تازہ ترین

مثبت سوچ ایسا خزانہ ہے جو مٹی کو سونا بنادے

اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو سوچنے، سمجھنے، اور محسوس کرنے کی صلاحیتوں سے نوازا ہے، اگر وہ ان صلاحیتوں کا بروقت اور صحیح معنوں میں استعمال کرے تو وہ اپنے فیصلوں میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ زندگی کا ہر منظر’’ سوچ‘‘ سے ہی جنم لیتا ہے۔ سوچ کی مختلف اقسام ہیں جیسے مثبت سوچ، منفی سوچ۔ مثبت سوچ کی متضاد منفی سوچ ہے جو شکست، ناکامی، ناامیدی، غصہ، بدمزاجی، مایوسی، دوسروں کو نیچا دکھانے کی خواہش وغیرہ کا نتیجہ ہوتی ہے۔  منفی سوچ رکھنے والا نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ ہر شخص انہیں دھوکہ دےرہا ہے ۔ نہ خود کچھ کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کو کچھ کرتا دیکھ سکتے ہیں۔ یاد رکھیں منفی سوچ اور پاؤں میں موچ انسان کو کبھی آگے نہیں بڑھنے دیتی۔ سوچ سے الفاظ بنتے ہیں، الفاظ سے عمل، عمل سے کردار اور کردار سے آپ کی پہچان ہوتی ہے۔ ہر انسان کی زندگی پراُس کی سوچ اور خیالات اثر انداز ہوتے ہی

فکری دور میں لٹریچر کی اہمیت اور افادیت

حال ہی میں ہندوستان کی مشہور یونیورسٹی جے این یو کے نصاب میں اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی گئی اس حوالے سے '’’انڈیا ٹو مارو‘‘ کے ایڈیٹر سعید خلیق نے ایک مضمون لکھا ہے ۔لکھتے ہیں:"جواہر لال نہرو یونیورسٹی،وہ واحد یونیورسٹی ہے، جس نے اپنے تعلیمی کورس میں اسلام کے نام کو دہشت گردی سے باضابطہ جوڑ دیا ہے۔ یونیورسٹی میں ڈیزائن کیے گئے دہشت گردی کے خلاف تعلیمی کورس کے ذریعے اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کا کام کیا ہے ، جسے یونیورسٹی کی اکیڈمک اور ایگزیکٹو کونسل نے منظور کیا ہے۔"آجکل جہاں ہر طرف اسلامی فوبیا پایا جاتا ہے اس نصاب کے بہت ہی خطرناک اثرات پڑ سکتے ہیں جس سے ہندوستان کے سیکولر کلچر کو خطرہ ہے ۔لکھتے ہیں:" یہ کورس فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے نقطۂ نظر سے بہت خطرناک ہے۔ کیوں کہ اس کے ذریعے ہندوستان میں اسلاموفوبیا کو تقویت ملے گی۔&q

پروفیسر نصرت اندرابیؔ

ابھی وادی کے نامور استاد پروفیسر مخمور حسین بدخشی کے داغ مفارت سے ہماری آنکھیں پر نم ہی تھیں کہ ایک اور دل دہلانے والی  خبرموصول ہوئی کہ کشمیر کی ایک باغ و بہار شخصیت پروفیسر نصرت اندرابی اس جہاں فانی سے پرواز کر گئی۔(ا نا لللہ ونا الیہ راجعون)۔پروفیسر نصرت اندرابی کا شمار ان ماہر ین سماجیات میں سے ہوتا ہے جنہوں نے کشمیر میںتعلیم نسواں کو پروان چڑھانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔کشمیر کے علمی و ادبی پرستاروںمیں ایک نام پروفیسر نصرت اندرابی کا بھی ہے۔آپ کا اصلی نام نصرت گنائی  ہیں۔آپ کے والد خواجہ سیف الدین گنائی جو کہ سابقہ ڈی ،ائے جی پولیس  تھے۔ ۱۹۳۸ء  میں اننت ناگ کے ایک اہم تاریخی علاقے مٹن میں تولد ہوئی۔اپنے ہی علاقے میں میڑک کا امتحان پاس کر کے ۱۹۵۴ میں ومینس کالج (ایم ،روڈ) میں داخلہ لیا ۔  ومینس کالج سے بی اے کا امتحان پاس کرنے کے بعد کشمیر یونیورسٹی سے ا

دبستان کشمیر کے درخشاں ستارے

اللہ رب العزت نے انسان کو بہترین صورت میں تخلیق کیا ہے اور ساتھ ہی متنوع  خوبیوں سے اسے مزید پرکشش بنایا ہے۔کسی کو یہ ہنر دیا کہ مقرر اچھا ہے تو کوئی محرر بہترین۔اگر کسی پر اپنا خاص کرم کیا تو اس کو دونوں میں سلیقہ بخشا۔ جموں و کشمیر میں بھی ایسے اشخاص موجود ہیں، جن کو رب نے سلیقہ بخشا ہے کہ وہ افسانہ لکھتے ہیں تو خوبیوں سے آراستہ پیراستہ ۔غزل لکھتے ہیں تو وہ غزل ہوتی ہے اپنے احساسات و جذبات کی ترجمان۔انشائیہ لکھتے ہیں تو خوبیوں کا پیکر ،اداریہ لکھتے ہیں تو بے باکی کا نمائندہ۔بات کرتے ہیں تو ہر لفظ سے خوشبو آئے۔  ادبی دنیا کا ایسا ہی ایک معروف نام زاہد مختار کا ہے۔جو بیک وقت ایک بہترین مدیر ، عمدہ  شاعر ،افسانہ نگار ،ناول نگار ،انشائیہ نگار،ڈراما نگار ،اداکار،  اور سب سے بڑکر ایک بہترین انسان ہیں۔ زاہد مختار 15 جنوری 1956 ء میں چینی چوک اننت ناگ میں پیدا ہوئے۔

آہ! اختر رسول۔ ماہر گرافک ڈیزائنر خوش لحن سوز خواں

یوں تو کسی بھی انسان کا موت کے ذائقے کو چکھنا کوئی منفرد یا غیر معمولی واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ قانون قدرت ہے اور قرآن مجید کا واضح اعلان بھی کہ ہر ذی حیات کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔دنیا میں جاری موت و حیات کے منظم سلسلے سے ہی کائنات کا نظام متوازن ہے تاہم بعض شخصیتیں اپنے سماج کے کسی نہ کسی گوشے پر ایسے تابدار و شاندار نقوش مرتسم کرتی ہیں کہ ان کے ارتحال سے پیدا ہونے والے خلا کی بھر پائی نہ صرف ناممکن نظر آتی ہے بلکہ ان کی یادیں بھی لوگوں کے ذہنوں پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے گھر کر جاتی ہیں جنہیں لاکھ کوششوں کے باوصف بھی مٹایا جا سکتا ہے نہ پل بھر کے لیے فراموش کیا جاسکتا ہے۔ ایک ایسی ہی شخصیت سری نگر کے بابا پورہ حبہ کدل علاقے سے تعلق رکھنے والے اختر رسول تھے جو دس اکتوبر یعنی اتوار کی صبح اچانک راہی امصار افلاک ہو کر اپنے احباب و اقارب کو ہی نہیں بلکہ بیسیوں چاہنے والوں کو کرب و درد کے

فقہی موشگافیاں اور وقت کا تقاضا

فقہ ایک رحمت ہے اور متقدمین علماء کی خدمات اس حوالے سے قابلِ قدر ہیں۔ عوام قرآن و سنت کی باریک بینیوں سے عمومی طور پر بے خبر ہوتی ہے۔ اس لیے علماء وقت وقت پر اپنی ذہانت و فتانت کا استعمال کرتے ہوئے عوام کی رہنمائی کرتے ہیں۔ باریک سے باریک تر مسئلے کو بھی آسانی کے ساتھ حل کردیتے ہیں ۔ خود اس بات پر جھانک لیتے ہیں کہ عوام کو کون سی دشواریاں پیش آرہی ہیں اور آسان حل کیا ہو سکتا ہے ۔ لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس سخت آزما میدان میں بعض ایسے افراد آٹپکے جن کا مقصد خود کو فقہی ثابت کرنا تھا ۔ وہ صرف مسئلہ بیان کرنے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ اس مسئلے کے حوالے سے ایسے ایسےدلائل بھی دیتے رہتے ہیں کہ جن سے سب سے زیادہ نقصان دین ِ اسلام کو ہی پہنچتا ہے۔ عوام قرآن و سنت سے ڈرنے لگتی ہےاور وہ اپنے آپ کو اس قابل سمجھ ہی نہ پاتے کہ خود قرآن و سنت کا مطالعہ کریں ۔ باہر کی دنیا میں جس طرح جید ع

اخلاقیات سے عاری نسلِ نو

وہ بھی کتنا اچھا وقت تھا جب لوگ بہترین اخلاق واطوار سے پہچانے جاتے تھا، ضرورت پڑنے پر ایک دوسرے کا دستِ بازو بن جاتے تھے ۔نوجوان تو ایک طرح سے خدمتِ خلق کا ادارہ سمجھے جاتے تھے، کسی کو چوٹ لگ جائے ، محلے میں کسی کو بازار سے کوئی سامان منگوانا ہویا کسی کو اسپتال لے جانا ہو ، کسی کی تیمارداری کرنی ہو نوجوان سب سے آگے ہوتے تھے، کسی کے کام آنا ان کا دل پسند مشغلہ تھا۔ ماضی میں ایک ناخواندہ دیہاتی بھی اخلاقی خوبیوں کی دولت سے مالا مال تھا۔ کوئی مسافر گاؤں میں آجاتا تو سب ہی اس کی آؤ بھگت کرتے۔ کم پڑھا لکھا آدمی بھی جانتا تھا کہ مہذب اور شائستہ رویے کا مظاہرہ کیسےکرنا ہے لیکن رفتہ رفتہ جو تہذیبی روایات ختم ہوتی گئیںاب دور دور تک دکھائی نہیں دیتیں۔ نوجوان نسل تو اخلاقیات سے عاری ہوتی جا رہی ہے۔ وہ تو بہت سے اخلاقی آداب کو تکلفات سمجھنے لگی ہے ۔ مثلاً شکریہ ادا کرنا، کسی غلطی پر معذرت

اَسوۂ رسول اکرم ﷺ اور ہماری زندگی

تاریخ عالم پر نظر دوڑائیں تو ہمیں عظیم شخصیتوں کی ایک کہکشاں دکھائی دیتی ہے لیکن کوئی شخصیت بھی جملہ صفات و کمالات کی جامع اور ہر لحاظ سے کامل نظر نہیں آتی، کہیں عفو و درگزر تو نظر آتا ہے لیکن انداز حکمرانی نہیں ملتا، کہیں مذہبی ظاہر پرستی تو موجود ہے لیکن روحانی پہلو نظر نہیں آتا، کہیں تجرد و پارسائی تو نظر آتی ہے مگر عائلی زندگی کا عملی نظام نظر نہیں آتا،کہیں جاہ و جلال تو موجود ہے مگر عفوِ عام کا جوہر نظر نہیں آتا، کہیں شاہی زندگی بھر پور انداز میں تو موجود ہے لیکن فقر کا پہلو کم نظر آتا ہے۔دراصل انسانیت اپنے جملہ صفات و کمالات کی تکمیل کے لئے ایک ایسی جامع و کامل شخصیت کی محتاج رہی ہےجو انفرادی و اجتماعی لحاظ سے انسان کے ظاہر و باطن میں انقلاب برپا کرے اور اسے یکسر بدل ڈالے۔ جو ذات صاحب شمشیر بھی ہو اور گوشہ نشین بھی ، جو فرمانروا بھی ہو اور فقر کا پیکر بھی، جو شب زندہ دار ب

مرحبا آمدِ شمع بزمِ ہدایت ﷺ

یوں تو اللہ تبارک و تعالیٰ کا ہم پر بیشمار احسان اور انعام و اکرام ہے یعنی اللہ رب العالمین کے احسانات و انعامات کو شمار نہیں کیا جاسکتا اور یہ ہمارا عقیدہ ہونا چاہیے کہ جہاں اللہ تعالیٰ کے ہم پر بیشمار احسانات ہیں، وہیں ہم پر سب سے بڑا انعام سید الکونین مصطفیٰ جان ِرحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کسی بھی انعام و اکرام کا احسان نہیں جتایا لیکن جب شمع بزم ہدایت صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا تو احسان جتایا ۔گویا رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی ولادت اللہ کی طرف سے بندوں کیلئے سب سے بڑا انعام ہے۔ دنیا کا نظام رسول پاکؐ کے صدقے میں چل رہا ہے۔ دنیا اور دنیا کی ساری چیزیں رسول پاکؐ کے صدقے میں ہی وجود میں آئی ہیں اور محمد عربی صل اللہ علیہ وسلم ہر مخلوق کیلئے نبی بنا کر بھیجے گئے ہیں اور پوری کائنات کیلئے اللہ تبارک و تعالیٰ

حضرت ِمحمد مُصطّفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری

ماہِ ربیع الاوّل اِسلامی کیلنڈر کاتیسرا اور مبارک مہینہ ہے، اِس ماہِ مبارک میں رات کے اندھیرے کے اختتام پر دن کا اُجالا ہونے کے سا تھ نبی آخرالزماں‘ حبیب ِکبریا‘ امام الانبیاء ، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت ہوئی۔ سیّد المرسلین، حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ،آپؐ کی تشریف آوری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تاریخِ عالم کا عظیم واقعہ اور ایک بے مثال انقلاب کا پیش خیمہ ہے۔ یہ انقلاب صرف مذہبی ہی نہیں تھا علمی اور سیاسی بھی تھا،فکری اور نظری بھی،معاشی اور معاشرتی بھی تھا، مادی بھی تھا اور روحانی بھی!غرض زندگی کا کوئی شعبہ ایسا باقی نہیں بچا،جس میں آمنہ کے لالؐ نے انقلاب نہ برپا کر دیا ہو، یہ انقلاب تاحال مسلسل جاری ہے اور تاقیام قیامت جاری رہے گا۔بلاشبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور نبوت و رسالت امت پر اللہ تعالیٰ کا

کام ادنیٰ ہی ہو،کام میں کوئی شرم نہیں

اس دنیا میں زندہ رہنے کے لئے کام کرنا ضروری ہے۔ اس کے بغیر جینا ناممکن ہے۔ دوسرے حاجات اس کے بعد آتے ہیں۔ کھانا، کپڑا، گھر، دوا، وغیرہ زندگی کی بنیادی ضروریات ہیں جو صرف کام کرنے سے ممکن ہے۔ جب یہ حقیقت ہے تو کام کو کام کی نگاہ سے دیکھنا ازحد ضروری ہوجاتا ہے۔ کاموں کو مختلف زمروں میں ڈالنا، کوئی دانائی کا کام نہیں۔ مگر کچھ کام قوم کو بنانے میں زیادہ رول ادا کرتے ہیں۔ استاد، غیر جانبدار سیاستدان، اچھے ڈاکٹر، صحافی، وغیرہ۔ ان کو ہم prestigious کے کھاتے میں ڈالتے ہیں۔ البتہ مسئلہ تب در پیش آتا ہے جب دوسرے کاموں کو کوئی بھی حیثیت نہیں دی جاتی ہے اور ہر کوئی مندرجہ بالا کاموں کو کرنا چاہتا ہے، تاکہ ایک قسم کی شان برقرار رہے۔  اس چیز کو ہم اگر کشمیر میں دیکھنا چاہیں تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اس معاملے میںلوگ بہت زیادہ تنگ نظریہ رکھتے ہیں۔ استاد، ڈاکٹر، ڈسٹرکٹ کمشنر، وغیرہ کے

مُفلسوں، مجبوروں اور بیواؤں کی دِل آزاری

جب کو ئی آپ کےسامنے ہاتھ پھیلائے، آپ سے مدد مانگے، آپ کو اپنا مددگار سمجھے تو یقین مانئے کہ اللہ رب العزت کی طرف سے آپکو ایک عظیم اور اہم موقعہ نصیب ہورہا ہے کہ آپ بار گاہ ِ خداوندی میں اپنے گناہوں ، کوتاہیوں، لغزشوں اور نافرمانیوں کا کچھ بوجھ اپنے کندھوں سے اتارنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ نے اِس عظیم موقعے کو کھو دیا تو حقیقتاً آپ نے زندگی کے جینے کا مقصد کھو دیا اوراِس کے بعد آپ اک چلتی پھرتی زندہ لاش کی مانند ہیں، جس کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یعنی انسان ہوکر بھی انسانی زندگی گزارنے کا موقعہ نصیب نہیں ہوتا۔ ہمارے معاشرے میں یہ بات بالکل عیاں ہے کہ ہم اکثر اوقات ایسے موقعوں پر تکبر، غرور اور انا کا شکار ہوجاتے ہیں اور یوں ہم گناہوں کی ایسی دلدل میں دھنس جاتے ہیں ،جس سے نہ صرف اپنا نقصان نہیں کرتے ہیں بلکہ سماج کو ایک ایسی ناقابل ِ رحم سمت میں لیجانے کا کام کرتے

فکری دور میں لٹریچر کی اہمیت اور افادیت

انسانی تاریخ کا المیہ ہے کہ صنف نازک کو ہر دور میں مکمل اکائی سمجھنے کے بجائے محض ایک ضمیمہ تصور کیا گیا۔تاریخ کا بنظر غائر مطالعہ کریں تو ہمیں قبل اسلام عورتوں کا کوئی کلیدی کردار سماج کو بنانے میں نظر نہیں آتا۔زمانہ ٔجاہلیت میں بعض قبائل عرب تو درندگی کی حدکو پھلانگ چکے تھے، چنانچہ وہ اپنے بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا کرتے تھے، لیکن اسلام نے حواکی بیٹیوں کوعزت واحترام سے نوازا۔عہدنبوی اور خلافت راشدہ میں ہر شعبہ زندگی میں خواتین اسلام کے نمایاں اور واضح نقوش نظر آتے ہیں۔ نبوت جیسی اہم ذمہ داری کو نبھانے اور ثابت قدمی کے ساتھ دعوت ِالٰہی کو عام کرنے میں حضرت خدیجہ ؓ،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی حوصلہ افزائی ہی نہیں بلکہ سب سے پہلے ایمان لاکر ان کی صداقت و امانت داری کی شہادت اور غیر متزلزل ستون بن کر آپ کو سہارا دیتی ہیں۔ مرورِ زمانہ کے ساتھ ساتھ خواتین کے حوالے سے زمانہ جاہلیت کے تصور

عالمی تجارت کے بدلتے انداز

کووِڈ-19سے پیدا ہونے والی صورتِ حال کے باعث گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ہم نے بین الاقوامی تجارت میں کئی رکاوٹیں دیکھی ہیں، جس کے باعث حالیہ مہینوں میں عالمی سطح پر بین الاقوامی تجارت اور اس سے جڑے مسائل، میڈیا اور ہیڈ لائنز کی زینت بنے رہے ہیں۔ مزید برآں، امریکا میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آنے کے بعد، اس کی قومی صنعت کو تحفظ فراہم کرنے کے نام پر زیادہ تر بحث کا مرکز عالمی تجارتی جنگ کے خطرات، ردِ عمل میں تجارتی ٹیرف کا اطلاق اور اس کے نتیجے میں عالمی تجارت کا مستقبل رہا۔ ہرچند کہ اب ٹرمپ وہائٹ ہاؤس میں نہیں رہے لیکن امریکا کی قومی تجارت کو تحفظ فراہم کرنے والی پالیسیاں اب بھی جاری ہیں اور ان پر بحث اپنی جگہ انتہائی اہم ہے۔ تاہم، اسی دوران عالمی تجارت کے حوالے سے کئی ایسے روشن پہلو بھی اُبھر کر سامنے آرہے ہیں، جنہیں بالکل نظرانداز کردیا گیا ہے۔ یہ روشن پہلو، چوتھے صنعتی انقلاب کے

نوجوان کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟

تیز رفتار موٹر سائیکل سوار نوجوان کی ٹکر سے ایک خاتون شدید زخمی، چھ ماہ کی شیرخوار بچی گر کر ہلاک۔‘‘ موٹر سائیکل پر سوار دو نوجوان موبائل پر بات کرتے ہوئے موٹر سائیکل کو اِدھر اُدھرگھوماتے ہوئے ایک دوسری تیز رفتار گاڑی سے ٹکرا کرسڑک پر گرے اور لمحے بھر میں جان کی بازی ہار گئے۔‘‘ اس طرح کے حادثات کی خبریں ہم تقریباً روزانہ ہی اخبار میں پڑھتے ہیں، جن میں تیز رفتار موٹر سائیکل سوار یا سڑکوں پر ریس لگاتے کارسوار نوجوان نے راہ گیروں کو ہلاک و زخمی کردیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کے حادثات کے ذمہ دار اکثر و بیشتر نوجوان ہی کیوں ہوتے ہیں؟ آج ہم اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ جب ایک نوجوان لڑکپن سے جوانی میں قدم رکھتا ہے تو اس کے ساتھ سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں میں اضافہ اور کچھ کر دکھانے کے جذبات پروان چڑھنے لگتے ہیں۔ وہ کچھ ایسا کرنا چاہتے

ہماری زندگی اور نباتات کی ضرورت

پڑھائی کے سلسلے کو لے کر میں ایک مہینے سے کافی مشغول تھا امتحان کے دن بہت قریب تھے حسب معمول میں صبح سات بجے سے روز کی پڑھائی شروع کرتا تھا ایک دن نصاب میں دئے گئے کچھ مضامین پر کافی غور کر رہا تھا اس لیے کہ وہ مضامین کچھ ایسے محسوس ہورہے تھے جن پر بغور مطالعہ کرنا ضروری تھا  میں اپنی کتابیں اپنے سامنے لیے ہوئے دوزانو بیٹھ کر ان مضامین کا بڑے شوق سے مطالعہ کر رہا تھا اتنے میں میری نظر کتاب کے دائیں جانب ایک چھوٹے سے کیڑے پر پڑی یہ کیڑا سیاہ رنگ کا تھا جو کافی تیز چل رہا تھا اور تکلیف دہ بھی محسوس ہو رہا تھا میں نے اس قسم کے کیڑے پہلے بھی دیکھے تھے پر کبھی سوچنے یا انہیں جاننے کی زحمت گوارا نہیں کی لیکن اِس بار کافی راغب ہوگیا  شائد اس لیے کہ میں پہلے ہی مشاہدے کے  لیے کتابیں اپنے سامنے لیے ہوئے بیھٹا تھا یہ کیڑا ساخت کے لحاظ  سے کافی بدصورت بھی نظر آرہا تھا اس کیڑے

جنگلات کی اہمیت اور ہماری غفلت

قدرت نے انسان کو بے انتہا نعمتوں سے نوازا ہے ۔یہ زمین و آسمان صرف اور صرف انسان کے لئے سجایا گیا ۔قدرت نے عرش کو چاند اور ستاروں سے سجایا ہے اور فرش کو سر سبز و شاداب جنگلات ،خوبصورت سحرائوں سے اور دلکش پانی کے جھرنوں سے سجایا ہے ۔اگر ہم ا ن تمام اسباب کا جائزہ لیں تو یہ بھی قدرتی کارنامے انسان کی خوشحالی کے لئے قدرت نے بنائے ہیں۔یہ تمام وسائل انسان ی زندگی کے لئے ازحد ضروری ہیں۔جہاں تک جنگلات کا تعلق ہے تو یہ قدرتی وسائل میں سے سب سے اہم ذریعہ ہے ،جہاں سے نہ صرف انسان بلکہ جانور بھی لا محدود فواید حاصل کرتے ہیں ۔اس بات سے کون نا آشنا ہے کہ جنگلات ہماری زندگی کے لئے کیا اہمیت رکھتے ہیں ۔جنگلوں سے ہماری ہزاروں ضرورتیں پوری ہوتی ہیں۔صبح سے لے کر شام تک ہم ان جنگلوں کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ جنگلات موسمی توازن کو برقرار رکھنے میں اہم رول ادا کرتے ہیں ۔جنگلات زیادہو ہوں تو بارش وقت پر ہ

کشمیر میں منشیات کی وبائی لہر | نشےباز تمام عیبوں کے مرتکب ہوجاتے ہیں

’’اے ایمان والو !شراب،جوا،استھان،پانسے کےتیر بالکل نجس شیطانی کام ہیں ۔ان سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ۔شیطان تو چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈالے اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے ، پھر کیا تم ان چیزوں سے باز آ جاؤ گے‘‘ ۔(المائدہ 90-91) مذکورہ دو آیتوں میں ’’خمر‘‘اور اسکے قبیل کی تمام ایشاء کو ناپاک اور شیطانی عمل سے تعبیر کیا گیا،اس سے اجتناب اور دوری کو موجبِ فلاح اور کامرانی قرار دےدیاگیا۔خمر(شراب) کے استعمال سے انسانوں کو دو طرح کے نقصانات اٹھانے پڑتے ہیں:۔انفرادی،2۔اجتماعی۔ انفرادی نقصان یہ ہے کہ اولاً انسان اپنی صحت، جو کہ اللہ کی عظیم نعمت ہے ،کو کھو بیٹھتا ہے ،عقل و حواس ، زہد و تقویٰ اور روحانی ارتقاء سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔    اجتماعی نقصان یہ ہے کہ نشہ آور اشیاء اور

خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا

ملک میںذی شعور اور با حِس عوام نےابھی آسام کا خون آشام واقعہ فراموش نہیں کیا تھا کہ اُترپردیش کے لکھیم پور میں بھی لرزہ انگیز واقعہ رونما ہو گیا۔ یہ دونوں واقعات جہاں انسانی خون کی ارزانی کی کہانی بیان کرتے ہیں وہیں یہ بھی بتاتے ہیں کہ پولیس محکمہ اور حکومتی نظام کس قدر بے درد اور بے حس ہو گئے ہیں۔ آسام میں ایک نہتے شخص کے سینے میں گولی مار کر قتل کیا گیا اور پھر اس کی لاش کی بے حرمتی کی گئی اور لکھیم پور میں انتہائی وحشیانہ انداز میں پر امن کسان مظاہرین کو روند دیا گیا۔ پہلا واقعہ جہاں پولیس محکمہ کے ظلم و بربریت کا گواہ بنا، وہیں دوسرا واقعہ اقتدار کے نشے میں چور چند افراد کی رعونت کا شاہد بنا۔ آسام کی مانند لکھیم پور کے واقعہ نے بھی پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ لیکن جس طرح آسام کے قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی، اسی طرح لکھیم پور کے مجرموں کے خلاف بھی ایک ہفتہ گذر

علمِ منطق۔میزانِ اہمیت و افادیت میں

ہر فن خواہ وہ علم ِ صرف و نحو ہو، علم ِ فصاحت و بلاغت ہو، علم ِ کلام ہو، فلسفہ ہو یا منطق کو ایک مسلم حیثیت حاصل ہے۔ چناں چہ جس طرح عربی عبارات کو سمجھنے اور حل کرنے کے لئے علم ِ صرف و نحو کے قواعد و ضوابط کا جاننا اور ان کی پابندی کرنا لازمی ہے علیٰ ہٰذا القیاس کسی چیز میں غور و فکر کرنااور اس سے نتائج اخذ کرنے میں غلطی سے بچنے کے لئے علم ِ منطق کے قواعد و ضوابط کا حصول اور انہیں ملحوظِ نظر رکھنا از انتہاء ضروری ہے۔ علم ِ منطق کا ربط خالص عقل اور عقلی دلائل سے ہے اور ظاہر ہے کہ ہر ہر آدمی نقل کی بجائے عقل میں آنے والی بات ہی کو ترجیح دیتا ہے۔ لہٰذا اس علم ِ غیر معمولی کا حصول ، اس پر تصرف حاصل کرنا اور اس سے استفادہ کرنا ہر صاحب ِ علم و فراست کے لئے ضروری ہے بلکہ کچھ علماء کے نزدیک واجب ہے کیوں کہ مشاہدہ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ معقولات (علومِ عقلیہ) سے ناواقفین کے علوم میں وسعت ت