تازہ ترین

عالمی یوم اوزون

اقوام متحدہ جنرل اسمبلی (UNGA) نے 1994ء کی اہم نشست میں ستمبرکی 16 تاریخ کو عالمی یوم تحفظ اوزون مقرر کیا ہے ۔ عالمی معاہدہ منٹریل پروٹوکول جس میں ایسے تمام مادہ جات کے بنانے اور در آمد کرنے پر روک لگا دی گئی ہے جو اوزون کے لئے نقصاندہ ہیں۔ سنہ 1987ء میں اسی کے بچاؤ کے لئے وجود میں لایا گیا ہے ۔عالمی یوم اوزون کا مقصد زمین پر رہنے والے انسانوں کے اندر ماحول کے تحفظ کے حوالے سے آگاہی پھیلانی مطلوب ہے ۔ اس روز عالمی سطح پر ماحول کے بچاؤ کے لئے مختلف قسم کے اقدامات اٹھانے کی سعی کی جاتی ہے ۔ لیکن اس کے بعد ہم ماحول کے بچاؤ کے لئے کس قدر متحرک رہتے ہیں اس سے ہم سبھی با خبر ہیں ۔ خالق کائنات کی آخری ہدایت کردہ کتاب قرآن کریم کی اگر بات کریں تو اس میں بھی لفظ ماحول صراحت کے ساتھ آیا ہے۔ یہاں لفظ ’’ ماحولہ ‘‘ (البقرہ ؛ ۱۷) کے اندر موجود ہے ۔یہ عربی لفظ '

مہورہ پاور ہائوس زنگ آلودہ صورتِ حال

وادی کشمیر میں بجلی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے والا جنوبی ایشیا کا ایک قدیم پن بجلی پاورپروجیکٹ جو’ مہورہ پاورہاوس‘ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ایک زمانے میں وادی کشمیر کیلئے بجلی کا واحد ذریعہ تھا لیکن یہ پاور ہاوس نظامت اور سیاست کی مارجھیلتے ہوئے پچھلے بیس سال سے ناکارہ پڑا ہے اور اس میں نصب کی گئی مشینری زنگ آلودہ پڑی ہوئی ہے اور یہ پاور ہاوس بہ زبان حال اپنی حالت زار بیاں کررہاہے ۔ اُونچے  اورسرسبز پہاڑوں کے دامن میں واقع اس پاور ہاوس کی سنگ بنیاد 11 مئی  1886   میں مہاراجہ رنبیر سنگھ اور جرمنی کے معروف انجئینر میجر ڈلین دی لیٹ بننیری نے ضلع بارہمولہ کے سرحدی قصبہ اوڑی کے مہورہ گائوں میں سرینگر مظفر آباد شہراہ پر ڈالی تھی ۔ اس پاور ہاوس سے فراہم کی جانے والی بجلی نے عوامی زندگی میں ا نقلاب لایاتھا اور مٹی کے دِیوں ،تیل خاکی کی چمنیوں ،لالٹینوں اور چ

’’اسلام کے قلعے۔دینی مدارس میں ترمیم اور اصلاح کی ضرورت‘‘ :چند تاثرات

دینی مدارس تعلیم و تدریس کا عنوان ہیں۔ ان کی اہمیت و افادیت کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ دینی مدرس کے نظام و نصاب میں اصلاح کی بہت گنجائش موجود ہے۔ بدقسمتی سے اس حوالہ سے ہمارے یہاں افراط و تفریط کی فضا غالب ہے۔ اہل دانش کی ایک تعداد مدارس کے انتفاع کی سرے سے قائل نہیں، دوسری جانب اہل علم و فضل کی ایک خاصی تعداد مدارس کے نظام و نصاب میں کسی قسم کی ترمیم و اصلاح سے انکاری ہے۔ اس افراط و تفریط کے ماحول میں صدائے اعتدال اگر نایاب نہیں تو کم یاب ضرور ہے۔ پروفیسر محسن عثمانی ندوی کی زیر نظر تصنیف ’’اسلام کے قلعے۔ دینی مدارس ترمیم اور اصلاح کی ضرورت‘‘اسی جادۂ اعتدال کی ایک کڑی ہے۔ مصنف خود ایک عظیم دینی مدرسہ کے فاضل ہیں۔انہوںنے نہایت درد مند دل سے دینی مدارس کی بعض کمیوں کی طرف اشارہ کیا ہے اور وہ دل سے چاہتے ہیں کہ دینی مدارس معاشرے میں پھر سے

رفیق و شفیق مخمورؔ کی یاد میں

مخمور حسین بدخشی داغِ مفارقت دے گیا ۔ وہاں چلا گیا جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا اور جہاں ہم سب کو جانا ہے ۔ مخمور اور میں ایک ساتھ پلے، بڑھے ، بچن ایک ساتھ گذارا اور جوانی میں ایک ساتھ قدم رکھا۔ میر محلہ ملارٹہ میں ہمارے رہائشی مکان آمنے سامنے تھے ۔ دونوں کے صحن جڑے ہوئے تھے، جنہیں ایک دیوار نے تقسیم کر رکھا تھا۔ دیوار کے بیچ میں ایک دروازہ تھا جو دن رات کھلا رہتا تھا۔ اسکول سے واپسی کے بعد ہمارا وقت ایک ساتھ گذرتا یہاں تک کہ شام ہوجاتی ۔ چھٹی کا پورا دن ہم ایک ساتھ گذارتے تھے۔ مخمور کے والد مرحوم عزیز الدین بدخشی اُس زمانے کے گریجویٹ تھے اور سرکاری ملازم ۔ حُقہ کے ساتھ خاص لگائو تھا اور اکثر و بیشتر انہیں حقے کے کَش لگاتے ہوئے دیکھا جاسکتا تھا ۔ بڑی باغ و بہار شخصیت کے مالک تھے ۔ اخبارات کا مطالعہ پابندی سے کیا کرتے تھے۔ ہم سب بشمول مخمور انہیں بھائی لالہ کہتے اور اُن کا سلوک بھی ہمار

دبستان کشمیر کے درخشاں ستارے۔۔۔۔۔ ڈاکٹر مشتاق احمد وانی

ہر فرد کے پاس کہنے کو ہزار باتیں ہوتی ہیں۔اگر وہ ادیب ہے تو ان باتوں اور قصوں کو وہ ادبی انداز میں بیان کرکے عمر جاوداں عطا کرتا ہے جو ادب کہلاتا ہے۔ادب میں اپنی سوچ و فکر ، احساسات و جذبات ،اپنے اور لوگوں کے مسائل کی ترجمانی کے ساتھ ساتھ کسی واقعہ پر  اپنا ردعمل اور مخصوص نقطہ نگاہ بھی بیان کیا جاتا ہے۔اپنی بات کو بیان کرنے کا وسیلہ کوئی افسانے کو بناتا ہے تو کوئی شاعری کے ذریعے اپنے خیالات کی تشہیر کرتا ہے۔بعض افراد متنوع اصناف کا سہارا لیتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے اور وہ ادب کے آسمان میں افسانے اور تنقیدی و تحقیقی مضامین کے پروں سے پرواز کرتے ہیں۔کچھ ادیب زود نویس ہوتے ہیں اور ادبی معیار کا خیال رکھتے ہوئے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر بہت کچھ تخلیق کرتے ہیں۔افسانے اور تنقید و تحقیق میں شہرت رکھنے والے ایسے ہی زود نویس ادیبوں میں ایک معتبر اور معز

کاش ہماری زندگی قرآن کی تفسیر ہوجائے

خالقِ کائنات انسان کو پُر خطر راہوں اور کفر و ضلالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکالنے کے لیے کچھ محبوب ہستیوں کو مبعوث فرماتا رہا تاکہ وہ انسان کو انسانیت کا درس دے سکیں۔ آپس میں اُخوت و محبت کا چراغ جلاکر اپنے پیدا کرنے والے معبودِ حقیقی سے بچھڑے بندوں کو قریب کرسکیں۔  چناں چہ خدا کا دستور رہا ہے کہ جب بھی اس نے کسی پیغمبر کو بھیجا تو اِسے گمراہوں کو راہِ راست پر لانے کے لیے کچھ نہ کچھ ایسے عاجز کن، انسانی عقل سے بعید دلائل و معجزات عطا کیے تاکہ انسان اُن کی طرف متوجہ ہوجائیں، اُن کی باتوں کو سننے لگیں اور ان کے پیغام کو قبول کرکے عہد کریں کہ ماضی سے ہٹ کر حال و مستبقل سنوار سکیں۔ لہٰذا جب بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تو فن سحر میں وہ کمال و معجزہ عطا فرمایا کہ بڑے بڑے جادوگروں کو شکست دے کر محو حیرت کردیاجس سے متاثر ہوکر وہ ایمان لانے پر مجبور ہوگئے۔&

سادگی اور سادہ طرزِ زندگی

آج معاشرے میں ڈپریشن، بے اطمینانی اور مسائل کا انبار صرف اس لیے ہے کہ ہماری تمنّائیں اور خواہشیںلامحدود ہیں۔ قناعت پسندی کا جذبہ مفقود ہے، عہدہ و منصب اور مال و دولت کی حرص و ہوس نے آدمی کو خواہشات کا غلام بنا دیا ہے، لیکن راحت اور سکون کوسوں دُور ہے۔ اس کی وجہ صرف اور صرف ایک ہے اور وہ ہے’’سادگی اور سادہ طرز زندگی‘‘سے گُریز۔معاشرے میں ایک دوسرے پر بڑائی کا اظہار کرنے، زیادہ سے زیادہ مال و متاع حاصل کرنے، دولت و ثروت کے انبار لگانے، حرص و ہوس اور بے جا تمنّائوں کی تکمیل کا یہی وہ قابلِ مذمّت عمل ہے، جو معاشرے میں بے اطمینانی،اعلیٰ انسانی اقدار اور مثالی تہذیبی اور اَخلاقی روایات کے زوال کا باعث بنتا اور نفرت و عداوت کو پروان چڑھاتا ہے ، درحقیقت یہی وہ مکروہ جذبہ ہے، جو چوری، ڈکیتی، قتل و غارت گری اور معاشرے میں دیگر جرائم کا باعث بنتا ہے۔  آنحضرت ﷺ ن

ماہِ صفر اور توہم پرستی

اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا: "اور تمہیں جو کوئی مصیبت پہنچتی ہے، وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کیے ہوئے کاموں کی وجہ سے پہنچتی ہے اور بہت سے کاموں سے تو وہ درگزر ہی کرتا ہے۔(سورۃ الشوریٰ) نحوست کا تعلق ہر گز کسی دن، وقت، تاریخ، مہینے یا سال سے نہیں ہوتا۔ کسی بھی انسان کا آزمائش میں مبتلا ہونا قانونِ قدرت ہے۔ وہ جو چاہے کرے، جسے جیسے چاہے آزمالے۔ کسی دن یا مہینے میں مصیبت نازل ہونے کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ اسے منحوس قرار دے دیا جائے۔ اسلامی سال کا دوسرا مہینہ صفر المظفرجاری و ساری ہے۔صفر کا مہینہ باقی دوسرے مہینوں کی طرح ہے۔اس مہینے میں آفات ومصائب نازل ہونے کا عقیدہ رکھنا غلط ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں اسے نحوست والا مہینہ سمجھا جاتا تھا، اس لیے وہ اس ماہ میں سفر کرنے سے گریز کیا کرتے تھے۔ حالاں کہ سرکارِ دوعالم ﷺ نے بہت ہی صاف اور واضح الفاظ میں اس مہینے اور اس مہینے کے حوالے

پُر فتن حالات میں نجات کا راستہ ۔ خدا بیزار زندگی سے توبہ!

ہم جس دور پُرفتن میں زندگی کے روز و شب بسر کر رہے ہیں، اس کی پیشین گوئی کرتے ہوئے کبھی اکبر الٰہ آبادی نے کہا تھا: یہ موجودہ طریقے راہیٔ ملک عدم ہوں گے نئی تہذیب ہوگی اور نئے سامان بہم ہوں گے نہ خاتونوں میں رہ جائے گی پردے کی یہ پابندی نہ ایسا پیچ زلفوں میں نہ گیسو میں یہ خم ہوں گے عقائد پر قیامت آئے گی ترمیم ملت سے نیا کعبہ بنے گا مغربی پتلے صنم ہوں گے حالیہ دنوں میں ملک کے طول و عرض میں پیش آنے والے روح فرسا واقعات اور مسلم لڑکیوں میں تیزی کے ساتھ پھیل رہے ارتداد کے اسباب پر غور کرتے ہوئے اچانک ہی مذکورہ اشعار ذہن کے پردے پر رقص کرنے لگے۔ جس وقت کبر نے یہ اشعار کہے تھے، خود انہیں بھی یہ اندازہ نہیں ہوگا کہ قوم مسلم کی غیرت کا جنازہ اس طرح نکلے گا۔ یہ واقعہ ہے کہ ہم نے دین رحمت اسلام کی مقدس تعلیمات کو اپنی زندگیوں سے نکال کر اپنی ذلت کا سامان خود ہی فرا

لَو جہاد کے بعد منشیاتی جہاد کا شوشہ

لیجیے جناب! اب ایک نیا شوشہ چھوڑ دیا گیا ہے۔ ابھی تک ہم لوگ لو جہاد ہی سنتے آئے تھے یا پھر ایک شرانگیز نام نہاد صحافی نے سول سروس جہاد کا شوشہ چھوڑا تھا، لیکن اب نشہ جہاد کا شوشہ چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ شوشہ ایک ایسے شخص نے چھوڑا ہے کہ اس مذہب اور منصب کے لوگوں سے ایسی توقع نہیں کی جا سکتی۔ اس الزام کے بعد کہ مسلمان غیر مسلموں کے خلاف نشہ جہاد چھیڑے ہوئے ہیں،سیاسی حدت بڑھ گئی ہے۔ حالانکہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اس الزام میں کتنی صداقت ہے یا اس کے پیچھے کسی سیاسی جماعت، تنظیم یا گروہ کا ہاتھ ہے لیکن اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوششیںشروع ہوگئی ہیں۔  کیرالہ کے ایک کیتھولک پادری جوزف کلارنگٹ نے کوٹایم ضلع کے ایک گرجا گھر میں خطاب کرتے ہوئے الزام عاید کیا کہ اس وقت کیرالہ میں دو قسم کا جہاد چل رہا ہے۔ ایک لو جہاد اور دوسرا نشہ جہادچل رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس نشہ جہاد کے ذریعے غیر م

بچوں کا مستقبل اور آن لائن تعلیم

کشمیر میں جب بھی کوئی انہونی صورتحال پیش آتی ہے تو سب سے پہلے تعلیمی اداروں کو بند کیا جاتا ہے ۔ہر نامساعدحالات چاہے وہ ہڑتال ہو، کرفیو ہو یا کوئی اور صورت حال, تعلیمی ادارے بند کرنا سب سے پہلا رد عمل ہوتا ہے ۔ ٢٠٠٨، ٢٠١٠ ،٢٠١٤ ، ٢٠١٦ ،٢٠١٩ ،٢٠٢٠ اور اب ٢٠٢١ میں کشمیر کے اسکول کبھی پورے تعلیمی سال، کچھ مہینے اور کبھی کبھی کئی کئی ہفتوں تک بند رہے ہیں ۔ اس دوران بچوں کو یا تو ماس پروموشن دے کر کامیاب کیا گیا یا نصاب میں بے انتہا کمی کر کے امتحانات لئے گئے جس سے بچوں کی پڑھنے، سیکھنے کی صلاحیتوں پر بہت ہی برا اثر پڑا ۔٢٠١٩ کے بند کے بعد مشکل سے مارچ ٢٠٢٠ کے دوسرے ہفتے میں تعلیمی ادارے کھول دئے گئے تھے لیکن بد قسمتی سے مارچ مہینے کی اکیس تاریخ سے ایک بار پھر کورونا وائرس کی مہلک وباء کی وجہ سے تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند کردیئے گئے، یہاں تک کہ کوچنگ مراکز کو بھی بند کردیا گیا ۔ لاک

ڈاکٹرعزیزحاجنی ایک ہمہ جہت شخصیت

ڈاکٹر عزیز حاجنی ادبی مرکز کمراز کے روح رواں ۱۱ ستمبر کی رات اس دار فانی سے ابدی دنیا کی طرف کوچ کرگئے۔ ان کی وفات کشمیری زبان وادب کےلئے ایک دھچکا ہے،ان کے فوت ہونے پر ادبی و عوامی حلقوں نے افسوس کا اظہار توکیا مگر ان کی جگہ کو پُر کرنا محال ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے۔ڈاکٹر عزیز حاجنی دور حاضر کے ایک اعلیٰ پایہ کےشاعر، ادیب اور تنقید نگار تھے۔ آپ نے اپنی تمام تر زندگی کشمیری ادب اور زبان کےلئے صرف کی، آپ بچپن ہی سے ذہین اور ادبی صلاحیت کے مالک تھے ،آپ نے بی اے کرنے کے بعد کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ کشمیری سے ایم اے کشمیری کیا، جہاں ان کو گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ کئی سال تک محکمہ تعلیم میں بحیثیت استاد کام کیا اور بعد میں پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں پاس ہوکر ہائر سیکنڈری سطح کے لیکچرر تعینات کئے گئے۔ آپ نے اپنے کل فرائض منصبی میں بہت سی جگہوں پر کام کیا، اسی سلسلے میں کرگل میں بھی اپ

کتاب بینی کی عادت ڈالو

کھندل دانشور ایک اصطلاح ہے جو جموں و کشمیر کے دہلی کی جامعات میں زیر تعلیم طلباء کے علاوہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جموں یونیورسٹی اور غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی، راجوری کے طلباء میں کافی مقبولیت حاصل کر چکی ہے ۔ پانچ سال پہلے غالباً دو ہزار سترہ میں  میں نے اپنے فیس بُک ہینڈل سے جب یہ اصطلاح متعارف کرائی تو مجھے بھی اندازہ نہیں تھا کہ اس کو اتنا زیادہ پسند کیا جائے گا ۔ اب تو خیر پیر پنجال علاقے کے زیادہ تر ریسرچ اسکالرز نیز دیگر طلباء میں یہ لفظ ہر زبان زد عام ہے ۔ کسی کی بات کو رد کرنا ہو یا کسی پر تنقید سادھنا ہو تو ہو تو یہ لفظ بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے ۔ آج سوچا کہ اپنے کشمیر عظمیٰ کے قارئین بھی اس سے لطف اندوز ہوں ۔ کھندول لفظ دراصل کھندولیوں سے مستعار لیا ہے ۔ کھندولی پنجابی، گوجری اور پہاڑی میں بیڈ پر بچھانے والے بچھونے کو کہا جاتا ہے ۔ ایک کپڑا جس میں عموماً روئی بھر

کاروبار میں بہتری کیلئے سروے کا کردار

دورِ حاضر میں سروے کی اہمیت کو ہر سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی شعبے میں سروے کی اہمیت کو سمجھے بغیر تیزرفتار ترقی ممکن نہیں۔ اس سے ڈیٹا یا معلومات حاصل کی جاتی ہے اور پھر نتائج کو اخذ کیا جاتا ہے۔ یہ معلومات انسانوں، مصنوعات، خدمات غرض کسی بھی چیز یا موضوع سے متعلق ہو سکتی ہے۔ سروے کے ذریعے مختلف شعبوں میں ٹرینڈ کا پتا لگایا جاتا اور آگے چل کر حکمت عملی تیار کی جاتی ہے۔ وہ پیشہ ور افرادجو مختلف صنعتوں میں ڈیٹاڈیزائن یا جمع کرکے اس کی تشریح کرنے کا کام سرانجام دیتے ہیں ’’ماہرین شماریات‘‘ کہلاتے ہیں۔ شماریات کا استعمال سائنسی تحقیقاتی میدان مثلاً اکنامکس، میڈیسن، ایڈورٹائزنگ، ڈیموگرافی اور سائیکالوجی جیسے شعبوں میں عام ہے۔ کسٹمر سروے خاص طور پر صارفین کی کسی بھی مصنوعات کے بارے میں آراء پیش کرتے ہیں، جن کی بنیاد پر کمپنیاں اپنی مصنو

بوسنیا، گبوار ، وجی اور قاضی ناگ

جہاں کشمیر ی نوجوانوں کو مختلف مسائل درپیش ہیں وہی سب سے زیادہ پریشانی بے روزگاری کا بڑتا ہوا رحجان ہے۔تاریخ کشمیر میں قدیم زمانے سے ہی یہاں کے لوگ زیادہ تر مقامی وسائل کو استعمال کرتے تھے ، اور خود کفالت کے علاوہ کشمیری اپنا قیمتی سامان اس دنیا کے دیگر حصوں میںبرآمد کرتے تھے۔ مغل دور میں بادشاہوں اور شہنشاہوں کو کشمیر کی قدرتی خوبصورتی اتنا بھا گئی کہ انہوں نے پوری دنیا کے لوگوں کو کشمیر کی معیشت کو فروغ دینے کیلئے جاذب نظر اوردل کش باغات وپارکس بنائے۔ وادی میں اگر چہ بے شمار سیاحتی مقامات موجود ہیں جہاں پر دنیا بھر سے سیاح آکر لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن ایسے بھی کئی ایک خوبصورت جگہیں ہیں جو ابھی تک لوگوں کی نظروں سے اُوجل ہیں جن کو ترقی دینے کے بعد مقامی نوجوانوں کو روزگار مہیا کرنے کیلئے کافی صلاحیت موجود ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے آج تک ان قدرتی نظاروں کو منظر عام پر لانے کی کوئی کوشش نہ

جہیزاور بارات کا تصور،نقصانات اور حل

بھاری بھرکم بارات کا بوجھ  : آج کل شادیوں میں کئی کئی سو افراد کی بارات لیکر جانا عام بات ہے جس کا رہنے اور کھانے کا پورا انتظام لڑکی والوں کو کرنا ہوتا ہے۔بھاری بھرکم بارات کا تصور لڑکی والوں کے لیے خواہ مخواہ کا وہ ناروا بوجھ ہے جس کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ معاشرے کا وہ ناجائز رواج ہے جو لڑکی والوں کے لیے ایسا تصور ہے جس نے زمانہ جاہلیت کی طرح لڑکی کی پیدائش کو غم و اندوہ اور ماتم و شیون والی چیز بنادیا ہے جس کو اسلام نے آکر مٹایا تھا اور لڑکی کی پیدائش کو بھی اللہ کی نعمت قرار دیا تھا۔ بارات کے ناروا بوجھ اور دیگر رسم ورواج کے اغلال و سلاسل نے ایک اسلامی معاشرے کو دوبارہ قبل از اسلام کے جاہلی معاشرے میں تبدیل کر دیا ہے۔ اور قرآن کریم نے(سورہ النحل میں) اسلام کی نعمت سے محروم جاہلی معاشرے کی جو یہ کیفیت بیان کی ہے ۔ ترجمہ:’’جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی پیدا

صارفین کوروشنی کی تلاش !

کسی بھی ملک کی جمہوریت کا اندازہ وہاں کے مقیم لوگوں کی ترقی سے ظاہر ہوجاتا ہے کیونکہ جمہوری ملک میں پانی بجلی سڑک اور تعلیم و دیگر بنیادی ضروریات لوگوں کو فراہم کرنا حکومت کی عین ذمہ داری ہوتی ہے ۔ ہندوستان کے ایوانوں میں بھی ہر سال عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لئے کروڑوں روپے کے بجٹ کو منظوری دی جاتی ہے۔ جس سے عوام کو یقین ہوجاتا ہے کہ اُن کا مستقبل روشن ہونے جارہا ہے۔لیکن عوام تک یہ تمام سہولیات کیوں نہیں پہنچ پاتی ہیں ،ہر باریہ بات ایک سوال بن کر رہ جاتی ہے۔جہاں ایک طرف دنیا کے دوسرے ممالک چاند و سورج پر اپنی پکڑ بنا رہے ہیں وہیں ہمارے ملک میں لوگ بجلی,پانی جیسی بنیادی سہولت سے بھی محروم ہیں۔ اگرجموں کشمیر کی ہی بات کی جائے تو آبی وسائل کی فراوانی ہونے کی وجہ سے یہاں کثیر مقدار میں بجلی پیدا کی جاتی ہے،لیکن اس کے باوجود یہاں کے اکثر علاقوں میں بجلی نایاب  رہتی ہےاو

ماحولیاتی بحران اوراسلامی تعلیمات

دور حاضرکے جتنے سنگین مسائل ہیں، ان میں ایک اہم مسئلہ ماحولیات کاہےبلکہ یوںکہاجائے کہ یہ واحدایسا عالمی مسئلہ ہے، جس پر سب لوگوں کا اتفاق ہےتوبے جانہ ہوگا۔ اس مسئلہ کی وجہ سے نہ صرف انسانوں کی بلکہ کرہ ارض میںموجود تمام حیوانات ،نباتات و موجودات عالم کی بقا کا بھی انحصارہے۔یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا اس طرف متوجہ ہے۔آئے روز اس موضوع پر کانفرنسیںمنعقد ہوتی ہیں اور ممکنہ تدابیر پر غور و فکر کیا جاتا ہے لیکن مسئلہ جوں کا توں ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کائنات میں کثافت پیدا کرنے والی چیزیں پائی جاتی ہیں۔ جیسے پاخانہ، پیشاب، کوڑا کرکٹ، لیکن صنعتی ترقی نے کارخانوں سے نکلنے والے فضلات اور دیگر گیسزنے زمین پر’زیست‘کوگوناگوںمسائل کاشکاربنادیاہے۔ موٹرکاروں کی کثرت سے اگرچہ انسان کو راحت ملی ہے لیکن ہمیں ماحولیاتی بحران میں بھی مبتلا کیا ہے۔ ہر علاقے کا اپنا ایک’ اکو سسٹم‘ ہوت

’’سلطنتوں کا قبرستان ‘‘کے حکمران

افغانستان سے امریکی فوج کا انخلااکیسویں صدی کا وہ نا قابلِ فرمواش واقعہ ہے جس کے دور رس اثرات مستقبل میں عالمی سیاست پر ضرور پڑ نے والے ہیں۔ دنیا حیران ہے کہ آخر طالبان نے اتنی آ سانی سے افغانستان کو کیسے فتح کر لیا۔ گزشتہ مہینہ کی 15؍ تاریخ کو جب طا لبان نے افغانستان کے دارلحکومت کابل پر قبضہ کرلیا تھاتویہ اندیشے ظاہر کئے جا رہے تھے اس قبضہ کے بعد افغانستان میں خانہ جنگی چھڑ جا ئے گی۔ قتل و خون کا بازار گرم ہوگا۔ لیکن یہ سارے خدشات اور پیش گوئیاںتاحال غلط ثابت ہوگئیں۔ افغانی عوام نے طالبان کو خوش آ مدید کہا، حتیٰ کہ افغانی فوج بھی طالبان کے ساتھ ہو گئی۔ اس طرح بغیر کسی بڑے خون خرابے طالبان نے افغانستان کی باگ ڈور سنبھال لی۔ 15؍ اگست 2021کو ملی اس غیر معمولی کا میابی کے بعد طالبان نے اپنے آ پ کو دنیا سے منوانے کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے اعلانات کئے جس کی دنیا کو توقع ن

عظمتِ اُستاد اور ذمہ داریاں

ہم اُستاد کسے کہیں ،ہماری نظر میں استاد کون ہے ،کیا اُستاد ہم ہر ایک کو کہہ سکتےہیںاور اُستاد پر کون کون سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ؟یہ کچھ ایسے سوالات ہیں،جن کی طرف ہماری توجہ عام طور پر یومِ اُستاد کے موقعہ پر متوجہ ہوتی ہے۔اُستادی بس ایک ایسا پیشہ ہے جس کی وجہ سے اور بہت سارے پیشے وجود میں آتے ہیں۔دنیا میں جتنے بھی رشتے ہیں، ان سب میں سے مقدس رشتہ استاد اور شاگرد کا مانا جاتا ہے ۔دونوں رشتے اُس وقت تک ترقی نہیں کرتے جب تک دونوںا طراف سے ادب اور احترام اور محبت و شفقت نہ ہو۔ ؎ جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیں دنیامیں بہت سارے انسانی رشتے ہوتے ہیں، جن میں کچھ رشتے خون کے ہوتے ہیں اور کچھ روحانی رشتے ہوتے ہیں، ان ہی رشتوں میں سے ایک رشتہ اُستاد کا ہے۔ اسلام میں استاد کا رشتہ ماں باپ کے برابر ہے کیو نکہ یہ استاد ہی ہے جو والدین کے ب