کی راہنمائی کی  وہاں ان کی سماعت اسی آواز سے ختم ہوگئی اور یہ لوگ دھرے کے دھرے رہ گئے! قرآن کی رو سے ان کی حالت ان چوپایوں کی ہوگئی جو نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ دی گئی ندا کا بھی صرف شور سنتے ہیں جبکہ اس کے مع

اسلامی بھائی چارہ

نہ ہو رشتہء الفت تو سوز جگر کہاں باقی ؟ شمع محفل ہو کے جب تو سوز سے خالی رہا تیرے پروانے بھی اس لذت سے بیگانے رہے رشتہء الفت میں جب ان کو پرو سکتا تھا تو پھر پریشان کیوں تیری تسبیح کے دانے رہے ؟ دوستی انسانی نسل کی بقاء کی ضامن ہے اور دنیا کا ہر شخص کسی نہ کسی صورت میں اپنے ہم خیال کی جستجو میں سرگرداں رہتا ہے اور ہوتا بھی یوں ہی ہے کہ کہیں نہ کہیں کوئ نہ کوئ ہمدم مل ہی جاتا ہے۔ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اپنے مقاصد کی تکمیل اور حصول کی خاطر دوستی کا یہ رشتہ جسطرح کل نظر آ رہا تھا اسی طرح آج بھی نظر آ رہا ہے اور آنے والی نسلوں کی زندگی کا لازمی حصہ بھی بنا رہیگا ,چاہے انفرادی طور اس رشتے کی صحت قابل اعتراض ہی کیوں نہ ہو اور مجموعی طور کسی کے وقار پے شب خون ،کسی کی عزت پے یلغار،کسی کے مال کی غارتگری یا کسی فرد یا قوم کو زیر نگین کرنے کے لئے کیوں

سوچ بدلے گی توسماج بدلے گا

عشق کے باب سے رفعت کا پنّا کٹ گیا دن مہینے وہی ہیں وفا کا سنہ کٹ گیا  پھولوں کے باغ میں قینچی کا راج ہے سینچتے ہیں شاخوں کو پر تنا کٹ گیا میرے ذہن میں اکثر یہ سوالات گردش کرتے ہیں کہ استاد اگرمعمار قوم  ہے تو قوم بگڑی ہوئی کیوں ہے ؟تعلیم کا اتنا رحجان ہے تو جہالت کا اندھیرا کیوں ہے ؟دنیا میں کئی انقلاب آئے لیکن دنیا پھر انقلاب کی متمنی کیوں ؟ کیوں چاروں اور دہشت کا ماحول ہے اور معصوم کلیاں روندی جا رہی ہیں ؟۔کیوں پھولوں کی کیاریاں برباد ہورہی ہیں آفتاب کی روشنی سے؟ ۔کیوں آجکل لوگ باہر کچھ اندھر کچھ ہیں ۔نیتوں میں بگاڑ اور نظروں میں شر ہے؟۔کیوں‌ دنیا فطرت کے خلاف جارہی ہے ۔کیوں زوال کو عروج اور عروج کو زوال سمجھ رہے ہیں ۔کیوں نفرت کے انگاروں پر محبت سلگ رہی ہے اور کانٹوں کی سولی پر غنچے دم توڑ رہے ہیں؟ حالانکہ معاشرے کے بارے میں دین اسلام کا کہنا یہ

کورونا وائرس اور ہم

صحیح بخاری۵۷۳۹ اور مسلم ۲۲۱۹ میں عبد الرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کہتےہیں کہ میںنے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ جب تم کسی زمین کے بارے مین سنو کہ وہاں طاعون پھلا ہوا ہے تو تم وہاں نہ جائو اور جس سر زمین مین وہ پھل جائے اور تم وہاں ہو تو طاعون کے خیال سے وہاں سے بھاگ کر( کہیں اور) نہ جائو۔ دنیا کے مختلف مذاہب کی مقدس کتابوں میں وباء کے بارے میں لکھا گیا ہے جس میں اسکو مزید پھیلنے سے روکنے کی احتیاتی تدابیر بھی شامل ہیں۔تمام عالم انسانیت پچھلے ایک ڈیڑھ سال سے ایک مہلک وبا(کرونا وائرس ) سے ذہنی دباؤ اور معاشی غیریقینی صورت حال سے دوچارہے۔المیہ یہ ہے کہ وائرس کی دوسری لہر کا حملہ بھی کچھ کم نہیں ہے۔یہ حملہ کر کے فرار ہونے والا قاتل وائرس ہے۔ جس کے بچاؤ کے لئے فی الوقت نہ کوئی سو فیصد کارگر دوا ہے اور نہ ہر ایک کوویکسین  دستیاب ہے ۔ یہ سب جانتے ہوئے اب غور ط