تازہ ترین

نوجوان نسل غلط راستو ں پر رواں دواں | گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

ہم نوجوانو ں کو یہ دنیا بہت پیاری لگتی ہے ۔دنیا والے ہمیں بہت عزیز ہیں ،دنیا کے دھندے ، رنگینیاں ،رونقیں ،رشتے ناتے سب بہت دل لبھانے والے ہیں مگر یہ دنیا اپنی تمام تر خوب صورتی کے باوجود قابلِ محبت نہیں ہے ۔یہ نہایت فریب کے ساتھ عروج وزوال کے کھیل کھیلتی ہے ۔یہ بے وفا کبھی کسی ایک کی نہ ہو سکی ،دنیا کی حقیقیت قرآن کے  نزدیک فقط اتنی ہے ،’’یہ دنیا کی زندگی چند روزہ فائدہ اٹھانے کی چیز ہے اور جو آخرت ہے وہی ہمیشہ رہنے والی ہے‘‘ ۔ اگر ہم دنیا کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو پتہ چلے گا کہ یہ زندگی کھیل تماشے کی جگہ نہیں ہے ،یہ وقت جو بغیر کسی وقفے کے گزرتا ہے ،یہ لمحے جو پل پل میں ختم ہو رہے ہیں ،یہ سانسیں جو لمحہ بہ لمحہ کم ہو رہی ہیں ،اگر ان کی حیثیت کو نظر میں رکھیں تو یہ تسلیم کرنے میں عار نہ ہو گی کہ زندگی کی قدر کرنی چاہیے ۔ اس زندگی کا وقت بھی انتہائی مخ

! مطالعہ کیسے کریں......؟ | مصنف کی تحریرذاتی تجربہ و مشاہدہ کے مطابق ہوتی ہے

کسی بھی تحریر یا تصنیف میں مصنف کے اپنے ذاتی خیالات ہوتے ہیں جو وہ مختلف حالات و واقعات سے اخذ کر کے سپرد قلم کرتا ہے۔ سپرد قلم کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جو تجربات و مشاہدات ایک مصنف اپنی تصنیف یا تحریر میں پیش کرتا ہے، وہ تجربات لوگوں تک پہنچ جائیں اور لوگ ان سے فائدہ حاصل کر سکیں۔مصنف جو کچھ لکھتا ہے ضروری نہیں وہ خیالات قاری کے ذہن میں ہوںاور کبھی کبھی ان خیالات سے قاری کا دور کا واسطہ بھی نہیں ہوتا کیوں کہ یہ ایک مصنف ہی ہے جو چھوٹی سی چھوٹی بات پر سوچ کر کچھ نیا اخذ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور پھر کامیاب بھی ہوجاتا ہے۔ اب جب ہم ان تحریروں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ناتجربی میں یعنی یہ جانے بغیر کہ مطالعہ کیسے کرتے ہیں، ہم کئی غلطیاں کرتے ہیں ،جن کی وجہ سے ہم مصنف کے اصل مقصد تک پہنچ نہیں پاتے۔ جو مقصد مصنف کے ذہن میں ہوتا ہے، اُن تجربات کو حاصل کرنے یا سمجھنے کے بجائے ہمارے ذہنوں میں

! طلاب میں مقصد تعلیم کا فقدان | قوم کے لئے تاریکی کا سبب

کسی بھی دور میں میں علم کی افادیت اور روحانیت سے انحراف نہیں کیا جاسکتا اور تعلیم ہمیشہ اس سماج کی زندہ دلی کا ثبوت دیتی ہے جہاں پہ تعلیم یافتہ نوجوان ہوں۔ تعلیم کے معنی اور اہمیت سے تو ہم سب لوگ واقف ہیں ہے۔ بچپن سے اب تک پڑھتے آ رہے ہیں کہ اصل میں تعلیم کا معنی کیا ہے ،اس کی اہمیت کیا ہے؟ اور اگر ہر کسی سماج  میںتو تعلیم ایک منفرد اور اعلی مقام رکھتی ہے۔ لیکن جو بات موجودہ سماج میں قابل لب کشائی اور قابل غور ہے تو وہ تعلیم کا مقصد ہے۔ تعلیم کے مقصد کے بارے میں کسی بھی جگہ بات نہیں ہو رہی ہے ، وہ ہمارے گھر کی چار دیواری ہو ، سماج کے مختلف شعبہ جات ہو یا ہمارے دنیاوی اور دینی درسگاہیں ہوں ، تعلیم کے اصل مقصد کا فقدان ہر جگہ نظر آرہا ہے۔ موجودہ دور میںکہیں بھی کوئی ایسا فرد نہیں مل پائے گا جو تعلیم حاصل کرنے سے انکار کرتا ہو ، خاص کر وہ قوم و ملت جس کے نبوت کا سلسلہ، جس کی وحی کا

تعلیم کا مقصدانسانی ذہن کی تشکیل | تعلیمی اداروں کو کھولنے میں انتظامیہ عاری کیوں؟

سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا۔۔(علامہ اقبال) اگر کامیابی کا راز کسی چیز میں پوشیدہ ہے تو وہ تعلیم اور علم حاصل کرنے میں ہے۔ پھر چاہے وہ دنیاوی کامیابی ہو یا دینی کامیابی، اس بات کا اعتراف تقریباً دنیا کا ہر ایک ذی شعور انسان کرتا ہے کہ ایک لاعلم اور اَن پڑھ انسان کو دنیا ایک نامکمل انسان سمجھتا ہے۔  اس انسان سے دنیا ویسا ہی سلوک کرتا ہے جیسے ایک گدھے کے ساتھ کیا جاتا ہے، غرض دنیا اس انسان کو بہت ہی چھوٹی نظر سے دیکھتا ہے۔  اگر بات ہم اپنے مذہب یعنی دین اسلام (جو کہ زندگی بسر کرنے کا بہترین اور مکمل طریقہ ہے) کی کرے تو اسلام میں تعلیم اور علم حاصل کرنے میں سخت طور پر تاکید و تلقین کیا گیا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنا جو پہلا پیغام و حکم اپنے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ

نوجوانوں کے سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے فوائید

کسی بھی قسم کی مثبت سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا نوجوانوں کو کافی فائدہ ہوتا ہے۔ والدین بھی اس حوالے سے بہت زیادہ سوچتے ہیں کہ انھیں اپنے بچوں کے لیے ایسے کیا کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بڑے ہوکر ترقی کریں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جب نوعمر افراد اپنی کمیونٹیز میں بامعنی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں تو وہ ترقی کی منازل طے کرتے ہیں۔جیسے جیسے بچے بڑے ہوتے ہیں وہ اپنے دوستوں، خاندان، کمیونٹی اور معاشرے کو زیادہ معنی خیز طریقوں سے جذباتی اور عملی مدد فراہم کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ حسن سلوک اور معاونت کرنے والا رویہ دراصل بچپن سے ہی فروغ پاتا ہے۔ نوعمری میں نوجوانوں کے خیالات اور سوچ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں آتی ہیں، ساتھ ہی ان کی جسمانی، علمی اور جذباتی صلاحیتیں یکجا ہوجاتی ہیں، جن کی بدولت وہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کو حقیقی فوائد پہنچانے میں اپن

غبارِحیات ۔دشت نوردئ ایام کی یادوں کا سنہرا مرقع

عربی کے معروف صحافی، ادیب، عربی ادبیات پر موسوعاتی گرفت رکھنے والے مؤرخ، ژرف نگاہ نقاد اور کئی یورپی زبانوں کے ماہر اور دسیوں مقبول عام کتابوں کے مصنف ڈاکٹر عمر فروخ کی خودنوشت سوانح کا خوبصورت ترجمہ موصول ہوا اور بقول فیض ایسا محسوس ہواجیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے۔ماہ اپریل میں جب وبا کی شدت، دہشت اور زندگی کی تمام اعلانیہ سرگرمیوں کی تالا بندی کے حکومتی فیصلے نے گھر کے نہاں خانہ میں پناہ گزین بنا دیا تھا۔ ایسے میں عمر فروخ کی آپ بیتی، زندگی کے تپتے ہوئے صحراء میں باد نسیم کی طرح فرحت بخش بن کر آئی۔ عمر فروخ اپنی متوازن شخصیت مضبوط کردار اور فکری خود مختاری کی بنا پر میرے انتہائی پسندیدہ ادباء میں سے ہے۔ اس کی خودنوشت کو اردو کے حسین قالب میں ڈھالنے والے ڈاکٹر شمس کمال انجم کا ارسال کردہ تحفہ جوں ہی موصول ہوا میں اس کی سرسری ورق گردانی میں لگ گیا۔ ارادہ تھا کہ اس کتاب کو

تازہ ترین