تازہ ترین

غفلت سے بیدار ہوجا اے مسلمان | حال میں ذرا اپنی صورتِ حال تو دیکھ

انسانوں کے جو بھی مسائل ہوں چاہے وہ انفرادی ہوں یا اجتماعی ایک طرف مذہب اسلام نے اس کا سب سے بہتر حل پیش کیا ہے تو دوسری طرف حل تلاش کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے دل ودماغ عطا کیا ہے ۔جہاں تک مسلمانوں کا مسئلہ ہے تو ربّ کے قرآن اور نبیؐ کے فرمان پر عمل کے بغیر کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی ۔اسلام کی تعلیمات نے لوگوں کو ربّ کی بندگی کرنے اور انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ و رسولؐ کی غلامی کا احسن طریقہ بتایا ہے اور اسی پر عمل پیرا ہونا دونوں جہاں میں سرخروئی و کامیابی کی ضمانت ہے اور جو لوگ اس پر عمل پیرا ہیں وہ دونوں جہاں میں کامیاب ہیں۔ آج دنیا کی حرص اور ایک دوسرے پر دنیاوی سبقت حاصل کرنے کی دوڑ میں ہم اطیعو اللہ و اطیعو الرسول سے بہت دور ہوچکے ہیں اور دنیا کی کامیابی کو ہم نے اصل کامیابی سمجھ لیا ہے جبکہ دین کی خدمت کو چھوڑ کر، اسلام کی تعلیمات سے دور رہ کر ہم کبھی کامیاب ہوہی نہیں سکتے

ہمت ِمرداں | نوجوان محنت اور ہمت سے کام لیکر اپنے آپ پر یقین کرنا سیکھیں

پوری دنیا کے ساتھ ساتھ کشمیر کے متوسط گھرانوں کی اقتصادی حالت گذشتہ تین برس سے دگرگوں بنی ہوئی ہے۔ ایک طرف مہنگائی کا ا ژدہاپھن پھیلائے ہے اور دوسری طرف یہاںپرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے افراد کی کمائی میں مسلسل کمی واقع ہورہی ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ ہمارے یہاںپرائیویٹ سیکٹر نام کی چیز کبھی موجود تھی ہی نہیں بلکہ جس کو پرائیویٹ سیکٹر کہا جاتا ہے وہ چند سرمایہ داروں کی ذاتی جاگیریں تھیں اور وہ بھی اب معلوم اور نا معلوم وجوہات کی بنا پر اپنی سرگرمیوں کو محدود کئے ہوئے ہیں۔ان اداروں میں کام کرنے والوں کو کبھی انکی نوکری کا تحفظ حاصل نہیں تھا۔اب کیا مزدور اور کیا ہنر مند، 2019سے کشمیر میںنجی سیکٹر سے وابستہ ہر شخص حالات کی مار جھیل رہا ہے یہاں تک کہ اس سیکٹر کے مالکان یا سرمایہ کاروں کا حال سہما سہما ہے اور وہ جانے انجانے ایسے فیصلے لے رہے ہیں جن سے لگتا ہے کہ آنے والے وقت میں وہ غیر مقا

گجر بکروال خانہ بدوش قبائل | آو بتائیں تجھے کیسے جیتےہیں یہ لوگ

بلا شبہ گجر بکروال خانہ بدوش قبائل پسماندہ طبقہ میں شامل ہےاورآئین ِ ہند کی دفعہ 340 کی رو سے پسماندہ طبقوں کی فلاح وبہبود کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہےتاکہ اُن کی زندگی میں درپیش مصائب و مسائل کا کسی حد تک ازالہ ہوسکےاور انہیں بھی وہ بنیادی ضروریات مہیا ہوںکہ وہ بھی عام لوگوں کی طرح زندگی گزار سکیں۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ہر دور کی سیاسی پارٹیاں ہمیشہ ان خانہ بدوش قبائل کو محض ووٹ بینک کے طورپر استعمال کرتے رہے اوراِن کی باز آبادکاری یا راحت کاری کے لئے  کوئی کام نہیں کیا۔ہندوستان میں پہلا ’’پسماندہ طبقات کمیشن‘‘29 جنوری 1953ء کو صدارتی حکمنامے کے تحت ’’کاکا کیلکر‘‘ کی قیادت میں قائم ہوا تھا۔ جس نے 30 مارچ 1955ء کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی، جس میں 2399 پسماندہ طبقات،قوموں، قبائل یا برادریوں پر ایک مکمل رپورٹ درج کی گئ

بچوں سے پیار کیجیے لیکن رہے خیال

ایک بار میں اپنے ایک ایسے دوست کے یہاں کچھ دنوں کے لیے مقیم تھا جو بنیادی طور پربے حد شریف، پڑھے لکھے اور دیندار انسان ہیں،ان کے گھر کے دیگر افراد بھی سلجھے ہوئے اور سنجیدہ مزاج ہیں۔ ان کے یہاں قیام کو یہی کوئی دو تین روز ہی گزرے ہوں گے کہ میں نے ان کی مصروفیت اور ضرورت کے پیشِ نظر ان سے ایک روز کہا: آپ ایک بائک لے لیجیے، اس سے آپ کا بہت سارا کام آسان ہوجائے گا، کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ مسلسل بھاگ دوڑ میں رہتے ہیں۔ سماجی، فلاحی اور تجارتی ضرورتیں ہرپل آپ سے لپٹی رہتی ہیں، اسی لیے بلاتاخیر موڈ بنائیے، ان شااللہ میں بھی ساتھ رہوں گا،کسی طرح کی کوئی دقت نہیں ہوگی۔ میرے دوست کو بروقت یہ بات سمجھ میں آگئی، بالآخر کچھ دنوں بعد چمکتی ہوئی بائک ان کے دروازے تک پہونچ گئی، پھر کیا تھا، ضرورتوں کی رفتار بڑھ گئی اور ان کی روز مرّہ کی زندگی میں بھی ایک طرح سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ چمک

نوجوانوں کی معاشرتی علوم سے دوری کیوں؟ | روشن مستقبل کے لئے متحرک ہونے کی ضرورت

ملک و ملت کی معاشی ترقی اور خوشحالی میں نوجوانوں کا کردار ہر اول دستے کا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملت و معاشرے کا نوجوان علمی میدان میں کسی سے پیچھے نہیں۔ اس تحریر کے ذریعے میں ہمارے معاشرے میں سوشل سائنسز (معاشرتی علوم ) کی اہمیت اور اس سے منسلک نوجوانوں کا مستقبل بہت اہم ہے۔ سماجی علوم کا تعلق دراصل معاشرے کے سماجی رویوں اور ثقافتی پہلوؤں سے ہے۔  دنیا کے مختلف ممالک کی تاریخ ، قومی اور بین الاقوامی پسِ منظر میں سیاسی تعلقات، ملکی اور سماجی معیشت اور انسانی رویوں کے بارے میں سیکھنے کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ اگرچہ سائنس و ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی بہت اہمیت کے حامل موضوعات ہیں اور ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ میٹرک یا انٹر کے بعد ان ہی میں سے کسی فیلڈ کا چناؤ کرے، تاہم اگر غور کیا جائے تو معاشرتی علوم کی اہمیت و افادیت اس قدر ہے کہ فرسٹ ورلڈ کے ممالک اس کی تعلیم و ت

تازہ ترین