تازہ ترین

جهانِ رنگ و بوُ۔۔۔!!!

ایک آواز جو مسّلسل کانوں سے ٹکرانے کے بعد  ہوا میں یوں تحلیّل ہو گئی جیسے کوئی اَن سنی اَن دیکھی آوازہو، جس کا کوئی وجود ہی نہیں ہو ۔ یہ کسی مخلوق کی آواز نہیں بلکہ میرے اندر بسے میرے وجود کی آواز تھی ۔ جو بار بار مجھے یہ باور کرانے کی ناکام کوشش کے بعد بھی یہی کہتے ہوئے میرے اندر کہیں دب کر رہ گئی۔ سنو ! میرے محسن یہ زندگی ایک درسِ فنا ہے۔ یہاں ہر زندہ چیز نے بوسیدہ ہو کر اپنے انجام کار کو پہچننا ہے۔ یہاں ہر ذّی روح کو موت کا مزّہ چکھنا ہے۔ فنّا ہمارا مقدّر ہے۔ یہاں کسی بھی شئے کو سوائے اللہ کے بَقا نہیں ہے۔  سنو ! موت ایک ایسی اَٹل حقیقت ہے جس سے کسی کو بھی انکار نہیں ہے ۔ لیکن نہ جانے میں سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی بالکل عدم واقفیت کا مظاہرہ کرتا رہا، ایسے جیسے میں زندگی کے انجام کار سے لاتعلق اور بے خبر تھا۔ ایسے جیسے مجھ پر اس مافوق الفطری آواز کا کوئی اثر

ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی و سماجی انارکی؟

ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے ملک کی موجودہ صورتحال ناگفتہ بہ ہے ۔مسلمانوں کے علاوہ دیگر طبقات کے لئے بھی حالات مناسب نہیں ہیں ۔فاشزم کے فروغ کے ساتھ مہنگائی بھی شباب پر ہے ۔ملک کی اقتصادیات دیوالیہ ہونے کو ہے اور حکومت خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے ۔ہر مسئلے کاحل صرف نفرت اور فرقہ پرستی میں تلاش کیا جارہاہے ۔ملک کو اقتصادی بحران سے نکالنے کے لئے کوئی مضبوط لایحۂ عمل نہیں ہے لیکن مسلمانوں کو دبانے اور کچلنے کے لئے منظم منصوبہ بندی کی جارہی ہے تاکہ ملک کے عوام کی توجہ اصل مسائل سے بھٹکائی جاسکے ۔اب وہ وقت آچکاہے جب ہندوستان کے مخلص افراد کو ملک کے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے ۔موجودہ سیاسی و سماجی جہت کیاہے اور اس کے کونسے عوامل سامنے آرہے ہیں ۔آزادی کے بعد پہلی بار ملک میں اس قدر انارکیت ،بین المذاہب نفرت ،طبقاتی کشمکش اور سیاسی قدروں کا زوال دیکھا گیا جس کی نظیر نہیں م

باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی اور خطۂ پیر پنچال !

جموں وکشمیر کے سرحدی خطہ جوپیر پنجال کے نام سے مشہور ہے، میںعظیم روحانی شخصیت باباغلام شاہ بادشاہ ؒسے منسوب راجوری یونیورسٹی کے قیام کو 2دہائیاں ہوچکی ہیں، اِس دوران ادارے نے ترقی کےکئی منازل طے کئے ہیں لیکن جس خطہ میں یہ ادارہ قائم ہے،اُس خطہ کے عوامی جذبات ومطالبہ کو مد نظر رکھتے ہوئے گذشتہ دنوں یونیورسٹی نے ایک اہم فیصلہ لیتے ہوئے دو بڑی علاقائی زبانوں پہاڑی اور گوجری میں پی جی کورس متعارف کرنے کا اعلان کیا۔ اِس فیصلے کی سرحدی اضلاع پونچھ ،راجوری کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر کے اطراف واکناف میں رہائش پذیر گوجری اور پہاڑی بولنے والوں نے سراہنا کی ہے، تاہم وہ تذبذب کا شکار ہیں کہ گوجری اور پہاڑی جوکہ دو الگ الگ زبانیں ہیں، میں مشترکہ پی جی کورس کا تصور کیسے قابل ِ عمل اور قبول ہوگا جبکہ ایسی کوئی مثال دوسری جگہ نہیں ملتی، جہاں دونوں مختلف زبانوں کو ایکساتھ ملا کر کوئی کورس شروع کیاگیا ہو۔

راجہ یوسف۔دبستان کشمیر کا مایہ ناز فنکار

 جموں کشمیر کے علاقہ مراز کی سر زمین شعر وادب کے لحاظ سے ہر دور میں زرخیز رہی ہے، جہاں کئی عظیم شخصیات ،جن میںلل عارفہ ،شیخ نور الدین ولیؒ ،محمود گامی ،سوچھ کرال ، عبدالرمان آزادوغیرہ قابل ذکر ہیں ، نے جنم لے کر اس سر زمین کا حق ادا کرکے اپنے خون جگر سے علم و ادب کے گلشن کی آبیاری کی ہے ۔ تصوف اور شعر و شاعری کے رنگ برنگے پھول کھلائے اور کشمیر کے علم و ادب کے باغ کو اپنے شیریں کلام سے معطر کردیاہے ۔ دور حاضر میں بھی یہاں کئی شخصیات فنون لطیفہ سے وابستہ رہ کر اپنے قلم کی جو لانیوں سے نام اور عزت کمارہے ہیں ۔ان میں ایک اہم نام راجہ یوسف ہے ۔راجہ یوسف کسی تعارف کے محتاج نہیں ،کشمیری اور اُردو دونوں زبانوں میں طبع آزمائی کرتے ہیں اور عصر حاضر کے ادبی منظر نامے میں اپنی گونا گوں تخلیقی صلاحیتوں سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر نام کما چکے ہیں ۔ان کا اصل نام محمد یوسف ہے ،ادبی حلقوں م

’’اردو تدریس فن اور جدید تقاضے‘‘

یوں تو ہر پیشہ اور شعبے کی رہنمائی کےلئے کسی نہ کسی کتاب کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس شعبے یا پیشے سے وابستہ افراد اپنے راستے سے بھٹک نہ جائیں ،اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس وقت کی ایک نوجوان قلمکار ڈاکٹر کہکشاں ظہور نےایک اہم اور پرمغز کتاب "اردو تدریس فن اور جدید تقاضے" شائع کرکے ایک اہم سنگ میل کو عبور کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ کی یہ کتاب ان نو آموز طالب علموں کے لئے بہت ہی اہم ہے، جو درس وتدریس کے شعبے کے یا کسی اہلیتی امتحان مثلاً نیٹ، سیٹ یا یو پی ایس سی وغیرہ میں حصّہ لینا چاہتے ہیں۔ ان کو اس کتاب کا مطالعہ کرنے سے بہت فائدہ ملے گا بلکہ توقعات سے بھی زیادہ۔ یہ کتاب اُن اساتذہ کےلئے بھی رہنمائی کرسکتی ہے جنہوں نے درس وتدریس کے شعبے میں نئے نئے قدم رکھے ہیں۔ اگرچہ یہ کتاب زیادہ ضخیم بھی نہیں ہے مگر انہوں نے اس کتاب کو بڑے ہی خوبصورت پیرائے میں پیش کیا ہے اور اس کتاب کا مطالعہ کر

ڈاکٹر گلزار احمد کی تصنیف

شاعرِ مشرق حضرت علامہ اقبال کا شمار عالمی شہرت یافتہ شاعروں میں ہوتا ہے ۔ڈاکٹر علامہ اقبالؒ نے اگر چہ ہندی اور فارسی زبان کی تقریباً ہر صنف میں طبع آزمائی کی ہے تاہم وہ نظم نگار کی حیثیت سے شاعری کے آسمان پر مثلِ آفتاب چمک رہے ہیں۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اُن کی شاعری کی نئی جہتیں اور نئے زاویے سامنے آتے رہتے ہیں۔ان کی شاعری پر اگر چہ بہت سارا کام ہوا ہے تاہم ابھی اور تحقیق اور کام کرنے کی ضرورت ہے اور گنجائش بھی موجود ہے۔زیر تبصرہ تصنیف بھی علامہ اقبال کی شاعری کے تخلیقی اور فکری زاویے کھوجنے کی کامیاب کوشش ہے جو کشمیر کے سپوت اور اقبال شناس ڈاکٹر گلزار احمد وانی نے انجام دیا ہے۔ مذکورہ تصنیف تین حصوں پر مشتمل ہے، پہلے حصے میں علامہ اقبال کی پانچ مشہور نظموں کا تجزیاتی جائزہ لیا گیا ہے۔ پہلی نظم "ذوق و شوق" ہے، ڈاکٹر گلزار احمد وانی اس نظم کے بارے میں لکھتے ہیں کہ بقول ڈا

سیرتِ رسول ؐ کا دعوتی پہلو

حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسی علیہ السلام تک جتنے انبیاء کرام علیھم السلام دنیا میں تشریف لائے، سب کی نبوت مخصوص علاقے یا مخصوص نسل تک محدود تھی۔یہ صرف نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاامتیاز ہے کہ آپ کی نبوت آفاقی اور عالمی ہے،جو علاقائیت یا مخصوص قومیت کی حد بندیوں سے ورا ہے۔ آپ ؐکا فیضان تا قیامت جاری رہنے والا ہے اور آپؐ کی امت آخری امت ہے۔بحیثیت رسول قرآن مجید میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پانچ اوصاف بیان کیے گئے ہیں: آپؐ (نوعِ انسانی پر) گواہ ہیں۔آپؐ بشارت دینے والے ہیں۔آپ ؐڈرانے والے ہیں۔آپ ؐاللہ کی طرف بلانے والے ہیں۔آپؐ چراغِ روشن ہیں۔  ان پانچ الفاظ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا مقصد بعثت اس طرح سمٹ آیا ہے، جیسے دریا کو کوزے میں بند کر دیا گیاہو۔ ان پانچ الفاظ میں سے ہر لفظ مطالب و مفاہیم کی وسیع دنیا اپنے دامن میں سمیٹ

سرکارِ دو جہاں ؐ سے عقیدت و محبت

بندۂ مومن کا دل محبت ِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سرشار ہونا، لازمی اور فطری بات ہے، اور یہ محبت علیٰ وجہ الاتم تمام مادی نسبتوں اور چیزوں سے بڑھ کر ہونا، کمالِ ایمان کی نشانی اور عند اللہ مطلوب ہے: ارشادِ نبویؐ ہے: ’’تم میں سے کوئی کمالِ ایمان کو اس وقت تک نہیں پہنچ سکتا، جب تک میں اُس کے نزدیک اس کے والدین، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ عزیز نہ ہوجاؤں۔‘‘ (صحیح بخاری) حضرت عمر ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: ’’یارسول اللہؐ! میری ذات کے بعد مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سب سے زیادہ محبت ہے، آپ  ؐ نے فرمایا: تمہارا ایمان کامل نہیں، پھر حضرت عمر ؓ نے عرض کیا: آپ مجھے اپنی ذات سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر مایا: اللہ کی قسم، تمہارا ایمان اب مکمل ہوا۔‘‘ قد

کامیابی اور ناکامی کے خدوخال

جاہ و حشمت ،شان وشوکت ،چلت پھرت،ٹھاٹھ باٹھ ،نام ونموداور رعب داب کو آج کے دور میں شاید کامیابی سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔اسی لئے کبھی ایلن مسک کبھی بل گیٹس  کبھی شاہ رخ خان کبھی اسکندر اور کبھی بش ،پٹن اور دوسرے سفاک حکمرانوں کا نام لے لےکر کامیابی کے موضوع پر زبان ولب اورقلم و دوات کی ورزش کرائی جاتی ہے ۔یہ کیا ماجرا ہے کہ جس کو جو سوجھے ،اُسےکامیابی قرار دیتا ہے اور جس کو جو محسوس ہو، اُسے ہیرو بنا دیتا ہے۔ہمارے آج کے معاشرے کی ستم ظریفی دیکھیں، بے حیا مرد و خواتین کو کامیاب ترین ہونے کے القابات سے نوازا جاتا ہے ۔اتنا سستا سودا اور اتنے کم داموں میں اس روئے زمین پر کامیابی کا فریرا بیچا جارہا ہے، کسی المیہ سے کم نہیں ! کیا کبھی کسی نے یہ سوچنے اور جاننے کی زحمت اٹھائی کہ کامیابی کے شرائط کیا ہونے چاہئیں یا کامیابی کن امور کا نام ہے یا یہ کہ کامیابی کے لوازمات کیا کیا ہیں؟ ایسا معل

والد۔ شفقت و راحت کاسائبان !

انسانی زندگی میں بعض واقعات اور حادثات ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے نشانات اور نقوش کو وقت کے صحرا میں چلنے والی آندھیاں بھی نہیں مٹا سکتیں۔ان سطور کا انتخاب بھی ایسے ہی کسی واقعے کی یاد میں کیاگیا ہے۔موت اس دنیا پر تمام مخلوقات کا آخری انجام ہےاور ہر ذِی روح کی انتہا موت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موت فرشتوں پر بھی لکھ دی ہے، چاہے وہ جبریل، میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام ہی کیوں نہ ہوں، حتیٰ کہ ملک الموت بھی  بالآخرموت ہوگی۔ فرمانِ باری تعالی ہے ۔’’اس کائنات میں موجود ہر چیز فنا ہو جائے گی۔ صرف تیرے پروردگار کی ذات ِ ذوالجلال و الااکرام باقی رہے گی‘‘۔ (الرحمن:26-27)موت دنیاوی زندگی کی انتہا اور اُخروی زندگی کی ابتدا ہے۔ موت کے ساتھ ہی دنیاوی آسائشیں ختم ہو جاتی ہیں اور بعداز مرگ یا تو عظیم نعمتیں دیکھنی ہیں یا پھر درد ناک عذاب؟   موت ایک اٹل حقیقت ہے، جس

آج کا نوجوان باغی کیوں؟

  ہم اکثر سنتے ہیں فلاں بڑا بدتمیز ہے اور باغی ہو گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ باغی آخر کون ہے اور یہ کیسے بنتا ہے؟ اگر ہم اس کے لفظی معنی و مفہوم کو سمجھیں تو باغی کے معنی ہیں سرکش، منحرف یا نا فرمانی کرنے والا۔ یہ خلل ڈالنے یا تباہ کرنے کا مترادف ہے۔ بغاوت کا تصور، تبدیلی یا نقصان سے متعلق ہے، خاص طور پر اخلاقی معنوں میں۔ باغی پن زندگی کے کسی بھی شعبے میں پایا جا سکتا ہے۔بغاوت ہر اس جگہ جنم لیتی ہے جہاں پر مخصوص سوچ اور نظریات کا پرچار ہوتا ہے، وہاں باغی سر اٹھاتا ہے۔  اس کا کسی خاص عمر یا صنف سے تعلق ہونا ضروری نہیں ہے، جب آپ کے احساسات کی قدر نہیں ہو گی، جب کوئی آپ کی بات کو سمجھے سنے بغیر فیصلہ سنا دے گا تو پھر بغاوت ہی امڈ آئے گی۔ یہ فطری عمل ہے لیکن اس میں شدت بہت ہی خطرناک عوامل کو جنم دیتی ہے۔ آج کل یہ عناصر زیادہ تر نوجوان نسل میں پائے جا رہے ہیں۔اپن

معاشرتی زندگی کے خدوخال اور ہمار ے نوجوان

موجودہ حالات کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو جہاں ہماری سماجی اور معاشرتی زندگی کے خدوخال بہت حد تک بدل چکے ہیں وہیں نوجوان نسل کی سوچ اوران کا زندگی گذارنے کا نظریہ بھی کافی حد تک بدل چکا ہے۔ انہیں اپنی روایات کا پاس نہ رکھنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ ضروری تونہیں کہ جو والدین اور دوسرے لوگوں کی سوچ ہو، زندگی گذارنے کا نظریہ ہو ،وہی سوچ ، وہی نظریہ نوجوان نسل کا ہو۔ انہیں بھی سننا چاہیے،ان کی رائے کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔ ان کی سوچ، ان کی رائے جانے بغیر کیسےان سے توقعات وابستہ کرنا ، پورا نہ ہونے پر اُن پرتنقید کرنا صحیح ہوسکتا ہے۔ آج کل کی معاشرتی زندگی میں نوجوان نسل جہاں روزمرہ کے مسائل سے دوچار ہے ،وہیں اپنوں کے رویے بھی ان کے لیے تکلیف کا باعث بن رہے ہیں۔ اس کا اثر نہ صرف ان کی زندگی پر پڑرہا ہے بلکہ معاشرہ بھی متاثر ہورہا ہے۔ بات یہ نہیں ہے کہ آج کی نسل اپنے بڑوں

مذہبی آزادی کے معاملے

’’ایک حالیہ امریکی رپورٹ میں ہندوستان اور جنوبی ایشیاکے کئی دیگر ممالک میں مذہبی آزادی، اقلیتوں کے حقوق اور حقوقِ انسانی کے خراب ہوتے حالات پر امریکی انتظامیہ نے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ‘‘  اپنی 2022 کی سالانہ رپورٹ میں، ریاستہائے متحدہ امریکہ کے کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) نے سفارش کی ہے کہ ہندوستان کو 'خاص تشویش کا ملک'یعنی Countries of Particular Concern  -CPCقرار دیا ہے۔ یعنی مذہبی حوالے سے سب سے زیادہ خراب کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی حکومتوں کے زمرے میں آزادی کے معیار پر پورا نہ اترنے والا ملک۔ رپورٹ نے مذہبی آزادی کی شدید خلاف ورزیوں کے ذمہ دار افراد اور اداروں اور ان کے اثاثوں کو منجمد کرنے اور/یا ان کے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگا کر ان پر ''ٹارگٹڈ پابندیاں'' لگانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

عازمینِ حج کے لئےکچھ لازمی باتیں

حجِ بیت اللہ ارکان ِاسلام میں ایک اہم ترین رکن ہے۔ بیت اللہ کی زیارت اور فریضہ ٔحج کی ادئیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا و آرزو ہے۔سفرِ حج ایک مسلمان کی زندگی کا سب سے اہم سفر ہے، جس میں اسے ایک عظیم عبادت ادا کرنے کا موقع ملتا ہے اور وہ گناہوں سے اُسی طرح پاک ہوجاتا ہے، جیسا کہ اس وقت تھا جب اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔کعبۃ اللہ مسلمانوں کے دلوں کو اپنی طرف کھینچنے والا ہے، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں۔ ہر مسلمان کی یہ آرزو و تمنا ہوتی ہے کہ کب اسے مکۃ المکرمہ میں اللہ کے گھر کی زیارت کرنے کا موقعہ ملے گا اور کب وہ مدینہ طیبہ جا کر اپنی آنکھوں کو روضۂ اقدس کے جلووں سے معمور کرے گا۔ دنیا کے دور دراز راستوں سے مسلمان حرمین شریفین کی طرف وفد در وفد آتے ہیں اور ہر سال حج ادا کرتے ہیں۔ ہمارے ملک سے بھی ہر سال عازمین کرام کے نورانی قافلے سوئے حرم چل پڑتے ہیں اور اللہ کی رحمت سے جھولیاں

سنبھل جایئے۔ملک کا بھلا ہوگا !

دنیا کے کسی بھی ملک کی ترقی معیشت کی مضبوطی ،انصاف پسند حکمران،نظم و نسق کی پابندی پر منحصر ہوتی ہے۔ اگرچہ اس ملک میں معاشی بحران پیدا ہوجائے ،بے روزگاری عام ہوجائے، مہنگائی آسمان کو چھوتی جائے، حکمران تاناشاہی چلائیں ،تو ایسا ملک بجائے ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کے تباہی کی دہلیز تک پہنچ جاتا ہے اور ملک میں ہر طرف بدامنی پھیل جاتی ہے، نظم و نسق کی دھجیاں اُڑ جاتی ہیں اور حالت اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ عوام درپیش مسائل سے دل برداشتہ ہوکر سڑکوں پر نکل آتی ہے ،صورتحال خانہ جنگی کی شکل اختیار کرلیتی ہے پھر یاتو موجودہ حکومت کو معزول کرکے تختہ اُلٹ دیا جاتا ہے یا وہ اُسےاپنی ناکام حکمرانی اور عوام کے شدید احتجاج کے دباؤ میں حکومت سے دستبردار ہونا پڑجاتا ہے ۔آج یہ صورتحال ایشیاء کےایک چھوٹے ملک سری لنکا کی ہوچکی ہے، جسکی کل آبادی لگ بھگ 22کروڑ ہے ۔لیکن پچھلے دو ماہ سے یہ ملک معاشی بحران

خاندانی زندگی میں رشتوں کی اہمیت

 دنیا بھر میں 15مئی کو خاندان کا عالمی دن (انٹرنیشنل ڈے آف فیملیز) منایا گیا۔ 1993ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک قرار داد کے ذریعے اس دن کو منانے کی منظوری دی گئی، جس کے بعد 1994ء سے یہ دن باقاعدہ طور پر دنیا کے مختلف ممالک میں منایا جانے لگا۔ خاندانی نظام کی دن بدن بگڑتی صورتحال کی وجہ سےاس کی اہمیت کو دوبارہ اُجاگر کرنے کے لیے یہ دن منانے کی ضرورت پیش آئی۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوام الناس میں خاندان کی اہمیت کو اجاگر کرنا، خاندانی زندگی کو مضبوط بنانا اور خاندانی نظام میں موجود خرابیوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ خاندانی زندگی کے متعلق شعور کو اُجاگر کرنا ہے۔ اس طرح خاندان سے جڑے سماجی اور معاشی مسائل جو خاندان پر اثر انداز ہو رہے ہیں، ان پر بات کرنے اور سماجی ،معاشی اور آبادی کے عوامل سے متعلق شعور اجاگر کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس دن فیملی لائف کی اہمیت اور رشتوں کے حق

دیہی علاقوں کے عوام اور سرکاری راشن؟

ڈیجیٹل انڈیا اسکیم کے چھ سال پورے ہونے پر وزیر اعظم نے اپنی تقریر کے ذریعہ ملک کے معروف ترقی پروگراموں کے حوالے سے نہایت ہی دلچسپ طریقے سے اس اسکیم کی حصولیابیوں کا تذکرہ کیا۔ انہوں کہا کہ یہ ڈیجٹیل انڈیا کی ہی طاقت ہے کہ ون نیشن،ون راشن کارڈ کا عزم مکمل ہو رہا ہے، جس نے غریبوں کو ملنے والے راشن کی ڈیلیوری کو بھی آسان کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اب دوسری ریاستوں میں جانے سے نیا راشن کارڈ نہیں بنانا ہو گا۔ایک ہی راشن کارڈ کو پورے ملک میں تسلیم کیا جائے گا۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ ان مزدور خاندانوں کو ہو رہا ہے جو کام کیلئے دوسری ریاستوں میں جاتے ہیں۔ انہوں نے اس اسکیم کی تفصیلاً جانکاری دیتے ہوئے ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ کے فیصلے کا بھی شکریہ ادا کیا ،جس پر سپریم کورٹ نے اُن ریاستوں کو ون نیشن اور ون راشن والی اسکیم کو نافذ کرنے کا حکم دیا جو اس اسکیم کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی

ارب پتی بننے والی خوبیاں کیا ہیں؟

ہم میں سے ہر کوئی ارب پتی افراد کو دیکھ کر رشک کرتا ہے اور جاننا چاہتا ہے کہ آخر ان کی کامیابی کا راز کیا ہے؟ ان کی کامیابی کا راز ملٹی ٹاسکنگ سے گریز کرنا اور اس وقت تک کسی کام پر توجہ دینا ہے، جب تک وہ مکمل نہ ہوجائے۔ درحقیقت جدید سائنس کا بھی ماننا ہے کہ ملٹی ٹاسکنگ انسانی صلاحیتوں کے لیے بہت نقصان دہ ہے اور صرف دو فی صد افراد ہی ایسا کرسکتے ہیں، ورنہ اکثر افراد بہ یک وقت کئی کام کرنے کی کوشش میں کسی ایک کو بھی پورا نہیں کرپاتے۔ ہر ایک کے پاس زندگی میں دو راستے ہوتے ہیں، ایک آسانی اور سکون جب کہ دوسرا مشکل اور ایڈونچر سے بھرپور، اور انھوں نے آسانی کی بجائے مشکل کا انتخاب کیا۔ دنیا میں کئی ارب پتی افراد ہیں، جیسے ایلون مسک، بل گیٹس، جیک ما، وارن بفیٹ وغیرہ جنھوں نے اپنی اپنی حکمتِ عملی کے تحت زندگی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور بے پناہ دولت کمائی۔ یہ سارے لوگ ہماری اور آپ

نیا تعلیمی سال اور ہمارا تعلیمی نظام؟

آج کے دور میں ہم نے معصوم بچوں کو کتابوں کے بوجھ تلے دبا دیا ہے۔والدین کے پاس بچوں کے لئے وقت نہیں،گھر کا ہر فرد، مرد و خواتین کو فکر ِروزگار ہے۔ ضروریات زندگی بڑھ رہی ہیں، لائف سٹائل اور طرز زندگی بدل رہے ہیں، بدلتی زندگی میں تعلیم و تربیت پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا جاتا، بچے توجہ کا مرکز نہیں بن رہےہیں۔ والدین کی ترجیحات میں اضافہ ہو رہا ہے، علم زیادہ اور تربیت کم ہو رہی ہے۔ سکول بھی ریٹنگ پر توجہ دیتے ہیں، نصاب کی مکمل کتاب کے بجائے بچے کو چند مخصوص سوالات رٹنے پر مجبور کیا جاتا ہے، پھر وہی سوالات امتحان میں آتے ہیں۔ اس لئے بچے تعلیم کے بجائے چند سوال رٹ کر 90فیصد سے زیادہ نمبرات لیتے ہیں۔ سکول اور اساتذہ کی بھی نیک نامی ہوتی ہے اور ان کی ریٹنگ بھی بڑھتی ہے مگر بچہ کورا کا کورا رہ جاتا ہے۔ کتابیں علم کا سمندر ہیں، مگر کتابی اورذہنی بوجھ سے بچے کی نشو و نما رُک جاتی ہے۔ اس کے پٹھے

انسانیت نایاب ہورہی ہے؟

بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے اپنےتمام مخلوقات میں انسان کو سب سے بہتر اور افضل مخلوق بنایا ہے، جس کے باوصف انسان نہ صرف انسانوں کی بھلائی و بہبودی کے کام کرسکتا ہے بلکہ دیگر مخلوقات کی تحفظ کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ مگر افسوس! اشرف المخلوق کہلانے والا یہ انسان اس حد تک اپنے وصف کھو چکا ہےکہ وہ انسان کہنے کے لائق نہیں رہا ہے ۔ انسانیت کے اصولوں سے ہٹ کر وہ ایسے ڈگر پر چل پڑا ہے کہ شیطان کے لئے تمام راستے آسان ہوچکے ہیں۔ دورِ حاضر کے انسان کوایک دوسرے کی تباہی ،بُربادی اور ہلاکت کا تماشہ دیکھنے،ایک دوسرے کو ذلیل و خوار کرنے ،ایک دوسرے کی عزت اُچھالنے، ایک دوسرےبدنام اور رُسوا کرنے میں ہی مزہ آتا ہےاور تسکین پاتا ہے۔ بظاہر آج کایہ انسان دوسروں انسانوںکی تباہ کاریوں یا بُربادیوں پر مگر مچھ کے آنسو بھی بہاتا ہے مگر در حقیقت وہ ان مصنوعی آنسوئوں سے دوسرے انسانوں پر یہ تاثر دلانے کی کوشش کر تاہے