تازہ ترین

کشمیر کو سوئزرلینڈ بنانے کا خواب

بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو سے لے کر موجودہ وزیراعظم نریندر مودی تک سبھی رہنمائوں نے کشمیر کو سوئزرلینڈ بنانے کا عہد کیا۔ہزاروں کروڑ روپے وقتاً فوقتاً مالی معاونت کی صورت منظور بھی ہوئے، بڑے بڑے منصوبے بنائے گئے، زرِکثیر خرچ کیا گیا لیکن کشمیر کبھی سوئزرلینڈ نہیں بن پایا۔  جموں کشمیر دراصل ہندوستان کے شمال میں زنسکار، پیرپنچال اور قراقرم ہمالیائی سلسلوں سے گھِری بیضوی شکل کی ایک وادی ہے جو سطح سمندر سے پانچ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ اب تو جموں کشمیر الگ اور لداخ الگ خطے ہیں، لیکن مجموعی طور پر سابق ریاستِ جموں کشمیر تہذیبی رنگارنگی، مذہبی رواداری اور الگ الگ ثقافتی رنگوں سے مزین ایک دلکش اور خوبصورت علاقہ ہے، جہاں کے بے پناہ قدرتی وسائل کو بروئے لانے اور خطے کو سوئزرلینڈ بنانے کے وعدے اب اِس قدر پْرانے ہیں کہ عام لوگ اِن وعدوں سے متاثر نہیں ہوتے۔  نامساعد

مبینہ واٹس ایپ چیٹ لیک اور ٹی آرپی قضیہ

متنازعہ اینکر پرسن ارنب گوسوامی کو پچھلے چند ماہ سے ٹیلی ویژن ریٹنگ پوائنٹ (ٹی آر پی) گھوٹالے کا سامنا ہے۔ اسی کیس کی تفتیش کرتے ہوئے ارنب کی ایسی مبینہ واٹس ایپ چیٹ لیک ہوئی ہیں جو ہوشربا ہیں۔ دراصل پچھلے کچھ برسوں سے بھارت میں جس طرح مین سٹریم میڈیا کام کر رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ جان بوجھ کر کسی فرد یا کمیونٹی کا میڈیا ٹرائل کرنا ہو یا دیش بھر میں ڈھیروں اصل مدعوں سے ہٹ کر ایسے ایشوز کو ٹی وی ٹاک شوز کا حصہ بنانا جو موجودہ حکومت کا بیانیہ ہو یا کم از کم جس سے حکمران جماعت کو فائدہ پہنچے، یہ سب ایک منظم پلان کے تحت ہوتا ہے۔ملک کے زیادہ تر ٹی وی چینلز کم وپیش اس گیم کا حصہ ہیں۔ ٹی وی چینل یا اخبارات چند کو چھوڑ کر انگریزی ہوں یا ہندی یا کسی اور زبان میں، ان سب کا برین واشنگ کا ذریعہ مشترک ہی ہے اور وہ ہے "واٹس ایپ فاروارڈنگ" ۔ لاکھوں میں بھکتوں کی تعداد ہے جن کا سورس آف ن

علامہ اقبال ؒ سے منسوب اشعار

جیسا کہ ہم جانتے ہیں ،جب سے بنی نوع انسان معرض وجود میں آیا ، تب سے ہی اس نے اپنی ہستی کو کسی نہ کسی کام یا ہنر میں آزمایا یا پرکھا۔ نتیجے کے طور پر ہر ایک فرد نے اپنی بصیرت کے مطابق اپنے علم وعمل کو ایک مخصوص ڈھانچے میں ڈال کر اپنی شخصیت کا تعارف کروایا۔انہیں  شخصیات میں سے ایک منفرد شخصیت علامہ اقبا ل کی ہے جنہوں نے اپنے قول وفعل سے ہر میدان میں طبع آزمائی کی۔ اس لئے جہاں تک ان کے کارنامے اور ان کے پیغام کا تعلق ہے تو یہ کہنا بجا ہوگا کہ انہوں نے دنیا کے ہر قوم کے لئے اپنے کلام چاہے نثری ہو یا شعری سے سیراب کرنے کی بے حد کوشش کی۔لیکن اکثر لوگ اقبال اور ان کے کلام کو ایک مخصوص طبقے تک ہی محدود رکھتے ہیں ۔ میرے خیال سے یہ اقبال جیسے ایک عظیم فلسفی شاعر کے ساتھ ناانصافی ہے۔ کیونکہ اس سے ادب اور تعمیر ِ ادب کو تنگ دائرے میں بند کیا جاتا ہے ۔یہ المیہ ہے کہ اقبال سے نظریاتی اختلاف

اقبال نیازی

اردو ہی میں نہیں دیگر زبانوں میں بھی ہمہ جہت ادبی شخصیات بہت کم نظر آتی ہیں ۔اللہ تعالیٰ کس کو کیا دے ؟کب دے ؟کیا کیا دے ؟ کچھ کہا نہیں جاسکتا۔اقبال نیازی پر اللہ تعالیٰ مہربان ہے کہ وہ ایک ہمہ جہت ادبی شخصیت ہیں ۔اُن کے خوب صورت وجود میں ایک بڑا ڈراما نگار ،ہدایت کار ،ڈراماٹیچر ،ناظم ،شاعر اور افسانہ نگار موجود ہے ۔ان تمام ہنر مندانہ صلاحیتوں کے ساتھ انھوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اردو کی خدمات میں گزارا ہے ۔اس اعتبار سے یہ کہاجاسکتا ہے کہ اقبال نیازی اردو تہذیب وثقافت کے ایک ایسے شیدائی ہیں جو مسلسل طور پر بغیر کسی ذہنی وجسمانی تھکان کے اردو ڈراما نگاری ،ہدایت کاری ،شاعری اور افسانہ نگاری کے ذریعے اردو کا حق ادا کررہے ہیں ۔   اقبال نیازی کا تعلق ممبئی جیسے مہانگر سے ہے کہ جو فلمی صنعت کے لئے بھی مشہور ہے ۔جہاں ہرروز زندگی نہ صرف تصویری البموں میں نظر آتی ہے بلکہ حیر

سرحدی گولہ باری اور خستہ حال سرکاری سکول

تعلیم جیسی بنیاددی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے مرکز سے لیکر تمام ریاستی حکومتیں کوشاں رہتی ہیں۔ خاص کر بیٹیوں کو تعلیم یافتہ بنانے پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔ اسی لئے بیٹی بچاؤ کے ساتھ ساتھ بیٹی پڑھاؤ کا نعرہ بھی دیا جا رہا ہے۔بیٹیوںکی تعلیم میں سب سے اہم رول پرایمری سکول کا ہوتا ہے، کیونکہ یہیں سے تعلیم کی اصل بنیاد شروع ہوتی ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت کی تمام کوششوں کے باوجود بیٹیوں کی تعلیم کی شرح بڑھ نہیں رہی ہے۔آج بھی بیٹیوں کی ایک بڑی تعداد سکول نہیں جا رہی ہے،اور تعلیم جیسی اہم روشنی سے محروم ہے۔اتنا ہی نہیں سرکاری سکولوں میں بیٹیوں کی شرح فیصد غیر سرکاری تعلیمی اداروں کی نسبت بہت کم ہوتی جا رہی ہے جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔ جہاں کہیں دور دراز اور نہائت ہی پسماندہ علاقوں میں طلبہ کی تعداد قدر بہتر بھی ہے، تووہاں عمارتوں کی کمی کی وجہ سے تدریسی نظام مفلوج ہے۔سکولی عمارتوں کا

گپکار الائنس

 اس سے پہلے کہ اصل موضوع پر آجاؤں ،میں اس عنوان کی مختصر سی تشریح ناگزیر سمجھتا ہوںاس لئے کہ اخبارات پڑھنے والے عام فہم آدمی بھی اس شعر کی گہرائی کو پا سکیں۔ یہ مرزا غالب کا شعر ہے  ؎ قفس میں مجھ سے روداد چمن کہتے نہ ڈر ہمدم  گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو   اس خوبصورت اور دلنواز شعر کی جو تشریح میں سمجھ سکا ہوں وہ کچھ اس طرح سے ہے کہ صیاد نے بہت پہلے ایک پرندے کو آزاد فضاؤں سے محروم کرکے اپنے قفس میں قید کیا تھا۔ ایک روز صیاد نے دوسرے پرندے کو بھی قید کر کے اسی قفس میں بند کیا۔ پہلے قیدی نے فوراً ہی اس پرندے کو پہچانا کیونکہ ان دونوں کے آشیانے ایک ہی جنگل میں نزدیک یا شا ید ایک ہی درخت کی شاخوں پر تھے۔اب پہلا پرندہ دوسرے دوست سے حال چال پوچھتا ہے لیکن وہ پرندہ غمگین اور اداس اپنی زباں نہیں کھول سکا۔ اتفاق سے کل شام ہی آسمان میں

کیا یہی ہماری منزلِ مقصود تھی؟

آج آزادی کے 75برس بعد اور بھارت کے ایک عوامی جمہوریہ بننے کے 72برس بعد جوش کے احساس کو محسوس کرنے اور اپنے کارناموں کو مجتمع کرنے کے بجائے ہمیں اس سوال پر غور کرنے پر مجبور کردیا گیا ہے کہ آیا یہ وہی ہندوستان ہے جس کا خواب ہمارے مجاہدین آزادی، قائدین اور معمارانِ دستور نے دیکھا تھا؟ آج ہم ایک ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں ہندوستانی شہریوں کی ایک بڑی تعداد اپنے قانونی موقف اور مستقبل کے تعلق سے الجھن میں مبتلا ہے اور ساتھ ہی ہندوستانی سماج کے سیکولر اور شمولیاتی کردار کے تعلق سے بھی تشویش مند ہے۔ لاکھوں ناخواندہ افراد، بے زمین لوگ، پسماندہ طبقات اور درج فہرست قبائل و طبقات سمیت ملک کی ایک بڑی اکثریت کو اس سوال پر غور کرنے پر مجبور کردیا گیا ہے کہ آیا ملک میں ان کی قانونی شناخت کیا ہے؟ حالانکہ وہ دستور کے اس دیباچہ کو پڑھتے ہیں: ’’ہم ہندوستان کے عوام …… سیک

ڈاکٹر ولیم سشلر اور بائیوکیمک طریقہ علاج

 کالی فاس اختلاج قلب کی معروف دو ا کے طور پر بائیوکیمک دوائوں میں سرِ فہرست ہے۔ بائیوکیمک طریقہ  علاج کے موجد ولیم ایچ سشلر تھے۔وہ21 اگست 1821 کو اولڈن برگ جرمنی میں پیدا ہوئے تھے ۔اس دور کے مطابق انہوں نے میڈیکل کی ڈگریاں حاصل کیں اور اپنی دلچسپی کی بنا پر ہومیو پیتھی کی پریکٹس تقریباًپندرہ برسوں تک کرتے رہے۔ انہیں کافی شہرت حاصل ہوئی۔ انہوں نے مشاہدے میں پایا کی اگرچہ جسم کا بیشتر حصہ جسمانی (organic )مادوں سے بنا ہے جیسے شکر ، روغنیات وغیرہ ۔ لیکن  انسانی جسم میں کچھ غیر جسمانی نمکیات ہوتے ہیں جن کی موجودگی جسم کی صحت اور نشوو نما کے لئے ضروری ہوتی ہے۔ جو جسم میں ہونے والے کسی بھی قسم کے کیمیائی عمل میں حصہ لیتے ہیں ۔ انکی کمی ہی امراض کا سبب بنتی ہے۔انہوں نے اس طرح کے بارہ نمکیات دریافت کئے ۔انہوں نے ہومیو پیتھک طریقے پر انکی پوٹنسیاں تیار کیں اور انکا استعمال شروع ک

اصولِ تغیر و تبدل

 تبدیلی فطرت کا ایک مسلمہ اصول ہے۔ کائنات کی ہر طرح کی اشیاء پر اس اصول کا مساوی اطلاق ہوتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ اشیاء پر اس اصول کی کارفرمائی ذرا نمایاں ہوتی ہے، جبکہ کچھ تغیر اور تبدل کے اس عمل مسلسل سے دوچار تو ہوتی ہیں لیکن ان میں تبدیلی کی رفتار ذرا سست ہوتی ہے۔ اس طرح یہ ایک ہمہ گیر اور آفاقی اصول ہے جو ہر آن جاری و ساری رہتا ہے۔ دراصل خالق کائنات نے اس اصول کے ذریعے نہ صرف  اپنی خلاقیت کے بحر ناپیدا کنار کو جاری کرکے کائنات کے عناصر ترکیبی کے اندر ایک حسین نظم و ضبط پیدا کیا ہے بلکہ کائنات کے تکمیل کی طرف سفر کو اسی اصول کے اندر پوشیدہ رکھا ہے! آفاق و افلاک کی مختلف اشیاء میں یہ تغیر انسان کی مقدار حیات کے مقابلے میں اتنا سست ہے کہ انسان اس کو محسوس کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ انسان کبھی کبھار اس اصول کو اس لئے بھی سمجھ نہیں پاتا کہ یہ اصول "بکھرائو" ا

پلاسٹک… انسانی صحت کا بڑا دشمن

1907ء سائنسی تاریخ کا اہم سال تھا۔ اس سال بیلجیئم نژاد امریکی کیمیا دان لیوبیکے لینڈ نے ’’بیکے لائٹ‘‘ ایجاد کیا۔ بیکے لائٹ کیمیائی فارمولے کے تحت بڑے پیمانے پر تیار کیا جانے والا دنیا کا پہلا اصلی پلاسٹک تھا، جو ابھی تک اسی حالت میں استعمال ہوتا ہے۔ دنیا نے اس ایجاد کو ایک بڑا انقلاب قرار دیا تھا۔ تاہم افسوس کہ آج ایک صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد وہی پلاسٹک دنیا کے لیے وَبالِ جان بن چکا ہے۔ ’شاپنگ بیگ‘، ’شاپر‘ یا ’تھیلی‘ اسی پلاسٹک کی پیداوار ہے اور کرہ ارض سے لے کر سمندر کی گہرائیوں تک آج شاید ہی کوئی ایسا جگہ باقی رہ گئی ہو، جہاں یہ پلاسٹک کی تھیلی سفر کرکے نہ پہنچی ہو۔ اگر یہ کہا جائے کہ ’تھیلی‘ روئے زمین سے لے کر سمندر تک، حیاتیات کے لیے زہر ِ قاتل بن چکی ہے تو غلط نہ ہوگا۔ صرف یہی نہیں، ہم پلاسٹک کو مخت

خبر لیجئے زباں بگڑی!

اس مضمون کی تحریک ڈاکٹر اکبر علی بلگرامی کی ایک تحریر سے ملی ہے۔ انھوں نے روزنامہ آگ کے 17 جنوری بروز اتوار کے شمارے میں سینئر صحافی آدرش پرکاش سنگھ کی ہندی کتاب ’’صحیح بھاشا سرل سمپادن‘‘ پر ایک چھوٹا سا تبصرہ کیا ہے۔ کتاب دیکھنے کا شرف تو حاصل نہیں ہوا لیکن تبصرہ پڑھ کر کتاب کی اہمیت کا اندازہ ہو گیا۔ حالانکہ آدرش پرکاش نے ہندی کے اخبارات اور صحافیوں کو ذہن میں رکھ کر یہ کتاب لکھی ہوگی لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ کتاب دیگر زبانوں کے صحافیوں کے لیے بھی مفید ہوگی۔ مجھے ہندی اور انگریزی یا دوسری زبانوں کے اخبارات میں کام کرنے والے صحافیوں کے بارے میں تو زیادہ اندازہ نہیں ہے لیکن اس تبصرے سے جو اشارہ ملتا ہے اس کی روشنی میں اس نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے کہ تمام زبانوں کے صحافی اور بالخصوص نو آموز صحافی ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔ کیونکہ آدرش پرکاش نے اخباروں میں

غنی کشمیری کے نام کھلا خط

تیری علمی عظمتوں ، فکری رفعتوں ، تیرے جنون اور تیری سادگی کو میرے روم روم کا ، میرے زمانے کا ، کشمیر کے فلک بوس پہاڑوں ، برف پوش چوٹیوں ، حسین و جمیل وادیوں ، پھولوںو کلیوں ، دم توڑتی جھیلوں ۔ خشک آب گاہوں اور انسانی خون میں نہائے ہوئے ندی نالوں، آبشاروں اور دریاوں کا سلام !  کشمیر کو قدرت نے جو کچھ بھی عطاکیا ہے وہ آپ سے مانوس ہے ۔ جن پہاڑیوں پربیٹھ کر آپ غور وفکر کیا کرتے تھے ، جن دریائوں کے کناروں پر آپ پانی کے مٹکے بھرتی حسین دوشیزائوں کو دیکھ کرصناعی قدرت کی سحرانگیزیوں میں کھوجاتے تھے ۔ جن جنگلوں اور چراگاہوں میں آپ ادھ ننگے کشمیریوں کو خون پسینہ ایک کرتے دیکھ کر بغاوتوں اور انقلابوں کی باتیں سوچا کرتے تھے، ان کے سارے نظارے ،سارے پیڑ پودے ،ساری کلیاں اور سارے پھول آپ کو جانتے ہیں لیکن اسے ہماری قومی بے حسی کہئے ،بے مروتی کہیے ، جہالت کی انتہا کہئے یا بدبختی کہئے ک

لداخ میں تعلیم کا سفر

لداخ میں تعلیم کی کہانی بہت طویل اور دلچسپ ہے۔یہاں کے تعلیمی دور کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے؛ 1۔ راجگان لداخ کا دور 2۔ ڈوگرہ حکومت کا دور 3۔ آزادی کے بعد کا دور  لداخی راجاؤں کے دور میں تعلیم کا کوئی انتظام نہیں تھا۔لداخی بودھ عام طور پر اپنے گھر کے ایک بیٹے کو ثواب کی نیت سے لاما (بھکشو) بنانے کی نیت سے گنپہ (بودھ مندر) میں بھیجتا تھا، جہاں اس کو بودھی (لداخی زبان) لکھنا پڑھنا سکھایا جاتا تھا۔کچھ لوگ ضرورت کے مطابق واجبی سی بودھی سیکھتے تھے۔مسلمانوں میں بھی چند لوگ معمولی لداخی جانتے تھے۔میں نے اپنے آباء واجداد کی کتابوں اور دوسرے کاغذات پر بودھی (لداخی زبان) میں کچھ جملے لکھے ہوئے دیکھے ہیں۔ اس زمانہ میں بودھ و مسلم دونوں میں زبان (language) کے معاملہ میں کوئی بھید بھاؤ اور تعصب نہیں تھا۔دونوں مذاہب کے لوگ اردو اور بودھی سیکھتے تھے اور کوئی عار ا

اقدار کی پاسداری ادب کی ذمہ داری

 اخلاق اور اقدار کی پاسداری میں ادب اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ادب کو دراصل ادب کہنے کی یہی دو وجوہات ہیں ایک (زبان وادب)اور دوسرا (تہذیب) یعنی تہذیب اور اخلاق کی مناسبت سے ادب کو ادب کہتے ہیں ۔کسی بھی زبان کا ادب ہو، اس میں اقدار کا لحاظ رکھا جاتا ہے اور رکھا جانا چاہئے ۔اردو ادب کی اگر بات کریں گے تو اس ادب کا مقصد بھی انسانی اقدار کی پاسداری، ظلم و ستم کا خاتمہ، معاشرے میں مساوات کو فروغ دینا اور پْر امن معاشرے کی تشکیل سے جْڑا ہوا ہے۔ ادب چاہے نثر کی صورت میں ہو یا نظم کی صورت میں، اس کا بنیادی موضوع انسان، انسانیت اور انسان کے مصائب و مشکلات ہی رہے ہیں ۔اگر اردو کے نامور شاعر مرزا غالب کی بات کریں تو انہوں نے اپنی شاعری میں تصوف پر زور دیا ہے یعنی وہ اپنی شاعری میں انسان کو سچا انسان بننے اور اپنے خالق کا فرمانبردار بنے کا پیغام سناتے ہیں۔ اس سلسلے میں غالب کا ایک مشہور شعر ملا

سڑک سے جڑی ہے ترقی گاؤں کی

 ہندوستان کی سرحدوں کو محفوظ بنانے اور دور دراز علاقوں میں بنیادی سہولیات کی ترقی کے لئے ایک عرصہ پہلے بارڈر روڈ آرگنائزیشن قائم کی گئی تھی۔ بی آر او نے ملک کے دیگر سرحدی علاقوں میں بخوبی کام کو سر انجام دیالیکن شہر سے دور ایک ایسی دنیا موجود ہے جہاں سڑک کا رابطہ نہیں ہے۔ ان غیر منقولہ علاقوں میں دیہاتی آج تک ہر طرح کی سہولیات سے محروم ہیں۔ منصوبہ ساز جو دور دراز علاقوں کی ترقی کے ذمہ دار ہیں، انہیں یہ احساس کرنا ہوگا کہ سڑک کی فراہمی دیہی ترقی کے بڑے مقاصد میں کس طرح فٹ بیٹھتی ہے۔یوٹی جموں اور کشمیر کا ضلع پونچھ ،جو منی کشمیر کے نام سے جانا جاتا ہے، اس لیے بھی مشہور ہے کہ جب دو پڑوسی ملک اپنے غصے کا اظہار کرتے ہیںتو اس علاقے کے باشندوں کو سب سے زیادہ اس کی قیمت چکانا پڑتی ہے جو آئے دن اخبارات اور ٹی وی چینل میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ سرحدی ضلع پونچھ کی تحصیل منکوٹ گاؤں کینی

شیطان سے ایک دلچسپ انٹرویو

نسلِ آدم سے ایسی بھی شخصیات پیدا ہوئی ہیں جنہوں نے انسانیت کی بقا اور بھلائی کے لئے ایسے کارہائے نْمایاں انجام دیئے ہیں کہ صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی وہ اْنہی کارناموں کی بدولت انسانی دلوں میں بہت ہی عزت واحترام سے یاد کئے جاتے ہیں۔ایسی شخصیت کو عام لوگوں میں متعارف کرنے کے لئے اپنے اپنے وقتوں میں مختلف ذرائع کا استعمال کیا گیا اور آج کے ترقی یافتہ اور سائنسی دور میں ہم ایسی ہستیوں کو ٹیلی ویژن کے ذریعے عام لوگوں سے متعارف کراتے ہیں۔ان ہستیوں میں عالم ہوتے ہیں،دانشورہوتے ہیں،سیاسی رہنما ہوتے ہیں،ڈاکٹر اور انجینئرہوتے ہیں اور فنکار اور اداکار بھی ہوتے ہیں۔غرض کہ انسانی زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے انسان ہوتے ہیں،مگر قارئین حضرات! آج میں آپ کی دلچسپی کے لئے ایک ایسی ہستی کا انٹرویو لے کر آیا ہوں جسے ہم زمین پر بسنے والے انسان ’’شیطان‘‘کے نام سے جانت

کتاب ’جواہر ِ رسالت‘…مختصر تاثرات

رسول پاک ﷺ کے ارشادات وفرمودات کی شرعی و دینی حیثیت مسلّم ہے۔ شریعت میں احادیث ِنبویﷺ کا مقام اور ان کی حجیت پر علماء ِ متقدمین و متاخیرین نے کتابوں کا ایک بحرِ ذخّار تیار کردیا ہے۔ اور انکارِ حدیث کے راستے جو گم راہیاں مختلف ادوار میں پیدا ہوئیں ان کا قلع قمع کردیا گیا( گو کہ یہ برساتی کیڑے اب بھی کسی نہ کسی حیثیت سے سر اٹھاتے رہتے ہیں)۔احادیثِ رسول ﷺ کی علمی، دینی اور حجیتی حیثیت اپنی جگہ تاہم اس پہلو سے بھی یہ اہم ہیں کہ تعلیم و تربیت کا مکمل ضابطہ ان میں بہم موجود ہے۔ اگر اس تربیت کا اعلیٰ نمونہ ہمیں دیکھنا ہو تو صحابہ کرام ؓ کی مبارک زندگیوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ صحابہ کرامؓ کا بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے احادیث کی روایت کے ذریعے صرف قواعد و ضوابط اور احکامات ہی آگے نہیں پہنچائے بل کہ وہ کیفیات و جذبات اور وہ پُر اثر ماحول بھی منتقل کرنے کا حیرت انگیز کارنامہ انجام دیا۔کیوں کہ

غلام نبی شیداؔ | آہ!چمن کا دیدہ ورنہ رہا

میں جانتا تھا کہ شیدا صاحب کافی وقت سے بستر علالت پر تھے۔میں نے کئی بار ان سے ملنے اور ان کی صحت کے بارے میں دریافت کرنے کی سوچی لیکن افسوس! عصر حاضر کے حالات سرینگر میں ان کی رہائش گاہ کا دورہ کرنے کے حق میں نہیں تھے۔کچھ مہینے قبل میں نے ان کا موبائل نمبر ڈائل کیا تھا لیکن اُس وقت اُسے بند پایا…اس طرح اُنکی زندگی کے آخری مہینوں میں میرا اس مردِ آہن  سے ملنا، میں اتنا خوش قسمت نہیں تھا۔ غلام نبی شیدا سرکردہ صحافی اور ایک مشہور اردو روزنامہ’ ’وادی کی آواز‘‘ کے مدیر ِ اعلیٰ، عام لوگ انہیں اسی طرح جانتے ہیں لیکن وہ لوگ جنہیں ان کے قریب بیٹھنے اور ان کی شخصیت کو پڑھنے پرکھنے کا موقع ملا تھا، وہ انہیں ایک عظیم شخص کے طور پریاد کریں گے۔  غلام نبی شیداؔ سے ملاقات کے دوران کوئی بھی اجنبی شخص نفاستی طور پر خود کو محفوظ محسوس کرتا تھا کیونکہ شیدا ص

جموں وکشمیر کا مُرغِ شناخت | تحفظاتی نکتہ نظر کے بجائے ثقافتی اہمیت کو ملحوظ رکھنا بجا

 5 اگست ، 2019 سے پہلے جموں وکشمیر کا سرکاری سرکاری پرندہ سیاہ گردن والا بگلا تھا۔ صرف لداخ کے بنجر علاقہ میں پائے جانے والایہ نایاب اور غیر ملکی پرندہ بنیادی طور پر تبتی سطح مرتفع کا رہائشی ہے۔چونکہ لداخ اب الگ سے ایک یونین ٹریٹری بن چکا ہے تو ایک نیا ریاستی پرندہ نامزد کرنے کی ضرورت پیدا ہوئی ہے۔ شاید زیادہ مناسب طور پر ایک UT پرندہ نامزد کرنا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ سب سے ضروری اور اہم کام ہے لیکن اس سے پہلے کہ ایک صبح نیند سے بیدار ہوکر ہمیں پتہ چلے کہ پاخلان،جسے مرغ اتشی یا مرغ غواص(Flamingo) بھی کہتے ہیں،جموںکشمیر کا نیا یوٹی پرندہ بنا ہے ،ہمیں اس بارے میں سوچنا چاہئے۔ ریاست کے پرندوں کے نامزد کرنے کیلئے عالمی طور پر قبول شدہ معیار یہ ہے کہ یہ ریاست میں پایا جائے ،یہ اس ریاست کی تاریخ اور ثقافت سے پیوستہ ہواور عمومی طور پر خالصتاً اس مقام سے ہی تعلق رکھتا ہو۔تاہم پرندہ شن

بیٹی انمول تحفہ ہے بوجھ نہیں

فطری طور پر اپنی اولاد ہونے کا احساس سب جانوروں اور انسانوں میں یکساں پایا جاتا ہے۔ سچ بھی یہی ہے کہ دنیا میں سلسلہ زندگی جاری رکھنے کے لئے یہ احساس اور آرزو بہت ہی اہم اور ناگزیر ہے۔اولاد کی تمنا اور شفقت وہ انمول تحفے ہیں جن کی بنا پر دنیا چل رہی ہے بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ دنیا کا وجود ہی اسی بنیاد پر قائم ہے۔قدرت نے اولاد پیدا کرنے کا جذبہ سارے جانداروں میں رکھا ہے چاہیے وہ نہ دکھنے والا جراثیم ہو یا اشرف المخلوقات کا درجہ رکھنے والا انسان۔فرق صرف اتنا ہے کہ انسان جنس کی بنیاد پر اہمیت کے فتنے میں مبتلا ہو گیا جبکہ دوسرے جانداروں میں یہ عجیب خیال موجود نہیں ہے۔اس کی کئی وجوہات ہیں۔سب سے پہلی اور اہم وجہ جنسی امتیاز ہے۔جنسی امتیاز نے انسان کے اندر بہت سے توہمات خلق کئے، جیسے لڑکی نسل کو آگے نہیں بڑھا سکتی حالانکہ لڑکی ہی کے بطن سے لڑکے جنم لیتے ہیں لیکن جب تک گھر میں لڑکا پیدا نہ ہو