تازہ ترین

مولانا رومی۔ نظریۂ تعلیم و تعلم

مولانا جلال الدین رومی کی پیدائش (1207 عیسوی) ایک ایسے وقت میں ہوئی اور انہوں نے ایک ایسے دور میں اپنا مخصوص اور غیر روایتی درس و تدریس کا عمل جاری رکھا ،جب دنیائے اسلام کو منگولوں نے تہہ و بالاکرنا شروع کیا تھا۔ 1258 عیسوی میں بغداد کی بربادی اسی منگول یلغار کی انتہا تھی۔ مولانا کے کلام، چاہے وہ "مثنوی" ہو یا "دیوان" یا پھر "فیہ ما فیہ"، میں قنوطیت کے انداز نے بہت سارے محققین کو یہ رائے قائم کرنے پر مجبور کیا ہے کہ انہوں نے بدلتے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک سرگرم علمی زندگی، جس میں ان کے والد (بہاء الدین) نے انہیں پروان چڑھایا تھا، سے کنارہ کشی اختیار کرکے تصوف کے مخصوص حصار میں اپنے آپ کو محفوظ کیا۔ تعلیم و تعلم کے ذریعے مختلف سلسلوں کے صوفیاء کرام نے جو کردار کئی علاقوں کی تشکیل اسلامی میں ادا کیا اس کو نہ تو قنوطیت سے تعبیر کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی د

تعلیم سے اخلاق اعلیٰ ہوں ہمارے!

تعلیم انسانیت کی اعلیٰ صفات سے روشناس کرتی ہے ۔ یہ ذہن کی جہالت دور کرتی ہے ،بند پڑے دلوں کو نورِ حق سے کھول دیتی ہے ۔ تعلیم سے منور سماج ترقی کے اعلیٰ منازل طے کرتے ہوئے چلا جاتا ہے ۔ تعلیم کوئی سوداگری نہیں، جس سے ایک بڑی خوبصورت ڈیزائن کردہ سرٹیفکیٹ پر چند پیسوں کے عوض دستخط کر کے بیچ دیا جائے بلکہ یہ بنجر زمین کو آباد کرنے کا سلیقہ سکھاتی ہے ۔ حقیقی معبود کی پہچان دلانے میں راہ فراہم کرتی ہے ۔ تاریخ شاہد ہے کہ جتنی لوٹ کھسوٹ، گھوٹالے ، بد اعمالیاں و بد عنوانیاں، رشوت خوری، و دیگر جرائم پڑھے لکھے لوگوں نے انجام دئے ہیں، اَن پڑھ لوگ اس کا تصّور بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ حالانکہ یہاں تعلیم سے انکار کرنا میرا مقصد قطعاً نہیں ہے بلکہ تعلیم وہ طاقت ہے جو انسانی زہن سے جہالت اور اندھیرے کے پردے کو چاک کر دیتی ہے اور اس سے روشنی کی طرف صحیح رُخ کے تعین کا فیصلہ کرنے میں مدد کرتی ہے لیکن تعلیم

عجب ہیں یہ دل کے موسم

؎عجب ہے دل کاموسم تیری ملاقات کے بعد جیسے جلتا ہوا کوئی جنگل برسات کے بعد موسم کی کیفیت کومحسوس کرنا ہر فرد کے اختیار میں ہے اس اختیار کو یہ اعتبار بخوبی حاصل ہے کہ موسم کی فضاؤں کو نوید یا بدمزگی کے ساتھ حصول پا سکے ۔ موسم کا ہر حال حسب حال کی سی نوعیت رکھتا ہے جس میں گرمی کی شدت ، ٹھٹھرتی سردی کی اذیت ناک تکلیف، خوشگوار فضاؤں کا حسین احساس، برسات میںراحت کا سانس وغیرہ ۔ طالب علمی کے زمانے میں ہمیں پڑھایا جاتا تھا کہ سال میں چار موسم ہوتے ہیں موسم بہار، موسم گرما، موسم خزاں، موسم سرما، جن کا اپنا اپنا الگ مزاج ہوتا ہے اور ہر موسم اپنے آپ میں الگ الگ خصوصیات کا مالک ہے ۔ موسمی تبدلی کا اثر انسانی تہذیب کی آبادکاری کے لئے انتہائی لازمی ہے جس سے ایک توازن قائم رہتا ہے اس توازن میں انسانی جسم کے اعضاء کی نشو و نما بھی خاصی ہوتی ہے جس کا سب سے بڑا اثر انسانی دل پر پڑتا ہے ۔ ضرو

دبستان کشمیر کا درخشاں ستارہ

جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے  کچھ ادیبوں کا ادبی قد اتنا بلند ہے کہ ان کی شخصیت اور فکروفن  کے بارے میں قلم اٹھانے سے قبل وسوسے آتے ہیں ، خوف طاری ہوتا ہے اور ایک  دباؤ سا رہتا ہے کہ تحریر شخصیت کے  شایان شان اور ان کے   فکر و فن کے معیار  کے برابر   ہونی چاہیے ورنہ کم علمی آشکار ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ پھر خیال آتا ہے کہ آدمی عیب و ہنر کا مجموعہ ہے۔ اس سے غلطیاں بھی سرزد ہوتی ہیں  اور یہی انسان اپنی قابلیت سے  ناقابل یقین کارنامے بھی انجام دیتا ہے۔  ادبی حلقوں میں بڑا نام رکھنے والوں کے بارے میں لکھنا آسان بھی ہے اور نوکیلے کانٹوں پر چلنے کے برابر  بھی، کیونکہ ان کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہوتا ہے اور مزید فنی پہلوؤں کی نشاندہی کرنا مشکل ہوتا ہے۔بڑے ادیب مختلف اصناف میں اپنے خیالات کی ترجمانی کرتے

عذاب دہ ہے ڈوڈہ بھدرواہ کی یہ سڑک

 اس دورِ جدید میںکسی بھی علاقے کی ترقی اور خوشحالی کاانحصاروہاں کے لئے رابطہ سڑکوں اور امور و مرور کی دیگر سہولیات پر ہوتا ہے۔ اس علاقے یا سیاحتی مقام میں انسان جانا پسند نہیں کرتا جہاں کے لیے راستہ اور رابطے مسدود ہوں۔ بھدرواہ ڈوڈہ تیس کلومیٹر سڑک جسے جموں سرینگر قومی شاہراہ کے ساتھ ہی تعمیر کیا گیا تھا، صوبہ جموں کی چند پرانی تعمیر شدہ سڑکوں میں شمار ہوتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ جہاں انقلابی نوعیت کی ترقیاتی و تبدیلیاں خاص طور پر امور و مرور یا آمدورفت کے ذرائع کی صورت میں رونما ہوئی ہیں وہیں  بھدرواہ ڈوڈہ سڑک حالت ِ ماضی میں ہے۔ اگرچہ ایک دہائی قبل اس سڑک کو ڈبل لائن سنگل سپین کی شکل بذریعہ (GREF-114RCC ) دی گئی تھی مگر بعد میں اس سڑک کی بگڑتی حالت پر غورکرنے کی زحمت گوارا نہیں کی گئی ۔ آج اس سڑک کی خستہ اور شکستہ حالی ہر شخص کو یہ کہنے پر مجبور کرتی ہے کہ انتظامیہ حددرجہ