جنگلی حیات کیلئے آبِ حیات

جموں وکشمیر میں جنگلات کے دائرے میں اضافہ کے لئے اِنتظامی کونسل کی حالیہ میٹنگ میں محکمہ جنگلات کی مربوط ’’گرین جے کے مہم 2020‘‘  کی تجویز کو منظوری دی گئی۔اس مہم کا مقصد جنگلات کو وسعت دینا ہے اور اس کے تحت سال2020-21 کے دوران خستہ حال جنگلی علاقہ کے 15,000ہیکٹر اراضی پر 100لاکھ پودے لگائے جائیں گے۔پچھلے مہینے سرکار کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ مذکورہ مہم میں پنچایتی راج ادارے ، متعلقہ محکمے ، تعلیمی ادارے ، فوج ، نیم فوجی دستے ، پولیس اور سول سوسائٹی کی شرکت طلب کی جائے گی جس کے لئے محکمہ جنگلات ضرورت کے مطابق پودے فراہم کرے گا۔ اگر حکومت کا ’’گرین جے کے‘ ‘منصوبہ کامیاب رہا اور اس سے مطلوبہ اہداف حاصل ہوگئے تو جموں کشمیر کے جنگلات میں وسعت پیدا ہونا یقینی ہے جو ہر صورت میںیہاں کے ماحولیات کیلئے ایک بہتر صورتحال ہوگی

مایوسی۔۔۔!

ہر انسان کی زندگی میں کم از کم ایسے تین مرحلے آتے ہیں جب وہ شدید مایوسی کا شکار ہوتا ہے ۔ایک جب زندگی اسے مسلسل ناکامی سے دوچار کرتی ہے اور وہ تھک ہار کر جدوجہد ترک کردیتا ہے ۔دوسرا جب وہ زندگی میں کامیابی کو چھونے لگتا مگر اچانک اپنے سے زیادہ ذہین اورکامیاب لوگوں کو دیکھ کر اُن سے حسد کرنے لگتا ہے اور دلبرداشتہ ہوکر بیٹھ جاتا ہے۔اور تیسرا تب جب وہ محبت میں ناکام ہوتا ہے۔دنیا میں ناکام لوگ تلاش کرنا مشکل کام نہیں ،ایک ڈھونڈو تو ہزار مل جاتے ہیں ۔مایوسی ان میں ایسے کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے کہ بعض اوقات اس مایوسی کے اثرات کے مربع فٹ تک محسوس کئے جاسکتے ہیں ۔تاہم اس شخص (ناکام شخص)کو ہی کلی طور پر مورد الزام ٹھہرانا ٹھیک نہیں کیونکہ یہ دنیا اس قدر سفاک ہے کہ یہاں کوئی بھی شریف آدمی زیادہ عرصے تک محض اپنی شرافت کے بل بوتے پر زندہ نہیں رہ سکتا ہے۔ضروری ہے کہ شرافت کے ساتھ ساتھ اس کے پاس کو

ڈوگرہ حکمران اور اُردوزبان وادب

کشمیرمیں چودھویں صدی تک سنسکرت نے نہ صرف علمی وادبی خدمات سرانجام دینے میں نمایاں کرداراداکیابلکہ دربارمیں بھی اس کا خاصہ دبدبہ رہا۔اس کے بعدآہستہ آہستہ اس زبان کازوال شروع ہوااور فارسی نے اس کی جگہ لے کردرباری زبان کی حیثیت اختیار کرلی۔ تقریباً چھ سوسال تک یہاں اس زبان کاغلبہ رہا۔۱۶؍مارچ ۱۸۴۶ء میں عہدنامہ امرتسرکی روسے مہاراجہ گلاب سنگھ نے جموں وکشمیرمیں ڈوگرہ حکومت کی بنیاد رکھی ۔ڈوگرہ حکومت کے ابتدائی چندبرسوں میں اگرچہ سرکاری زبان فارسی ہی رہی ،لیکن آہستہ آہستہ اردوکاچلن بھی عام ہوتاجارہاتھا۔تعلیمی اداروں اور عوامی حلقوں میں اردومقبول ہورہی تھی ۔اس سلسلے میں ڈاکٹر برج پریمیؔ لکھتے ہیں:’’ڈوگرہ سلطنت کے بانی مہاراجہ گلاسنگھ کے عہدمیں ریاست کی درباری زبان فارسی تھی، لیکن خطہ جموں کے بیشترعلاقوں میں ڈوگری زبانوں کابول بالا تھا جو لسانی اعتبارسے پنجابی اوراردو کے قریب ہے

کیا اُردو کا بدل اب سنسکرت سے ہو گا؟

 اُتراکھنڈ کی بھاجپا سرکار نے2010 میں ہی صوبہ میںہندی کے بعدسنسکرت کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کا اعلان کیا تھا۔ پہلے یہ علاقہ یو پی کا حصہ تھا، جس کی دوسری سرکاری زبان اردو تھی۔ بھاجپا سرکار نے ریلوے انتظامیہ سے کہاکہ اُن کے حکم کے مطابق کسی بھی صوبہ کے ریلوے سٹیشنوں پر انگریزی اور ہندی کے بعد وہاں کی دوسری زبان میں بورڈ لکھے جائیںگے۔اس لئے ریلوے حکام نے سٹیشنوں کے بورڈوں پر سے اُردو ہٹا کر سنسکرت لکھوانی شروع کر دی۔ سٹیشنوں یا بس اڈّوں کے بورڈ مسافروں کی سہولت کے لئے ہوتے ہیں۔ اکثر الگ الگ زبانوں میںبورڈ اس لئے ہوتے ہیں تاکہ اُن مسافروں کو جو کسی دوسری مخصوص زبان سے واقف نہیں ہوتے ،کو اپنی زبان میں ضروری جانکاری حاصل ہوجائے۔ ہمیں اب یہ بھی پتہ چل رہا ہے کہ ایسے کتنے لوگ ہوںگے جو ہندی اور انگریزی سے ناواقف ہوں گے اور صرف سنسکرت ہی پڑھ سکتے ہیں۔ آخر اُتراکھنڈ میں کن لوگوں ک

بے روزگاری ایک مصیبت

 کام اگر زندہ لوگوں کی علامت ہے تو بے کار لوگ یقیناً مُردہ ہیں۔ہزاروں بُرائیاں بے کاری کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں اور اس کی گود میں اَن گنت جراثیم پرورش پاتے ہیں۔دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں لوگ فریب خوردگی کا شکار ہیں اور وہ ہیں صحت اور خالی وقت۔کتنے ہی صحت مند جسم اور مہیا وقت رکھنے والے لوگ اس زندگی کو ایسے گذارتے ہیں کہ ان کے سامنے کوئی امید ہے نہ کوئی کام اور نہ ہی کوئی ایسا مقصد ،جس کی تکمیل کے لئے اپنی عمر کھپائیں۔زمین و آسمان کے درمیان جو کچھ ہے سب کو حق کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے اور اس دنیا میں یہ انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس حق کو پہچانے اور اس کے ساتھ اپنی زندگی گزارے،ورنہ اگر وہ معمولی خواہشات کے دائرے میں پڑا رہے گا اور ہر چیز سے غافل رہے گا تو اس نے پھر اپنے حال و مستقبل کے لئے بدترین انجام چُن لیا ہے کیونکہ نفس کبھی سکون سے نہیں رہ سکتا۔اگر انسان منظم طریقے سے بھل

تازہ ترین