تازہ ترین

ماحولیاتی بحران اوراسلامی تعلیمات

دور حاضرکے جتنے سنگین مسائل ہیں، ان میں ایک اہم مسئلہ ماحولیات کاہےبلکہ یوںکہاجائے کہ یہ واحدایسا عالمی مسئلہ ہے، جس پر سب لوگوں کا اتفاق ہےتوبے جانہ ہوگا۔ اس مسئلہ کی وجہ سے نہ صرف انسانوں کی بلکہ کرہ ارض میںموجود تمام حیوانات ،نباتات و موجودات عالم کی بقا کا بھی انحصارہے۔یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا اس طرف متوجہ ہے۔آئے روز اس موضوع پر کانفرنسیںمنعقد ہوتی ہیں اور ممکنہ تدابیر پر غور و فکر کیا جاتا ہے لیکن مسئلہ جوں کا توں ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کائنات میں کثافت پیدا کرنے والی چیزیں پائی جاتی ہیں۔ جیسے پاخانہ، پیشاب، کوڑا کرکٹ، لیکن صنعتی ترقی نے کارخانوں سے نکلنے والے فضلات اور دیگر گیسزنے زمین پر’زیست‘کوگوناگوںمسائل کاشکاربنادیاہے۔ موٹرکاروں کی کثرت سے اگرچہ انسان کو راحت ملی ہے لیکن ہمیں ماحولیاتی بحران میں بھی مبتلا کیا ہے۔ ہر علاقے کا اپنا ایک’ اکو سسٹم‘ ہوت

’’سلطنتوں کا قبرستان ‘‘کے حکمران

افغانستان سے امریکی فوج کا انخلااکیسویں صدی کا وہ نا قابلِ فرمواش واقعہ ہے جس کے دور رس اثرات مستقبل میں عالمی سیاست پر ضرور پڑ نے والے ہیں۔ دنیا حیران ہے کہ آخر طالبان نے اتنی آ سانی سے افغانستان کو کیسے فتح کر لیا۔ گزشتہ مہینہ کی 15؍ تاریخ کو جب طا لبان نے افغانستان کے دارلحکومت کابل پر قبضہ کرلیا تھاتویہ اندیشے ظاہر کئے جا رہے تھے اس قبضہ کے بعد افغانستان میں خانہ جنگی چھڑ جا ئے گی۔ قتل و خون کا بازار گرم ہوگا۔ لیکن یہ سارے خدشات اور پیش گوئیاںتاحال غلط ثابت ہوگئیں۔ افغانی عوام نے طالبان کو خوش آ مدید کہا، حتیٰ کہ افغانی فوج بھی طالبان کے ساتھ ہو گئی۔ اس طرح بغیر کسی بڑے خون خرابے طالبان نے افغانستان کی باگ ڈور سنبھال لی۔ 15؍ اگست 2021کو ملی اس غیر معمولی کا میابی کے بعد طالبان نے اپنے آ پ کو دنیا سے منوانے کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے اعلانات کئے جس کی دنیا کو توقع ن

عظمتِ اُستاد اور ذمہ داریاں

ہم اُستاد کسے کہیں ،ہماری نظر میں استاد کون ہے ،کیا اُستاد ہم ہر ایک کو کہہ سکتےہیںاور اُستاد پر کون کون سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ؟یہ کچھ ایسے سوالات ہیں،جن کی طرف ہماری توجہ عام طور پر یومِ اُستاد کے موقعہ پر متوجہ ہوتی ہے۔اُستادی بس ایک ایسا پیشہ ہے جس کی وجہ سے اور بہت سارے پیشے وجود میں آتے ہیں۔دنیا میں جتنے بھی رشتے ہیں، ان سب میں سے مقدس رشتہ استاد اور شاگرد کا مانا جاتا ہے ۔دونوں رشتے اُس وقت تک ترقی نہیں کرتے جب تک دونوںا طراف سے ادب اور احترام اور محبت و شفقت نہ ہو۔ ؎ جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیں دنیامیں بہت سارے انسانی رشتے ہوتے ہیں، جن میں کچھ رشتے خون کے ہوتے ہیں اور کچھ روحانی رشتے ہوتے ہیں، ان ہی رشتوں میں سے ایک رشتہ اُستاد کا ہے۔ اسلام میں استاد کا رشتہ ماں باپ کے برابر ہے کیو نکہ یہ استاد ہی ہے جو والدین کے ب

اساتذہ اور آن لائن درس و تدریس

ہمارے سماج کا اگر ہم جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے ایک ڈاکٹر چاہتا ہے کہ ہر شخص بیمار ہو۔ ایک وکیل کی خواہش ہوتی ہے کہ ہر شخص جھگڑالو ہو۔ پولیس والا چاہتا ہے کہ ہر شخص مجرم ہو۔ ٹھیکیدار چاہتا ہے کہ ہر شخص مزدور ہو۔ شراب فروش چاہتا ہے کہ ہر شخص شرابی ہو۔ ۔سیاسی لیڈر چاہتا ہے کہ ہر شخص بھولا بھالا اور معصوم ہو۔ لیکن! ایک اُستاد ہی ہے جس کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ قوم کا ہر شخص تعلیم یافتہ ہو، زندگی میںکامیاب و کامران ہو او رخود کی ترقی کے ساتھ ساتھ اپنے خاندان ، اپنے ملک اور پوری انسانیت کی بھلائی کے لئے کارآمد ہو۔ ایک اُستاد کے لیے شاعر کہتا ہے کہ؎ میری زندگی کا مقصد سبھی کو فیض پہنچے  میں چراغ راہ گذر ہوں مجھے شوق سے جلاؤ   ذرا غور فرمائیے کہ اگر آپ کسی وکیل سے مشورہ طلب کرو گے تو وہ فیس لے گا،کسی ڈاکٹر سے رابطہ قائم کروں گے تو وہ فیس لے گا لیکن اللہ تعالیٰ کی بنا

تاریک مستقبل پر نظر ڈالنے کی ضرورت

اپنی دسویں جماعت میں ہمیں پڑھایا گیا تھا کہ بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ لیکن آج مجھے یہ احساس ہورہا ہے کہ بچے مستقبل ہی نہیں بلکہ ماضی اور حال بھی ہوتے ہیں۔ اپنے ارد گردکے بچوں پر جب میں نظر دوڑاتا ہوں تو مجھے صرف تباہی نظر آتی ہے۔ میں اس آنے والے کل کو ان کاموں میں ملوث پاتا دیکھ کر سوچتا ہوں جن سے اُن کا دور کا بھی واسط نہیں ہونا چاہئے تھا ۔بذات ِ خود میں ایک طالب علم ہوں اور ایک نجی کوچنگ سنٹر میں پڑھاتا بھی ہوں ، جہاں میں بچوں کو زیادہ قریب سے  دیکھتا ،جانتا اور پرکھتا ہوں اورزیادہ تر میں اُن کے خیالات جاننے کی کوشش کرتارہتا ہوںاور پھر میں اُن کے وہ خیالات سُن کر اوراُن کے مشغولات دیکھ کر حیران ہو جاتا ہوں جو صرف تباہی کی طرف لے جاتے ہیں۔خاص ظور میں مسلمان بچوں کی ایسی صورت حال دیکھ کر افسردہ ہوجاتا ہوں کیونکہ ان کے سامنے تو مستقبل کے بارے میں کسی قسم کا احساس ہی نہ

ماضی کی تاریخ، نصاب کی طرح ہوتی ہے

کسی بھی نظریے و فکر کو تحقیقی بنیادوں پر اپنانے کا رواج اب ختم ہوتا جارہا ہے۔ بہت کم نوجوان اب تحقیقی بنیادوں پر کچھ کرنے کی سکت رکھتے ہیں، اکثریت جو ، جیسا، جہاں کی بنیاد پر اپنانےعادی ہو چکی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ کتب بینی اور مطالعہ سے دوری ہے، جس کی بنا پر تحقیقی کام جان پر گراں گزرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ذہنی وسعتیں سکڑتی جا رہی ہیں اور علم کے وہ چشمے جو مطالعے کی بنیاد پر اُبلتے تھے، اب خشک ہوتے جا رہے ہیں، اختلاف رائےسے نفرتوں نے جنم لیا۔  جذباتیت پروان چڑھ رہی ہے اور اس کا سب سے زیادہ نشانہ بننے والا وہ نوجوان طبقہ ہے، جو کسی بھی قوم کا نظریاتی اور عملی محافظ ہوتا ہے ۔ اگر کسی قوم کے نوجوان نظریاتی انتشار کا شکار ہو جائیں تو یہ اس قوم کے لیے ذہنی غلامی کا دور ہوتا ہے۔ اکیسوی صدی اگرچہ اپنے ساتھ جدیدت کا سامان لائی لیکن اس کے ساتھ ساتھ معیارات اور ترجیحات میں بھی نمایاں تبدی