تازہ ترین

بجلی کی آنکھ مچولی | عارضی بحران کو دائمی مرض نہ بننے دیں

اگرچہ ہر سال یہ روایت رہی ہے کہ دربارکی منتقلی کے بعد جموں میں بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی بڑھ جاتی ہے اور لوگ شدید گرمیوں میں انتہائی مشکلات کاشکار ہوتے ہیں تاہم اس بار چونکہ سیکریٹریٹ کے بیشتر دفاتر گرمیوں میں بھی کووڈ انیس کی وجہ سے جموں میں کھلے ہیںجبکہ بیشتر بیروکریٹ اور لیفٹنٹ گورنر سے لیکر اُن کے مشیر بھی جموں آتے جاتے رہتے ہیں تو یہ امید کی جارہی تھی کہ شاید اس بار جموں باسیوں کو بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی سے نجات مل جائے گی لیکن یہ امیدیں بھر نہ آئیں اور بجلی کٹوتی اپنی انتہا پر ہے۔جموں میں بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی کا یہ عالم ہے کہ اکثرو بیشتر گرمی کی وجہ سے بچے بلکنے لگتے ہیں جبکہ بزرگ بھی پریشان حال رہتے ہیں۔حالانکہ حکومت نے بارہا اعلان کیاہے کہ جموں میں بغیرکٹوتی بجلی کی سپلائی فراہم ہوگی لیکن دور دراز علاقوں کی تودور کی بات، جموں خاص میں بھی ان دنوں بجلی کٹوتی عروج پر ہے ۔

اسوہ ٔابراہیمی ؑ اور مستقبل کی تعمیر | اچھے اعمال ہی انسان کو خدا سے ملاتے ہیں

حضرت ابراہیم ؑ جلیل القدر پیغمبر اور انبیاء کرام میں سے برگزیدہ شخصیت تھے جنہیں تاریخ میں ایک عظیم مقام حاصل ہے ۔وہ داعی حق اور توحید کے ایک عظیم علمبردار تھے ۔انہوں نے نوع ِانسانیت اور تحریک اسلامی کو اپنے نقوش اور کردار سے منور کیا ۔ حضرت ابراہیمؑ کی پوری زندگی قربانیوں اور داعیانہ کردار سے پُر تھی ۔ وہ زندگی کے ہر موڑ پر دعوتی سرگرمیوں (Dawah-Activism)میں متحرک تھے ۔وہ ایک عظیم قائد تھے ، ان کی قیادت میں نوعِ نسانیت کو ہر لحاظ سے فیض پہنچا ۔وہ حقیقی معنوں میں ایک عالمگیر رہنما  تھے ، ان کی رہنمائی میں عالم انسانیت نے پھرسے اللہ کے ساتھ رشتہ استوار کیا ۔وہ نوع انسانیت کے حقیقی بہی خواہ تھے۔قرآن مجید نے جس مطلوبہ قائد کا تصور پیش کیا ، اس کی ایک اعلیٰ مثال حضرت ابراہیم کی شخصیت ہیں ۔وہ ایک بے لوث اور بے باک قائد تھے، ان کی قیادت کسی طبقہ،مسلک ، قوم یا علاقہ کے لئے نہ تھی ، وہ قو

عبد الکلام اور ایک ہندوستانی مسلمان کی زندگی | اے پی جے عبدالکلام کی چھٹی برسی کے موقع پر خراج عقیدت

یہ 2002 کا موسم سرما تھا۔ میں دسویں جماعت میں تھا اور اسکول کی کوئز ٹیم کے حصے کے طور پر کوئز میں حصہ لے رہا تھا۔ کوئز کے پہلے دور میں ایک سادہ سا سوال۔ اے پی جی عبد الکلام کا پورا نام کیا ہے؟۔ یہ میرے لئے آسان تھا لیکن بالکل عام نہیں تھا۔ ایک ہندوستانی مسلمان کی حیثیت سے، اس سوال نے مجھ میں اعتماد، ہمت اور جذبے کو جنم دیا۔ آج کی نسل شاید اس کو سمجھ نہیں سکتی ہے یا اگر میں یہ کہوں تو، پرانے لوگ بھی شاید یہ بھول گئے ہیں کہ ہندوستان کے ایک 14 سالہ مسلمان بچے کی زندگی میں بھارت رتن ابول پاکر زین العابدین عبدالکلام کی کیا اہمیت تھی۔ اترپردیش کے ایک چھوٹے سے شہر مظفر نگر میں رہنے والے ایک ہندوستانی مسلمان بچے نے اچانک 11 ستمبر 2011 کے بعد خود سے بہت سارے سوالات پوچھنا شروع کردیئے۔ ٹی وی پر، افغانستان کی تصاویر، بامیان کے مجسمے ، ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ اور امریکہ کی 'دہشت

تازہ ترین