تازہ ترین

لداخ ایک نئی سلامتی فکر مندی کا باعث

آج تک بھی کشمیر مستحکم نہیں ہوپایا ہے۔ قومی اور بین الاقوامی میڈیا میں صورتحال کی نزاکت کی اچھی طرح سے دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ کشمیرپر قریبی نگاہ رکھنے والے مبصرین نے اپنی ڈائریاں لکھی ہیں اور وہ لب کھولنے کے منتظر ہیں۔ یہ سابق ریاست جموں و کشمیر کی کہانی کا ایک حصہ ہے ۔ دوسری طرف دوسرے مرکز کے زیر انتظام علاقہ لداخ غیر واضح عنوانات کے ساتھ قومی میڈیامیں شہ سرخیوں کی زینت بنا ہوا ہے۔ سینہ ٹھونکنے والا میڈیا ،جسکے پاس نہ ختم ہونے والاذخیرہ الفاظ اور اکسانے والے محاوروں کی بہتات ہے ،آج یا توخاموش یا صرف بڑ بڑا رہا ہے ۔ اس تبدیلی کی وجوہات ٹی وی اینکروں اور اخبار نویسوں کو زیادہ معلوم ہیں۔ وہ نیپالی اور ہندوستانی فوجوں کی تعداد کے مابین مضحکہ خیز موازنہ کی سطح پر پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ یہ مضحکہ خیزی سے کم نہیں ہے اور اُس وقت زیادہ ہی مضحکہ خیز بن جاتا ہے جب بھارت کے ایک اٹوٹ انگ سابق ریا

نئی عالمی طاقت کی حیثیت سے چین کا ظہور

عالم اسلام میں اس بار عید اس حالت میں منائی گئی کہ نماز عید کا کوئی بڑا اجتماع کہیں نہیں ہوا۔کروناوائرس متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کی خبروں کے درمیان منائی گئی یہ عید عالم اسلام کی تاریخ کی پہلی ایسی عید تھی اور اللہ کرے کہ یہ آخری ایسی عید ہو۔ یقینایہ ایسی آخری عید ہوسکتی ہے اگر کم از کم مسلمان ہی خالق کائنات کی اس تنبیہ کو سمجھ سکے جو کرونا کی صورت میں عالم انسان کو جھنجھوڑنے کے لئے کی گئی ہے ۔جس انسان نے دنیا کو خونریز فساد کا وسیع ترین اکھاڑہ بنایا ہوا ہے، اس کے لئے تنبیہ ضروری تھی جو ایک بے جان وائرس کو ظاہر کرکے دی گئی اور جس کے نتیجے میں انسانی دنیا تہہ و بالا ہوکر رہ گئی ۔لیکن انسان کو تنبیہ کا پہلو نظر ہی نہیں آتا ہے یا وہ جان بوجھ کر اسے دیکھنا نہیں چاہتا ۔اس کی سوچ یہ ہے کہ وبائیں آتی رہتی ہیں اور یہ بھی ایک وباء ہے جو ایک دن ختم ہوجائے گی۔ وہ اس ویکسین کا بے صبری کے سا

فتحِ قسطنطنیہ۔۔۔ جب اسلاف نے دشمن کا غرور پاش پاش کیا

صحیح بخاری میں ارشاد نبوی ﷺ ہے کہ میری اُمت کا پہلا لشکر جو قیصر کے شہر پر حملہ کرے گا وہ بخش دیا جائے گا۔ مسند امام احمد بن حنبل میں آیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:’ تم ضرور قسطنطنیہ فتح کرلوگے۔ وہ فاتح فوج بھی خوب ہے اور اس کا امیربھی خوب ہے۔ ‘ ارشادنبوی ﷺ میں موعودہ مغفرت کے پیش نظر آٹھ سو سال تک مسلمانوں کی آرزو رہی ہے کہ قسطنطنیہ فتح ہو اور وہ قسطنطنیہ پر حملہ کرنے والی فوج میں شامل ہوکر مغفرت کے حقدار ہوجائیں ۔  قسطنطنیہ محل وقوع اور تاریخی لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل رہاہے۔ یہ باز نطینی سلطنت کا پایہ تخت تھا۔ فان کرامر کے مطابق قسطنطنیہ پر29 حملے ہوئے ہیں۔ مسلم مورخین کے مطابق مسلمانوں نے اس شہر پر نوبار حملے کئے ہیں۔  مسلمانوں نے سب سے پہلا حملہ حضرت معاویہؓ کے دور خلافت میں سفیان بن عوف اور یزیدکی سربراہی میں بحری اور بری راستے سے47ھ ؍ 668 ء میں ک

کورونا کے شر میں خیر کا پہلو

کرونا وائرس اگرچہ ایک مہلک ترین مرض ہے،جس کی وجہ سے پوری دنیا خطرے میں پڑگئی ہے۔بڑی بڑی طاقتیں بھی بے بس نظر آتی ہیں، یہاں تک کہ سائنس اپنے نقطہء عروج پر ہو کر بھی کرونا وائرس کے خلاف لڑنے کیلئے کسی بھی قسم کی دوا تیار کرنے میں اب تک ناکام رہی۔مذکورہ وائرس کی وجہ سے جو خوف پوری دنیا پر طاری ہوچکا ہے، شاید ایسا خوف عالمگیر جنگ سے بھی پیدا نہ ہوتا۔ہر طرف بے چینی اور غیر یقینی صورتحال عیاں ہے۔دنیا بھر کی معشیتیں بْرباد،تجارت ویران، بازار سْنسان اور لوگ اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔ غرض کرونا وائرس نے زندگی کے ہر شعبے اور ہر طبقے کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے اوراس سے اَن گنت نقصانات ہوچکے ہیں۔ دوسرے زاویے سے اگر دیکھا جائے تو یہ وبائی بیماری سماج میں کئی مثبت تبدیلیوں کا سبب بھی بنی۔ زندگی جینے کا طریقہ بھی کافی حد تک تبدیل ہو چکا ہے۔ کرونا وائرس کی وجہ سے سب سے زیادہ مثبت اثرات ماحول

عالمی ایمپائر کا امریکی خواب اور ایرانی مزاحمت

آج سے لگ بھگ 30سال قبل سوویت یونین (موجودہ روس) کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجانے کے بعد امریکہ دنیاکا واحد سپر پاور ملک بن کر ابھرا جس نے اپنی فوجی اور معاشی طاقت کی بنیاد پر نہ صرف پوری دنیا پر اپنے احکامات پر عمل کروایا بلکہ اپنی مخالف حکومتوں بالخصوص مسلم مملکتوں کو ایک ایک کرکے تہس نہس کردیا اور ایک حاکم کواقتدار سے ہٹاکر اس کی جگہ دوسرے کو بٹھادیا۔امریکہ دنیا میں جمہوریت کا فریبی علم لیکر سامنے آیاتھا لیکن اس نے جمہوریت کے قیام سے زیادہ اپنے مفادات کو ترجیح دی اور یہی وجہ رہی کہ اس نے کہیں جمہوریت کا تختہ پلٹ کر آمریت کی حوصلہ افزائی کی توکہیں جمہوریت کے نام پر خانہ جنگی کا بیج بویا۔جہاں ضرورت پڑی وہاں بادشاہت کا بھی دفاع کیا اور جہاں ضرورت پڑی وہاں جمہوری طرز پر بن کر آنیوالی حکومت کا تختہ ہی پلٹ دیا۔ سوویت یونین کا شیرازہ بکھرجانے کے بعد امریکہ کو اس کے مقاصد کے حصول میں کسی قسم کی ک

ضروری ا طلاع

تبدیلی قانونِ فطرت ہے اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا ناگزیر ہے۔اسی بات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کشمیر عظمیٰ اپنے ادارتی صفحات میں جدت لاکر ان کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے ۔اس سلسلے میں یکم جون سے کشمیر عظمیٰ کا ایک ادارتی صفحہ ہفتہ کے ساتوں دن ایک مخصوص موضوع کیلئے مختص رکھاجائے گا۔مخصوص شعبوں پر دسترس رکھنے والے قلمکار حضرات سے التماس ہے کہ وہ درج ذیل عنوانات کے تحت اپنی تحاریر ارسال کریں۔ سوموار: طب ،تحقیق و سائینس اس موضوع کے تحت قلمکار حضرات شعبہ صحت و طبی تعلیم پر خامہ فرسائی کرنے کے علاوہ تازہ ترین سائینسی تحقیق اور تیکنالوجی کے معاملات پر تحاریر ارسال کرسکتے ہیں۔ منگلوار: تعلیم و ثقافت  اس وسیع ترین موضوع کے تحت شعبہ تعلیم کے علاوہ ثقافت اور میراث پر تجزیاتی تحاریر ارسال کی جاسکتی ہیں۔ بدھوار: معاشرت وتجارت یہاں سماجی اور معا

ڈومیسائل:حقوں نہیں ، صرف اصول

جموں و کشمیر انتظامیہ نے جموں وکشمیر سول سروسز غیر مرکوزیت و بھرتی ایکٹ 2010 میں 31 مارچ 2020 کو ترمیم کرنے کے بعد جموں و کشمیر گرانٹ آف ڈومیسائل سرٹیفکیٹ (طریقہ کار) قواعد 2020 کونوٹیفائی کیا ہے۔ یاد رہے کہ اس ایکٹ میں ’’جموں و کشمیر کے مستقل رہائشیوں‘‘کے الفاظ ’’مرکزی زیر انتظام علاقہ جموں و کشمیر کے ڈومیسائل‘‘سے تبدیل کیے گئے۔ یہ تبدیلی محض الفاظ کا تبادلہ نہیں ہے۔ اس کے وسیع پیمانے پر مضمرات ہیں۔ اول آئینی طور پر’’مرکزی زیر انتظام علاقہ جموں و کشمیر کے کا ڈومیسائل‘‘ جیسا کچھ نہیں ہے۔ دستور ِہند ہندوستان میں صرف ایک ڈومیسائل ، یعنی ڈومیسائل آف انڈیا کو تسلیم کرتا ہے۔ آئین ہند کی دفعہ 5 اس نکتے پربالکل واضح ہے۔ اس میں صرف’’ہندوستان کی سرزمین میں رہائش پذیر‘‘کا ذکر ہے۔ آئین ہند

دستکاری کشمیر کی گھریلو صنعت

جموں کشمیر میں بے روزگاری اور معاشی حالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔بے روزگاروں کی شرح ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہی جارہی ہے۔ایک طرف لاکھوں لوگ بالخصوص نوجوان بے روزگار ہیں تو دوسری جانب مہنگائی عروج پر ہے۔بے روز گاری فی الوقت دنیا میں ایک بڑے مسائل میں سے ایک ہے۔یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جو غریب اور ترقی پذیرملک تو کیا ترقی یافتہ معاشرے کو بھی تہہ و بالا کرسکتی ہے یہی وجہ ہے کہ آج کل ترقی یافتہ ممالک میں بھی روزگار کے مسائل پیدا ہونے کی وجہ سے تخریب کاری نے جنم لیا ہے۔ اگر ترقی یافتہ معاشروں کی حالت بگڑسکتی ہے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کہاں کھڑے ہیں کیونکہ ترقی پذیر ممالک میں بے روزگاری کے مسئلہ سے نکلنے کیلئے دور دور تک کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آرہی ہے ۔   وادی کشمیر ان دنوں گونا گوں مسائل سے دو چار ہے ،سماجی اور معاشی تانا بانا الجھاہوا ہے۔ سماج ک

آن لائن فراڈ

ہیلو …میں New Lifeانشورنس کمپنی سے سُنیتا بول رہی ہوں۔ کیا میں علی محمد جی سے بات کرسکتی ہوں؟ جی ہاں ! میں علی محمد ہی بول رہا ہوں… بولئے کیا حکم ہے…؟ آپ کا ہماری کمپنی کیساتھ انشورنس چل رہا تھا لیکن آپ نے گذشتہ ماہ Matureہونے سے پہلے ہی Policyبیچ میں ہی Withdrawکی ہے۔ جی ہاں … آپ کو تو بہت نقصان ہوا ہے…! جی ہاں… اگر میں 10سال کی مکمل مدت تک پالیسی جاری رکھتا تو مجھے 15لاکھ روپے ملتے لیکن بیچ میں ہی Withdrawکرنے سے مجھے 8لاکھ روپے پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔ مجھے مجبوراً پالیسی کو دو سال قبل ہی Withdrawکرنا پڑا کیونکہ مجھے پیسوں کی بہت زیادہ ضرورت آن پڑی تھی۔ آپ کو جو نقصان اُٹھانا پڑا ہے، کمپنی کو اس کا پورا احساس ہے اور ہم آپ کیساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ میں کمپنی کی طرف سے آپ کو اس لئے فون کررہی ہوں کہ اگر آپ مز

اگرہم اب بھی متحدنہ ہوئے!

موت ہے یا جمود آنکھیں کھول زندگی جہد ہے، حرارت ہے ہندوستانی مسلمان آج جس قدرخوف زدہ اورایک عجیب ہیجانی کیفیت سے دوچارہے ،اس کی وجہ کیا ہے؟۔ درحقیقت مسلمانوں کی اس قدر بدترین حالت اپنے دین سے دوری اور دنیا کے حصول میں مگن ہونے کی وجہ سے ہے۔1857کی انگریزوں سے شکست کے بعد مسلمانوں میں متحدہ لیڈرشپ پیدا ہی نہ ہوسکی، جو لیڈرشپ ہوئی بھی اس نے مسلمانوں کو دوحصوں میں بانٹ دیا۔جو حصہ ہندوستان میں رہا، اس کی لیڈرشپ کانگریس کے ماتحت چلی گئی اور اس کی کمزور پکڑ کی وجہ سے ہماری تہذیب کی نشانی ’اردوزبان‘ تک چھین لی گئی اور ہماری لیڈرشپ یہ دیکھتی رہی ۔ حد تو تب ہوگئی جب اس وقت کے وزیرداخلہ سردارپٹیل نے مسلمانوںکودس فیصد رزرویشن دینے کی بات کی توہمارے ان قائدوں نے کانگریس پارٹی کی واہ واہی لوٹنے کے لیے اسے بھی لینے سے انکار کردیا۔  اصل میں آزادی کے بعد مسلمانوں میںکوئی

لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

ایک انسان اپنی زندگی میں کتنی بار بیمار ہو جاتا ہے؟ لیکن کیا اس کو بیماری کے دوران اپنی پوری زندگی سے شکوہ کرکے زندگی کی امید کھو بیٹھنی چاہیے ؟ انسان کے اوپر کتنی بار مشکلات اور تکالیف وارد ہو جاتی ہیں؟ لیکن کیا مشکلات اور تکالیف کے اندر کھو بیٹھے رہنے کو ہی صحیح سمجھا جائے ؟ اسی طرح سے سماج کے اوپر بحیثیت مجموعی کتنی بار آفات سماوی آجاتی ہیں؟ لیکن کیا اُن آفات پر رونے دھونے میں ہی عافیت سمجھی جا ئے ؟ اسی طرح سے اس وقت پوری دنیا کورونا وائرس کے وبا میں لپٹی ہوئی ہے، لیکن کیا لوگوں کو ڈرانے دھمکانے اور ان سے امید کا دامن چھڑوانے کو عقلمندی کا نام دیا جا سکتا ہے؟ الغرض، ایک فرد کی نجی زندگی سے لے کر اقوام کے اداروں تک کئی مرتبہ ایسی کئی ساری آزمائشیں آتی رہتی ہیں، جن کا مقابلہ کرنے اور ان آزمائشوں سے نکلنے کی امید کے ساتھ زندگیاں آگے بڑھتی رہتی ہیں۔ تاریخ انسانی سے یہ ایک بے بدل

وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا

 گھڑی کی سوئیاں کبھی نہیں رکتیں۔جو وقت سے فائدہ اٹھا لیتا ہے، وقت اس کے کام آ جاتا ہے اور جو وقت کی قدر نہیں کرتا ،وقت اس کو پیچھے چھوڑ کرآگے نکل جاتا ہے۔وقت ایک عظیم دولت ہے۔ وہی شخص دنیا میں عزت و شہرت حاصل کر سکتا ہے جو وقت سے فائدہ اٹھاتا ہے ،اس کی قدر کرتا ہے اور اسے ضائع نہیں کرتا ہے۔ہمیں چاہیے کہ وقت ضائع نہ کریں ،ہر کام مقررہ وقت پر کرنے کی عادت اختیار کریں اور  کبھی آج کا کام کل پر نہ چھوڑیں ،یہی پابندی وقت ہے۔کسی بھی کام کو مقررہ وقت پر کرنا وقت کی پابندی کہلاتا ہے۔کسی کام کو وقت پر کرنے والا ہی اس دنیا میں کامیاب ہو سکتا ہے۔انسان امیر ہو یا غریب ،وقت کی قدر نہ کرنے والے کو وقت اپنے پیروں تلے روند ڈالتا ہے۔اس کے برعکس چند کاموں میں وقت کی پابندی کرنے سے آدمی ساری زندگی خوش و خرم رہ کر گزار سکتا ہے۔وقت کی رفتار اتنی تیز ہے کہ اسے دنیا کی کوئی تیز رفتار شئے نہیں پ

کورنا وائرس اور غریب مزدور!

کورنا وائرس کی مہاماری پوری دنیا میں جاری ہے۔ اس بیماری سے جوجھنے والے ممالک میں ہندوستان بھی ہے، جو کورونا سے متاثر ہونے میں بعض رپورٹوں کے مطابق بارہویں نمبر ہے۔ہندوستان میں اس وباء کو شروع ہوئے لگ بھگ چار مہینے ہوگئے ہیں۔اِس وقت کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ڈیڑھ لاکھ کے قریب تک پہنچ چکی ہے اور اس بیماری سے مرنے والوں کی تعداد پانچ ہزا ر کے آس پاس ہے۔ان سب کے بیچ ملک میں چوتھے مرحلے کا لاک ڈاؤن جاری ہے۔اس بیماری اور لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں ملک کی جو حالت بنی ہوئی ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ ’’صحت‘‘ جو انسانی زندگی کا جزو ہے، اس بیماری کے چلتے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔اسی طرح تعلیم، زراعت، ٹیکنیکل اور مذہبی امور بھی ملک میں باعث چیلنج ہیں، لیکن ان سب سے بڑھ کر جو چیلنج ہے وہ بھوک اور مزدور وغریب کا ہے، لاک ڈاؤن کے چلتے مرکزی حکومت اس چیلنج پر کتنا فکر م

ڈگری یافتہ ہونے کا مطلب تعلیم یافتہ ہونا نہیں

تعلیم نسواں کا مطلب ہے عورتوں کی تعلیم۔ کہا جاتا ہے کہ ایک مرد کی تعلیم ایک فرد کی تعلیم ہے جبکہ ایک عورت کی تعلیم ایک خاندان کی تعلیم ہوتی ہے ۔اگر ایک عورت پڑھی لکھی ہوگی تو وہ اس خاندان کیلئے باعث فخر ہوتا ہے کیونکہ بچے کا پہلا درسگاہ بچے کی ماں کی گود ہوتی ہے جو کچھ اس وقت بچے کی ماں بچے کواس وقت سکھائے تو وہ عمر بھر تک بچے کو اثر انداز رہتا ہے۔ ہمارے رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد وعورت دونوں پر فرض ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام نے بھی مرد و عورت یعنی دونوں کو مساوی حقوق فراہم کئے ہیں ۔اسلام کی نظر میں نہ ہی مرد کا مقام و مرتبہ اعلیٰ ہے اور نہ ہی عورت کا مقام پست ہے ۔اگر اس میں تفاوت پائی جاتی ہے ،وہ ہمارے خرافاتی دماغ میں ہیں۔ ایک فلاسفر نپولین کا کہنا ہے کہ تم مجھے اچھی مائیں دیدو تو میں آپ کو ایک اچھا معاشرہ فراہم کروں گا

روح کو پاک کیسے کیا جائے؟

ایسے وقت جب حالات کا جبر انسانی سروں کی فصل کاٹ رہا ہو، انسان ہی انسانیت کا دشمن کیسے ہوسکتا ہے؟ ۔لوگوں کو بھلے ہی علم نہ ہو، لیکن اوپر والا جانتا ہے کہ کورونا وائرس کی وبائی فضا کے بیچ ایسے ناعاقبت اندیش اور خدا فراموش بھی ہیں جو غذائی اجناس میں طرح طرح کی ملاوٹ کرکے نہ صرف لوگوں کو زہر کھلا کر کورونا کا کام آسان کررہے ہیں بلکہ صیام کے مبارک مہینے میں اپنے بظاہر نیک اعمال کو اپنے لئے طوق جہنم بنا رہے تھے۔ ایسے لوگ کورونا وائرس سے متاثر اُس قابل رحم انسانوں سے زیادہ بیمار ہیں، ہسپتالوں اور قرنطینہ مراکز میں زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔کیونکہ فریب کاری اور مکاری کا جو دھیمک اُن کی روح کو چاٹ رہا ہے وہ اُنہیں کھلے عام قانون کے پرخچے اُڑنے اور انسانیت پر صریح  ظلم کرنے پر اُبھارتا رہتا ہے۔  دودھ میں صرف پانی ملایا جاتا تو بات الگ تھی ، لیکن مشاہدے میں آیا ہے کہ اس میں مضرصحت پ

اے مہِ نوہم کو تجھ سے الفت ِدیرینہ ہے

ماہِ صیام و قیام کی سالانہ تزکیاتی مشق اپنے اختتام کو پہنچ گئی اوراختتامی لمحات پر ہر نگاہ اْفق آ?سمان پر ٹکٹکی باندھے ہلال ِعید کی منتظر رہی ،ہر آ?نکھ میںا شتیاق اور ہر دید سے کرب و اضطراب و کرب چھلکتا رہا۔ ذرا یاد کیجئے وہ ایام جب ہمارے اقبال مندی کا زمانہ چل رہاتھا ،جب ہلال عید بہ صد احتشام ہمارے عروج و سربلندی کا ولو لہ انگیز پیام جاں فزا ء اپنے ہمراہ لے آ?تا تھا ، جب اس کی نمود ہمارے عزو وقار میں اضافہ در اضافہ کا موجب بنتا تھاکہ دنیا اس بلندی?ٔبخت پر ہمیں رشک کے ساتھ داد و تحسین دے رہی تھی۔ آ?ج حال یہ ہے کہ یہ مہ نو خود ہماری حالت زار و زبوں پر نوحہ کناں ہے۔ البتہ اس کا استقبال رونے دھونے تک محدود نہیں بلکہ یہ آ?ج بھی ہمارے حال کو ہمارے تاب ناک ماضی سے جوڑنے کے لئے ،ہمیں اپنے اسلاف کے درخشاں سیرت و کردار سے آ?گاہ کرنے کے لئے ،دنیا میں ہماری حکمرانی کے دنوں کی یاد تازہ کرنے

عید غرباء کے ساتھ! ، غم کا پہرہ ہے لگاپیہم جنہیں

زندگی خوشی اور غم کا حسین امتزاج ہے۔ بعض لوگوں کی زندگی میں خوشیوں کا تناسب زیادہ ہوتا ہے جب کہ کچھ لوگ اپنی زندگی کا زیادہ حصہ رنج وغم ہی اٹھائے پھرتے ہیں۔ یہ بندے کے لئے قدرت کی طرف سے امتحان یا مسرت و حسرت کی حکیمانہ تقسیم ہے جسے کوئی انسان چیلنج نہیں کرسکتا۔البتہ بعض مواقع ایسے ہوتے ہیں جب کوئی مخصوص خوشی اجتماعی، قومی یا ملّی سطح پر منائی جائے جیسے عید الفطر اور عید الاضحی، تو اس میں سب کی شمولیت سب کا ساتھ اہم چیز ہے۔ اللہ رب العزت نے مسلمانوں کو خوشی منانے کے لئے سال میں دو دن عطا فرمائے: عید الفطر وعید الاضحیٰ جن کو منانے کے لئے اپنے اصول و ضوابط اسی کے مقرر کردہ ہیہیں۔ آج خیر سے عید الفطر کی خوشیاں ہمارے در پر دستک دے رہی ہے اور ستاون مسلم ممالک میں پھیلی ملت اسلامیہ اور دنیا بھر کے غیر مسلم ممالک میں بسنے والے مسلمان اسے جوش وخروش سے خوشی مناتے ہیں۔اسلام جہاں اس عید کو خوشی

عید صیام۔۔۔حقوق العباد کی یاد دہانی

       شب و روز اور ماہ و سال کی آ مد کا سلسلہ ایک فطری اور اٹل نظام کے تحت بدستور جاری ہے اور دنیا کے قائیم رہنے تک جاری و ساری رہے گا۔ اس فطری نظام میں کسی تبدیلی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ کے اسی نظام کے تحت رمضان ا لمبارک کا رحمت و مغفرت، آزادی یعنی جہنم کی آگ سے بچنے کا،کثرت سے تلاوت قران پاک اور دعائوں کی قبولیت کا مہینہ ہم سے رخصت ہونے جا رہا ہے اور ہلال عید کا طلوع انشا اللہ ہوا ہی چاہتا ہے۔ اللہ سبحان و تعالیٰ سے دعا ہے کہ طلوع ہونے والا ہلال عید عالم اسلام کے لئے بلعموم اور ریاست جموں کشمیر کی آبادی کے لئے بلخصوص امن آشتی، سلامتی ، خوشحالی اور استحکام کا باعث بنے اٰمین۔ عید الفطر امت مسلمہ کے لئے انتہائی با برکت اور خوشیوں کا موقعہ ہے۔ اس دن اللہ تبار ک تعالیٰ کی جانب سے بے شمار رحمتوں کا نزول ہوتا ہے اور اللہ اپنے بندوں کو بہتر انعام اور

ابررحمت بن کے چھاجاؤپیام عیدہے

عیدکادن بہت ہی مسعودومبارک اور خدائے تعالیٰ کے مہمان کے دن ہے۔آج کے دن ہم سب خدائے تعالیٰ کے مہمان ہیں، اسی وجہ سے آج کا روزہ حرام قرار دیا گیا ہے کیونکہ جب خدائے تعالیٰ نے ہمیں اپنا مہمان بنا کر کھانے پینے کاحکم دیاہے تو ہم کو اس سے منہ نہیں موڑنا چاہئے۔ عید کے دن روزہ رکھنا گویاخدائے تعالیٰ کی مہمانی کو ردّ کرناہے ۔یہ ہم مسلمانوں کا بہت بڑا تہوارہے۔ہمارے تہوار میں کھیل تماشہ اور ناچ گانا وغیرہ نہیں ہوتا، کسی کو تکلیف دینا، ستانانہیں ہوتا بلکہ خدانے جس کو دیاہے وہ دوسرے ضرورتمندوں کی حاجتیں پوری کرتاہے۔ مالدار جب اپنے پھول سے بچوں کو اجلے اجلے نئے نرالے دلکش کپڑوں میں خوشی خوشی کھیلتے کودتے اچھلتے دیکھتاہے توغریب کے مرجھائے ہوئے چہرے اور اسکے بچوں کی حسرت بھری آنکھیں اس سے دیکھی نہیں جاتی۔مسلمان دولت مند اپنے گھرکے دس قسم کے خوشبوداراور مختلف النوع لذیذکھانوں کو اس وقت تک نہیں چھوتا

یتیموں و بیوائو ں کی دلجوئی کرنا نہ بھولیں

ہم اس وقت عید الفطر مناے رہے ہیں۔ عید عام معنو ں میں کوئی تہوار نہیں بلکہ ایہ اپنے معانی ا ور تصورو اعتبار سے آسمان جیسی وسعت رکھتی ہے ۔تہوار کیا ہوتا ہے ؟مذہب ،موسم یا قوم کی چھتری کے نیچے خوشیا ں اور رنگ رلیاں منانے ،خرمستیا ں کرنے اور جی بھر کر لطف اور مزے کی بہاریں لو ٹنے کا نام تہوار ہے ۔اس کے بر عکس عیدین دین اسلام کے سایہ رحمت میں آنے کا جلی عنوان ہیں ۔یہ رو حانی سکون پانے کے بہانے ہیں ،یہ سماج میں انسانیت کا بول بالا اور اخوت و محبت کا دور دورہ ہونے کا قرینہ ہیں ۔عید الفطر اصل خوشی خط افلاس کے نیچے زندگی گزر بسر کرنے والے تباہ حال اور احساس محرومی کے ڈسے ہوئے لوگو ں کو مساوات کی نرم و گداز آغوش میں لانے کا پیغام ہے ۔انہی چیزوں کی عملی تربیت رمضان المبارک کے دوران روز ہ دارو ں میں را سخ کی جاتی ہے ۔حقیقی عید توو ہی ہے جب مسلم سماج میں نفسیاتی طور پامال اور مالی لحاظ سے پسپا ک