تازہ ترین

خطبہ حجۃ الوداع|اسلامی نظام کاجامع دستور العمل

 خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت کو23سال پورے ہونے کو تھے ، حج کامہینہ بالکل قریب آن پہنچا تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے 23سالہ دور رسالت کی ہمہ جہت تعلیمات کا خلاصہ پیش فرمانا چاہ رہے تھے ،چنانچہ دین کی جامع ترین عبادت حج کا ارادہ کیا ،اطرافِ مکہ میں آپ کی آمد کی اطلاع پہنچی، تمام قبیلوں کے سردار اور نمائندگان اپنے اپنے قبائل کے افراد کے ہمراہ اس عظیم اجتماع میں جمع ہونا شروع ہو گئے ، مسلمانانِ عرب کے بڑے بڑے قافلے جوق در جوق مکۃ المکرمہ جانے لگے۔26 ذوالقعدہ 10 ہجری اتوار کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرماکر احرام کی چادر اور تہبند باندھا،نماز ظہر کی ادائیگی کے بعدمدینہ سے مکہ کی طرف سفر شروع فرمایا۔ ازواج مطہرات بھی آپ کے ہمراہ تھیں۔ مدینہ سے چھ میل کے فاصلے پر ذوالحلیفہ جو مدینہ منورہ کی میقات ہے وہاں پہنچ کر شب بھر قیام فرمایا۔ اس کے بعد دو نف

قربانی اور ارشاداتِ نبویؐ

فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ: سو آپ اپنے پروردگار کی نماز پڑھئے اور قربانی کیجئے۔  اونٹ کی قربانی کو نحر کہا جاتا ہے، اس کا مسنون طریقہ اس کا پائوں باندھ کر حلقوم میں نیزہ چھری مار کر خون بہا دینا ہے، جیسا کہ گائے وغیرہ کی قربانی ذبح کرنا (یعنی جانور کو لٹا کر حلقوم پر چھری پھیرنا ہے) عرب میں چونکہ عمومًا قربانی اونٹ کی ہوتی تھی، اس لئے قربانی کرنے کے لئے یہاں لفظ و انحر استعمال کیا گیا۔ بعض اوقات لفظ نحر قربانی کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، اس سورہ کی پہلی آیت میں کفار کے زعم باطل مقدار میں عطا فرمانے کی خوشخبری سنانے کے بعد اس کے لشکر کے طور دو چیزوں کی ہدایت کی گئی ، ایک نماز دوسرے قربانی ۔ نماز بدنی اور جسمانی عبادتوں میں سب سے بڑی عبادت ہے، اور قربانی مالی عبادتوں میں اس بنا پر خاص امتیاز رکھتی ہے کہ اللہ کے نام پر قربانی کرنا بت پرستی کے شعار کے خلاف ایک جہاد بھی ہے۔

سُنتِ ابراہیمی اب بھی باقی

صنم تراشی شب وروز کامشغلہ تھا۔خالق کا تصور مخلوق کی نگاہوں سے مٹ چکا تھا۔کفر و عصیاں کی راہ و رسم میں تمام تر لوگوں کا مزاج پختہ ہو چکا تھا۔لوگوں کی رگ رگ میں حجر و شجر کی چوکھٹ پے جبین ساء کاجنون بدرجہ اتم, اللہ کی سرزمین کو مکدر اور تیرہ و تار کر رہا تھا۔ادھر بھی تو ادھر بھی, اپنے اپنے معبودوں کے بے جان مجسموں کو خون آدم سے رنگا جا رہا تھا۔انگنت خود تراشیدہ اصنام کی کثرت کے باوجود ایک بے یقینی تھی,ہو کا عالم تھا،خوف و ہراس اور بے چینی تھی،حسرت و ملال کا ایک نہ تھمنے والا طوفان بد تمیزی اولاد آدم کے وجود کو عتاب الٰہی کی طرف بہائے جا رہا تھا،آسمان اس منظر کو دیکھ کر شرما رہا تھا مگر ابلیس اس تباہی و بربادی پے شادماں و فرحاں اپنے کاررندوں کی کارگزاری سے بدمست و مخمور،جشن منارہا تھا،اس لئے کہ تخلیق حضرت آدم اسکے ابدی تنزل اور ملعونیت کا سبب بنا تھا۔ادھر رحمت خداوندی جوش میں آگئی تو

قربانی کے اسرا ر و رموز

قربانی کیا ہے؟اپنی محبوب ترین چیز رضائے الٰہی کے لیے قربان کر دینے کا نام ہے۔قربانی کیا ہے؟ اللہ پاک کی منشا کے آگے اپنی خواہشات سے بے اختیار ہو جانے کا نام ہے۔قومیں قربانیوں سے زندہ رہتی ہیں۔گیہوں کا جو دانہ مٹی میں ملتا ہے اس سے ہزار دانے پیدا ہو جاتے ہیں  اور جو دانہ دستر خوان کی زینت بنتا ہے اس کا  انجام ایسی چیز پر ہوتا جو قابل ذکر نہیں۔مگر آج کل قربانی کی روح ماند پڑ گئی ہے۔خلوص،عند اللہ ماجوریت، ایثار،سخاوت اور بے نفسی کی جگہ ریا کاری، خود غرضی، بخل اور نفس پرستی نے لے لی ہے۔وا حزناہ وویلاہ۔۔  عید الاضحی کے موقع پر گراں جانور خریدنا رواج پا چکا ہے۔شاعروں کی طرح شعر پر تو نہیں مگر اپنے جانور کی تندرستی اور خوبصورتی پر لوگ دوسروں کی جانب سے داد و دہش کے خواہاں نظر آ رہے ہیں۔اس مقصد کے تحت ایک جانب جانور وں کو بغرض نمائش اذیت دی جارہی ہے تو دوسری جانب قربانی ج

عید الاضحی اور کورونا سے بچائو

بڑی عید پر بڑی احتیاط کرنا بھی ضروری ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کھانے کے آداب مقرر رکھے ہیں کم یا زیادہ کھانے سے بھی بیماریاں جنم لے سکتی ہیں۔کچھ افراد یہ سمجھتے ہیں اگر انہوں نے آج پروٹین یا چربی زیادہ کھا لی ہے تو کیا ہوگا،بڑی عید کے موقع پر بڑی احتیاط کرنا بھی ضروری ہےرشتے داروں سے ملنے کی تمنا ہے مگر کورونا سے بچنا بھی تو لازم ہے۔ اس عید کے موقع پر دنیا بھر میں کورونا وائرس کا حملہ جاری ہے ۔ جہاں ہم نے اتنا صبر کیا ہے وہیں اگر ہم ان دنوں میں بھی احتیاط سے کام لے لیں تو کورونا بھاگ سکتا ہے ۔ ہم نے احتیاط سے کام لیا تو عید کے دنوں میں ہونے والا لاک ڈائون کے بعد زندگی دھیرے دھیرے معمول پر آنا شروع ہو سکتی ہے۔ کورونا وباء نے معیشت کو متاثر کیا ہے،بے شمار افراد کا روزگار چھن گیا ہے،اس عید کے موقع پر ان کی خوشیوں کو بھی دوبالاکر سکتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اپنا فرج خالی رکھیں اور زیاد

تازہ ترین