تازہ ترین

ائمہ مساجد بھی انسان ہیں

یہ تو ہر مسلمان کو معلوم ہے کہ خودکشی کرنا حرام ہے لیکن اس کے باوجود بھی خودکشی کا رجحان بڑھتا ہی جارہا ہے ،آئے دن لوگ خودکشی کررہے ہیں۔ جب تک لوگ عاشق و معشوق کی خودکشی کی خبر اخباروں میں پڑھتے تھے تو طنز و مزاح پر مبنی تبصرہ کرتے تھے، ہنستے بھی تھے، ہنساتے بھی تھے مگر خودکشی کے بڑھتے واقعات نے آج وہ صورتحال پیدا کردی کہ قوم مسلم کو خون کے آنسو رونے کا وقت آگیا، خود اپنی غیرت کو للکارنے کا وقت آگیا اور خودکشی کو روکنے کے لئے میدان میں اترنے کا وقت آگیا، وہ بھی تقریروں کے ذریعے نہیں بلکہ عملی طور پر قدم بڑھانے کا وقت آگیا کیونکہ اب وہ طبقہ خودکشی کرنے لگا ،جس کے سر ذمہ داری ہے کہ وہ محراب و منبر سے ہر طرح کے حرام کاموں سے بچنے کا پیغام دے یعنی ائمہ مساجد بھی خودکشی کرنے لگے اور ظاہر بات ہے کہ کوئی خوشی میں سرشار ہوکر خودکشی نہیں کرتا ہے بلکہ اپنی ناکامی سے تنگ آکر، غریبی و تنگد

غریبوں کے لئے مخصوص راشن کہاں جاتا ہے؟

 یہ امر بخوبی واضح ہے کہ خوراک انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ایک اہم ضرورت ہے کیونکہ بغیر خوراک کے انسان کا زندہ رہنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے۔ یہ بات بھی ہر شخص جانتا ہے کہ ہمارے ملک میں لاکھوں ایسے لوگ ہیں جنہیں دو وقت کی روٹی مشکل سے میسر ہوتی ہے اور بعض اوقات ان میں سےبیشتر لوگوں کو ایک وقت کی روٹی بھی مہیا نہیں ہوتی اور وہ ایک ایک نوالے کے لئے ترستے رہتے ہیں۔ انہی لوگوں کو مد نظر رکھتے ہوے حکومت نے بہت ساری اسکیمیں لاگو کی ہیں تاکہ ان غریب لوگوں کو کھانا میسر کیا جا سکے۔ انہی اسکیموں میں بی پی ایل بھی ایک زمرہ ہے، جس کے اندر فقط ان کوگوں کو رکھا گیا ہے جو نہایت غریب ہیں یعنی خط ِافلاس سے نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں۔  دوسری طرف اگر کویڈ۔19 جیسی عالمی وبا نے بھی تو عام لوگوں کا بالخصوص غریب طبقے کا روزگار پچھلے دو برسوںبُری طرح متاثر کردیا ہے۔ بے شمار لوگوں کے لئے جسم

نگہتؔ کا شعری مجموعہ "زرد پنکی ڈیر" صدائے نسواں کی ترجمان

آج میرے ہاتھوں میں ایک ایسا شعری مجموعہ ہے کہ جس کی جتنی بھی تعریفیں کی جائیں کم پڑیں گی۔جی ہاں! اس شعری مجموعہ کا نام "زرد پنکی ڈیر"ہے یہ تخلیق ایک نہایت ہی قابل، ہونہار اور بہترین شاعرہ نگہت صاحبہ کی ہے ۔میری ملاقات نگہت صاحبہ سے کورونا وبا میں "زُوم ایپ " کے ذریعے ایک مشاعرے میںہوا مشاعرہ کا اہتمام کأشُر قلم نے کیا تھا جس میں انہوں نے اپنی میٹھی آواز میں ہمیں ایک غزل سے نوازا تھا، اسی وقت مجھے اشتیاق ہوا کہ میں اس کے کلام کا مطالعہ ضرور کروں ،پھر کتاب منگوا لی اور ماشاءاللہ کتاب بہت ہی معنی خیز ہے۔کتاب میں غزلیں اور نظمیں نہایت ہی دلچسپ اور خوبصورت پیرائے میں پیش کی گئی ہیں۔ نگہت صاحبہ کے اس مجموعے کو 2017میں ساہتیہ اکیڈمی کے ایوارڈ " یُووا پرسکار "سے نوازا جاچکا ہے اور آپ کی اردو شاعری کو 2014میں اکبر جے پوری ایوارڈ اور 2018میں ملیکہ سین گپتا ایوار

دبستان کشمیر کے درخشاں ستارے

 دنیا اس کام کی ستائش ضرور کرتی ہے جو اشتیاق ، کامل توجہ ،دیدہ ریزی ، اور والہانہ پن سے کیا جائے۔شوق اور لگن کے ساتھ ساتھ فن پر بھی مکمل گرفت ہونی چاہیے، جب ہی ایک تخلیق کار کی تخلیق صدیوں تک زندہ رہتی ہے۔یہ امر بھی ذہن میں رہے کہ کوئی بھی تخلیق کار اس کوشش میں ہوتا ہے کہ وہ جو کچھ بھی تخلیق کرتا ہے، اس کو شہرت اور دوام ملے۔جس تخلیق میں کچھ انوکھا اور نیا ہو، جو پرکشش اور خوبصورت ہو،پُر تاثیر ہو اور جو اپنی طرف متوجہ کرنے کی طاقت رکھتی ہو ،وہی زندہ رہتی ہے۔ وادی کشمیر میں ایسے تخلیق کاروں کی کمی نہیں جنہوں نے ایسی یادگار تخلیقات چھوڑی ہیں، جن میں یہ خصوصیات پائی جاتی ہیں کہ وہ خود کو صدیوں تک زندہ رکھ پائے گی۔ایسا ہی ایک منفرد اور کنہہ مشق ادیب ڈاکٹر اشرف آثاری ہے۔ جن کی تخلیقات اس قابل ہیں کہ وہ قارئین کے ایک وسیع حلقے کو متاثر کرنے کی قوت رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر اشرف آثاری

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی!

مفکر اسلام علامہ اقبال نے آج سے تقریبا صدی قبل جو پیشگوئی کی ہے وہ پوری ہو رہی ہے۔ علامہ نےیہ نظم 1907ء میں لکھی تھی ،جب وہ مغرب سے واپس آئے تھے۔ علامہ کے مطابق مغرب نے عقل سے مستعار نظام دنیا میں متعارف کرائے۔لیکن اکیسوی صدی کی دہلیز پر اب علامہ کی پیشگوئیوں کے مطابق اس تہذیب کاخاتمہ ہونے جا رہا ہے۔اس تہذیب کی بنیاد مادیت پر ہے۔سکیولر (secular)تہذیب نے انسان کو روحانیت سے محروم کردیا ہے۔علامہ اقبال نے 1910 میں خود نوشت کے اقتصابات کی تحریروں میں یہ بھی لکھا ہے کہ فرشتوں کی طرف سے ہی خوشخبری ملی ہے کہ سفینۂ مغرب اب غرقاب ہونےکو ہے۔علامہ کے مطابق مسلمانوں کی سینس(science)خداآشنا تھی لیکن اہل مغرب جس طرح الحاد، زندیقیت اور لامذہبیت کا شکار ہے،اُسی طرح ان کی سینس(حِس) بھی خدا بے زاری سے آلودہ ہے۔مغربی اہل علم دانشور سینسی ترقیات سے مرعوب ہوئے،لیکن مشرقی مفکرین اس طرح کےذہنی دباو

صادقہ نواب سحر کے ناول ـ’’جس دن سے ‘‘کا تجزیاتی مطالعہ

اردو خواتین قلم کاروں میں کئی خواتین قلم کار ایسی گزری ہیں جو نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الا قوامی سطح پر بھی اپنی اہمیت منوا چکی ہے ۔ایسے ہی تخلیق کاروں میں صادقہ نواب سحر کا نام بھی لیا جاتا ہے ۔انہوں نے اردو ادب کے تئیں اپنی قابلِ قدر خدمات انجام دے کر اپنا نام سنہرے حروف میں لکھوایا۔یا ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اردو ادب کو جن تخلیق کاروں پر ہمیشہ ناز رہے گا اُن میں صادقہ نواب سحر کا نام بھی شامل ہے۔دراصل کسی بھی میدان میں قدم رکھنا کمال نہیں ہوتا ،اصل کمال تو یہ ہوتا ہے کہ اُس میدان میں اُتر کر کیسے ایک انسان اپنی محنت اور لگن سے محور بن کر میدان میں ٹکا رہے ۔ہر میدان کی طرح اُردو ادب کے میدان میں بھی کئی ایسی شخصیات سامنے آئیں، جنہوں نے محض چند گوشوں سے متعلق خامہ فرسائی کر کے اپنے آپ کو اردو ادب سے وابستہ تو کر لیا لیکن تادیر اس میدان میں خود کو ایک فعال شخصیت کے طور پر نہ رک

۔26؍ نومبر ’’یومِ آئین ‘‘

26؍ نومبر آزاد ہندوستان کی تاریخ کا وہ یادگار دن ہے جب کہ اسی تاریخ کو 1949میں معمارانِ قوم نے ایک نئے دستور کو اپنایا تھا۔ ملک کی آزادی سے ایک سال پہلے ہی دستور ساز اسمبلی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ بہت جلد آزاد ہونے والے ملک کے لئے  ایک ایسا دستور مدوّن کرے جو اس ملک کے تمام طبقات کی آرزوؤں اور تمنّاؤں کی ترجمانی کرے۔ چناچہ دستو ر سازر اسمبلی (Constituent Assembly)نے ڈاکٹر بھیم راؤ امیڈکر کی قیادت میں ایک مسودہ ساز کمیٹی Drafting  Committee تشکیل دی۔ اس کمیٹی نے 2سال، 11 مہینے اور 18دن کی شبانہ روز مشقت کے بعد دستور کا مسودّہ تیار کیا ۔ دستور کے اس مسودے پر کافی مباحث ہوئے اور مختلف ترمیمات کے بعد دستور اسمبلی نے 26؍ نومبر 1949کو یہ دستور منظور کرلیا۔ اسی کی یاد میں ہر سال 26؍ نومبر کو ’’یوم دستور/یوم آ ئین /یوم قانون ‘‘کے طور پر منای

تجارت و معیشت اور کسبِ حلال

ارشادِ ربّانی ہے: اور ہم نے اسی زمین میں تمہارے لئے روزی کے سامان بنائے ہیں اور ان کے لئے بھی جنہیں تم روزی نہیں دیتے ہو (بلکہ ہم ہی انہیں روزی دیتے ہیں) (سورۃ الحجر)اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ہر جاندار کی روزی رزق اللہ تعالیٰ ہی دینے ولا ہے۔ غور کا مقام ہے کہ اللہ تعالیٰ کس کس انداز میں اپنی مخلوقات کی روزی کا بندوبست کرتا ہے۔  چرند پرند کو دیکھیں کہ رب تعالیٰ کس طرح انہیں رزق پہنچاتا ہے چوپایوں کو دیکھیں جو ہمارے لیے پیدا کئے گئے انہیں بھی اللہ ہی رزق دیتا ہے، اسی طرح جنگلی درندے اور کیڑے مکوڑے حشرات الارض ہیں وہ کہاں سے اپنی روزی حاصل کرتے ہیں، سب کے سب اللہ ہی سے رزق پاتے اور زندہ رہتے ہیں۔ تو پھرکیا اللہ تعالیٰ اپنی حسین ترین مخلوق جسے اس نے اشرف المخلوقات بنایا ،اسے بے یار و مددگار چھوڑ دے گا ۔نہیں ! ہر گز نہیں، بلکہ انسان کے لئے بھی اس نے بے پناہ ذرائع وسائل تخلیق ف

تعلیم اور تعمیرِ معاشرہ!

خالق کائنات نے حضرت انسان کو باقی مخلوقات میں جو امتیاز عطا فرمایا ہے وہ بہترین ساخت (احسن التقویم) کے ساتھ ساتھ علم حاصل کرنے کی وہ صلاحیت ہے ،جو اسے اپنے آپ سے، اپنی خارجی دنیا سے اور حقیقت اعلی سے متعلق آگہی عطا کرتی ہے۔ یہی آگہی انسان کو دانشمند بنادیتی ہے اور اسے دنیا میں بحیثیت انسان اپنا تفوق اور امتیاز قائم رکھنے میں معاون ہوتی ہے۔ انسانیت کے لئے یہ علم کی اہمیت اور ضرورت ہی ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے علم، بنیادی ذریعہ علم (قلم) اور بیان (نطق) کی نسبت اپنے ساتھ کی ہے اور اس کو انسانیت پر اپنے احسان کے طور پر گنا ہے۔ عقلی، اخلاقی اور جمالیاتی وجود ہونے کی وجہ سے انسان کو جو ارتقائی منازل طے کرنا تھیں، ان کے حصول کے لئے اس کو تدریجی طور پر ایک ایسا معاشرہ قائم کرنے کی ضرورت تھی جو اس کے وجود کی تمام جہتوں کو اپنے اندر جگہ دینے کی اہلیت رکھتا۔ ساتھ ساتھ اس معاشرے کے اند

ہم اپنا محاسبہ کیوں نہیں کرپاتے ؟

یہ حقیقت بالکل عیاں ہے کہ جوانسان اپنے اندرون کو جھانکتا ہے، وہ بہت کچھ پاتا ہے۔ ہم اس کو نہ صرف مذہبی لحاظ سے بلکہ سائنسی لحاظ سے بھی سمجھ سکتے ہیں۔ایک انسان خلیات میں بنا ہوا ہےاور انہی خلیوں میں انسان کی ساری حقیقت پنہاں ہے۔گویا اس مادے کے چھوٹے چھوٹے ذرات وہ سارا علم رکھتے ہیں، جو آسمان کو چھونے والی ایک عمارت رکھتی ہے۔جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ گہرا مشاہدہ انتہائی ضروری ہے۔ ایک بلندو بالا عمارت کا راز اگر ایک چھوٹے سے ذرے میں مقید ہے، تو اِدھر اُدھر دیکھنے کی کیا ضرورت ہےجبکہ انسان ہی سب کچھ ہے۔ اس کو اگر دوسرے انداز میں سمجھا جائے تو خالق کو دیکھنا ہو، تو انسان کو دیکھو۔ اِس سے اُس مالک کی پہچان ہوگی،جس نے اس کی تخلیق کی ہے۔ چنانچہ خالق نے ہی اِس دنیا میں بدی کو بھی بنا کر ایک انسان کو اعلیٰ اشرف بننے کی گنجائش رکھی ہے۔ خوبصورت دنیا میں بدی کا عنصر رکھ کر ایک خوبصورت انسان م

ذہنی دباؤ کا کیسے مقابلہ کیا جائے؟

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ اسٹریس یا ذہنی دباؤ ہماری زندگیوں پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ البتہ اکثر لوگ اسے عارضی نفسیاتی خلل تصور کرتے ہوئے نظرانداز کردیتے ہیں۔ ذہنی دباؤ ہماری کوئی بھی کام انجام دینے کی صلاحیت کو متاثر کرنے کے علاوہ ہماری خوش و خرم اور صحت مند زندگی گزارنے کی استعداد بھی کم کرنے کا باعث بنتا ہے۔ جب آپ ذہنی دباؤ کا شکار ہوتی ہیں تو آپ ہر قدم پر خود کو نہ صرف بیمار اور بدمزاج محسوس کرتی ہیں بلکہ آپ کو غصہ بھی زیادہ آتا ہے۔ تھکادینے والے روزمرہ معمولات اور حد سے زیادہ ذمہ داریاںاس صورتحال کو مزید گھمبیر بنادیتی ہیں۔ ایسے میں یہ انتہائی ضروری ہوجاتا ہے کہ آپ زندگی گزارنے کے لیے ایسا راستہ اپنائیں، جس پر چلتے ہوئے آپ اپنے اسٹریس یا ذہنی دباؤ میں کمی لاسکیں۔ آج ہم آپ کے ساتھ کچھ مفید مشورے شیئر کررہے ہیں، جن پر عمل پیرا ہوکر آپ اپنی مصروف زندگی میں خود کو ذ

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

ایک سروے رپورٹ کے مطابق آج ہندوستان میں 14 ملین بچہ مزدور ہیں جو سماج کے ماتھے پر کلنک ہیں۔ ہندوسان نظام معیشت ایسا ہے جہاں ایک طرف رئیسوں کا ایک بڑا طبقہ ہے تو دوسری جانب بیشتر لوگ خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ آج ہندوستان میں غریبی، ناخواندگی، بچہ مزدوری، دہشت گردی اور بدعنوانی کا راج ہے۔ایسے بے شمار علاقے ہیںجہاں، 12 سال کے کم عمر بچے زر دوزی، کاغذ کے ڈبے، جوتے چپل بنانے والے کارخانوں، ہوٹلوں میں کم اجرت اور کم تنخواہ پر کام کرتے ہیں۔ کام ٹھیک ڈھنگ سے نہ کرنے پر مالکان کی طرف سے مار پڑتی ہے۔ 6 سے 7سال کے بچے بس اور ٹرام میں چاکلیٹ اور ٹافی فروخت کرتے نظرآتے ہیں۔ ان معصوم نونہالوں میں اور ان کے والدین میں تعلیم کے تحت شعوری بیداری نہیں ہے۔ لہٰذا ان بچوں کا مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔ بچوں کا ایک گروپ وہ ہے جن کے سر سے بد قسمتی سے والدین کا سایہ عالم طفلی میں اٹھ جاتا ہے

بچے ۔ قوم کا اہم ترین اثاثہ !

اُڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوائوں میں  پھر لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے    بلا شبہ دنیا میں ہر سال بیس نومبر کو یومِ اطفال یعنی بچوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کی شروعات 1954 میں UNICEF یعنی یونائٹڈ نیشنس انٹرنیشنل چلڈرنس ایمرجنسی فینڈ نے عالمی یوم اطفال منا کر کی تھی اور اس دن کو انٹرنیشنل یونین فار چلڈرن ویلفیر کے تحت منایا گیا ۔یومِ اطفال کو بچوں کی عید بھی کہا جاتا ہے،اس دن کا مقصد بچوں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کے حقوق کے بارے میں آگاہی کو عام کرنا ہے ۔بھارت میں یہ دن ہر سال 14 نومبر کو منایا جاتا ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ 14 نومبر بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کا یوم پیدائش ہے ۔بھارت کے یوم اطفال اور جواہر لعل نہرو کا براہ راست تعلق ہے کیونکہ جواہر لعل نہرو کو بچوں سے بے حد محبت تھی اور وہ بچوں کی بہبودی کے لیے ک

ایک دوسرے کی اصلاح ضروری

ادب اور آداب میں امت مرحومہ کی صاف گوئی اور بے باکی تباہ ہوگئی۔آج ہر شخص زبانی ریا کاری میں محو ہو کردینی حقیقت سے کوسوں دور ہو چکا ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:مومن مومن کاآئینہ ہے ۔ یہ حدیث بڑی ہی مختصر مگربہت ہی جامع ہے،اَللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِس حدیث میں ایک مؤمن کو دوسرے مؤمن کے لیے آئینہ کے مانند قرار دیاہے۔ ایک شخص جب آئینے کے سامنے کھڑاہوتاہے اوراپنے چہرے پرکوئی گندگی دیکھتا ہے، تووہ قطعاََگوارانہیں کرتاکہ وہ اپنے چہرے پرپلیدگی باقی رکھے بلکہ وہ اُسے فوراً زائل کرتا ہے۔ ایک مومن کوبھی چاہیے کہ جب وہ کسی مؤمن کے اندرکوئی کمی دیکھے تواسے اپنا آئینہ سمجھتے ہوئے اس کی کمی کواپنی کمی سمجھے اوراسے زائل کرنے کی فوراًکوشش کرے۔آئینہ کے سامنے ایک فقیر کھڑاہویابادشاہِ وقت،وہ کسی سے نہیں ڈرتا

سیاسی روّیے اور سماجی قدریں !

میں مدت دراز سے کچھ طاقتیں مسلمانوں کو کچلنے اور اسلام کو بدنام کرنے کے لیے کوشاں ہیں ۔یہ سلسلہ کانگریس کے آخری عہد ِحکومت سے شروع ہوا اور اب موجودہ  دورِ اقتدار میں ان کوششوں نے تحریک کی صورت اختیار کرلی ہے ۔ابتدائی طورپر پردۂ سیمیں کو مسلمانوں کے خلاف نوجوان نسل کے دل و دماغ میں نفرت کا زہر بھرنے کے لیے استعمال کیا گیا ۔1990ء کے بعد زیادہ تر فلموں میں بدمعاش ،مافیا اور دہشت گردوں کے کردار مسلمانوں پر مبنی ہوتے تھے ۔ زیادہ تر فلمیں جو ’وطن پرستی ‘ کے جذبات پر مبنی ہوتی تھیں ،ان میں مسلمانوں کو ’وطن مخالف‘ اور’ غدار‘ کی طرح پیش کیا جانے لگا ۔اگرچہ حقیقت پرست ایسے فنکا ر بھی تھے جنہوں نے اس سازش کو سمجھا اور حقیقت پر مبنی فلموں کو فروغ دے کر فلموں میں فرقہ وارانہ فسادات کی حقیقت کو بے نقاب کیا گیا ۔لیکن اس کے باوجود فلموں میں مسلمانوں کی کردار

کامیاب زندگی کا راز !

کامیابی کے لیے دو چیزوں سے محبت لازم ہے ایک منزل سے اور دوسرا منزل پر لے جانے والے رہبر و رہنما یعنی استاد ۔ دنیا کے تمام کاریگروں کے ہنر کو سلام، مگر وہ کاریگر عظیم ہے جو مزید ایسے کاریگر پیدا کرے جو فن اور ہنر کو زندہ رکھیں ۔ ایسے کاریگر کو استاد کہتے ہیں۔ استاد بنیاد میں لگا پتھر ہوتا ہے،جس پر عمارت کھڑی ہوتی ہے ۔ ہم گنبد دیکھ کر متاثر ہوتے ہیں، مگر بنیاد کا پتھر ہمیں نظر نہیں آتا ۔ منزل اور منزل پر لے جانے والے سے محبت جتنی خالص ہو گی کامیابی اتنی ہی کامل ہو گی ۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا،’’ جس نے مجھے ایک حرف بھی بتایا میں اسے اُستادکا درجہ دیتاہوں‘‘۔ ایک دفعہ ہارون الرشید نے ایک نابینا عالم کی دعوت کی اور خود ان کے ہاتھ دھلانے لگے۔اس دوران عالم سے پوچھا،آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے ہاتھوں پر پانی کون ڈال رہا ہے۔عالم نے نفی میں جواب دیا۔ اس پر ہارون الرشید نے

پیشہ ورانہ ساکھ کیسے قائم کی جائے؟

چاہے ذاتی زندگی ہو یا پیشہ ورانہ، پرسنل برانڈنگ ہم سب کے لیے ایک بڑا اثاثہ ہوتا ہے۔ پرسنل برانڈنگ کی بنیاد آپ کی ساکھ (جسے انگریزی میں ہم ریپیوٹیشن کہتے ہیں) پر ہوتی ہے۔ پیشہ ورانہ زندگی میں آگے بڑھنے اور ترقی پانے کا دارومدار اسی بات پر ہوتا ہے، یعنی اگر آپ کی ساکھ اچھی ہے، آپ سینئرز کو اپنی صلاحیتیں دکھاچکے ہیں اور وہ آپ کی صلاحیتوں کےمعترف ہیں، تو ایسے میں اس بات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں کہ آپ کی صلاحیتوں سے میل کھاتے پروجیکٹس اور اسائنمنٹس کسی اور کو دینے کے بجائے آپ کو ہی دیے جائیں گے۔ اس طرح مسابقت کے اس دور میں آپ اپنے حریفوں سے آگے رہتے ہیں۔ ہارورڈ بزنس رِیویو اور سینٹر فار ٹیلنٹ انوویشن کی سِلوِیا این ہیولِٹ کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ ’پرسنل برانڈ‘ بنانے والی خواتین کے اپنی ہم عصر دیگر پروفیشنل خواتین کے مقابلے میں ترقی پانے کے امکانات 23فیصد زیاد

اندازِ گفتگو اور لب و لہجہ !

انداز گفتگو اور لب و لہجہ ہماری معاشرتی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ روز مرہ معمولات کا مشاہدہ کریں توصبح سے شام تک ہم مختلف مَقامات پر مختلف لوگوں سے بات چیت کرتے ہیں اورمختلف قسم کی گفتگو اور لب ولہجے سنتے ہیں ۔ کوئی انتہائی نرم اور شائستہ گفتگو کرتا تو کوئی تلخ لہجے میں کرخت گفتگو کرتا۔ یہ انداز نوجوانوں میں کچھ زیادہ ہی نظر آرہا ہے ۔اُن کی بات چیت کا انداز ہی الگ ہے، نہ بات میں وزن نہ لہجے میں ٹہراؤ، نہ موقعہ محل کا لحاظ۔ نوجوان ذرا اپنے اندازِ گفتگو پر غور کریں ، ایسے بات کریں کہ مخاطب سُن کر بے اختیار آپ کا گرویدہ ہوجائے اور آپ سے دوبارہ بھی ملاقات کا خواہش مند ہو۔لیکن اس کے برعکس اگر وہی بات کرخت لہجے ، اکھڑ پن، نامناسب انداز میں کریں گےتو سننے والے کے دماغ پر ہتھوڑا بن کر برسے گی اور سننے والے پر آپ کا تاثر غلط پڑے گا۔ یونان کے عظیم فلسفی نے ہزاروں سال قبل گفتگو کے تی

امریکہ ۔چین تعلقات ،نئی توقعات

امریکی اور چینی صدور کے درمیان ورچول ملاقات میں کوئی نئی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔ تاہم ملاقات سے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے سے چند ایک عالمی مسائل پر دونوں ملک اتفاقِ رائے قائم کرنے پر راضی نظر آئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے امریکی صدر جوبائیڈن اور چینی صدر زی جنپنگ کے درمیان ورچول ملاقات میں ایک طریقے سے دونوں رہنماؤں نے اپنے دل کی بھڑاس نکالی تاہم ماحولیاتی تبدیلی کے علاوہ کسی اور موضوع پر اتفاقِ رائے قائم ہوتا نظر نہیں آیا۔ اپنے دفاع میں امریکی وزارتِ خارجہ اور وہائٹ ہاؤس کے حکام کے بقول ملاقات کسی خاص مقصد کو حاصل کرنے کے لیے طلب نہیں کی گئی تھی بلکہ اس کا مقصد ان موضوعات کی نشان دہی کرنے کے علاوہ، جو کہ دونوں ملکوں کے درمیان پائے جاتے ہیں، انھیں کس طرح بامعنی طریقوں سے حل کیا جاسکتا ہے اس بارے میں تبادلہ خیال کرنا اور اعلیٰ سطح پر مذاکرات شروع کرنا مقص

تکنیکی غلطی کی سزاغریبوں کو کیوں ملتی ہے؟

سرکار مرکزی ہو یا ریاستی،سرکاریںقانون سازی کے تحت عوام کی فلاح و بہبود ،خوشحالی اورراحت رسانی کے لئے ہر ممکن کوشاں رہتی ہیں اور اسی مقصد کے تحت مختلف قسم کی فلاحی اسکیمیں ترتیب دی جاتی ہیںجن سے زمین پر رہنے والے پسماندہ ، غریب اور بے سہارا باشندوں کے درپیش مشکلات و مسائل دور ہوسکیں اور انہیں کسی نہ کسی طرح سے سہولت اور راحت فراہم ہوسکیں۔سال 2014 میں جب بھاری بارشوں کے کارن جموں کشمیر کے مختلف علاقوں میں زمین کھسکنے، سیلابی صورت حال پیش آنے، رہائشی مکانات ڈہنے،تعمیرات کی چھتیں ٹوٹنےاور دیگر قسم کے مالی و جانی نقصانات سے لوگ دوچار ہوئے۔تواُس وقت کی ریاستی حکومت نے مرکزی حکومت سے متاثرہ لوگوں کی بحالی  کےلئے مالی ا مداد کی درخواست کی تھی۔چنانچہ جموں میں بھی بھاری بارشوں  نےکافی تباہی مچائی تھی اور مختلف طبقوں سے وابستہ لوگ نقصانات سے دوچار ہوئے تھے۔پھر جون 2015 میں سرکار نے ایک