وادیٔ منشیات؟

 پولیس نے 18ستمبر کو دعویٰ کیا کہ انہوں نے شمالی ضلع بارہمولہ میں کروڑوں روپے مالیت کی منشیات(کوکین) ضبط کرکے 4 افراد کو گرفتار کرلیا ۔پولیس کے مطابق اُنہیں منشیات فروشوں کے بارے میں ایک خفیہ اطلاع ملی تھی جس کے بعد ایک ناکہ کارروائی کے دوران منشیات کی مذکورہ کھیپ بر آمدکی گئی۔اس سے قبل بھی ایسی متعدد کارروائیوں میں پولیس نے ایسے ہی دعویٰ کئے بلکہ پولیس کم و بیش ہر روز منشیات کے کاروبار اور اس کے استعمال کے الزام میں گرفتاریاں عمل میں لاتی رہتی ہے۔ پولیس کے روزانہ بیانات کو ملحوظ رکھتے ہوئے خطہ کشمیر ’وادیٔ منشیات‘ لگ رہی ہے جہاں کے لوگوں کی ایک اچھی خاصی تعداد عالم بے خودی کا سہارا لیکر معلوم اور نامعلوم غم کو غلط کرنے کی سعی لاحاصل کرتے ہیں۔   حکام نے گذشتہ برس کراس ایل او سی تجارت بند کرنے کے وقت یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس تجارت کی آڑ میں وادی کشمیر میں

اُردو کے تابوت میں آخری کیل

جب سے بھارتیہ جنتا پارٹی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے نئی دہلی میں اقتدار سنبھالا ہے، تب سے عوام کے اصلی مسائل و مشکلات اور مطالبات کو حل کرنے کی بجائے ان سے عوامی توجہ ہٹانے کے لئے حربے استعمال کئے گئے اور جموں و کشمیر کو بطور خاص’تجربہ گاہ‘کے طور استعمال کیاگیا۔یوں تو جموں وکشمیر پچھلے سات دہائیوں سے زائد عرصہ سے ’سیاسی تجربہ گاہ‘ہی ہے لیکن پچھلے چند برس کے دوران کئی بڑے تجربے کر کے پورے ملک کی عوام میں یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی گئی جیسے ہم نے خلاء میں ناقابل ِ تسخیر کامیابی حاصل کر کے وہاں نئی دنیا قائم کر لی ہو۔لکھن پور سے لیکر کرگل تک سابق ریاست جموں وکشمیر کی عوام گونا گوں مشکلات کا شکار ہے ، خصوصی درجہ کی تنسیخ کے بعد تعمیر وترقی کا انقلاب بپا کرنے اور دودھ کی نہریں چلانے کے خواب دکھا کر سب کچھ لٹ لیاگیا۔ مشکلات کو حل کرنے کی بجائے یہاں پر مختلف طریقو

جرنلزم و ماس کمیو نی کیشن

 جرنلزم اور میڈیا کی اہمیت سے موجودہ دور میں نہ انکار ممکن ہے اور نہ ہی فرار۔ میڈیا کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔ ٹیلی ویژن، اخبارات، میگزین روزانہ کے واقعات اور اہم خبریں ناظرین اور قارئین تک پہنچاتے ہیں۔ اس شعبہ میں محنتی اور ایماندار افراد کی کمی ہمیشہ سے رہی ہے ۔ ایسے نوجوان جو خبروں کے تجزیے، قومی و بین الاقوامی سیاسی و معاشی معاملات میں دلچسپی رکھتے ہوں اور مطالعہ کا بھی شوق ہو وہ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا میں اپنا کرئیر بنا سکتے ہیں۔  جرنلزم اور ماس میڈیا کا مفہوم و فرق : خبروں کی ترسیل کے تمام ذرائع چاہے وہ اخبارات، میگزین ، ٹی وی چینلس اور آن لائن ویب پورٹل سے متعلق ہوں وہ تمام جرنلزم کی تعریف میں شامل ہیں یعنی یہ کہا جا سکتا ہے خبروں کی رپورٹنگ کسی بھی ذریعے سے کرنا جرنلزم کہلاتا ہے جبکہ ماس میڈیا یا ماس کمیونکیشن میڈیا کے مختلف ذرائع سے عوام تک پیغام پہ

ملک کے تعلیمی نظام پر بھگوا چھاپ

آزادی کے بعدبھارت کا تعلیمی نظام مختلف ادوار میں جدید طرز پر نافذ کیا جاتا رہا ہے۔ جس میں زیادہ ترمغربی دنیا کے نظام تعلیم کی ہمیشہ نقل ہوتی رہی ہے ۔ مختلف ایجوکیشن کمیشنز بنتے رہے جیسے کتھاری کمیشن، ایجوکیشن کمیشن، وغیرہ وغیرہ ۔ان کی رپورٹس آتی رہیں۔پھر ہندوستان کے چوٹی کے ماہر تعلیم، ٹیکنوکریٹس اور سائنسدان اس پر بحث کرکے اس کمیشن یا تعلیمی پالیسی کو حتمی شکل دینے سے قبل ملک میںحالات کے مطابق اپنے ملک گیر سماجی، اقتصادی،مذہبی ،علاقائی تناظر اور تعلیمی معیار کو سامنے رکھ کر عملی جامعہ پہناتے رہے ہیں۔ جس میں تمام مذاہب ہندو،مسلم، سکھ، عیسائی،بودھ ،جین ، پارسی اور جن کا کوئی مذہب نہیں ان کو مد نظر رکھا جاتا رہا ہے جو کہ ایک جمہوری ملک کا نسب العین ہوتا ہے۔ملک بھر کی تمام اہم بولی جانے والی زبانوں: ہندی، اردو، بنگالی، تیلگو، تامل،پنجابی،کشمیری ، مراٹھی، بھوجپوری ،اڑیا،آسامی،کنڑوغیرہ ک

اصلی مُجرم کون ؟

ربّ ِ کائنات کی طرف سے انسان کو سب سے بڑی نعمت زندگی کی شکل میں دی گئی ہے او ر زندگی صرف ایک بار ملتی ہے ،اس لئے اس کی جتنی قدر کی جائے کم ہے۔ایسی بیش بہا زندگی سے لطف اندوز ہونا اور اُسے خوشگوار طریقے سے گزارنا انسان کی ذمہ داری ہے ،لیکن آج کل دُنیاوی اُلجھنوں اور مسائل کے شکنجوں میں اپنے آپ کو پھنساکر بیشتر لوگ اپنی زندگیاں عذاب بنائے ہوئے ہیں۔ہر طرف جنگل کا قانون ہے اور ہر سمت چیر پھاڑ کرنے والے درندے اپنے تیز اور نوکیلے دانتوں سے جامۂ انسانیت نوچنے میں ہمہ وقت مشغول دکھائی دیتے ہیں ۔ہر سُو خدا طلبی کے بجائے دنیا طلبی کا دور دورہ ہے۔غرض پوری بستی کے لوگ آج خواہش پرستی کی ادنیٰ سطح پر گِر کر درندوں اور چوپایوں کی زندگی جی کر زمانۂ جاہلیت کی یاد تازہ کرنے میں مصروف ہیں۔ اس بستی کے ہم لوگ جس دین کے پیرو کار ہیں اُس دین کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ یہ دین دینِ فطرت ہے کیونکہ زندگی ک

عیاری اور مکاری کے پر ستار لوگ | دنیاوی فوائد ہی کو سمیٹنے کی کوششوں میں مصروفِ

جموں و کشمیر کو انڈین ٹریٹری میں تبدیل کرنے کے ایک سال گزرنے کے بعد وادیٔ کشمیر میں جو گوناگوں صورت حال چلی آرہی ہے وہ سابقہ حکومتوں سے بھی کئی گنابدتر نظر آرہی ہے۔عوام کو عرصہ دراز سے درپیش مصائب و مشکلات سے نجات دلانے اور ہر معاملے میں راحت دلانے کے جو خوش کُن وعدے کئے گئے تھے ،وہ تاحال سراب ہی ثابت ہورہے ہیں۔جبکہ کڑوا سچ یہ ہے کہ جموں و کشمیر کے سرکاری انتظامی شعبوں کے اعلیٰ سے ادنیٰ ملازمین کی زیادہ تر تعداد سابقہ حکومتوں کے ادوار میں جس طرح بدنظمی ، بے راہ روی ،خود غرضی اور چاپلوسی کے تحت اپنے منصبی فرائض کی انجام دہی میں مصروف کار تھی آج کے اس گورنرراج میں بھی وہ اُسی روایتی پالیسی کے مطابق اپنی ملازمت کے فرائض منصبی انجام دے رہی ہے اور بدستور وہی کچھ کررہی ہے جس سے لوگوںکے مشکلات و مصائب میںمزید اضافہ ہورہا ہے ۔ بلا شبہ کسی بھی حکومت کے مستحکم ،مضبوط اور کامیاب ہونے کی وا

مُردے کہاں جائیں؟ | سرکاری تدفین اتھارٹی کے قیام کی ضرورت

مشہور یونانی فلسفی ڈائجینیس نے اپنے اقربا کو وصیت کی تھی کہ جب وہ مرجائے تو اْس کی میت کو شہر کی بڑی دیوار کے اوپر سے گرا دیا جائے تاکہ لاش کو جنگلی جانور نوچ کھائیں۔ بعد میں افلاطون نے ڈائجینیس کے بارے میں کہا کہ وہ ‘‘پاگل ہوچکا سقراط’’ تھا۔ مہذب دْنیا میں ڈائجینیس کے بارے میں افلاطون کا خیال صحیح ثابت ہوچکا ہے، کیونکہ دس ہزار سال سے لوگوں نے بلالحاظ رنگ و نسل ، مذہب و ملت مْردوں کو بڑی تکریم کے ساتھ سپرد خاک یا سپرد نار کیا ہے۔ مْردوں کے ساتھ مختلف معاشروں کے رویوں پر تھامس لاقویر نے اپنی کتاب ‘‘دا ورک اوف دا ڈیڈ: کلچرل ہسٹری اوف مارٹل رِمینز’’ میں تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے۔ کورنا وائرس کی وبا کے بیچ بڑی تعداد میں لاشوں کو ٹھکانے کا عمل جس بے مروتی کے ساتھ جاری ہے، کبھی کبھار یہ لگتا ہے کہ اکیسویں صدی کے بیدار عہد میں بھی ہم ڈائجینیس

علاج و معالجہ کے مراکزمیں نظم و ضبط کا فقدان | ہسپتال خود بیمار،مریضوں کاعلاج کہاں ہوگا؟

سسٹم اور ادارے قواعدوضوابط کے تحت چلا کرتے ہیں۔اگر ان کی فعالیت ضابطے کو درکنار کر کے کسی شخص یا چند شخصیات کی اپنی مرضی ومنشاء کے تابع ہوجائے تو نظام درہم برہم ہوجاتاہے۔اِس کا مشاہدہ جموں وکشمیر یوٹی میں یکم نومبر 2019کے بعد ایگزیکٹیو سطح پر کیا گیا۔ راج بھون، چیف سیکریٹری اور پولیس ہیڈکوارٹر کے مابین آپسی چپقلش، کھینچا تانی، رسہ کشی کی اطلاعات میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آئیں، حالانکہ جتنا تھا اُس سے بہت کم سننے ، پڑھنے کو ملا ، بہت کم ہی اِس سے آشنا ہیں۔ہم نے دیکھا کہ ایگزیکٹیو میں اہم عہدوں پر براجمان نوکرشاہ کے الگ الگ آقاہیں۔کسی کا ریموٹ کنٹرول نئی دہلی کا ساؤتھ بلاک ہے تو کسی کے سرپر ناگپور کا آشیرواد ہے۔ملکی سطح پر برسرِ اقتدارجماعت میں طاقتورلابی ازم کا رحجان بھی دیکھاگیا ہے اور اِس کا عمل دخل جموں وکشمیر یوٹی کی انتظامیہ پر واضح دکھائی دیا۔نتیجہ کے طور پر نظام پٹری سے اُ

مشرق و مغرب میں سائنسی تحقیق کا معیار | پسماندگی کا اصل سبب

  اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ مغربی سائنسی انقلاب اسلامی علوم اور عربی مسلمانوں کی انتھک محنت و مشقت کا مرہون منّت ہے جن کی علمی و تحقیقی بنیادوں پر دور جدید اپنی آن اور شان کے ساتھ قائم ہے۔ماضی میں مسلمانوں کے مشاہدات و تحقیقات اور تلاش و ایجادات کی وجہ سے ہی انسان کی سائنسی و تکنیکی ترقی آج حیرت انگیز عروج پر پہنچنے کے قابل ہو سکی ہے جس پر خود انسان بھی متحیر و مستعجب ہے۔ اس بات کا اعتراف نہ کرنا حقائق سے چشم پوشی ہے کہ یورپ نے حکمت و فلسفہ اور سائنس میں ترقی کرکے اس کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔اسی طرح اس حقیقت کا اعتراف مغرب کو بھی بغیر کسی ادنی اعتراض کے کرنا پڑا ہے کہ یورپ کی پوری زندگی اور اس کا تمدن اسلام سے متاثر ہوا ہے۔رابرٹ بریفالٹ Brifault Robert  اپنی کتاب میں لکھتا ہے:"یورپ کی ترقی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جس میں اسلامی تمدن کا دخل نہ ہو۔۔۔۔"۔کیتھ

کمپیوٹر کے بنیادی حصے سائینس و ٹیکنالوجی

4 )نیو میرک ’’کی پیڈ‘‘  Numeric Hey Pad :  ہمارے ’’کی بورڈ‘‘ پر دائیں جانب ’’نیو میرک کی پیڈ‘‘ ہوتا ہے۔جس میں ’’کلکولیٹر‘‘ جیسی بٹن ہوتی ہیں۔ اِن میں سے کچھ بٹن کے دو کام ہوتے ہیں ۔ مثلاً 7 نمبر والی بٹن پر Home بھی لکھا ہوتا ہے اِس طرح یہ بٹن دو کام کرسکتی ہے ۔ہمارے ’’کی بورڈ‘‘ میں دائیں طرف جو کی پیڈ بنا ہوا ہے اُس کے اوپر بائیں جانب کونے والی بٹن پر NumLock لکھا ہوا ہے۔ دو کاموں کو کرنے والی بٹن کا سوئچ آن NumLock سے ہوتا ہے۔ جب NumLock کی بٹن ہم دبائیں گے تو وہ آن ہوجائے گا اور ہمارے ’’کی بورڈ‘‘ دائیں طرف ’’کی پیڈ‘‘ کے اوپر تین لائیٹس ہیں جو جلتی بجھتی ہیں ۔ جب ہم NumLock آن کرتے ہیں تو اُس لائیٹ کے

تہذیبوں کا تصادم اورکشمیریت

آئیے آج بات کرتے ہیں اس قوم کی جس کا ہم حصہ ہیں ۔لیکن کیسے کریں ۔ ہمیں پہلے یہ پتہ لگانا ہوگا کہ قوم کیا ہے ۔ ہم مسلمان ہیں ،اس لئے امت مسلمہ کا حصہ ہیں ۔ ہم کشمیری ہیں، اس لئے کشمیری قوم کا حصہ ہیں ۔ ایک ساتھ ہم دونوں قومیتوں کا جزو نہیں ہوسکتے، نہ ہم دونوں میں سے ایک کو الگ کرکے ایک ہی قومیت کا حصہ بن کر رہ سکتے ہیں ۔یہ ہمارا ہی نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ اوراس کی پوری تاریخ کا انتہائی گھمبیر مسئلہ رہا ہے اور اسی مسئلے کی وجہ سے ایسے تضادات نے جنم لیا ہے جن کی وجہ سے مسلمانوں کی نسلی ، علاقائی ، لسانی، تہذیبی اور گروہی شناخت امت مسلمہ کی روحانی اور نظریاتی اساس کے سماتھ یا تو خلط ملط ہوکر ایک ابدی کنفیوژن کا باعث بنی یاایک دوسرے سے ٹکرا کر فساد اور شر پیدا کرتی رہی ۔آج ہر جگہ ہر مسلمان کی شخصیت کے اندر قومیت کا ٹکرائو موجود ہے ۔چودہ سو سال کی تاریخ میں مسلم عالموں نے اس مسئلے کی کوئ

خُود کشی ایک بُزدلانہ فعل

گزشتہ دنوںفجر کی نماز پڑھ کر معمول  کے مطابق سیروتفریح کے بعد گھر کے باغیچہ میں بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا کہ اچانک میری نظر ایک ایسی خبر پر پڑی جسے دیکھ کر میں دھنگ رہ گیا۔ خبر یہ تھی کہ ہندوستان کے مشہور اداکار سشانت سنگھ راجپوت نے خودکشی کرلی اور اپنی زندگی کو اپنے ہاتھوں سے تمام کرلیا ۔افسوس اس بات کا نہیں تھاکہ ایک اداکار کی موت واقع ہوئی ہے۔ بس میں اس سوچ میں الجھ گیا تھا کہ آخر جن وجوہات کی بنا پر ایک غریب شخص خودکشی کا شکار ہوتا ہے ،وہ سارے وسائل تو مہیا تھے ۔جو چیزیں اس دار فانی میں انسان چاہتا ہے وہ تمام تر وسائل موجود تھے ۔آخر کن باتوں پر ایسے لوگ اپنی جان لیتے ہیں۔ آخر خودکشی کیا ہے؟لوگ کیوں خودکشی کرتے ہیں؟تمام تر مذاہب خودکشی کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ اسلام نے اسے بزدلانہ عمل کیوں قرار دیا ہے؟۔ اس جیسے کئی سوالات میرے ذہن میں گردش کرنے لگے۔آخر کار تسکین قلب کی خ

گوشہ اطفال|19 ستمبر 2020

 روزانہ ایک گھنٹہ ورزش بچوں کی ذہنی نشونما کیلئے اہم   فکرِ اطفال   لیاقت علی   جہاں ایک طرف جدید سائنس نے انسان کے لیے کئی آسائشیں پیدا کردی ہیں تو وہیں دورِ جدید کی تیز رفتار زندگی نے انسان کو فطرت سے بھی دور کردیا ہے۔ آج کے زمانے میں انسان ’’اِن ڈور‘‘ ہوکر رہ گیا ہے۔ ہم اپنے اِرد گِرد بھی اگر ایک نظر دوڑا کر دیکھ لیں تو اندازہ ہوگا کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ گھر میں اور کام کی جگہ پر بھی ایک چھت تلے اپنا زیادہ تر وقت گزارتے ہیں۔  دورانِ سفر بھی زیادہ تر لوگ ایک طرح سے ’’اِن ڈور‘‘ ہی رہتے ہیں۔ ہمارا یہ ’’لائف اسٹائل‘‘ دیکھنے میں تو ہمیں بہت ہی سہل اور پْرآسائش معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کی وجہ سے ہم سست ہورہے ہیں اور ہماری صحت بھی متاثر ہوتی جار

معاشرتی بے راہ روی سے دوچار مسلم سماج

اللہ تعالیٰ نے دنیا کو ایک خاص نظام کے تحت پیدا کیاہے۔ساری مخلوق اسی نظام اورخداکی اسی بناوٹ کے تحت قائم ودائم ہے۔جب کوئی مخلوق اس فطری نظام سے منحرف ہوتی ہے یاکوئی اورشخص اس نظام سے چھیڑ چھاڑ کرتاہے تودنیا میں فساد،بگاڑ اورتباہی آتی ہے۔غورکریں جب سے دنیا بنی اورآسمان پر سورج اورچاندکا نظام قائم ہوا،اللہ تعالیٰ کی یہ دونوں بڑی مخلوق بھی اسی نظام قدرت کی پابندی کرتی چلی آرہی ہے۔سورج پورب سے نکل کر پچھم کو ڈوبتاہے،سورج کے اس نظام میں کبھی کسی طرح کی تبدیلی نہیں آئی، اگر سورج اس فطری نظام سے ہٹ کر پچھم سے طلوع ہوکر پورب کی سمت ڈوبنے لگے تودنیا تباہی اوربربادی کی شکار ہوجائے۔اسی کو حدیث پاک میں قیامت یعنی دنیا کے اختتام کی بڑی علامت قرار دیاگیا ہے۔پھر غور کریں سورج جب سے بنا اپنی شعاع سے دنیا کو منور کرتا آرہاہے،جب کبھی سورج اپنا نور حکم خداوندی سے تھوڑی دیر کے لئے روک لیتاہے جسے ہم س

شرم وحیاانسانیت کا بہترین لباس

 انسان کوجو صفت دوسری مخلوقات سے ممتاز وممیز کرتی ہے، ان میں نمایاں صفت اس کی شرم وحیا کی حِس اور جذبۂ عفّت ہے۔حیا مرد اور عورت دونوں کا یکساں اخلاقی وصف ہے۔ یہ وصف ہمیں پوری آب و تاب کے ساتھ قصۂ آدم و حوا میں نظر آتا ہے۔ جب دونوں میاں بیوی نے ابلیس کے دھوکے میں آکر شجر ِممنوعہ کا پھل کھالیا تو ان کا جنت کا لباس اُتروا لیا گیا تھا۔ دونوں کو اپنی برہنگی کا احساس ہوا اور اس حالت میں انہیں اور کچھ نہ سوجھا تو انہوں نے فوراً جنت کے درختوں کے پتوں سے اپنی شرم گاہیں ڈھانپنے کی کوشش کی۔ زندگی کے جس شعبے سے بھی حیا رخصت ہو جائے وہاں بے اصولی ، بے ضمیری ، بے شرمی اور بے حیائی غالب آجاتی ہے۔ جھوٹ اور مکر و فریب کو فروغ ملتا ہے۔ خودغرضی ، نفس پرستی اور مادہ پرستی کا چلن عام ہو جاتا ہے۔ حرص و ہوس غالب آتی ہے۔ دل و دماغ پر خدا پرستی کے بجائے مادہ پرستی چھا جاتی ہے۔  خوشی ا

امارات ،بحرین اور اسرائیل معاہدہ

پوری دنیا کو معلوم ہے کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے جو اپنا وجود فلسطینیوں کے مسلسل خون چوسنے کے سبب قائم کئے ہوئے ہے۔اسرائیل کے لئے ہر دن فلسطینیوں کے خون کی ہولی کا تہوار ہوتا ہے۔اسرائیل کی تاریخ ظلم و بربریت سے عبارت ہے۔چند مثالوں سے اس کو بآسانی واضح کیا جا سکتا ہے:کنگ ڈیوڈ قتل عام جس میں92 لوگ قتل کئے گئے، ڈیرہ یاسین قتلِ عام جس میں 254 مفلس دیہاتیوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا، قبیا قتل عام جس میں 96لوگ قتل کر دئے گئے، کفر قاسم قتل عام ،خان یونس قتل عام، مسجد ابراھیم قتل عام، سابرہ و شاتیلا قتل عام جس میں 3000فلسطینیوں کو لبنان کے رفیوجی کیمپ میں قتل کیا گیا اور تاہنوز فلسطین میں ایک بہیمانہ نسل کشی جاری ہے۔اس پورے تناظر میں عرب ممالک کا اسرائیل کے ساتھ کسی بھی سطح پر کسی بھی نوع کی بات چیت کرنا انہیں انصاف کی عدالت میں ایک مجرم کی حیثیت سے کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے۔اسرائیل سے بات چ

دست ہر نا اہل بیمار ت کُند

گزشتہ دنوں شمالی کشمیر کے سرحدی ضلع کپوارہ میںایک جعلی معالج کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا اور اسکے بعد سوشل میڈیا پر ایک بحث چھڑگئی اور تادمِ تحریر یہ سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ جعلی ڈا کٹرمبینہ طور گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل انسانی جانوں کے ساتھ کھیل کر عوام کو دو دو ہاتھوں سے لوٹ رہا تھا اور اس پر طُرہ یہ کہ کوئی پُرسانِ حال نہیں۔الزام ہے کہ سرکاری ملازمت کے ہوتے ہوئے بھی مذکورہ شخص نے نقلی ڈاکٹر کا روپ دھار کراپنی ایک الگ دوکان کھول دی ۔ سوال یہ ہے کہ ابھی تک اس جعلی ڈاکٹر کی وجہ سے کتنی انسانی جانیں ضائع ہوچکی ہوں گی۔مریضوں کو غیر معیاری ادویات دیکر کتنے لوگ دائمی مریض بن چکے ہونگے اور کتنا پیسہ لوگوں سے ہڑپ کیا گیا ہوگا اور اس دل ِ بے رحم پر ذرا بھی ترس نہیں آیا۔ مکرو فریب ،چالبازی اور بد دیانتی کی عمر زیا دہ طویل نہیں ہوتی ہے اور آخر کار مصنوعی چالاکی کے قلعے دھڑام سے گرجاتے ہیں۔خیر

اسرائیل کے معاہدات اورعربوں کے سراب

اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم ڈیوڈ بن گورین نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ اسرائیلی عزائم اور ا ہداف کو اپنے ان الفاظ میں منعکس کیا تھا ۔ ’’مستقبل قریب میں واحد عالمی تنظیم(ورلڈ آرڈر )وجود میں آئے گا جو یروشلم کی سربراہی میں ہوگا ، ایک واحد فوج ہوگی اور یروشلم میں اصلی اور حقیقی اقوام متحدہ کا ادارہ ہوگا ‘‘۔یہ سمجھنا کوئی مشکل نہیں کہ اسرائیلی منصوبہ وہی (دجالی ) منصوبہ ہے جس کی پیش گوئیاں احادیث میں شامل ہیں اور بن گورین کا یہ بیان اس جملے کا عکس ہے ،’’ مسیحااسرائیل میں ایک حکومت قائم کرے گا جو تمام دنیا کی حکومتوں کا مرکز ہوگی اور تمام غیر یہودی اقوام اس کے ماتحت اور غلام ہوں گے (ایسیاہ ۔۲۔ ۱۲ )۔اب  بن گورین کے بیان کو حالیہ اس بیان کے ساتھ ملاکر دیکھئے جو یروشلم میں امریکی سفارتخانہ کی منتقلی کی افتتاحی تقریب پر ٹرمپ کے سفیر پادری جان ہیکی نے دیا تھا

ماضی کے دریچوں سے

بیسویں صدی کی تیسری اور چوتھی دہائی میں دنیا پرایک نام خوف کی طرح چھایا رہا تھااور وہ نام تھا ہٹلر۔بہت کم لوگ یہ جانتے ہے کہ ہٹلرکون تھا،کہاں پیداہواہے۔پہلی بار یہ باتیں اُس وقت منظر عام پرآئی جب والٹر سی لینگر ایک امریکی ماہرنفسیات کی ہٹلرکی نفسیات پر مبنی تصنیف 1972منظر عام پر آئی۔اگر چہ اس کتاب کو شائع ہوئے اب چند دہائیا گزری ہیں،لیکن درحقیقت اس کا مسودہ سب سے پہلے دوسری جنگ عظیم کے دوران 1943تیارکیاگیاتھا۔ مصنف نے ہٹلر کے زمانہ عروج میں متعدد قابل اعتمادذرائع اورٹھوس شہادتوں کی مدد سے بیسویں صدی کے سب سے بڑے ڈکٹیٹر اورنازی فلسفہ کے بانی کی آمرانہ ذہنیت اور نفسیات کاانتہائی ماہرانہ اورفاضلانہ تجزیہ کیا ہے ۔اس کے بچپن اور اوائل شباب سے قبل اوربعدمیں اس کے طرزعمل میں کارفرماعوامل کی نشاندہی کی ہے۔سروالٹر سی لینگر کاکہنا ہے کہ1936میں رائن لینڈکے دوبارہ قبضے کے موقع پرہٹلرنے اپنے طرز

جھوٹ،دھوکہ دہی اور فریب کاری

موبائیل فون کے وجود میں آنے سے جہاں انسان پوری دنیا میں رابطے میں رہا تو وہیں اس کے ذریعے پورا دن جھوٹ بولتا ہوا تھکتا نہیں ہے۔ بعض لوگوں کو تو عادت ہی پڑ گئی ہے کہ کئی جھوٹ ایسے بولے جاتے ہیں جو محض گناہِ بے لذت و بے فائدہ ہوتے ہیں۔ انہیں یہ امتیاز ہی نہیں رہتا کہ ہم نے فلاں کلمہ جھوٹ بولا ہے۔ انہیں اس کی پرواہ ہے نہ شرمندگی۔ کئی کلومیٹر دور ہوتے ہوئے بھی قریب بتاتے ہیں۔ اسی طرح ہم اپنے بچوں کو دھوکہ، جھوٹ اور فریب سکھا کر انہیں اپنے قریب بلاتے ہیں۔ واقعی ہم اْن سے محبت کرتے ہے لیکن جھوٹ بول کر نہیں۔ یعنی معمولی بات بچوں کو بہلانے کے لیے بھی گناہ ہے جو بے لذت و بے فائدہ ہے۔ سرکاری و نیم سرکاری اور پرائیویٹ محکموں کے ساتھ ساتھ کئی مزدور انجمنیں بھی اپنی حاضری ممکن بنانے کے لیے رجسٹر میں قلم زنی کرتی ہیں اور خلاف واقعہ لکھ کر گناہ کا مرتکب بن جاتی ہیں۔ آج کل لوگ ایسے کئی گناہوں می

تازہ ترین