والدین اور شاگرد نجی تعلیمی ٹکسالوں کے یر غمال

۱۵گست ۲۰۱۹ سے کشمیر اب تک پہلے تو سیاسی لحاظ اور اس کے چند ماہ بعد کوؤڈ کی مار مسلسل سہہ رہا ہے  اور اس میں ابھی تک کوئی اور کسی طرح کی کمی نہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ لوگ موت و حیات سے بے نیاز ہوچکے ہیں جس کا مطلب ہے کہ یہ بھی ایک طرح کا ٹروما ہی ہے۔مجموعی طور پر تمام نجی تعلیمی ادارے بھی پچھلے چودہ مہینوں سے بند ہیں ، کہیں بھی کسی قسم کا تعلیمی و تدریسی عمل ہونے کا ابھی کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن اس بیچ پچھلے ایک دو مہینوں سے نجی اداروں نے والدین کے لئے احکامات جاری کئے کہ ہم اب آن لائن کلاسوں کا اہتمام کر رہے ہیں ، اس کے باوجود کہ کشمیر میں فور جی پر پابندی عائد ہے اور براڈ بینڈ کا ٹو جی خراماں خراماں اپنی مرضی اور منشا پر کبھی چلتا  ہے تو کبھی نہیں ۔ ایک سیدھا سا سوال ہے کہ کیا ہر طالب علم کے گھر میں یہ ٹو جی ہے ؟ زمینی سطح پر یہ طریق کا ر ہماری جیسی سر زمین کے لئے

انسانی جان کا احترام

 انسانی تمدن کی بنیاد جس چیز پر قائم ہے اس کی پہلی دفعہ یہی ہے کہ انسان کی جان اور اس کا خون محترم ہو۔ انسان کو جینے کا حق دیا جائے۔جب انسان سے اس کے جینے کا حق ہی چھین لیا جائے تو اس کا لازمی نتیجہ خوف ، ہراس اور بد امنی کی صورت میں نکلتا ہے۔ دُنیا میں جتنی شریعتیں اور مذہب قوانین ہیں اُن میں انسان کی جان اور اس کا خون محترم ہے۔ انسان کی ضروریات زندگی تب ہی پوری ہو سکتی ہیں جب کہ اس کی جان محترم ہو اور ضروریات زندگی سے قطع نظر کر کے اگر خالص انسانیت کی نظر سے دیکھا جائے تو روز روشن کی طرح یہ بات عیاں ہو جائے گی کہ قتلِ نا حق احسنِ تقویم سے گر کر اسفل السّٰفلین میں پہنچنے کا نام ہے۔ اسلام ہی وہ واحد دین ہے جس میں احترام نفس کے متعلق صحیح اور مؤثر تعلیم دی گئی ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ مختلف پیرایوں سے اس تعلیم کو دل نشین کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سورۃ المائدہ میں ارشاد ربّانی ہے:&rsquo

تاخیر سے شادی نوجوان نسل کی تباہی

شادی ایک پاکیزہ اور مقدس بندھن ہے جس سے کئی رشتے وجود میں آجاتے ہیں۔ اس لحاظ سے اگر شادی کو تمام انسانی رشتوں کی ماں کہا جائے تو نا مناسب نہ ہوگا۔ شادی اگر مناسب وقت پر کی جائے تو بہتر، افضل و خیر ہے اور تاخیر سے کی جائے تو کئی ایک مسائل کو اپنے ساتھ لے آتی ہے۔ شادی اگر بر وقت ہو تو اس سے وجود میں آنے والا خاندان اپنے فرائض بہتر انداز میں سر انجام دے سکتا ہے۔ اسلام نے شادی کے سلسلے میں بہت زیادہ تاکید کی اور اسے انسانی سماج کی بنیادی ضرورت قرار دیا ہے نیز مرد و عورت کی تکمیل کا ذریعہ گردانتے ہوئے اپنے وقت پر انجام دینے پر زور دیا ہے۔ بلکہ اس سے آسان سے آسان تر بنانے کی تاکید اسلامی تعلیمات میں جا بجا دیکھنے کو ملتی ہے۔  سورۃ النور آیت نمبر 32 کے اندر سرپرستوں (Guardian) سے خطاب ہے کہ وہ اپنی زیر ولایت غیر شادی شدہ لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی کی تدبیر و سعی کریں، رشتوں کی تل

سیمینار سے ویب نار تک

آدھے برس سے زیادہ عرصے سے ساری دنیا لاک ڈاؤن موڈ پر ہے۔ بازاروں میں چہل پہل نہیں۔ دانش گاہوں میں گہما گہمی نہیں۔ لوگ اپنے اپنے گھروں میں بند ہیں اور عالمی وباء سے بچنے کی تدبیر کررہے ہیں۔ لیکن ایسے ساکت وصامت ماحول میں ہاتھ پر ہاتھ دھرکربیٹھا بھی نہیں جاسکتا۔ The show must go on کے فلسفے کے تحت اس دنیا کو آگے بھی جانا ہے۔چنانچہ اہل علم وفن، مفکر، مدبر اوردانشور حضرات خاص طور سے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارموں پر اخذ وعطا ، افادے واستفادے اور علمی وادبی، ثقافتی وتمدنی، تعلیمی وتجارتی مصروفیات کو آن لائن جاری رکھ کر کائنات کو بھاری بھرکم خسارے سے بچانے کی پوری تگ ودومیں ہمہ تن مصروف عمل ہیں۔ادبی سرگرمیاں بھی جاری ہیں اور علمی بھی۔ شعر وسخن کی محفلیں بھی جوان ہیںاور علم وفن کی مجلسیں بھی۔  کرونا سے قبل کی دنیا کی علمی وادبی سرگرمیوں کا ایک اہم جزء مختلف علمی وادبی اکیڈمیوں، کالجو

عالمی تجارت کے ہر روز بدلتے انداز

حالیہ مہینوں میں عالمی سطح پر بین الاقوامی تجارت اور اس سے جڑے مسائل، میڈیا اور ہیڈ لائنز کی زینت بن رہے ہیں۔ زیادہ تر بحث کا مرکز عالمی تجارتی جنگ کے خطرات، ردِ عمل میں تجارتی ٹیرف کا اطلاق اور اس کے نتیجے میں عالمی تجارت کا مستقبل رہا ہے۔ ہرچند کہ، یہ بحث اپنی جگہ انتہائی اہم ہے، تاہم اسی دوران عالمی تجارت کے حوالے سے کئی ایسے روشن پہلو بھی اْبھر کر سامنے آرہے ہیں، انھیں بالکل نظرانداز کردیا گیا ہے۔ یہ روشن پہلو، چوتھے صنعتی انقلاب کے نتیجے میں سامنے آنے والی جدت سے بھرپور ٹیکنالوجیز کے مرہونِ منت ہیں، جو تجارت کے عمل کو زیادہ مشمولہ اور مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ عالمی تجارتی نظام ( System  Trade  Global )میں ٹیکنالوجی کے تغیر ( Disruption  Technological)کا آنا کوئی نئی بات نہیں۔ بھاپ کی طاقت سے جنم لینے والے انقلاب نے دنیا کو کچھ ایسے بدلا کہ اس

’عوامی اتحاد‘ کو عوامی اعتماد کا فقدان!

جموں کشمیر کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں، نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی نے آخری انتخابات کے بعد حکومت سازی کیلئے ہاتھ ملایا ہوتا تو علاقائی مفادات کا تحفظ بھی ممکن ہوتا اور عوام کے’ وقار‘ کو بھی بر قرار رکھنے میں مدد ملتی۔نیز دونوں پارٹیوں کو شاید نئی دلی کے ہاتھوں اُس ہزیمت کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑتا جو اب تاریخ کا حصہ ہے۔اب دونوں نے باقی ماندہ چھوٹی پارٹیوں کے ہمراہ ایک ایسے وقت ’عوامی اتحاد‘ عمل میں لایا ہے جب جموں کشمیر کی سابقہ پوزیشن کی بحالی کیلئے فقط عدلیہ کا واحد دروازہ کھلا ہے۔عوامی حلقوں کو شکوہ ہے کہ این سی اور پی ڈی پی ایسی سیاسی پارٹیاں ہیں جن کا مقصداول روز سے حصول اقتدار رہا ہے اور اس کیلئے دونوں نے کبھی بھی عوامی جذبات، احساسات اور مفادات کو خاطر میں نہیں لایا ہے۔ جموں کشمیر کی سب سے بڑی اور تاریخی سیاسی پارٹی نیشنل کانفرنس نے ہمیشہ&r

محکمہ مال پر ایک نظر

فصلوں کی پیداوار اور اراضی کی ملکیت کی تفصیل سرکاری طور جمع کرنے کا نظام ہندوستان میں شیرشاہ سْوری نے متعارف کرایا تھا، لیکن انگریزوں نے باقاعدہ محکمہ مال کی بنیاد ڈال کر آباد اور غیر آباد زمینوں کا شمار کرنے اور اراضی کے ریکارڈ رکھنے کو ایک منضبط عمل میں تبدیل کردیا۔ اس نظام میں تحصیل دار کی ماتحتی میں نائب تحصیل دار ، گرداوار اور پٹواری ہوتے ہیں، جو زمینوں کی خریدوفروخت کے وقت اس کا اندراج محکمہ مال کے ریکارڈ میں کرتے ہیں۔ تاہم پٹواری اس نظام کی مرکزی کڑی ہوتا ہے۔ سادہ لفظون میں سمجھیں تو پٹواری محض ایک ریکارڈ کیپر ہوتا ہے، جسکے ذمے یہ ہوتا ہے کہ زمینوں کی ملکیت باقاعدہ مندرج ہو، اور کسی کے ساتھ کوئی حق تلفی نہ ہونے پائے۔ لیکن ایک معلوم حقیقت ہے کہ عرصہ دراز سے کشمیر میں پٹواری سب سے زیادہ طاقت ور شخص کے طور اْبھرا ہے، اور پٹواری کا نام سْنتے ہی لوگوں پر خوف طاری ہوجاتا ہے۔&nbs

جموں کشمیر میں اردو طالبانِ تحقیق کے مسائل

روزِ اول سے ہی انسانی سرشت میں چیزوں کو جاننے اور کائنات کو مسخر کرنے کی جستجو اور لگن ودعیت کی گئی ہے۔ ہبوط آدم سے لے کر آج تک انسان نت نئے تجربات اور مشاہدات سے انسانی علوم و فنون اور دانش میں اضافہ کرتا آیا ہے۔ گویا تحقیق زندگی کی ہر سطح پر ایک زندہ معاشرے کی اہم اور بنیادی پہچان ہے۔ کسی معاشرے میں اگر تحقیقی عمل رک جائے تو اس معاشرے میں ہزاروں جھوٹ سچ کا لبادہ اختیار کرکے اسے دھیمک کی طرح چاٹتے رہتے ہیں۔ تحقیق غلط فہمیوں کا ازالہ کرکے کسی امر کو اس کی اصل شکل میں منظر عام پر لا کر سماج و معاشرے سے ظلمت کی تلچھٹ دور کرکے روشنی بکھیر دیتا ہے۔ گویا تحقیق انسان کو ’’صداقتوں کا چراغ جلانے‘‘ کی دعوت عمل دیتا ہے   ؎ بھٹک رہے ہیں اندھیروں میں کارواں کتنے جلا سکو تو جلاؤ صداقتوں کے چراغ کھوجنے اور تحقیقی عمل سے انسانی ذہن ارتقائی مراحل طے کر

علی گڑھ تحریک اور پونچھ کے شیخ محمدعبداللہ

18اکتوبر2020کو برصغیر ہندکے نامور عالم، دانشور، مصنف، رہبر اور مفکرقوم سرسید احمد خان کو 203ویں یومِ پیدائش پریادگیا، اسی روز علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام کے سوبرس بھی مکمل ہوئے جس پر خصوصی طور دنیا بھر میں سرسید احمد کے چاہنے والوں اور علیگ نے جوش وخروش کے ساتھ اِس دن کو منایا۔مسلمانان ِ ہند کو جدید تعلیم کے زیور سے آراستہ کرانے کے لئے سرسید احمد خان نے جو تحریک شروع کی اُس میں جموں وکشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا بھی اہم رول رہا، جنہوں نے سرسید احمد خان کے شانہ بشانہ کام کیا اور ’تعلیم ِ نسواں ‘کے لئے ناقابل فراموش خدمات انجام دیں۔ علی گڑھ تحریک یا پھر سرسید احمد خان کا جب بھی ذکر آتا ہے تو اگر اُس شخص کی خدمات کو فراموش کردیں تو بہت زیادتی ہوگی۔  اِس شخص کو دنیا آج’شیخ محمداللہ‘کے نام سے جانتی ہے،خاص کر ’علیگ &lsquo

سرسیدؔ ۔گوہر نایاب

ہر سال 17 اکتوبر کو یوم سرسید کے بطور منایا جاتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح رواں سال میں بھی اس تاریخ کو سرسید کی یاد تازہ کرنے کے لئے ادبی محفلوں اور سمیناروں کا ملک بھر میں جوش وخروش کے ساتھ انعقاد کیا گیا لیکن اس سال کچھ الگ ہی اس کو اہمیت وافادیت بخشی گئی ہے کیوں کہ سال 2020ء کو سرسید کے ہاتھوں لگایا گیا تعلیمی پودا جو آج بھی گل سرسیدکے مانند ہے ،اس کی صد سالہ جشن میں سرسید کی یاد کچھ زیادہ ہی اہل ادب کے دلوں کو لبھا کر مسرت وانبساط کی لامتناہی شکل اختیار کر گئی ہے ۔ سرسید احمد خان اردو ادب میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ ادبی دنیا میں انہیں ہمیشہ عزت کی نگاہوں سے دیکھا جائے گا۔ انہوں نے اردو ادب میں وہ کارہائے انجام دئیے جن کے عوض اردو ادب کے اوراق میںانکا نام ہمیشہ سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔  سرسید بیک وقت مفسر قرآن،ماہر تعلیم،انشاپرداز،جاں باز سپاہی،دانشور،مفکر،قوم کے ہمدرد،و

سیاسی غیر یقینیت میں ٹھہرائو آنے کا امکان | اتحاد و اتفاق سے پہاڑ کو رائی بنانا نا ممکن نہیں

کسی بھی قوم یا معاشرے کی سب سے بڑی بدقسمتی یہی ہوتی ہے کہ وہ جذبات کی رَو میں بہہ کر کسی بھی انسان کو دیوتا کا درجہ دے دیتی ہے یہ سمجھے بغیر کہ انسان بالآخر انسان ہی ہوتا ہے جو اپنی نفسیاتی اور فطری خواہشات کا محتاج ہوتا ہے جن کو پورا کرنے کے لئے وہ کسی بھی وقت اپنے درجے سے انتہائی حد تک گِر بھی جاتا ہے۔اس لئے یہ کہنا غلط نہیں کہ انسانی زندگی میں مشکلات زیادہ تر خود انسانوں کی اپنی خواہشات کے پیچھے اندھے ہوجانے اور اپنے طرزِ عمل کی پیدوار ہوتی ہے۔ سچ تو یہ بھی ہے کہ قومی مفاد یا عوامی خدمت کا نعرہ انسانی تاریخ کے ہر دور میں بےدردی سے استعمال ہوا ہے اور اِس نعرے کے ذریعےدنیا بھر میں 90   فیصد سے زائد لوگوں کابدترین استحصال ہوا ہے۔ جو جتنا بڑامکار یا عیار ہوتا ہے،وہ اتنے ہی بلند بانگ نعرے لگاتا اورلچھے دار تقاریر کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ایسے مداری، ڈرامے باز کی اصلیت کو پہچاننا ک

ہند۔امریکا تعلقات میں اچانک گرمجوشی کا سبب؟

ایشیائی خطے میں ہندوستان کے رول کے متعلق امریکی وزارت خارجہ کے حالیہ بعض تبصروں اور بیانات سے یہ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ ہندوستان اور اس کی صلاحیتوں کے متعلق امریکا کے نقطہ نظر میں قابل ذکر تبدیلی آئی ہے۔امریکاکے نائب وزیر خارجہ اسٹیفن ای بیگن ، پچھلے ہفتے ہندوستان کے تین روزہ دورے پر تھے۔ اس سے ایک ہفتہ قبل ہی ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ٹوکیو میں اپنے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو سے ملاقات کی تھی۔یہ ملاقاتیں ،مذاکرات اور دورے امریکا کی جانب سے چین کے خلاف تقریباً ہر محا ذ پر بالواسطہ جنگ شروع کردینے کے بعد ہوئے ہیں اور اسے بیجنگ کے لیے ایک واضح اسٹریٹیجک اشارے کے طورپر دیکھا جارہا ہے۔ امریکا نے حالیہ دنوں میں کورونا وائرس، تجارت، ٹکنالوجی، ہانگ کانگ، تائیوان اور حقوق انسانی کے معاملات پر بھی بیجنگ کی نکتہ چینی میں شدت آئی ہے۔چین ان تمام الزامات کی تردید کرتا ہے اور امریکا پر

کیاپولی سسٹک اُووری بیماری (پی سی او ڈی ) لاعلاج ہے؟

کیا بیضہ دانی میں سسٹوں کے اجتماع کی بیماری ،جسے عرف عام میں پی سی او ڈیPCOD(Polycystic Ovary Diseases)یا پھرPCOS(Polycystic Ovary Syndrome) کہتے ہیں،لاعلاج ہے؟ یہ سوال اس مرض میں مبتلا لاتعدادنوجوان مریضوں کے لئے انتہائی پریشانی اور تفکر کا باعث بن چکا ہے اور بن رہا ہے کیونکہ اپنی زندگی کا نوجوانی کا خوبصورت دور شروع ہوتے ہی انہیں جب اس طرح کے مایوس کن امراض کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو انہیں واقعی ایک نفسیاتی دبائو اورناامیدی سے بھی گزرنا پڑتا ہے جو ان کے مستقبل کی امیدوں اور خوشیوں کو معدوم کر دیتا ہے۔  بہت سارے عوامل کو اس کا باعث بتایا جارہا ہے۔سب سے پہلے اس بیماری کے متعلق سرسری طور پر ہی سہی جانکاری اور آگاہی حاصل کر نا بہت ضروری اور اہم ہے وہ اسلئے بھی کہ اکثر بیماریوں کے متعلق عام لوگوں کے اذہان میں لاتعداد غلط فہمیاں بھی ہوتی ہیں جو ان کی لاعلمی،جہالت اورکم تعلیمی قابلی

مشرق و مغرب میں سائنسی تحقیق کا معیار | کیا قرآن و سائنس متصادم ہے؟

عام مفہوم میں سائنس جاننے کی جستجو کا نام ہے۔جستجو اس لئے کیونکہ یہ عمل نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے، اس کی کوئی انتہا نہیں، اس کی کوئی منزل نہیں کہ جہاں پر پہنچ کے دم لیا جائے۔اسی لئے تو تخلیقِ آدم سے لیکر تاہنوز انسان دیوانہ وار اس عمل کی تعمیل کر رہا ہے اور نہ ہی اس عمل کے رکنے کا سوائے قیامِ قیامت کے کوئی امکان نظر آرہا ہے۔انسان علم کے معاملے میں اپنے پورے جسمانی و روحانی وجود کے اعتبار سے مافوق المخلوق ہے کیونکہ اس کے دونوں وجود بغیر تحصیلِ علم کے تسکین حاصل نہیں کر پاتے۔علم کی اسی چاشنی کے برسبیل اسے تمام مخلوقات پر فوقیت حاصل ہے۔علم کی تحصیل کے معاملے میں انسان ایک مقناطیسی حیثیت رکھتا ہے۔اس کے بدن کے اندورن میں بھی علم کی طلب ہے اور بیرونی دنیا کے متعلق اکتسابِ علم کی چاہت ہے۔اس کے پورے جسم میں عصبی نظام اور احساس عضو (Sense organ) اس طلب و چاہت کی تکمیل کرتے ہیں۔یہ سینس آرگن ب

۔ڈیٹا سائنسدانوں کیلئے کیسا ہوگا 2021؟

اگر آپ ڈیٹاسائنٹسٹ ہیں یا ڈیٹا سائنس کی تعلیم حاصل کررہے ہیں تو آپ کو اپنے کیریئر کے حوالے سے مستقبل پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ جو لوگ اس فیلڈ میں کیریئر کے حوالے سے نابلدہیں تو انہیں بتاتے چلیں کہ بِگ ڈیٹا ، ڈیٹا سائنس اور ڈیٹا مائننگ کی اصطلاحات ہم آہنگ ہو چکی ہیں، جن کے مابین رابطے سے مراد پبلک ڈیٹا، انٹرپرائز ڈیٹا، ٹرانزیکشنز، سینسر ڈیٹا، سوشل میڈیا اور اعداد و شمار تک رسائی ہے۔ ٹیلی کام اور آئی ٹی انڈسٹری سمیت دنیا بھر کے بزنس طبقے کو ڈیٹا سائنسدان چاہئیں جو بِگ ڈیٹا کے حوالے سے ان کی مشکلات آسان کرسکیں، لیکن اکیسویں صدی کی اس پْرکشش ترین ملازمت کا حصول اور ا س کی تعلیم بھی آسان نہیں۔ تاہم، اگر آپ اس کے طالبعلم ہیں تو کچھ پیش گوئیاں ہیں، جو شاید آپ کی ڈگری کی تکمیل کے وقت آپ کے کام آئیں۔توقع کی جارہی ہے کہ بگ ڈیٹا کی دنیا 2025ء تک حیرت انگیزطور پر 163زیٹا بائٹس یعنی 163 ٹ

شکیب جلالی

اور دنیا سے بھلائی کا صلہ کیا ملتا آئینہ میں نے دکھایا تھا کہ پتھر برسے  شاعری قافیہ پیمائی کی ریاضت نہیںبلکہ معنی آفرینی کی سخاوت ہے۔حسن وعشق کا ماتمی واویلہ نہیں بلکہ حسن وعشق کا روحانی جنون ہے۔دماغ کا انتشار نہیں بلکہ دل کا سکون ہے۔ذوق وشوق کی سونامی ہے‘ دل و دماغ کا طوفان ہے۔ اگر شاعری کا یہ فنی نقار خانہ دیکھنا ہوتو دوسرے کئی اہم شعراء کے ساتھ ساتھ شکیب جلالی ( 1934-1966)کامجموعہ کلام’’ روشنی اے روشنی‘‘ یا کلیات پڑھیں۔اس میں آمدکی روشنی بھی نظر آئے گی اور معنی آفرینی کی سخاوت بھی۔ حسن وعشق کا روحانی جنون بھی رقص کرتا دکھائی دے گا اور ذوق و شوق کی سونامی کا محشر بھی۔ اور شعری جمالیات کے پیش نظر انسان شاعری کے جمالیاتی احساس (Aestheticfeeling) سے آگاہ ہونے کے ساتھ ساتھ محظوظ بھی ہوجائے گا ۔کیونکہ اس میں شاعر نے دل کے زہر سے الفاظ ومعن

’عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ ‘

 گپکار ڈیکلریشن پر دستخط کرنے والی قومی دھارے کی تنظیمو ں نے پندرہ اکتوبر کو ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ پر منعقدہ ایک میٹنگ میں ’’پیپلز الائنس فار گپکار ڈکلریشن ‘‘’’ عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ ‘‘ کے قیام کا اعلان کردیا ۔چھ تنظیموں پر مشتمل اس اتحاد میں نیشنل کانفرنس ، پی ڈی پی ، پیپلز کانفرنس ، جموں کشمیر پیپلز موومنٹ ، عوامی نیشنل کانفرنس اور سی پی آئی ایم شامل ہے ۔کانگریس کے صدر جی ایم میر نے اس اجلاس میں شمولیت نہیں کی ۔ انہوں نے فون پر کسی مجبوری کی بناء پر شمولیت سے معذرت کی تھی تاہم کانگریس کے اندرونی ذرائع کے مطابق ایک قومی جماعت ہونے کی وجہ سے کانگریس کے لئے اس اتحاد میں شمولیت ممکن نہیں حالانکہ اس سے پہلے گپکار ڈیکلریشن پر پردیش کانگریس کے صدر نے دستخط کردئیے ہیں اور حال ہی میں کانگریس کی سینئر لیڈر رجنی پاٹل، جو

سر سیدؔ ایک مایہ ناز شخصیت

سر سید ایک دردمند مصلح، دور اندیش درویش، مایہ ناز عالم، دینی وعصری علوم کے ماہر، ناموس رسالت کے محافظ، کامیاب مصنف، بے مثال ادیب، عظیم فلاسفر، بلند پایہ اسلامک اسکالر اور اس ملک کی عظیم درسگاہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی تھے۔ 17 اکتوبر 1817 کو دہلی کے ایک سادات خاندان میں آنکھیں کھولیں اور پوری زندگی اپنی قوم کو زوال وانحطاط کی کھائی سے نکالنے کی انتھک کوششیں کرتے ہوئے 27 مارچ 1898 میں اس دار فانی کو الوداع کہہ گئے۔ یومِ ولادت کے موقع پر اس مرد مجاہد کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں جنہوں نے جمود وتعطل کی شکار مسلمانوں کے اندر علمی تحریک پیدا کرنے، تعلیمی بیداری لانے اور ان کے اندر سے جہالت وناخواندگی کو دور کرنے میں بے مثال کردار ادا کیا۔ سر سید احمد خان نے قوم کی اصلاح وترقی تعلیم وتربیت کا بیڑا اس وقت اٹھا یا تھا جب برصغیر کی سر زمین مسلمانوں پر تنگ تھی اور ظالم انگریز ان کے خ

سرسید احمد خان ؔ

مولانا الطاف حسین حالیؔ نے سرسید کی بے مثال شخصیت کے بارے میں لکھا ہے:’’میرے ایک دوست سے ایک انگلشمین نے سرسید کا ذکر کرتے وقت کہا کہ اگر یہ شخض یورپ میں پیدا ہوتا تو کسی بڑی امپائر میں وزیر اعظم کے درجہ تک پہنچتا‘‘۔(حیات جاوید ۔ص۔۳۵۷)  سرسید احمد خان محض ایک شخصیت کا نہیں بلکہ ایک تحریک کا نام ہے۔اس تحریک کے مختلف النوع پہلو تھے ۔سرسیدبذات خود کئی حیثیتوں سے نہ صرف انیسوی صدی کے پورے منظر نامے پر چھائے رہے بلکہ آج کے دور میں بھی مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ان کے اثرات نمایاں ہیں۔بقول خوشی محمد خاں ناظر   ؎ سید  مرحوم    امت   کا بھلا کرتا رہا ہم جفا کرتے رہے اور وہ وفا  کرتا رہا جو فلاحی قوم کی آئی سمجھ میں اس  کی بات برملا   کہتا   رہا  اور   برملا   

سرسید ؔاورتخلیق پاکستان

۱۸۶۷ء؁ میںاردو اورہندی کے جھگڑے نے سرسید احمدخان کوکسی قدر بددل کردیا اور بنارس کے کمشنرشیکسپئرؔ سے انھوںنے اپنے جن خدشات کااظہارکیااس کوبنیاد بناکر کچھ مؤرخین نے سرسید ؔکو دوقومی نظریہ کابانی اور’تحریک پاکستان‘ کاروح رواں قراردیا۔اس اجمال کی تفصیل یوںہے کہ ہندوئوں اورمسلمانوں کے مابین لسانی مسئلے نے تنازعہ کی صورت اختیار کی اورتعصب کی شدت میں روزبروزاضافہ ہونے لگا۔اس کی اوّلین صورت اس وقت سامنے آئی جب ہندوئوںکویہ خیال پیداہوگیاکہ سرکاری عدالتوں میںبھاشااوردیوناگری رسم الخط جاری کیاجائے اوراردوزبان کوموقوف کیاجائے۔یہ پہلاموقعہ تھاجب سرسیدؔنے بھانپ لیاکہ اب ہندوئوںاورمسلمانوں کابطورایک قوم کے ساتھ ساتھ چلنامشکل ہوگیاہے۔مولاناحالیؔ،سرسیدؔ کے حوالے سے لکھتے ہیں:ــ’’انہی دنوںجب یہ چرچابنارس میںپھیلا،ایک روزمسٹرشیکسپئیرؔسے ،جواس وقت بنارس میںکمشنرتھے،میںمسلمانوں کی

تازہ ترین