تازہ ترین

امیرالمومنین حضرت عثمان غنی ؄ کی شہادت

  مدینے میں سخت قحط پڑ ہوا تھا۔ اناج اور پانی نہ ملنے کی وجہ سے لوگ بہت پریشان تھے۔ ان چیزوں کے لیے لوگوں کو دور دور جانا پڑتا تھا۔ مدینے کے ایک حصے میں یہودی آباد تھےجن کے محلے کے پاس کنواں تھا۔ کنویں کا مالک اس کا پانی بہت زیادہ قیمت میں فروخت کرتا تھا ۔ غریب مسلمانوں نے یہ بات رسول اکرم ﷺ کو بتائی ۔ آپ ﷺنے اعلان فرمایا کہ لوگوں کو پانی کی تکلیف سے بچاکر اللہ کی خو شنودی کون حاصل کرے گا؟ یہ اعلان سن کر آپ ﷺ کے ایک صحابی کنویں کے مالک سے ملے ۔ انہوں نے اس سے کنواں خریدنے کی بات کی ۔ بڑے سودے بازی کے بعد یہودی صرف آدھا کنواں فروخت کرنے پر راضی ہوا۔  آدھا کنواں اس شرط پر فروخت کیا گیا کہ ایک دن تو کنواں خریدنے والا اس کا پانی استعمال کرے گا اور دوسرے دن یہودی کنوئیں کے پانی کا مالک ہوگا۔ کنواں خریدنے والے صحابی؄ نے سودا منظور کرلیا۔ جس دن کنواں ان کا ہوتا، مدینے ک

اسلام میں خیر خواہی کی اہمیت

آج کے پُرفتن دور میں اگر کوئی چیز انسانوں کو انسانیت کا احساس دلاتی ہے تو وہ ہے ’’خیر خواہی‘‘ یعنی بھلا چاہنا۔ وہ انسان انسانیت کا علم بردار ہے جو اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی ہمیشہ بھلائی چاہتا ہے، راقم اپنی دینی تقاریر میں کہا کرتا ہے کہ انسانیت کا مکمل درس اسلامی نصاب میں موجود ہے، اسلام آیا تو انسانیت زندہ ہوئی، اسلام نے انسانیت کے ہر راستے پر آدمی کو چلنے کی ہدایت دی اور طریقہ بتایا۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ مذہب سے اوپر اٹھ کر انسانیت کی بات کرنی چاہیے، انہوں نے اسلام کی تعلیمات کو نہیں سمجھا، اسلام ہی انسانیت کا حامی مذہب ہے، انسانیت کی جتنی قسمیں ہوسکتی ہیں وہ سب کی سب نصابِ اسلام میں موجود ہیں؛ لہذا جو انسانیت کو فروغ دینے کی باتیں کرتے ہیں، انہیں چاہیے کہ اسلام کی تعلیمات کو عام کریں، انسانیت خود بخود عام ہوجائے گی۔  انسانیت کا کوئی مترادف

راستی اور انصاف،افضل ترین عمل

مذہب ِاسلام میں قربانی کرنے کے اصول اور اس کا شرعی حکم احادیث کی مستند کتابوں کے ساتھ ساتھ مقدس کتاب، کتاب ِزندگی امامُ الکتاب قرآن مجید میں اسکا ذکر حضرت ابراہیم کے تواسط سے ملتا ہے کہ کس طرح وہ صالح اولاد کی تمنا میں دُعائیں کیا کرتے تھے اور کیسے اللہ تعالیٰ نے انہیں اولادِ صالح عطا کیا، یہاں پر بھی اُمت کے لئے ایک درس اللہ کو دکھانا مقصود تھا جیسے کہ سماج میں ایسے بہت سارے شادی شدہ جوڑے ہیں، جو اولاد کی نعمت سے محروم ہے۔  روایات  میں آیا ہے کہ حضرت ابراہیم   ؑ کی عمر 86 سال کے قریب تھی اور حضرت ہاجر ؑ بھی عمر رسیدہ تھی ،چنانچہ جب حضرت ابراہیم نے اللہ کے دربار میں عاجزی و انکساری سے دُعاء مانگی تو اللہ تعالیٰ نے اُنہیں اولاد صالح سے نوازا۔ صرف حضرت ابراہیم نہیں آپ کو تواریخ کی مستند کتابوں میں بہت سارے ایسے واقعات مل جائینگے جن میں حضرت ذکریا  ؑکا واقعہ می

چاپلوسی نفرت انگیز بُرائیوں کا مجموعہ

چاپلوسی ایک ایسا فن ہے جس کے ذریعہ کوئی بھی چاپلوس اپنا مطلب آسانی سے پوری کر لیتا ہے ، کیونکہ ہر انسان اپنی تعریف سن کر خوش ہو تا ہے اور خاص طور پر اس وقت جب اس کی کوئی ایسی خوبی بیان کی جا ئے جو کہ اس میں سرے سے موجود ہی نہ ہو ۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ چاپلوس یعنی خو شامد شیطان کی ایجاد ہے ، یہ بھی کہاجا تا ہے کہ جب شیطان کی تمام کوشیش نا کام ہو جا تی ہیں تو پھر وہ چاپلوسی کا حربہ استعمال کر تا ہے۔ تاریخ انسانی اس بات کی شاہد  ہے کہ بڑے سے بڑا کام جو طاقت کے بل بو تے پر نہ ہو سکا وہ چاپلوسی کے ذریعہ چند منٹوں میں طے پا گیا ۔ انسان کو خدائی کے دعویٰ کی ترغیب بھی شیطان ہی نے دی، انسانوں کو لڑایا بھی ان ہی چاپلوسیوں نے ، ماضی میں جھانک کر دیکھیں تو بڑے بڑے سر براہان مملکت ہمیں چاپلوسیوں کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں اور سلسلہ آج بھی اسی زور و شور سے جا رہی ہے۔  حالانکہ چاپلوسی

تازہ ترین