تازہ ترین

کورونا وائرس کی دوسری لہر اور تباہ کن معاشی صورت حال

 گذشتہ برس 24؍مارچ کو عالمی وبا کورونا وائرس (کووڈ۔19) کے ضمن میں بغیر کسی منصوبے کے ملک گیر سطح پر لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے عام آدمی سے لے کر متوسط طبقے کے لوگ سخت پریشان ہوئے اور ان کی معاشی صورت حال نہایت ہی ابتر ہوگئی۔ کورونا کے شروع ہونے سے لے کر اب تک ایک برس سے زائد کا عرصہ مکمل ہوچکا ہے۔ لیکن وطن عزیز میں کورونا ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ بلکہ اب تو ہندوستان میں کورونا کی پہلے سے زیادہ شدید اور مہلک دوسری لہر چل رہی ہے۔ اب تو کورونا سے متاثر ہونے والوں مریضوں کو مائع آکسیجن کی قلت ہورہی ہے۔ ہسپتالوں میں مریضوں کو بستر نہیں مل رہے ہیں۔ ضروری ادویات کی قلت ہے۔ عوام کی اکثریت اپنی روزمرہ زندگی میں بے حال ہوچکی ہے۔ ایک ریاست سے دوسری ریاست نقل مکانی کرکے محنت مزدوری کرنے والے مزدور اپنی آبائی ریاست جانے کے لیے بے چین ہیں۔ یومیہ مزدوری کرنے والوں کے س

کورونا کی کارستانی اور انتظامی سہل انگاریاں

رواں برس مارچ کے آغاز میں وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے دعوی کیا تھا کہ ملک کے اندر کوروناوبا اختتامی مرحلے میں ہے لیکن موقر ’دی گارجین‘ کے مطابق’’ ہندوستان اب ایک زندہ جہنم میں تبدیل ہوگیا ہے‘‘۔ ملک کو تباہ کن کورونا وائرس کی دوسری لہر کا سامنا ہے اور اب تک اس نے اتنی تباہی مچائی ہے کہ اسپتالوں میں بستر اور طبی آکسیجن کی شدید کمی ہے۔شمشان گھاٹ اس حد تک مصروف ہیں کہ گھروں میں لاشیں سڑنے کے لئے چھوڑ دی گئی ہیں ۔اب تو شمشان گھاٹوں سے ایسے ٹوکن فراہم ہونے لگے ہیں جن پر لاشوں کو آخری رسومات کیلئے لانے کی تاریخ اور وقت تحریرہوتی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب پورے ملک میں وبا انتہائی تیزی کے ساتھ پھیل رہی تھی ملک کی پانچ ریاستیں انتخابی مراحل سے گذر رہی تھیں ،یہاں تک کہ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح مودی بھی انتخابی مہم چلانے سے دستبردار نہیں ہ

کورونا قہر اور سسکتی انسانیت

کورونا وائرس کی ہوش رُبا تبا ہی سے اس وقت ساری انسانیت تڑپ رہی ہے۔ ہمارے اپنے ملک ہندوستان کے حالات دن بہ دن دھماکہ خیز ہوتے جا رہے ہیں۔ ہر روز مرنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ ہر طرف ایک نفسا نفسی کا عالم ہے۔ دواخانوں میں مریضوں کو بیڈ نہیں مل رہے ہیں۔ وقت پر آکسیجن نہ ملنے سے لوگ موت کے منہ میں چلے جا رہے ہیں۔ ہر آدمی حیران اور پریشان ہے۔ حکمرانوں کی کاہلی اور ان کی غفلت کی سزا عوام بھگت رہی ہے۔ گزشتہ سال کوویڈ کی پہلی لہر نے ملک میں خوف اور دہشت کا جو ماحول پیدا کر دیا تھا ، اس سال اس سے کئی گُنا زیادہ حالات بد ترین ہو گئے ہیں۔ حالات کی اسی سنگینی کا نوٹ لیتے ہوئے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے کویڈ۔19     کے بڑھتے ہوئے بھاری اضا فہ کو "قومی بحران"قرار دیتے ہوئے مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے ہیلتھ انفرا سٹر کچر کے متعلق رپورٹ طلب کی۔ سپریم کورٹ نے منگل ( 27؍

’’آکسیجنو فوبیا‘‘

   کب کوئی دیش دروہی ٹھہرے پتہ ہی نہیں چلتا- زندگی کی پہلی ضرورت جسکو عرف عام آکسیجن کہا جاتا ہے مانگنا بھی کبیرہ گناہ بن گیا ہے۔ آکسیجن سے ڈرنے کی ساری کہان ریاست اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کے گرد گھومتی ہے۔ اس سے پہلے مختلف اقسام کے فوبیوں مثلاً ہاییڈرو فوبیا، اسلامو فوبیا وغیرہ کے بارے میں تو سن رکھا تھا لیکن آکسیجن سے بھی کوئی ڈرتا ہے پہلی بار دیکھا ۔ پتہ نہیں یوپی کا موجودہ ایوان اقتدار آکسیجن کی ڈیمانڈ کرنے پر سیخ پا کیوں ہو جاتا ہے ۔ کرونا کی دوسری لہر نے ملک بھر کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے۔ یقین جانیں جس طرف نظریں اٹھاؤ لاشوں کے انبار دکھائی دے رہے ہیں ۔صبح اٹھ کے اخبارات دیکھو تو ان سے بھی موت کے انگارے بھڑک رہے ہیں ۔ پوری دنیا سے ہمدردیوں و امدادی پیکیج کا سلسلہ جاری ہے ۔ مختلف ممالک سے یہ امدادی پیکیج آکسیجن کی صورت میں بھارت پہنچ رہی ہے ۔ ملک کے ہسپتال آکسیجن

گرافک ڈیزائننگ اور انیمیشن

تکنیکی ترقی نے جن کورسیس میں انقلابی تبدیلی اور روزگار کے کثرت سے مواقع پیدا کیے ہیں ان میں گرافک ڈیزائننگ، اینیمیشن، وی ایف ایکس، اسپیشل افیکٹس، سائونڈ اور ویڈیو ایڈیٹنگ، ایڈورٹائزنگ کے شعبے اہم ہیں۔ ان شعبوں میں مہارت رکھنے والے افراد کے لیے ٹیلیویژن، فلموں، آن لائن پلیٹ فارمس، نیوز چینلس ، میڈیا، ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کے مختلف شعبوں میں روزگار کے مواقع دستیاب ہیں۔ تخلیقی صلاحیتوں کا حامل ایک گرافک ڈیزائنریا اینیمیٹرکسی فلم ، میڈیا کمپنی میں ملازمت بھی کرسکتا اور اسے خود روزگار کے مواقع بھی حاصل ہوتے ہیں۔ ایسے طلبہ جن میں تخلیقی صلاحیتیں موجود ہوں ، ٹیکنالوجی سے شغف ہو، انھیں ان کورسیس کی طرف رخ کرنا چاہیے۔ آئیے ان کورسیس کا جائزہ لیں۔  گرافک ڈیزائنر  (Graphic Designer)  ایک گرافک ڈیزائنر انٹرنیٹ، ٹیلی ویژن، پبلشنگ اور میڈیا ہائوسیس، ایڈورٹائزنگ ایجنسیز کے

SCREAMING SILENCE

نام کتاب؛ Screaming Silence  مصنف؛ ڈاکٹر مدثر احمد غوری سن اشاعت؛2021 ناشر؛ Ink Links Publishing House J&K ڈاکٹر مدثر احمد غوری کا تعلق کشمیر کے موضع تلنگام پلوامہ سے ہے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گائوں کے اسکول گورنمنٹ مڈل اسکول تلنگام سے حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے ڈاکٹر مدثر نے جھانسی کا رخ کیا اور وہاں سے انگریزی میں پوسٹ گریجویشن گولڈ میڈل حاصل کرنے کے ساتھ مکمل کی۔ بعد میں ایم فل کی ڈگری وکرم یونیورسٹی اُجین سے 2014ء میں حاصل کی۔اس کے بعد انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی سے امتیازی شان کے ساتھ حاصل کی ۔ مصنف اس وقت مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی کے ڈی ڈی ای کے شعبۂ انگریزی میں بحیثیت گیسٹ فیکلٹی کے طور پر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر مدثر احمد غوری محقق بھی ہیں، شاعر بھی ہیں اور نقاد بھیـ

احکام رمضان المبارک

رمضان المبارک کے روزے رکھنا اسلام کا تیسرا فرض ہے۔ جو اس کے فرض ہونے کا انکار کرے مسلمان نہیں رہتا اور جو اس فرض کو ادا نہ کرے وہ سخت گناہ گار فاسق ہے۔ روزہ کی نیت:نیت کہتے ہیں دل کے قصد وارادہ کو، زبان سے کچھ کہے یا نہ کہے۔روزہ کے لیے نیت شرط ہے، اگر روزہ کا ارادہ نہ کیا اور تمام دن کچھ کھایا پیا نہیں تو روزہ نہ ہوگا۔ مسئلہ: رمضان کے روزے کی نیت رات سے کرلینا بہتر ہے اور رات کو نہ کی ہوتو دن کو بھی زوال سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے تک کرسکتا ہے؛ بشرطیکہ کچھ کھایا پیا نہ ہو۔ جن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے: (۱) کان اور ناک میں دوا ڈالنا، (۲) قصداً منہ بھر قے کرنا، (۳) کلی کرتے ہوئے حلق میں پانی چلا جانا، (۴) عورت کو چھونے وغیرہ سے انزال ہوجانا، (۵) کوئی ایسی چیز نگل جانا جو عادۃً کھائی نہیں جاتی ، جیسے لکڑی، لوہا، کچا گیہوں کا دانہ وغیرہ، (۶) لوبان یا عود وغیرہ کا دھواں قصداً ناک یا

ماہ صیام کی رونقیں کورونا قہر کے سائے میں

انسانی بحران ، مصائب ومشکلات ‘بدترین حالات اور آزمائش کی گھڑی میں عام طور پر لوگ دین ومذہب کا سہارا لیتے اور اپنے خالق ومالک کی طرف متوجہ ہو کر عبادتوں کے ذریعہ سکون واطمینان حاصل کرنا چاہتے ہیں، مگر کرونا وباء کے پھیلائو کے زمانہ میں اہل اسلام تو اپنے رب کو راضی کرنے کی طرف متوجہ ہوئے توبہ واستغفار میں مشغول ہوئے لیکن اس ملک کے دیگر اہل وطن کم ہی اس وباء سے بچنے کے لئے دین ومذہب کا سہارا لیا، یا اہل یورپ اور یہود ونصاری کم ہی چرچوں اور عبادت خانوں کا رخ کیا، خود دنیا کے مسلم ملکوں نے بھی مساجد کے دروازے بند کردیئے اور با جماعت نماز کی ادائیگی سے روک دیا۔ اور حج وعمرہ جیسی عظیم الشان عبادت پر پابندی لگا دی۔  اس بحث سے قطع نظر کہ کرونا آسمانی بلاہے یا زمینی پیدا وار، یہ قدرتی آفت ووباء ہے یا مصنوعی اور اس میں مارے جانے والے حقیقی معنوں میں اس مرض کا شکار ہو کر مرے ہیں

جذبات کی تربیت

انسان جیسے ہی اس دنیا میں قدم رکھتا ہے تو وہ یہاں کچھ نہ کچھ سیکھنے کی کوشش کرتا ہے اور آئے دن نئی چیزوں اور نئے عوامل کا علم حاصل کرتا ہے۔ چونکہ اللہ سبحان و تعالیٰ نے انسان کو مختلف اعضاء عطا کیے ہیں جن کے وجہ سے وہ محسوس کرنے کی قوت رکھتا ہے۔ یہی اعضاء اْس کو  پہلے پہل نئی چیزوں کا علم عطا کرتے ہیں اور نئے عوامل سیکھنے میں مدد کرتے ہیں۔ بعد میں پھر وہ زندگی کے حاصل کردہ تجربات سے اور سماج میں پہلے ہی رائج کردہ علم سے نئی معلومات حاصل کرتا ہے۔ جب ایک بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے والدین اس کی پرورش کرنے کے دوران چاہتے ہیں کہ اْنکا بچہ صرف اچھی چیزیں سیکھے، اس میں صرف اچھے عادات حامل ہوجائیںاور تو اور اْنکا بچہ صرف وہی سیکھے جو وہ لوگ اسکو سکھانا چاہتے ہوں اور اس کے سوا اور کچھ نہ سیکھے۔ تازہ ترین سائنسی تحقیقات کے مطابق بچے کی پیدائش سے لیکر چھ یا سات سال کی عمر تک بچے کے دماغ کا %

فاتح خیبراور دامادِ رسولﷺ

خانہ کعبہ ایک قدیم ترین عبادت گاہ ہے اس کی بنیاد حضرت آدم علیہ اسلام  نے ڈالی تھی اور اس کی دیواریں حضرت ابراہیم علیہ اسلام اور حضرت اسماعیل علیہ اسلام نے بلند کیں۔ اگر چہ یہ گھر بالکل سادہ ہے نقش و نگار اور زینت و آرائش سے خالی ہے ، مگر اس کا ایک ایک پتھر برکت و سعادت کا سرچشمہ اور عزت و حرمت کا مرکز و محور ہے، اور آج بھی اس کی مرکزیت و اہمیت اسی طرح قائم و دائم ہے۔وہ پہلا گھر جو لوگوں کے لیے بنایا گیا، ان کی ہدایت کا ذریعہ ہے،مسلمانوں کا قبلہ، خانہ کعبہ ہے. اس بابرکت مکان کی نشاندہی قرآن نے اس طرح کی ہے کہ یہ مکان سرزمین بکہ پر ہے (شہر مکہ کا قدیمی نام بکہ ہے)۔ اس گھر کی عظمت کے لیے یہی کافی ہے کہ خدا نے اس کو اپنے نام سے منسوب کر لیا اور اسی لیے اس مکان کو ‘بیت اللہ’ یعنی ‘اللہ کا گھر’ کہا جاتا ہے۔قرآن میں اس مکان کی عظمت کے بارے میں متعدد آیات موج

رمضان کے خشک میوے اور ان کے فوائد

معالجین کہتے ہیں کہ خشک میوے جسم میں تازہ خون بنانے کا بہترین موقع فراہم کرتے ہیں۔ خشک میوے اپنے اندر وہ تمام ضروری غذائیت رکھتے ہیں جو جسم میں توانائی اور تازہ خون بنانے کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔ یہ میوے معدنیات اور حیاتین سے بھرپور ہوتے ہیں اور اسی غذائی اہمیت کے پیش ِ نظر معالجین انہیں ’’قدرتی کیپسول‘‘ بھی کہتے ہیں۔ اطباء بھی خشک میوہ جات کی غذائی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں اور اکثر کو مغزیات کا درجہ دیتے ہیں۔ خشک میوہ جات قدرت کی جانب سے ایک انمول تحفہ ہیں جو خوش ذائقہ ہونے کے ساتھ ساتھ بے شمار طبی فوائد کے حامل بھی ہیں۔ خشک میوہ جات مختلف بیماریوں کے خلاف مضبوط ڈھال کے طور پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ڈرائی فروٹس جسم کے درجہ حرارت کو بڑھانے اور موسم سرما کے مضر اثرات سے بچائو میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اعتدال کے ساتھ ان کا استعمال انسانی جسم کو مضبوط

ہر دُکھ و درد کا مداوا انسانیت ہے

یہ اٹل حقیقت ہے کہ زمینی اور آسمانی آفتوں کی تاریخ انسانی وجود سےشروع ہوتی ہے اور جب بھی کسی قوم پر خدا کی ناراضگی بڑھ جاتی ہے تو آندھی، طوفان، سیلاب ،زلزلے اور وبائی بیماری کی صورت اختیار کرکے اُس قوم کو آلام و مصائب میں مبتلا کرتی ہے یاپھر صفحہ ہستی سے ہی مٹا دیتی ہےاور ایسی تباہی اور بُربادی بپا ہوتی ہے ،جس کے اثرات عشروں اور صدیوں تک موجود رہتے ہیں۔گذشتہ سال کے بدترین کرونائی قہر نے جہاں پہلے مرحلے میں ساری دنیا کو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات سے دوچا ر کرکے ہلا کے رکھ دیا، بڑے بڑے سُپر پاور طاقتوراور مالدار سورمائوں کی زبانیں گنگ کر دیںاور شاہانہ زندگی گذارنے والے لوگوں کوبھی معاشی بدحالی سے دوچار کردیاتووہاںآج اس وبائی قہرنے اپنےدوسرے مرحلےمیںبرصغیر کے ایک سو تیس کروڑ آبادی والے ملک بھارت کو تلپٹ کرکےاس کا نظام ِزندگی مفلوج کردیا ہے۔ ہر طرف مہا ماری کی بد ترین صورت ِحا

روزہ کشائی … پہلا روزہ

ماہ ِرمضان میں اکثر مجھے لکھنئو میں گذر ہوا اپنا بچپن یاد آنے لگتا  ہے۔آنکھوں کے سامنے سے یادوں کا معصوم ا ور ست رنگی کارواں گزرنے لگتا ہے۔ بچوں سے اپنے بچپن کی باتیںکرنے کا دل چاہتا ہے کیوں کہ ہر بچہ کا بچپن اسکی زندگی کا  پیاری پیاری باتوں سے بھرا  انمول سرمایہ ہوتا ہے۔ اس وقت میری عمر تقریباً نو یا دس سال کی ہوگی۔ شدت سے گرمی پڑ رہی تھی،جیسے آج کل پورے ملک میں گرمی کی تپش کا زور ہے۔میںروزانہ صبح سحری میں اٹھ جاتا ۔یا یوں کہیں کہ دودھ ۔پھینی اور آلو کے دیسی گھی میں تلے پراٹھوں کی خوشبو مجھے اٹھا دیتی تھی۔ اس کے علاوہ ، ان دنوں سحری کے وقت روز انہ اللہ کے کچھ نیک بندے اپنی ترنم ریز آواز میں سحری نعرہ لگاتے کہ جاگو سونے والو۔ غفلت کی نیند سے اٹھو۔سحری کا وقت ہو گیا ہے۔ نیند کا شیطان بہکائے گا۔ اس کے بہکاوے سے بچو۔ یہ مبارک مہینہ ہے، دوبارہ نصیب ہو نہ ہو۔گیا وقت

کورونا سے جنگ مقوی غذاکے سنگ

گزشتہ ایک سال سے جب سے پوری دنیا میں کورونا کا قہر برپا ہوا، تب سے ہر ملک میں لوگ مختلف طریقوں کے ذریعے کورونا سے لڑنے کی مختلف تدبیر ڈھونڈ ھ رہے ہیں۔ڈاکٹروں، Nutritionists اور Dieticians کے مطابق اس جنگ میں اصلی فتح ہم ادویات کے ساتھ ساتھ مقوی غذاؤں کے استعمال کے ذریعے بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ یا یوں کہیے کہ کوویڈ-19کے ایک مثبت اثر کے طور پر ہماری غذائی عادتوں اور غذاؤں میں رونما ہونے والی تبدیلی کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے ۔ ہر کوئی اپنے قوت مدافعت میں اضافہ کرنے کی فکر میں ہے اور گھروں میں قیام کے دوران خود کو چست رکھنا چاہتا ہے۔ ہر کوئی متوازن اور تغذیہ بخش غذا کی فکر میں ہے تاکہ کوویڈ19- وائرس کا مقابلہ کرنے میں مدد مل سکے۔ اس وقت جن غذاوں نے اپنی طرف لوگوں کی توجہ مرکوز کی ہے ان میں Millets سرفہرست ہے۔ Millets کا استعمال غذا کے طور پر صدیوں سے کیا جاتا رہا ہے لیکن حالیہ عرصہ میں

یا خدا تجھ سے دعا ہے!

بس چند لمحات کی عملی توبہ مصیبتوں سے نجات کا سبب بن سکتی ہیں۔بالخصوص وہ لمحات جب ہماری نظریں دسترخوان کی جانب ٹکی ہوتی ہیں اور رب ِ کائنات یہ فرماتے ہیں کہ ’’ ہے کوئی مانگنے والا جسے میں عطا کردوں‘‘ یاد رہے اِن عظیم اور اہم لمحات میں ہمارا دھیان دسترخوان سے ہٹ کر بار گاہِ الٰہی کی جانب ہوجانا چاہیے ،بالخصوص وہ اک منٹ جب ہم ایک ایک سکینڈ گن رہے ہوتے ہیں کہ کب افطاری کا اعلان ہو جائے اور ہم اللہ کی نعمتوں پر ٹوٹ پڑیں لیکن اِس اہم اور عظیم وقت پر ہمیں اللہ کی بار گاہ میں رجوع کرنا ہے ، اْس کے سامنے گڑگڑا کر توبہ کرنی ہے،بس یہ ایک منٹ میں بار گاہِ الہیٰ میں ہمارا جھکنا ہماری بگڑی بنا سکتا، اِن چند لمحات پر اپنے رب کے سامنے رونا یا رونے والی شکل بنانا ہمارے گناہوں، لغزشوں اور خطاؤں کو معاف فرمانے پر راضی کرا سکتا ہے۔ لمحہء فکریہ کہ اک پولیس اہلکارکے سامنے ہم آس

کورو ناقتل عام

اس وقت پورے ملک میں ہاہاکار ہے۔ اسپتال مقتل کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ جو لوگ وینی لیٹر یا آکسیجن پر ہیں سمجھیے پھانسی کا پھندہ ان کے گلے میں پہنا دیا گیا ہے۔ کب جلاد لیور کھینچ کر کس کے قدموں کے نیچے کا تختہ گرا دے کہا نہیں جا سکتا۔ اسپتالوں میں ان کی سانسیں اٹکی ہوئی ہیں تو باہر ان کے اعزا و اقربا کی۔ اندر بھی افراتفری ہے اور باہر بھی۔ باہر والے بھی اندر والوں سے کم اذیت میں مبتلا نہیں ہیں۔ ایسے عالم میں جبکہ اسپتالوں کے ذمہ داران سلنڈر، آکسیجن اور ادویات کے لیے ہاتھ کھڑے کر دیں اور ساری ذمہ داری مریضوں اور ان کے اہل خانہ پر ڈال دیں تو بھلا بتائیے کہ ان لوگوں کا کیا حال ہوگا۔ جب اسپتال ہی سلنڈر، آکسیجن اور ادویات کا انتظام نہ کر سکیں تو وہ لوگ کیسے کر سکتے ہیں جن کا نہ تو اسپتالوں سے کوئی تعلق ہے، نہ ادویات ساز کمپنیوں، نہ آکسیجن تیار والی ایجنسیوں سے اور نہ ہی سلنڈر بنانے والے ادار

رمضان المبارک تغیر و تبدیلی کا مہینہ

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بڑی عبادت سر انجام دینے کے لیے چند چھوٹی چھوٹی عبادات کو ادا کرنے کا حکم دیا تاکہ انسان اس بڑی عبادت کے لیے تیار ہو سکے جو کہ اس کی زندگی کا حقیقی اور مقصدِ وحید ہے جیسا کہ قرآن پاک نے انسان کی مقصدِ زندگی کا راز یوں افشا فرمایا ہے کہ "میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں"۔ تمام عبادات میں سے روزے اپنا ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ روزہ انسانی زندگی پر ایک ایسا اثر ڈالتی ہے جو کہ حقیقی تقویٰ کی صورت میں ہمیں دیکھنے کو ملتی ہے۔ روزوں میں کم کھانے، پینے اور سونے میں یہی پیغام پنہاں ہے کہ ایک مسلمان پر ایسے حالات بھی وارد ہو سکتے ہیں کہ اسے حلق سے پانی کے چند قطرے اتارنے سے بھی روک دیا جایے گا، پلنگوں پر آرام  لینیتو کیا آنکھ لگنے پر بھی پابندی عائد کی جایے گی اور اپنی شریک حیات سے بھی اسے دور رکھا جایے گا۔ خالی م

یہ اعجاز ہے حُسنِ آوارگی کا …!

وہ ماضی جوہے اک مجموعہ اشکوں اور آہو ں کا  نہ جانے مجھ کو اس ماضی سے کیوں اتنی محبت ہے ( اختر انصاری ) کئی ناآشنا چہرے حجابوں سے نکل آئے  نئے کردار ماضی کی کتابوں سے نکل آئے  (خو ش بیر سنگھ شاد) وہ جب بھی مانگتا ہے مجھ سے میرے ماضی کا حساب تو خاموشی سے کہہ دیتا ہوں ٹٹولو اس کتاب کو جس کے ہر صفحے پر میرا ماضی عیاں ہے اور یہ اظہار ان حالات ،ان واقعات اور تجربات کا ہے جن کا تعلق میری نو عمری اور لڑکپن سے ہے جس کا ہر لمحہ ساتھ ہے آورگی کا ،اس آورگی کا جس نے ٹھوکریں دیکر زندگی کا پختہ سفر عطا کیا ،جس نے دوستی کرائی تلخ یادوں سے، جس نے گاؤں کی ہر گلی سے واقف کرایا، جس نے دوستوں سے غمگساری کرنے کا سبق سکھایا، جس نے راتوں کو جاگنے کا ہنر عطا کیا، جس نے شام سانجھ سے اداس رہنے کا فن عطا کیا، جس نے تپتی دھوپ میںچلنے کا ارادہ قائم کرایا، جس نے برستی با

کہ ہمت کے کاموں میں ہے صبر

رمضان المبارک تقوی، محبت، خوف اور حسن عبادت کے ساتھ ساتھ صبر کی خوب تربیت کرتا ہے۔ روزے نفس کی تربیت کے لیے موثر ترین عبادت ہے۔ رمضان میں اصل چیز اسی کا تجربہ ہے۔ صبر کے لغوی معنی برداشت سے کام لینے یا خود کو کسی بات سے روکنے کے ہے۔ اصطلاحی شریعت کے مطابق صبر کا مطلب نفسانی خواہشات کو عقل پر غالب آنے سے باز رکھا جانے کے ہے اور اس سے شرعی حدود سے باہر نکل نہ پانے کے ہے - صبر کے عمل میں ارادے کی مضبوطی اور عزم کی پختگی ضروری ہے۔  دنیا جیسے دارلافانی میں اللہ تعالیٰ انسانوں کے لیے مختلف حالات پیدا کرکے انھیں آزماتا ہے۔ کسی کی آزمائش خوش حالی، صحت مندی، مال و دولت کی فراوانی، عیش و عشرت کے وسائل اور دیگر تنعّمات کے ذریعے ہوتی ہے تو کسی کو فقر و فاقہ، بیماری، تجارت میں خسارہ، جان و مال لے کر اور ذرائعِ معاش کی تنگی وغیرہ میں مبتلا کرکے آزمایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے &r

ہر فـن مولا

مصنف :محمد شفیع وانی (شاکر شفیع )، اردو لیکچرر محکمہ سکولی تعلیم جموں و کشمیر  ریاست جموں و کشمیرواحد ایک ریاست ہے جس میں اردو زبان صرف رابطے کی زبان lingua-franca ہی نہیں ہے بلکہ اسے یہاں کی سرکاری زبان کا درجہ بھی حاصل ہے ۔یہاں کے نامور ادباء اور شعراء نے اپنی نگارشات کی وجہ سے برصغیر میںاس زبان کے حوالے سے اپنا لوہا منوایا اور ہر دن یہاں کے مقامی روزناموں میں متنوع تخلیقات سامنے آجاتی ہیں، حقیقی معنوں میں ایک طرف یہاں الیکٹرانک میڈیا ، پرنٹ میڈیا تو دوسری طرف یہاں کے فکشن نگار اور شاعر اس شرین اور میٹھی زبان کو توقیت بخشنے میں کوئی قصر باقی نہیں چھوڑرہیں ہیں اسی تناظر میں کشمیر اردو زبان کا مرکز ہی نہیں ہے بلکہ ایک ’’دبستان ‘‘ بن چکا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب : ’’ہر فن مولا ‘‘ پروفیسر محی الدین حاجنی (تاریخی ، علمی و تحقیقی مطا