تازہ ترین

جبینِ نیاز اور شخصیت کے خدوخال

اس بات میں کوئی مبالغہ نہیں کہ جبین یا پیشانی میں انسان کی شخصیت کے تمام رموز موجزن ہوتے ہیں۔ اگرچہ کہا جاتا ہے کہ "چہرہ دماغ کا اشاریہ ہے یعنی فیس از دی انڈکس آف مائنڈ" لیکن اگر چہرے کا بھی کوئی انڈکس (اشاریہ) ہے تو وہ جبین ہی ہے۔ انسان کی "پر اسرار شخصیت" کے اندر موجزن مختلف قسم کے جذبات و احساسات ہر آن پیشانی کے ذریعے آشکار ہوتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خوشی کے لمحات میں پیشانی کھل اٹھتی ہے اور آنکھیں پر رونق نظر آتی ہیں، جبکہ حزن و ملال پیشانی پر افسردگی کا ایک دبیز پردہ چڑھاتے ہیں اور "غم جانگسل" اکثر اوقات کھلتی چشموں کو چھلکنے پر مجبور کرتا ہے۔ پیشانی ہی ناراضگی کے اظہار کے لئے شکن آلود ہوتی ہے اور کسی کے سخن دلنواز سے متاثر ہوکر چاند کی طرح چمکتی ہے اور "مہ جبین" کہلاتی ہے! انسان کسی کا دل موہ لے تو جبین پر بوسہ دیکر ہی اس کا اظہار ک

چین کا خلائی پروگرام- ایک نیا عالمی خطرہ

جولائی 2021کے دوران دو بڑے سرمایہ کاروں کی خلائی پرواز نے خلا میں سفر کرنے کو عام انسانوں کے لیے حقیقت میں بدل دیا ۔ ان دونوں سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہ بہت جلد ہی تجارتی طور پر خلا میں پرواز یں شروع کردیں گے۔ یہ تو خلائی سفر اور تحقیق کا ایک پہلو ہے لیکن اس کا دوسرا تشویش ناک پہلو چینی حکومت کا دفاعی اور صنعتی خلائی پروگرام ہے۔ یوں تو روس اور امریکہ سمیت دنیا کے ہر بڑے ملک کا اپنا خلائی پروگرام موجود ہے لیکن 1991میں روس اور امریکہ کے درمیان START معاہدے کے بعد ان خلائی پروگراموں کے ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے لیے استعمال اور خلائی جنگ شروع کرنے پر عالمی پابندی عائد ہوگئی تھی۔ تاہم اب تک جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق چین کا خلائی پروگرام اپنے ملک کی دعاتی طاقت کو بڑھانے کے علاوہ اس کا منفی استعمال کرنے کے فراق میں بھی ہے۔ اگر ہم یہ کہیں کہ چین کا خلائی پروگرام صرف امری

مظفرایرجؔ۔ جہانِ شعر کا گوہرِ نایاب

مرے حریف ہیں اک دوسرے سے صف آرا  کسی کو زخم لگا میری آنکھ بھر آئی میری وضع بھی الگ اور میری خو بھی جدا  نہ دل سے ہرزہ سرا ہوں نہ سر سے سودائی ان ِاور انِ جیسے لاتعداد بے لوث خلوص ومحبت اور ایثار و ہمدردی سے بھرے اشعار کے خالق شاعر مظفر ایرجؔ اب ہم میں نہیں ہیں اور مظفر ایرج بھی ۔۔۔۔۔۔؟ ہمیں اپنے بزرگوں اپنے اسلاف کے تئیں جو عزت ومحبت، خلاص و احترام ہو نا چاہئے تھا، اس سے ہم روز بروز محروم ہوتے جارہے ہیں اور ہمارے دلوں سے ہمدردی ،رواداری ، محبت وشفقت اور جذبہ مروت غائب و مفقود ہوتا جارہاہے ۔ خاص طور پر جب وہ اس دارِ فانی سے کوچ کرجاتے ہیں ۔جن اسلاف کا خون ہماری رگوں میں محوِ گردش ہوتا ہے، جن کے اثاثوں کے ہم وارث کہلائے جاتے ہیں ،جن کی سخت مشقت،جان فشانی اور خون پسینے کی محنت سے ہم کسی مقام ومنصب تک پہنچ جاتے ہیں اور جنہوں نے اپنے رات دن کی کوششوں اور کاو

حالات وواقعات کا عکاس

کشمیراُردو شعرو ادب کے حوالے سے دور رفتہ میں ایک اہم مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ کشمیر میںاُردو زبان کی ابتدا سے موجودہ دور تک بے شمار ادباء اور شعراء پیدا ہوئے ہیںجنہوں نے اُردوزبان کو وسیلہ اظہار بنا کر اُردو شعر و ادب کی خوب خدمت کی ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ اس دوران مختلف ادوار میں مختلف شعراء اور ادباء نے اپنی انفرادیت قائم کر نے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ اس سلسلے میںجب ہم کشمیر میں۱۹۶۰ء کے بعد اُردو شاعری خاص طور پر اُردو غزل کی وادی میں سیر کرنے والے شعراء کو تلاش کرتے ہیں اور ہماری نظر جن نمائندہ شعراء پر ٹھہرتی ہے ان میں ،حکیم منظور ‘ حامدی کاشمیری ‘ فاروق نازکی ‘ ہمدم کاشمیری ،رفیق رازکے ساتھ ساتھ مظفر ایرج کا اسم گرامی بھی کئی اعتبار سے قابل ذکر ہیں ۔ محمد مظفر نقشبندی المتخلص بہ مظفر ایرج یکم اگست ۱۹۴۴؁ء کو سرینگر کے محلہ صفا کدل میں پیدا ہوئے۔یہ علاقہ

تازہ ترین