تازہ ترین

نئے زرعی قوانین کے خلاف کسانوںکا احتجاج

 غالباًیہ ہندوستان کی تاریخ کا پہلا موقع تھا، جب پنجاب سے تعلق رکھنے والے ہزاروں،بلکہ لاکھوں سکھوں نے اپنا سب سے بڑا تہوار کسان تحریک کے درمیان سڑکوں و خیموں میں منایا۔جیسا کہ ہم سبھی جانتے ہیں کہ پچھلے کئی دنوں سے دہلی و ہریانہ کی سرحد پر پنجاب سے لاکھوں کسان آئے ہوئے ہیں ،جو مرکز کی جانب سے حال میں بنائے گئے زرعی اصلاحات کے کئی قوانین کے خلاف صدائے احتجاج بلند کررہے ہیں۔پنجاب سے دہلی آنے والے اِن کسانوں میں سکھوں کی تعداد خاصی ہے،جنہیں گرونانک دیوجی کا یوم پیدائش کے موقع پر گرودواروں میں عبادت اور خوشی کا موقع حاصل نہ ہوسکا۔ گرونانک دیوجی سکھوںکے پہلے مذہبی گرو تھے، جن کی پیدائش شہر نانکانہ صاحب( پاکستان)میں 15اپریل 1469 کو ہوئی تھی۔اس باران کا551واں یوم ولادت تھا،جس کی عظمت سکھ کمیونٹی کیلئے ہی نہیں بلکہ عالم انسانیت کیلئے خاص تھی۔خیال رہے کہ کارتک پورن ماشی کے دن منائے ج

معذورین احساسِ محرومی کے شکار کیوں؟

انسانی جسم میں کسی بھی عضو یا جسم کے کسی بھی حصے یا جسمانی صحت کے بنیادی اصول سے محرومی کے حامل افراد معذور کہلاتے ہیں۔معذوری ذہنی ،جسمانی،پیدائشی اور حادثاتی بھی ہو سکتی ہے۔اس حوالے سے ہر سال ۳ دسمبر کو معذور افراد کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔اس دن کے منانے کا خاص مقصدمعذوروں کے مسائل و ضروریات اور ان کی صلاحیتوں اور کار کردگی سے متعلق معاشرے اور حکومت کو متوجہ کرنا ہے تاکہ سماج میں انہیں بھی ویسا ہی مقام اور حقوق عطا کئے جائیں جیسے کہ ایک عام آدمی کوحاصل ہیں۔ معذور افراد انسانی معاشرے کا وہ حصہ ہے جنہیں عام لوگوں سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اگرچہ اللہ تعالی نے ان اشخاص کو کسی نعمت سے محروم رکھا ہے لیکن پھر بھی یہ اپنے اندر ایسے گوہر سنبھالے ہوتے ہیں کہ اگر انہیں ذرا سا بھی تراشا جائے تو ایسے کمالات کر کے دکھا سکتے ہیں جو کہ ایک عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔لیکن اس کے باوجود بھی

معذوری انسانی تنوع کا حصہ

 معذور افراد کی روئیداد اجتماعی طور پر معاشرے کے سرہانے ہے اگرچہ معاشرہ اس سے باخبر ہو یا محو ِ غفلت۔آج یعنی3 دسمبر ، معذور افراد کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے ، اور یہ ان کی تنظیموں کے جلوسوں اور دیگرانجمنوں کے ذریعہ فقط کچھ پریس ریلیز کی کارگزاری کے سِوا نہیں گزرنا چاہئے۔ بلکہ اس جدید سائنسی دور میں ہم عام لوگوں کو اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو آگے بڑھنے اور اس انسانی مسئلے میں شامل ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ مدد ایک مسکراہٹ سے شروع ہوتے ہوئے ایک عساء کے چلتے سائنسی پیشرفت کے ذریعہ ایک آرام دہ زندگی پر رکتی ہے۔ جیسے اوزار ، تکنیک اور ان کی طرف رخ کرنے کا رجحان۔  رویہ: سب سے اہم یہ ہے کہ تبدیلی کے لئے عقیدے کا رویہ اور جو لوگ خاص طور پر ان لوگوں کے ساتھ ایک یا دوسرا تعلق رکھتے ہیں ، صبر ، استقامت اور مثبت سوچ کے مقصد کو پہنچنے کے راز کو برقرار رکھتے ہیں۔  سروے: جم

پیروکاری:لیڈرشپ کا دوسرا نام

تعارف :ایک ہوتا ہے لیڈر لیکن دوسرا ہوتا ہے پیروکار (Follower)۔ من پسند لیڈر کی تلاش میں یا موجودہ لیڈر کو من پسند بنانے میںہم اُن لوگو ں کو بھول جاتے ہیں جو کسی لیڈر کے پیچھے چل رہے ہوتے ہیں، یا چلنا چاہتے ہیں، یا چلنے کے دعویدار ہوتے ہیں۔ اِن لوگوں کا لیڈر کے پیچھے چلنا پیرو کاری (Followership)کہلاتا ہے۔ لیڈرشپ اور پیروکاری ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ لیکن دنیا کی کثیر آبادی سکے کے اِس رُخ سے بے خبر ہے۔ لیڈران کو ہی اکثر موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے، جب کہ لوگ اپنے آپ کو بھول جاتے ہیں۔ اسے پہلے کہ وہ اپنے لیڈر پر کوئی سوال کریں ، انہیں چاہیے کہ خود کا بھی محاسبہ کریں کہ لیڈرشپ کے مقابلے میں ہم نے بطور پیروکار کتنا کام کیا ہے۔ دونوں کو متوازن طور پر چلنا ہوتاہے، دونوں کی ذمہ داریاں گر چہ الگ الگ ہیں، لیکن ہیں تو برابر کی اہمیت کی حامل۔ چلیے، آج تھوڑا سا وقفہ نکال کر ہم سکے کے اِس نایاب

’اذان‘ایک مسلسل کوشش | انسانیت کی قفل ِ فلاح کی چابی میسرہے مگر

’’اذان‘‘ کی آوز ہو رہی ہے … اُس ’’اذان‘‘ کی جس کے اعلان پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایک جگہ جمع ہو کر مسجد میں خدا کے حضور سربسجود ہو جاتی ہے۔ ’’اذان‘‘ کی آواز سن کر لوگ اپنے گھروں سے جوق درجوق مسجد کا رُخ کرکے نکل رہے ہیں… اکثر لوگوں کی زبان پر ’’اذان‘‘ کے ہر جملے کا جواب ہوتا ہے… مؤذن ’’اللہ اکبر‘‘ کہہ کر خدا کی بڑائی کا اعلان کر رہا ہے اور سننے والا اپنی زبان سے اللہ اکبر کہہ کر ’’اللہ‘‘ وحدہ ٗلاشریک کی بلندی کو تسلیم کرنے کا اظہار کرتا ہے۔ دراصل انسان کو معلوم ہے کہ دنیا کی تمام ظاہری طاقتیں اللہ کی طاقت کے سامنے کوئی وزن نہیں رکھتی،اسی لیے مؤذن بار بار اس کا اعادہ کر تا ہے۔ یہ ’’اللہ اکبر‘‘ کی

کارپوریٹ گھرانوں کو بینک کاری کی تجویز | نگرانی کا نظام ڈھیلا،مفادات کے ٹکرائو سے بچائے کون؟

جب گھر میں آگ لگ جاتی ہے اور صورتحال ناامید نظر آتی ہے توکسی بھی بے تکی اور غیر مقبول حرکت کو ایک اچھی سرگرمی کے طور پیش کیاجاسکتا ہے۔یہ آر بی آئی کے اندرونی ورکنگ گروپ کی رپورٹ کو دیکھنے کا ایک طریقہ ہے جس میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ بڑے کارپوریٹ اور صنعتی گھرانوںکو بینکوں کے پراموٹر بننے کی اجازت دی جائے۔ اس سفارش پر آر بی آئی کے دو سابق سینئروں رگھورام راجن اور وائرل اچاریہ ، جو رخصت ہوچکے ہیں اور اپنی تعلیمی ملازمتوں میں واپس آچکے ہیں، کی جانب سے سخت اور تشویشناک ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ سفارش میں کہا گیا ہے کہ تبدیلی سے پہلے قانون میں تبدیلیاںکرکے "منسلک قرضوں" کو روکنے کے لئے اور نگرانی کے طریقہ کار کو مستحکم کرنا ہوگا ۔یوں اس بات کو تسلیم کیاگیاہے کہ خطرات موجود ہیں لیکن نیا انضباطی نظام ان کو کم کرسکتاہے۔ حقیقت میں رپورٹ خود کہتی ہے: ’’یہ بلا شبہ لا

اُمید کا چراغ ،کاشتکاری سے باغبانی تک کا کامیاب سفر

دنیا میں ہر ایک انسان صلاحیت سے بھرپور ہے۔ لیکن صرف چند لوگ اس صلاحیت کا استعمال کرکے کامیابی کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں اور دنیا میں ایک مثال قائم کرتے ہیں۔ یہ حوصلہ مند لوگ نہ صرف اپنے لیے خوشیوں اور کامیابیوں کے نقیب ہوتے ہیں بلکہ ان لوگوں کے لیے بھی امیدوں کے چراغ ثابت ہوتے ہیں جو راہوں میں گم ناامیدیوں کے بادل میں گھرے رہتے ہیں۔  مٹی پورہ اننت ناگ کا نوجوان محمد شفیع راتھر بھی ایسے ہی حوصلہ مند انسانوں میں سے ایک ہے جس نے اپنی محنت شاقہ اور پہل قدمی سے بظاہر ناممکن کو ممکن بنا کے چھوڑا۔ شفیع ایک تعلیم یافتہ جوان ہونے کے ناطے روایتی طرز کاشتکاری سے کبھی مطمئن نہیں تھا اور اپنے علاقے میں دھان فصل کی گھٹتی پیداوار سے بھی بہت مایوس تھا۔ وہ اپنے چھ کنال رقبہ زمین میں ایسی کم پیداوار والی فصل کی مزید کاشت کرنے کیلئے بالکل تیار نہیں تھا۔ لہٰذا وہ جاکر شملہ سے High densityایم- نائن

دوشیزہ ٔ ابر

رات کافکر میں ڈھل کر طویل ہو جانا کوئی عجیب بات نہیں ہے کہ انسان کے ساتھ کبھی کبھار ایسا ہوجاتاہے۔ بعض اوقات ہوائی سفر بھی اتناطویل معلوم ہوتا ہے جیسے سمندر کا سفر ہواورمشرق اورمغرب کے درمیان کی پرواز نسبتاً زیادہ وقت طلب کرتی ہے۔ پھرطویل سفرکے لیے اگر نشست وسعت لئے ہو تو راحت محسو س ہو سکتی ہے۔ ہم بھی سفر میں تھے اورہماری نشست کچھ کشادہ بھی تھی، بلکہ رات بھر آرام کرنے کے لئے مزید پھیلائی جا سکتی تھی۔ اس کے باوجود ہم بے آرام تھے ۔ منزل چودہ گھنٹے سے زیادہ کا وقت لینے والی تھی اور جہاز پر ہم رات کو سوار ہوئے تھے۔  یہ کینیڈا جانے والی ، ائر انڈیا کی ، ـ’ اے آی، ایک ۔ آٹھ ۔ سات ‘  (AI-187)نمبر کی فلائٹ تھی۔اور ہرغیر ملکی پرواز کی طرح مختلف النسل مسافروں سے بھری تھی۔ کئی گھنٹوں بعد بھی صبح ہونے کی جگہ رات ہونا تھی کہ سورج روشنی بکھیرنے کے لیے ہمارے خطوں کی جانب نک

پیسہ بچائیے کل کام آئے گا

آپ کی جو بھی آمدن ہو، پیسہ بچانا لازمی عادت ہونی چاہیے،کیونکہ مشکل گھڑی کبھی پوچھ کر نہیں آتی۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ جمع شدہ رقم زندگی بھر کے اخراجات کے لیے کافی ہے تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے۔ لاکھوں کی رقم یوں چلی جاتی ہے کہ پتہ ہی نہیں چلتا۔ اس کے علاوہ لاکھوں کمانے کے باوجود امیر شخصیات کو بھی مالی تنگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جیسے کچھ دن قبل فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوگیا۔ ہالی ووڈ اداکار جانی ڈیپ اپنے دوست کی خواہش پوری کرنے کیلئے3ملین ڈالر گنوابیٹھے۔ ایسے اے لسٹ اداکاروں، موسیقاروں ، کھلاڑیوں کی طویل فہرست ہے جو اپنی شاندار طرزِ زندگی اور شاہ خرچیوں کے باعث کنگال ہوگئے۔ ہمیں ان سیلیبرٹیر کی شاہ خرچیوں پر کوئی اعتراض نہیں لیکن کچھ رقم بچاکر بھی رکھنی چاہیے تاکہ مشکل وقت میںکام آسکے۔ ذرا ہالی ووڈ اسٹارٹوری اسپیلنگ کو ہی دیکھئے کہ35ہزار ڈالر سے زائد

عجم پر عالمِ عرب کی سرگرمیوں کے اثرات

دنیائے عرب کے اندر ماضی قریب میں دو ایسی پیش رفت وقوع پذیر ہوئیں جن کے اثرات سے جنوب ایشیا ،خاص طور سے بر صغیر ہند و پاک کا خطہ بہت حد تک متاثر ہوسکتا ہے۔ذرائع ابلاغ میں شائع اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ20ریال کے اُس کرنسی نوٹ کو تبدیل کررہا ہے جس میں آر پارجموں کشمیر کو بھارت اور پاکستان سے الگ خطہ دکھایا گیا تھا ۔مذکورہ کرنسی نوٹ کے اُلٹے طرف بنے اس نقشے کو لیکر نئی دلی نے سخت ناراضگی جتائی تھی۔اس نوٹ کی اجرائی سعودی عرب نے حالیہ جی۔20اجلاس کے موقع پر یادگار کے طور پرکیا تھا۔  ادھر متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ رشتوں کی باضابطہ استواری کے بعد اسلام آباد پر بھی ایسا ہی کرنے کا دبائو بنانے کے ساتھ ساتھ اپنے ہاں کے قوانین تک کو بدلنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ماہ ستمبر میں متحدہ عرب امارات کے اندر اسرائیل کی نیم برہنہ ماڈلز کو اپنے ملک کا پر چم لہراتے ہ

کیا انتظامیہ کو ڈائٹنگ کی ضرورت ہے؟

جموں کشمیر ہندوستان میں واحد خطہ ہے جہاں سرکاری ملازمین کی فی کس نسبت (Per Capita Ratio) سبھی ریاستوں سے زیادہ ہے۔ مہاراشٹرا، گجرات، مدھیہ پردیش، کرناٹک ، اْتر پردیش اور بِہار جیسی ریاستوں میں ہر سرکاری ملازم کے مقابلے شہریوں کی تعداد3500 سے 4000 کے آس پاس ہے جبکہ ہمارے یہاں ہر800 شہریوں کے مقابلے ایک سرکاری ملازم ہے۔ جموں کشمیر میں ہر شہری کے مقابلے  ملازمین ہیں اور جموں کشمیر مہاراشٹرا، گجرات، مدھیہ پردیش، کرناٹک ، اْتر پردیش اور بہار وغیرہ سے نہ صرف رقبہ بلکہ آبادی کے لحاظ سے بھی بڑی ریاستیں ہیں۔ اور اْدھر شہری۔ملازم کی نسبت ہمارے سے بہت کم کے باوجود وہاں انتظامیہ کا یہ حال نہیں جو ہمارے یہاں ہے۔  جموں کشمیر کا سالانہ بجٹ ایک لاکھ بیس ہزار کروڑ تک ہے اور اْس میں سے ہم40 ہزار کروڑ صرف سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر خرچ کرتے ہیں۔ بتایا تو جاتا ہے کہ بہت بڑی رقم تعمیراتی

وحشی سعید… رومانیت سے حقیقت تک

جموں و کشمیر اردو ادب کا ایک اہم دبستان ہیں جس نے اردو ادب کی تاریخ کو اپنی نگارشات سے مالا مال کیا ۔یہاں کے ادباء اور شعراء نے یہاں سے گزرتے ہوئے برصغیر میں بھی اپنی ایک شناخت قائم کی، غنی کاشمیری سے لے کر عصر حاضر میں ترنم ریاض تک ایسے کئی قلم کار ہیں جنہوں نے اپنے فن کی بدولت اردو زبان و ادب کو وسعت عطا کی ۔جموںوکشمیر میںجب بھی فکش خاص کر اردو افسانہ کی بات کی جائے تو وحشی سعید ساحل کا نام یہاں کے نامور افسانہ نگاروں کے ساتھ لیا جاتاہے۔ انہوں نے اردو افسانے کی خدمت کر کے اپنی ایک پہچان قائم کی ۔ انہوں نے اپنے ادبی سفر کا آغاز اپنی تعلیم کے دوران ایس پی کالج کے معروف میگزین ’’ پرتاپ ‘‘ سے کیا ۔شروع شروع میں ان کے افسانوں میں رومانیت کا عنصر زیادہ دیکھنے کو ملتا ہے،اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ وہ افسانے انہوں نے عنفوان شباب کے زمانے میں لکھے ہیں۔یہ افسانے ان

جواہر نوودیہ ودیالیہ

ملک کے ہر بچے کو اچھی تعلیم ملے یہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ شہری علاقوں میں سرکاری اور نجی اسکولوں کا جال بچھا ہوا ہے ان اسکولوں میں مکمل سرکاری امداد پر چلنے والے، جزوی طور پر حکومتی امداد یافتہ پرائیویٹ اسکول اور مکمل نجی یا پرائیویٹ اسکولوں میں تعلیم ہمارے ملک میں عام ہے۔ لیکن اس کے علاوہ بھی بالخصوص دیہی علاقوں میں پچھڑے اور قبائلی طبقات کے ذہین طلبہ کے ٹیلنٹ کو ابھارنے اور انھیں بھی اعلیٰ تعلیم دینے کی غرض سے ۱۹۸۶؁ء کی ایجوکیشن پالیسی کے مطابق ایسے دیہی ضلعوں میں رہائشی اسکولوں کا قیام کرنے کا آغاز کیا گیا ان اسکولوں کو ’’جواہر نو ودیہ ودیالیہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ اسکول براہِ راست مرکزی وزارت انسانی وسائل کے زیرِ انتظام اور مقامی اسکول منیجمنٹ کمیٹی ، جس کے چئیرمن اس ضلع کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ہوتے ہیں، کی نگرانی میں ملک کی مختلف ریاستوں رہائشی طرز پر بالکل مفت جاری

’عالمی زبان ‘ کا پروفیسر گوپی چند نارنگ نمبر

ڈاکٹر سیفی سرونجی علم و ادب کی ایک کہکشاں کا نام ہے جن کی بدولت ایوان ادب میں ہر سو روشنی پھیل رہی ہے۔ انھوں نے ایک عرصہ سے ’’انتساب‘‘اور ’’عالمی زبان‘‘کا اجرا کر رکھا ہے اور اس سلسلے میں انھوں نے جو کام کیا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ ’’انتساب‘‘ کے خاص نمبروں نے پوری دنیا میں ایک تہلکہ مچا رکھا ہے۔ وہ ’’انتساب ‘‘ کا بھی ایک ضخیم نمبر ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کے لیے نکال چکے ہیں ۔ ان کے فکر و فن پر ڈاکٹر سیفی سرورنجی کی دو کتابیں ’’ گوپی چند نارنگ او راردو تنقید ‘‘ اور ’’ مابعد جدیدیت او رگوپی چند نارنگ ‘‘ بھی منصہ شہود پر آچکی ہیں ۔ 17 نومبر 2020ء کو انھوں نے ’’عالمی زبان‘‘ کا ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نمبر شائع کر کے ایک بہ

مشرق ومغرب میں سائنسی تحقیق کا معیار | مذہب اور سائنس کا آپسی معرکہ

مادی کائنات کی گہرائیوں و وسعتوں کے بیچوں بیچ سائنس کی حیرت انگیز ترقی و ترفع اور اقبال و بلندی کے پس منظر میں انسان کا آج کی تاریخ میں بعض مسائل کے متعلق اپنی کم علمی اور نااہلی کا اعتراف کرنا ایک عام واقعہ نہیں ہے کہ جس کو نظر انداز کیا جائے۔بلکہ یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ جس کا اثر مستقبل میں تحقیق و تدقیق کے ہر پہلو میں نظر آئے گااور جس سے سائنس اور مذہب کے درمیان پیدا کی گئی خلیج رفتہ رفتہ کم ہوتی جائے گی۔سائنس کے اس اعتراف سے مذہب کے تئیں اس کے رویے میں مثبت تبدیلی کا اندازہ بآسانی لگایا جا سکتا ہے۔اس حوالے سے دور جدید میں سائنس اور مذہبی کتب (خصوصی طور پر قرآن) کے تقابلی جائزے کی کوششوں کا اہم رول ہے۔دور جدید میں سائنس کو قرآنی آیات کی روشنی میں جانچنے کی جو دلچسپی غیر مسلم محققین میں پیدا ہوئی ہے وہ نہایت اہمیت کی حامل ہے۔اگرچہ بائبل کا بھی موازنہ سائنس سے کیا گیا لیکن اس سے

ایڈس … اسلام سے دوری کا نتیجہ

یکم دسمبر کے موقع پر ہر سال پورے عالم میں ’’ عالمی یوم ایڈس‘‘ منایا جاتا ہے جس دوران مختلف ممالک میں محکمہ صحت کے علاوہ قائم انسداد ایڈس کے ادارے جانکاری فراہم کرتے ہیں۔ اس سال کے ایڈس کا نعرہ " ایڈس کے وباء کا خاتمہ…لچک اور اثر" ہے جس کے ذریعے اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ عالمی سطح سے اس وباء کے تیز پھیلاؤ کو روکنے کا سدباب کیا جائے - لیکن عملی طور پر کس حد تک لوگوں کو اس مہلک بیماری سے بچایا جاتا ہیں اس کی تصویر تمام ترقی پزیر ممالک بہت ہی خوب انداز میں پیش کرتے ہیں۔  ایڈس یعنی (Acquired Immuno Deficiency Syndrome) پھیلنے کی کئی وجوہات سائنسدانوں نے بیان کیں ہیں۔ایک رائے کے مطابق یہ بیماری افریقہ کے جنگلوں میں پائے جانے والے سبز بندروں میں وائرس کے موجود ہونے سے پھیلی ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ فرانسیوں نے یہ وائرس حیاتیاتی جنگ (Warfare

جسمانی صحت ہی نہیں، ذہنی صحت بھی اہم ہے

یہ یقینا ً اچھی بات ہے کہ آج کے دور میں دماغی صحت کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جاتی ہے جتنی جسمانی صحت کو، ورنہ ایک زمانہ تھا کہ انسان اپنی دماغی صحت کے بارے میں بے خبر تھا اور دماغی مسائل جیسے اسٹریس اور ڈپریشن کو ’مرض‘ تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔خوشی اور غمی زندگی کا حصہ ہیں۔ کسی وقت ہم خوش ہوتے ہیں تو کبھی افسردہ۔ اور جب انسان افسردہ یا پریشان ہوتا ہے تو یہ پریشانی اس کے معمولات زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ڈپریشن انسان کے احساسات پر اثر ڈالنے کے ساتھ ساتھ اس کے پورے جسم پر بھی منفی اثر ڈالتا ہے اور زیادہ ڈپریشن انسان کی ہنستی مسکراتی زندگی کو اجیرن کرکے رکھ دیتا ہے۔ ذہنی صحت کے مسائل کے باعث متاثرہ شخص کوعام جذباتی درد بھی بہت زیادہ گہرے محسوس ہوتے ہیں جو کسی کوبھی آسانی سے سمجھ نہیں آتے کیونکہ انھیں اس کاتجربہ نہیں ہوتا۔ ذہنی صحت کے کچھ عام مسائل مندرجہ ذیل ہیں، جوکسی بھی فر

قیمتوں میں اعتدال کا مسئلہ ،عملدرآمد کا نظام کہاں ہے؟ | ناقص حکمتِ عملی اور کمزور پالیسی سے کچھ بدلنے والانہیں

یہ حقیقت اٹل ہے کہ یاس و قنوط میں مبتلا کسی بھی قوم یا معاشرے میں جب مایوسی غالب آتی ہے تو اْس قوم یا معاشرے کی زندگی جہنم ِ زار بن جاتی ہے۔اُس کاسکون و اطمینان غارت ہوجاتا ہے اوروہ ٹینشن ،ڈپریشن و ذہنی تنائو کی زد میں آکر مرغِ نیم کشتہ کی سی زندگی گزارتا ہے جبکہ مایوسی کے ان جاں گسل حالات میںاکثر و بیشتر قنوطیت زدہ معاشرہ کازیادہ تر حصہ غلط ،ناجائز اور حرام کام کا ارتکاب کرلیتا ہے۔جس سے نہ اُسے دنیا ملتی ہے اور نہ آخرت۔سچ تو یہ بھی ہے کہ جو قوم اپنی تہذیب و روایات کو بھول جاتی ہے ،وہ یا تو صفحہ ٔ ہستی سے مِٹ جاتی ہے یا پھر مسلسل افراتفری اور بے چینی کی فضا میں سانس لینا اُس کا مقدر بن جاتا ہے، ایسی قوم کے بے اصول اور بے ترتیب معاشرے میں جھوٹ،چوری ،رشوت ،ناانصافی ،مہنگائی ،بے روز گاری ،مفاد پرستی اور دوسری کئی قسم کی بْرائیاں و خرابیاں پروان چڑھتی ہیںاورپورا معاشرہ نفسا نفسی کے عالم

عالمی معیشت اور کورونا: جی۔20اجلاس کے اہم موضوعات

ریاض میں منعقدہ جی۔20ورچول چوٹی کانفرنس سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان (ایم وی ایس) کی راست نگرانی میں منعقد کیا گیا جس کا مقصد عالمی اسٹیج پر سعودی عرب کی قائدانہ صلاحیتوں کو پیش کرنا تھا۔ توقع کے مطابق دو روزہ کانفرنس کے ایجنڈے میں کورونا وائرس کی وبا چھائی رہی۔ دنیا کی 20بڑی معیشتوں نے کورونا ویکسین کی دنیا بھر میں کفایتی اور مساویانہ رسائی کو یقینی بنانے اور مستقبل میں صحت کے بحران سے نمٹنے کے لیے تیاری کا عہد کیا۔ بین الاقوامی وبائی معاہدہ: چارلس مائیکل صدر نشین یوروپین کونسل نے مستقبل میں وباؤں کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ایک بین الاقوامی معاہدے کی تجویز پیش کی۔ مائیکل نے کہا : ’’تمام ممالک، اقوام متحدہ کے تمام اداروں اور تنظیموں کے درمیان خاص طور سے عالمی صحت تنظیم کے ساتھ مذاکرات ہونے چاہئیں۔ ڈبلیو ایچ او کو صحت سے متعلق ہنگامی حالات میں عالمی تعاو

مقامی صحافت :ماضی اور حال کے آئینے میں۔۔۔۔قسط پنجم

 گیارہ سال پہلے نومبر کے ہی مہینے میں یکے بعد دیگرے جموں و کشمیر میں دنیائے صحافت کی دو بڑی شخصیات اس جہان فانی سے کوچ کرگئیں ۔پہلے صوفی غلام محمد اور اس کے بعد خواجہ ثناء اللہ بٹ صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں زندگی کی جنگ ہار گئے ۔دونوں ایک دوسرے کے پیشہ ورانہ حریف تھے لیکن ایک دوسرے کے دوست بھی تھے ۔ ایک دوسرے کو پچھاڑنے کی دھن دونوں کے سروں پر سوار تھی لیکن دونوں ایک دوسرے کی ہر مشکل میں کام بھی آتے تھے ۔خواجہ ثناء اللہ بٹ کو کشمیر کا بابائے صحافت کہا جاتا ہے ،وہ اس لئے کہ انہوں نے عام کشمیریوں میں اخبار پڑھنے کی عادت ڈال دی ۔گزشتہ صدی کی پچاس کی دہائی میں انہوں نے بے سروسامانی کی حالت میں کشمیر کی وادی میں روزنامہ آفتاب کا اجراء کیا تھا ۔اس سے پہلے وہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک ہفت روزہ اخبار ’’کشیر‘‘شائع کرتے تھے ۔ چونکہ وہ خود مختار اور آزاد