وبائی دور میں آن لائن ایجوکیشن

کورونا وائرس ایک ناگہانی بلا کی صورت میںدنیا پر مسلط ہے۔ دنیا کا کوئی ملک اس بلائے ناگہانی کا سامنا کرنا تو کجا، اس سے بچاؤکا متحمل نہیں ہے۔کورونا کے پھیلاؤ کا سب سے بڑا خطرہ اسکولوں اور تعلیمی اداروں پرمنڈلاتے دیکھ کر انہیں فوراً بند کردیا گیا جس کی وجہ سے روایتی طریقہ تعلیم تقریباً منقطع ہوچکا ہے۔ یونیسکو کی ایک رپورٹ کے مطابق 114 سے زائد ملکوں میں تمام اسکول اور کالج بند پڑے ہیں۔ پوری دنیا میں ایک عرب طالب علم اس سے متاثر ہیں۔  بچوں کو اس وائرس سے محفوظ رکھنے کیلئے حفاظتی اقدامات کے بطورنجی و سرکاری تعلیمی ادارے غیر معینہ مدت تک بند کردئے گئے اوراب تعلیمی اداروں کو بند ہوئے تقریباً پانچ ماہ گزر چکے ہیں۔ جو غیر یقینی صورتحال پہلے تھی آج بھی جوں کی توں برقرار ہے۔ہم دنیا کے ایک ایسے حصے میں رہتے ہیں جہاں ہنگامی حالات کوئی نئی بات نہیں بلکہ اب تو ہم ان حالات کے اتنے عادی ضرو

منشیات۔۔۔ اغیار کا پنجہ استبداد

علامہ اقبال ؒ کا ایک مشہور شعر ہے ۔    ؎ ساحرِ الموط نے تجھ کو دیا برگِ حشیش  اور تو اے بے خبر سمجھا اسے شاخِ نبات ”الموط “قدیم زمانے میں عرب ممالک کے اندر ایک قلعہ تھا ،جس کے متعلق لوگوں میں یہ یقین بیٹھا تھا کہ جوبادشاہ اس قلعہ پر حاکم ہوجاتا ہے، اُسے اس قدر طاقت(power) حاصل ہوجاتی ہے کہ دنیا اس کے آگے سرِ تسلیم خم کرلیتی ہے۔اتفاق سے یہ قلعہ ایران کے بادشاہ حسن صباح نے فتح کر لیا اور وہ اس پر حاکم ہوگیا۔دیکھتے ہی دیکھتے اس کی سلطنت وسیع سے وسیع تر ہوتی گئی۔وہ اردگرد کے بیشتر شہروں اور بستیوں پر حکومت کرنے لگا۔اس کی رعایا میں مختلف مذاہب اور قوموں کے لوگ شامل تھے۔وہ اپنی حکومت کو دنیا کی طاقت ور ترین حکومت (   Super Power) بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش میں مصروف تھا۔وہ ہر قوم کو محکوم اور مغلوب بنارہاتھا ۔اُن پر اپنی جابرانہ حکومت اور قوان

اسپین کی جغرافیائی حدود

ملک اسپین ”جزیرہ نما“ ہے اِس کے تین سمتوں میں سمندر ہے ۔ مشرق اور جنوب میں بحیرہ روم ہے جسے ”بحر متوسط ، بحرشام اور بحر مشرق“ بھی کہتے ہیں ۔ جنوب میں آبنائے ”جبل الطارق“ ہے جسے آج کل آبنائے ”جبرالٹر“ کہا جاتا ہے اور اِسے عرب ”بحر زقاق“ بھی کہتے ہیں۔ ”آبنائے جبل الطارق“ ملک اسپین کے جنوبی گوشہ اور براعظم افریقہ کے شمالی گوشہ میں ہے ۔ یہی آبنائے براعظم یورپ کو براعظم افریقہ سے الگ کرتی ہے کیونکہ ملک اسپین براعظم یورپ کا حصہ ہے ۔ ملک اسپین کے جنوب مغرب میں ، مغرب میں اور شمال مغرب میں اور شمال میں ”بحر اوقیانوس“ ہے ۔ جسے عرب ”بحر محیط ، بحر ظلمات ، بحر مظلم اور بحر اعظم“ بھی کہتے ہیں۔ آج کل اِس کا نام ”بحر اٹلانٹک“ بھی ہے۔ ملک اسپین براعظم یورپ کے جنوب مغرب میں واقع ہے اور شما

تازہ ترین