تازہ ترین

گریٹر اسرائیل… پس ِ منظر اور پیش منظر

یہود ی مذہبی اوربنیاد پرست شاس پارٹی کے رہنما کے ساتھ یہ بیان منسوب ہے جو اس نے 5اگست 2000کو اپنے ایک خطبے میں دیاتھاکہ’’اسماعیلی تمام لعنت زدہ ہیں اور گنہگار ہیں ،خدائے واحد اور اس کی عظمت میں اضافہ ہو وہ اسماعیلیوں کو تخلیق کرکے پچھتارہا ہے ‘‘( نقل کفر ۔ کفر نہ باشد )۔اسی اخباری اطلاع میں عواد یا یوسف کوبراک حکومت کا مذاق اڑاتے ہوئے پوچھتا ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ کسی معاہدے کی کیا ضرورت ہے ، وہ وزیر اعظم براک کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ (براک تم ان سانپوں کو ہمارے دوش بدوش کیوں لانا چاہتے ہو ، تمہیں ذرا بھی عقل نہیں) اور یروشلم پوسٹ 5 اگست 2000 کی اطلاع کے مطابق مجمع نے تالیوں کی گونج سے ان ریمارکس کو سراہا۔  یہ چند جملے اہل یہود کی سوچ و فکر اور یرو شلم سے متعلق ان کے نقطہ نگاہ کی وضاحت کے لئے کافی ہونے چاہئیں لیکن اس بات کو ہمیں مدِ نظر رکھنا لازمی ہوگ

بھارتی آئین: ترقی اور استحکام کیلئے ریڑھ کی ہڈی

آزادی کے بعد، بھارت نے 26 نومبر 1949 کو اپنا آئین اپنایا، جو ایک تاریخی دن ہے۔ آج اس اہم تاریخی واقعہ کی 71 ویں برسی ہے، جس نے آزاد بھارت کی بنیاد رکھی ہے۔ ڈاکٹر راجندر پرساد، پنڈت جواہر لال نہرو، ڈاکٹر بھیم راؤ امبیدکر، سردار ولبھ بھائی پٹیل، شریمتی سوچیتا کرپلانی، شرمتی سروجنی نائیڈو، مسٹر بی۔ این۔ راؤ، پنڈت گووند ولبھ پنت، شری شریت چندر بوس، شری راج گوپالچاری، شری این گوپالاسوامی آیانگر، ڈاکٹر شیام پرساد مکھرجی، شری گوپی ناتھ برڈولوئی، شری جے بی کرپلانی جیسے اسکالروں نے آئین کی تشکیل میں اپنا کلیدی کردار نبھایا۔ بھارتی آئین کو تشکیل دینے کے لئے دنیا بھر کے تمام آئینوں کا مطالعہ اور وسیع تبادلہ خیال کیا گیا۔ آئین بنانے والوں نے اس کا مسودہ تیار کرنے کے دوران اس پر بڑے پیمانے پر غور وخوض کیا۔ اس حقیقت کو آئین کی مسودہ کمیٹی سے سمجھا جاسکتا ہے، جس نے کم وبیش 141 میٹینگیں کی

قرآن الحکیم کا ڈوگری میں ترجمہ

عذراچودھری کا وطنی تعلق جموں وکشمیرسے ہے ۔عذراچودھری کی والدہ کا نام رضیہ بیگم ہے اور ان کی داستان ِحیات نہایت الم ناک ہے ۔ جب1947ء میں ہندوستان آزاد ہوا تو اسی دوران جموں میں مسلمانوں کے ساتھ کافی زیادتیاں ہوئیں اور ان کاقافیہ حیات تنگ کیا گیا ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ مسلم خواتین کے ساتھ بھی زبردستی کی گئیں ۔ان ہی میں سے ایک عذراچودھری صاحبہ کی والدہ رضیہ بیگم بھی تھیں ،جن کے ساتھ بھی ناروا سلوک کیا گیا ۔ جموں فسادات میں رضیہ بیگم کے خاندان کا لوٹ کھسوٹ کیا گیا اور ان کے خاندان سے صرف رضیہ بیگم ہی بچنے میں کامیاب ہوئیںلیکن ان کی شادی زبردستی بلوان سنگھ کے ساتھ کی گئی اور انہیں مجبور اََ ان کے ساتھ رہنا پڑا ۔انھوں نے تین بچوں کوجنم دیا جن میں سے بیٹے کا نام کرن سنگھ ، دوسری بیٹی کا نام انجو او اور تیسری بیٹی کانام دیورانی رکھا گیا ۔ اس کے بعد حالات نے پھر سے کروٹ لی اور بلوان سنگھ لاپتہ ہو

ترنم ریاض: افسانہ ’ یمبرزل ‘ کے آئینے میں

ترنم ریاض ریاست کی ایک واحدفکشن نگار خاتون ہیں جنہوں نے اپنے فن کی بنا پر ریاست سے باہر یعنی بین الاقوامی سطح پر اپنا لوہا منوالیا ۔برقی میڈیا سے وابستہ ہونے کے باوجود انہوں نے اردو ادب،خاص طور پر فکشن کو اپنی نگارشات کی بدولت ایک جہت عطا کی اورجموں وکشمیرکے جن فنکاروں کو اردو ادب میں ایک پہچان حاصل ہے، ان میں ترنم ریاض کا نام بھی شامل ہے ۔انہوں نے اپنی تخلیقی کائنات سے قارئین کو اپنی طرف متوجہ کیا اور جلد ہی اردو کے ممتاز افسانہ اور ناول نگاروں میں شمار ہونے لگیں ۔اب تک ان کے چار افسانوی مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں جن میں یہ تنگ زمین ، ابابیلیں لوٹ آئیں گے، یمبرزل اور آخری مجموعہ جو ۲۰۰۸ء میں شایع ہوچکا ہے ’’میرا رخت سفر ‘‘ ہے ۔ ترنم ریاض کا کینواس موضوع کے لحاظ سے ریاست کے باقی قلمکاروں سے قدرے مختلف ہے۔ انہوں نے مقامی موضوعات کے ساتھ ساتھ برصغیر میں آ

عالم برزخ سے اپنی لاڈلی بِٹیا کے نام

السلام علیکم میری پیاری بیٹی حٰم …   انتہائی پرْاْمید ہوں کہ میرا جگر گوشہ ٔحیات بخیر و عافیت سے ہوگا اور گھرکے سب اراکین بھی، بالخصوص آپ کی امی جان۔دراصل میں آپ کا ابا جان عالمِ برزخ سے آپ کو ایک اہم پیغام اس خط کی صورت میں ارسال کرنے جارہا ہوں۔قریب قریب تین سال قبل کی بات ہے کہ جب میں اچانک دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے آپ سب سے بچھڑ کر اپنے خالقِ حقیقی سے جاملا ۔ میری پیاری بیٹی حٰم، درحقیقت زندگی کا یہ دستور ازل سے ہی چلا آرہا  ہے کہ جوکوئی انسان بھی اس دْنیا میں آیا، اْسے ایک نہ ایک دن دنیا کی عارضی زیبایش و زینت کو خیرباد کہہ کر اللہ کی جانب ہی رجوع کرناپڑا۔ بس ایسا ہی کچھ  معاملہ آپ کے ابا جان کے ساتھ بھی پیش آیا۔ بات کچھ اس طرح سے ہے کہ میں آج کل جنت الفردوس کے بالاخانوں میں مقیم ہوں جہاں حیاتِ حقیقی کے انتہائی پْرسکون لمحات گزار کر اللہ کی عظ

محصولات کی رکاوٹوں سے کچھ نہ ملے گا

کسی زمانے میںنوکیا موبائل فون ہینڈ سیٹس میں دنیا کالیڈر تھا۔ اس کاسب سے بڑا مینوفیکچرنگ پلانٹ ہندوستان میں ایک خصوصی معاشی زون کا حصہ کے طور سریپرمبدور میں واقع تھا۔ چھ سال کی مدت میں اس نے500 ملین سے زیادہ ہینڈسیٹ بنائے جن میں سے زیادہ تر برآمد کئے گئے۔ نوکیا بالواسطہ ملازمت سمیت 30ہزار لوگوںکو روزگار دے رہا تھا اور ان میں خواتین ملازمین کا ایک بڑا حصہ تھا۔ نوکیا واقعتا  ہندوستان کو ایک مینوفیکچرنگ ہب بنانے کی عمدہ مثال تھا۔ یہ ایک عالمی برانڈ کے اعلی معیار کی مصنوعات اور اعلی معیار کے روزگار کے لئے ماناجاتاتھا جس نے اس وقت کے برانڈ کو 'میڈ ان انڈیا' میں شامل کیا۔ لیکن ‘میک ان انڈیا’ نعرہ بننے سے بہت پہلے نوکیا پلانٹ بند ہوگیاتھا۔ یہ اب بزنس اسکولوں میں سنڈریلا کی کہانی کے عین مخالف ایک کیس سٹیڈی بن چکا ہے کہ کس طرح ایک کامیاب خواب جیسی کہانی بے سود بن سکتی ہ

علامہ اقبال اور حیات وممات کا تصور

حیات بعد ِ موت اسلام کا ایک اساسی تصور ہے جس کا پرچار قرآن اور احادیث میں اونچے درجے پر کیا گیا ہے۔ اور ایک انسان اُس وقت تک مومن کا درجہ حاصل نہیں کرسکتا جس وقت تک وہ توحیدِ خالص کے ساتھ ساتھ حیات بعدِ موت پر یقینِ کامل نہ رکھتا ہو۔ یہ بات اظہر من الشمس  ہے کہ ہر ذی حس کو موت کی کڑوی مگر تعین شدہ حقیقت کا سامنا ضرور کرنا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:۔’ہر ذی نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے‘‘(سورہ- آلِ عمران- 185 ) حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو دنیاوی زندگی ایک مختصر ساوقفہ ہے کہ جس کے بعد اصل منزل موت اور اور موت کے بعد آخرت کی زندگی ہے۔ چنانچہ اس ضمن میں رسول اللہؐ کا فرمان ہے کہ اس دنیا میں ایسے رہو جیسے کوئی مسافر کسی جگہ پرپڑاؤ ڈالتا ہے۔ اس فرمانِ رسولؐ سے یہ حقیقت سورج کی مانند واضح ہوجاتی ہے کہ دنیاوی زندگی محض ایک پڑاؤ ہے منزل ہر گز نہیں ہے‘ م

وہ بھی کیادن تھے کہ جب ڈاکیہ چٹھی لے کر آتا تھا

 ڈاک او رڈاک خانہ کی اہمیت ہر دور میںمُسلّم رہی ہے ۔زمانہ کبھی بھی ایک ہی ڈگر او ریکسان نہیں رہتا ہے ۔یہ دُور کی بات نہیں ہے بلکہ دو تین دہائیوں کی قبل کی طرف جب ہم چشم تصور سے جھانکتے ہیں تو صاف طور پر یہ نظر آتاہے کہ آج کی جدید ترین سہولیات کی نسبت بہت کچھ ڈاک پر ہی منحصر ہوتاتھا۔متوسطہ درجے کے لوگ عمومی طور پر بینکوں سے زیادہ اپنی چھوٹی چھوٹی رقمیں بچا کر ڈاک خانہ میںکھاتہ کھول کر ان رقوم کو محفوظ رکھتے تھے۔Small Saving Scheme کے تحت اکثر غریب او رنادار لوگ اپنی بچت شدہ رقم کو ڈاک خانہ میں کھولے گئے کھاتوں میں ڈال کر بوقتِ ضرورت ایک بڑی رقم سے استفادہ کرتے تھے ۔اس کے ساتھ ساتھ ہزاروں او رلاکھوں کی رقوم سے بھی کھاتہ کھول کر یہ معیاد بند سرٹفکیٹ کی صورت میں لوگ روپیہ جمع کرتے تھے ۔بچت بنک کے علاوہ ڈاک خانوں میں کثیر المقاصد خدمات میسر رہتی تھیں۔ جوکہ آج بھی بہت حد تک جاری و سا

ادیبوں پر کنجوسی کا الزام

ادیبوں کی طرف منسوب بہت ساری باتوں میں سے ایک بات ان کی طرف بخالت کی نسبت بھی ہے۔عرب وعجم کے بے شمار ادباء پر کنجوسی کا الزام لگایاگیا۔ ہمارے ایک ساتھی تھے۔ انہیں لوگ کنجوس کہتے تھے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ لوگ ان کے بارے میں ایسا سوچتے ہیں تو انہوں نے کوشش کی کہ وہ اس الزام سے خود کو بری ثابت کرسکیں۔عرب وعجم کے بے شمار ادباء ایسے ہیں جن پر کنجوسی کا الزام لگایا گیا۔ احمد حسن زیات عربی کے بہت بڑے ادیب تھے۔ ان کی کتاب تاریخ ادب عربی ہندوستان میں بہت مقبول رہی ہے۔عصری جامعات سے وابستہ شاید باید ہی کوئی ایسا طالب علم ہو جس نے اس کتاب سے استفادہ نہ کیا ہو۔ان پر کنجوسی کا الزام لگایاگیا۔ان کی کنجوسی کے بارے میں ڈاکٹر طہ حسین کہتے ہیںکہ ’’ان کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ کنجوس یا بخیل تھے درست نہیں ہے۔ میں نے کتنی مرتبہ ان کے یہاں شام کا کھانا کھایا ہے۔ ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ غ

تعمیراتی صنعت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی

گزشتہ عشرے میں ڈیجیٹل ترقی نے تمام صنعتوں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ٹیکنالوجی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے، جسے چوتھا صنعتی انقلاب کہا جاتا ہے۔ میڈیا اور انٹرٹینمنٹ کی صنعت میں بھی کافی تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں۔ ای کامرس کے بڑے اداروں ایمزون اور علی بابا نے اینٹ اور پتھر سے بنے ریٹیلرز کو ماضی کا قصہ بنا دیا ہے۔  اسی طرح ڈیجیٹل موبلٹی کمپنیاں، آٹو مینوفیکچررز کو چیلنج کررہی ہیں۔ نئی ٹیکنالوجیز بہتر تفریح، بہتر خریداری اور بہتر آمدورفت کے لیے صارفین کی ضروریات کو پورا کررہی ہیں بلکہ اختراع اور جدت نے ان کمپنیوں کی پیداواری صلاحیت اور پائیداری کو بھی بڑھا دیا ہے۔ ساتھ ہی جدید دور کا مقابلہ کرنے کے لیے نئی ٹیکنالوجیز ہنر اور صلاحیت کو بھی نئے معنی دے رہی ہیں۔ البتہ، اس عرصے میں تعمیراتی صنعت زیادہ تر اسی طرح کام کررہی ہے، جس طرح اس صنعت میں 50برس پہلے کام ہوتا

مضاربہ اور اس کے اصول

مضاربت ایک قسم کی تجارتی شراکت ہے جس میں ایک جانب سے سرمایہ اور دوسری جانب سے محنت ہو، اس معاہدے کے تحت اسے کاروبار کے نفع میں ایک متعین نسبت سے حصہ ملے گا نیز سرمایہ فراہم کرنے والے اور محنت کرنے والے متعدد افراد ہوسکتے ہیں۔شرعی اصطلاح میں مضاربت اس معاہدے کو کہتے ہیں جس میں ایک فریق کی جانب سے مال ہو اور دوسرے کی جانب سے عمل ہو اور نفع میں دونوں شریک ہوں۔ لغت کی رو سے مضاربت کے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص اپنا مال کسی کو اس شرط پر تجارت کی غرض سے دے کہ نفع میں باہمی سمجھوتے کے مطابق دونوں شریک ہوں گے اور نقصان مال والا (صاحب مال) برداشت کرے گا۔لفظ ’’مضاربت‘‘ مادہ ضرب سے نکلا ہے جس کے معنی’’ سفر‘‘ کے ہیں کیونکہ کاروبار تجارت میں بالعموم سفر کرنا پڑتا ہے۔ یہ امر طے شدہ ہے کہ روپے پیسے میں اضافہ کرنے اور اسے بڑھانے کے لئے اسے کسی کاروب

بائی لائن ’مدثر علی‘ معدوم

کسی قریبی شخص کے انتقال کے صدمے سے دو چار ہونا ایک ایسا تکلیف دہ تجربہ ہے جس سے جلد یا بدیر ہر انسان کو گزرنا پڑتا ہے۔ کسی قریبی ہستی کا انتقال ہو جاتا ہے تو انسان پر جو گزرتی ہے اُس کو الفاظ کا جامہ نہیں پہنایا جاسکتا۔کچھ ایسا ہی احساس صحافی مدثر علی کی اچانک موت سے اُن کے ہر جاننے والے کو ہوا ہے۔حالانکہ راقم کو مدثر کے ساتھ بہت زیادہ قریبی مراسم نہیںتھے لیکن کئی برس کی پیشہ ورانہ شناسائی نے مجھے اُن کے ساتھ ایک گہرے اور انجانے رشتے میں جوڑا تھا ۔ کسی بھی چیز کے کھو جانے یا خاص طور پر کسی قریبی انسان کی موت کے بعد انسان غم کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے۔ یہ تمام مراحل اپنا وقت لیتے ہیں ۔ہم عموماً زیادہ دکھی تب ہوتے ہیں جب کسی ایسے شخص کو کھو تے ہیں جسے ہم کچھ عرصے سے جانتے ہوں۔ لیکن دیانتدار صحافی مدثر ایک ایسی شخصیت کا مالک تھے جس کی موت کی خبر نے اُن کو سر کی آنکھوں سے نہ دیکھنے وا

ذوقِ تجلی اور شوقِ ادراک

ہے ذوق تجلی بھی اسی خاک میں پنہاں  غافل تو نرا صاحب ادراک نہیں ہے حکیم الامت کا یہ شعر فکر و ادراک کی وادی میں سرگرم انسان کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کی ایک کوشش ہے کہ انسان کا وجود خاکی محض فکر کی جولانیوں سے مطمئن ہوسکتا ہے اور نہ ہی حقیقی فوز و فلاح سے ہمکنار ہوسکتا ہے۔ خاک کا یہ پتلا، جو عقل و دل کی کشمکش میں مبتلا رہتا ہے، ادراک کی بلندیوں پر پہنچ کر بھی اگر کسی چیز میں سکون پاسکتا ہے تو وہ ذات باری کی تجلی ہے، جس سے ہر انسان اپنی استطاعت اور صلاحیت کے مطابق مستفید ہوسکتا ہے اور ہوتا آیا ہے۔ قرآن کی آیات نہ صرف انسان کی فکر و ادراک کی صلاحیتوں کو نکھارتی ہیں بلکہ ان کو ایک ایسی سمت اور جہت عطا کرتی ہیں کہ انسان ہمیشہ فکر کی پرواز کو برقرار رکھنے کے لئے تجلء رب کا متلاشی اور طلبگار رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآں فکر کی صلاحیت پر اترانے والے انسان کی نفسیات کو یوں بیا

سیرت نگاری کاآغاز و ارتقاء

لفظ سیرت کی تعریف و تاریخ-: عربی زبان میں لفظ’ سیرت‘ یا’ سیرہ‘ اس کے صیغہ فعل ساز، یسیر،سیراََ سے نکلا ہے جس کے معنیٰ چلنے پھرنے یا سفر کرنے کے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے معنیٰ طریقہ، شکل و صورت، راستہ، روش اور چال و چلن کے بھی ہیں۔ کسی ایک انسان کی سیرت کا مطلب اس کی زندگی کے سفر کا راستہ ہے، جس پر چل کر وہ اپنی زندگی کے مختلف مراحل طے کرتا ہے، ماں کی کوک سے لے کر زندگی کی آخری سانس تک۔ اس لئے سیرت کا لفظ سوانح حیات کے معنیٰ میں بھی بولا جاتا ہے، تاریخ بیان کرنے کے معنیٰ میں بھی اور ذاتی زندگی کے معاملات بیان کرنے کے معنیٰ میں بھی۔ قرآن پاک میں بھی لفظ سیرت کا استعمال مختلف معانی میں ہوا ہے۔ مثلاََ سورۃ طٰہٰ/۲۱ ؍میں لفظ’ سیرتھا‘آیا ہے جو حالت و ہیت کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔ اسی طرح سورۃ نحل/۳۶ ؍میں لفظ’ سیرو‘ آیا ہے جہاں پر اس کا

کانہء والَے

سرینگر کے ٹائیگور ہال میں29 اکتوبر 2020 کو ڈاکٹر شوکت شفا کے کشمیری شاعری مجموعے"کانہ والَے" اور حمدیہ البم "سونچہ سْدرک ملَر‘‘کی رسمِ رونمائی ایک پْر ہجوم ،پْر رونق اور پروقار تقریب میں ہوئی۔تقریب کا اہتمام جموں وکشمیر کلچرل اکادمی اور مراز ادبی سنگم نے مشترکہ طور کیا تھا۔ ڈاکٹر شوکت شفا کی کتاب " کانہ والے " چھ حصوں یا چھ ابواب پر مشتمل  ہے۔ہر ایک باب کا افتتاح حمد، نعت،سلام اور دعا سے کیا گیا ہے۔اس کے بعد ہی تہذیب، ثقافت، نظریے، رویّے اور معاشرے کے بات کی گئی ہے۔یوں ڈاکٹر صاحب بیک وقت نظریے اور ثقافت کے شاعر نظر آتے ہیں۔آپ کی شاعری سے انقلابی روح ، معاشرے کی اصلاح اور ثقافتی ورثہ کی بازیابی جھلکتی ہے۔" کانہ والے" میں آپ کی سوچ اور درد کا سنگم نظر آتا ہے۔ڈاکٹر شوکت شفا اکیسویں صدی کے شاعر نظر آتے ہیں مگر اپنے ثقافتی ورثہ سے

گرافک ڈیزائننگ اور انیمیشن میں کیرئیر کے مواقع

تکنیکی ترقی نے جن کورسیس میں انقلابی تبدیلی اور روزگار کے کثرت سے مواقع پیدا کیے ہیں ان میں گرافک ڈیزائننگ، اینیمیشن، وی ایف ایکس، اسپیشل افیکٹس، سائونڈ اور ویڈیو ایڈیٹنگ، ایڈورٹائزنگ کے شعبے اہم ہیں۔ ان شعبوں میں مہارت رکھنے والے افراد کے لیے ٹیلیویژن، فلموں، آن لائن پلیٹ فارمس، نیوز چینلس ، میڈیا، ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کے مختلف شعبوں میں روزگار کے مواقع دستیاب ہیں۔ تخلیقی صلاحیتوں کا حامل ایک گرافک ڈیزائنریا اینیمیٹرکسی فلم ، میڈیا کمپنی میں ملازمت بھی کرسکتا اور اسے خود روزگار کے مواقع بھی حاصل ہوتے ہیں۔ ایسے طلبہ جن میں تخلیقی صلاحیتیں موجود ہوں ، ٹیکنالوجی سے شغف ہو، انھیں ان کورسیس کی طرف رخ کرنا چاہیے۔ آئیے ان کورسیس کا جائزہ لیں۔  گرافک ڈیزائنر (Graphic Designer)  ایک گرافک ڈیزائنر انٹرنیٹ، ٹیلی ویژن، پبلشنگ اور میڈیا ہائوسیس، ایڈورٹائزنگ ایجنسیز کے لیے تصویر

نیند کی کمی موٹاپے کا باعث

نیند صحت کے لیے بے حد ضروری ہے۔ یہ توانائی کو بحال کرتی اور خلیوں اور نسیجوں (Tissues)کی مرمت و درستگی کرتی ہے۔ جب نیند پوری نہ ہو تو انسان چڑ چڑا ہو جاتا ہے، توجہ کے ارتکاز میں کمی اور تھکاوٹ محسوس ہونے لگتی ہے۔ نیند کیا ہے؟ نیند چوبیس گھنٹے کے دوران وہ باقاعدہ وقفہ ہے جب ہم اپنے ماحول سے بے خبر ہوتے ہیں اور اس کا احساس نہیں رکھتے۔ نیند کی دو بڑی اقسام ہیں۔ تیز حرکت ِ چشم نیند ( sleep  eye  movement  Rapid):  یہ رات بھرمیں کئی مرتبہ وقوع پذیر ہوتی ہے اور ہماری نیند کے دورانیے کا تقریباً پانچواں حصہ ہوتی ہے۔ آر ای ایم نیند کے دوران ہمارا دماغ کافی مصروف ہوتا ہے اور پٹھے بالکل ڈھیلے پڑجاتے ہیں۔ ہماری آنکھیں تیزی سے دائیں بائیں حرکت کرتی ہیں اور ہم خواب دیکھتے ہیں۔ بغیر تیز حرکت ِ چشم کے نیند(Non- REM sleep) : اس میں دماغ تو پْرسکون ہوتا ہے م

مشرق و مغرب میں سائنسی تحقیق کا معیار | قرآن، نفسیات اور سائنس

انسان مختلف اعتبارات سے ایک پیچیدہ مخلوق ہے۔ اس کی جسمانی، نفسیاتی اور روحانی تنظیم کا حقیقی جائزہ لینے سے انسان خود قاصر ہے۔جسمانی پہلو کی طرف جہاں بیشمار محققین متوجہ ہیں وہیں نفسیاتی اور روحانی پہلو پر بھی بڑے پیمانے پہ علمی و تحقیقی کام جاری ہے۔آج کے مضمون میں ہم انسان کی نفسیاتی پہلو کا علوم جدیدہ اور قرآن کی روشنی میں مختصر جائزہ لینے کی سعی کرتے ہیں۔انسان کے نفسیاتی پہلو کی تفہیم کے لئے موجودہ دور میں اس حوالے سے محققین کی ایک قطار کھڑی ہے لیکن اختلاف رائے کا یہ عالم ہے کہ کسی ایک نتیجہ پر یہ حضرات متفق نہیں۔ایک ایک موضوع پر بے شمار مفکرین کے آراء نے تضادات کی ایک ایسی دنیا قائم کی ہے کہ جس کا مشاہدہ کرنا بھی پریشان کن ہے۔قرآن مجید نے انسان کی نفسیات کے اہم ترین گوشوں کا اس قدر عمیق اور جامع جائزہ لیا ہے کہ انسان دھنگ رہ جاتا ہے۔انسان کے لئے اس معاملے سوائے حیرت کے اور کوئی

! سبزیاں صحت کی دوست،جم کر کھائیں

کہتے ہیں کہ جان ہے تو جہان ہے۔ اسی لئے انسان دنیا میں زندہ رہنے کیلئے مختلف قسم کی غذؤں کا استعمال کرتا ہے اور مختلف قسم کی ورزشیں بھی کرتا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے انسان تندرست رہتا ہے اور تندرست انسان کے جسم میں دماغ بھی تندرست ہوتا ہے۔ اسی لئے انسان کو ایسی غذاؤں کا استعمال کرنا چاہئے جن سے اس کے صحت پر برے اثرات نہ پڑ سکیں ۔انہی غذائوں کو سائنس نے متوازن غذا کہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا خوبصورت بنائی ہے اور اسی دنیا میں اپنے بندوں کی خاطر ایسی چیزیں مہیا کی ہیں جن کے استعمال کرنے سے انسان کی صحت اچھی رہ سکتی ہے ۔اس نے میوے اور سبزیاں اگائی ہیں تاکہ انسان ان سے بہرہ مند ہوجائیں ۔ان میوؤں اور سبزیوں میں وٹامن، پوٹاشیم، ڈائٹری فائبر اور فولک ایسڈ جیسے کارآمد اجزاء پائے جاتے ہیں جو انسانی صحت کے لئے بہت ہی ضروری ہیں ۔یعنی ان متوازی غذائی اجزاء کا انسان کی نشونما کے ساتھ گہرا تعلق ہ

! کشمیر میں سب کچھ ہے پیارے

کوہساروں، آبشاروں،مرغزاروں،پہاڑوں ،بیابانوں ،کھلے میدانوں، دلفریب نظاروں کے علاوہ یہاں خراب حالات اور افراتفری ہے۔یہاں سیاست دان زیادہ ہیں یا بیرونی مزدور، وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔سیاست دانوں اوران غیر مقامیوںمیں ایک مطابقت ہے کہ دونوں استحصال کرتے ہیں، سیاست دان عوام کا اور غیر مقامی یہاں کے مزدور طبقے کا۔جس طرح کام کے لحاظ سے ان غیر مقامیوںکی سو قسمیں ہیں، اسی طرح یہاں کے سیاست دان بھی کئی اقسام کے ہیں: 1۔سیاست دان جو صرف سیاست ہی کرتے ہیں،اس کے علاوہ ان کو کچھ کرنا بھی نہیں آتا۔ 2۔سیاست دان جو صرف اپنے اور اپنی پارٹی کی بھلائی کے بارے میں سوچتے ہیں۔ان کی سوچ فائدے اور منافع سے آگے نہیں جاتی۔ 3۔ سیاست دان جو سیاست میں آ تو گئے ہیں لیکن جیت کے گھوڑے پر کبھی نہیں چڑھے۔یہ اس انتظار میں بیٹھے ہیں کہ کب ان کے نصیب جاگیںگے۔ 4۔ سیاست دان جو عوام کے لیے بھی سوچت

تازہ ترین