تازہ ترین

بچہ مزدوری معاشرے پر بدنما داغ

بچہ بچہ ہی ہوتاہے۔چاہے وہ امیر کا ہویاپھر کسی غریب کے گھر میں جنم لیا ہو۔پیداکرنے والے نے اس کے ساتھ کوئی بھید بھاؤ نہیں کیا۔جسم کے تمام اعضاء ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔بس فرق اتنا کہ کوئی بچہ غریب کے گھر پیداہوااور کوئی صاحب مال کے گھر پیداہوا۔لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے بلکہ دکھائی بھی دے رہا ہےکہ یہاں مال ودولترکھنے والےلوگ غریبوں کے بچوں کو غلامی میں ہی دیکھنا پسند کرتے ہیںاور صرف اپنے ہی بچوں کے مستقبل کو تابناک بنانے کی فکر میں لگ چکے ہیںاور اس لئے وہ کچھ بھی کرنے کو تیار رہتےہیں،یہاں تک کہ وہ حق و ناحق ،جائز و ناجائز،ہلال و حرام میں بھی کوئی فرق نہیں کرتے ہیں۔گوکہ یہ سلسلہ دنیاپر آنے کے بعد دنیامیں شروع ہوجاتاہے۔اس وقت دنیا بھر میں کروڑوں بچے، بچہ مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔بچہ مزدوری کا یہ سلسلہ گھریلو کام کاج سے لیکر ہوٹل،لاجز،فیکٹریوں، وغیرہ تک جاری و ساری ہے۔ بچوں کے حقوق کی پاسداری م

بڑھتے سڑک حادثات، وجوہات اور سدِ باب

آمد ورفت کے جدید وسائل نے انسانی زندگی کے سفر کو آسان سے آسان تر بنایا ہے۔ایک زمانہ تھا جب انسان ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے پیدل سفر کرتا تھا ۔وہیں موجودہ دور کے جدید وسائل کی بدولت انسان مہینوں کا سفر گھنٹوں بلکہ منٹوں میں طے کرتا ہے ۔لوگ ہوائی جہاز، ریل، وغیرہ سے بڑی آسانی سے زیادہ سے زیادہ مسافت کو بھی بڑی آسانی اور بہت کم وقت میں طے کرتے ہیں ۔اتنا ہی نہیں ایک عام آدمی کے پاس اپنی گاڑی ہے، جسے چلانے کے لئے سرکار نے صاف ستھری سڑکیں تعمیر کیں ہیں۔لیکن ان سڑکوں پر چلنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر اپنانے کی سخت ضرورت ہے مگر بدقسمتی سے کچھ لوگ ان احتیاطی تدابیر کا خیال نہیں رکھتے ہیں جس وجہ سے انسان اپنے ساتھ دوسروں کے لیے بھی مصیبت کھڑی کر دیتا ہے ۔آئے روز سڑک حادثات کی ایسی خبریں سننے کو مل رہی ہیں کہ دل دہل جاتا ہے۔ ان حادثات میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں انسانی جانیں تلف ہوتی ہی

کیا ہم چوتھے صنعتی انقلاب کیلئے تیار ہیں ؟

گزشتہ صدی کے اوائل میں زندگی بہت سادہ تھی۔ اس وقت کے جدید اور خوش حال گھرانوں میں مرفی یا فلپس کا گراموفون ہوا کرتا تھا، جس پر ماسٹرز وائس (ایچ ایم وی) کے ریکارڈ سُنے جاتے تھے۔ بھاپ کے انجن سے چلنے والی ٹرینیں سفر کا عام ذریعہ ہوا کرتی تھیں۔ بستیاں بجلی سے محروم تھیں۔ نصف صدی قبل تک سڑکوں پر اِکّا دُکّا کاریں اور موٹر سائیکلیں نظر آتی تھیں۔ تار، تیز ترین ذریعۂ پیغام رسانی ہوا کرتا تھا۔21ویں صدی شروع ہوتے ہی ٹیکنالوجی میں تیزی سے ترقی دیکھنے میں آئی۔ کمپیوٹر نے دنیا بھر میں دھوم مچا دی اور انسانی زندگی کے ہر شعبے پر چھا گیا۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس وقت ہم ٹیکنالوجی کے ایک نئے انقلاب کے دہانے پر کھڑے ہیں، جو ہمارے معیارِ زندگی، تصورِ خودی، ثقافت، معیشت اور سیاست سمیت زندگی کے ہر پہلو کو بدل رہا ہے۔ معیشت کی زبان میں ہم چوتھے صنعتی انقلاب میں داخل ہوچکے ہیں۔پہلا صنعتی انقلاب اَٹھا

زمین کی سیر کرو

سیروا فی الارض زمین پر چلو ۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن پاک میں متعدد جگہوں پر ارشاد فرمایا: زمین پر چلو سیر و سیاحت کرو تاکہ اس کی قدرت کا مشاہدہ کر سکو ،زمین کی دلکشی، رنگ برنگے کلیاں، خوش نما فضائیں، حسین وادیاں جب تمہارے دل و دماغ کو جھنجھوڑ دے اور تمہاری عقلیں کام کرنا بند کر دیں اور تم سوچنے پر مجبور ہو جاؤ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کیسے ان سب چیزوں کو پیدا فرمایا، تو اس کا شکر بجا لاؤ۔ موجودہ دور میں سفر کرنا نہایت آسان اور آرام دہ ہے۔ ابھی ایشیا میں چائے کی چسکی لی تو یورپ میں لذیذ کھانوں سے شکم سیر ہو رہے ہیں۔ ایک ملک سے دوسرے ملک میں جانا، لمبی لمبی مسافت طے کرنا اب بس چند گھنٹوں کا کام ہے، وہ بھی بڑی آسانی اور پر لطف انداز میں، لیکن پہلے ایسا نہیں تھا ۔ایک شہر سے دوسرے شہر جانا بھی کافی دشوار تھا، سخت ترین جنگلوں پر پیچ راہوں کو طے کرنا، جس میں جانوروں کے ساتھ ڈاکوؤں

یہ دُنیا کھیل تماشہ ہے!

یہ حقیقت بھی خواب ہے شاید تِشنگی  بھی  سراب  ہے  شاید  سخت دھوپ اور سورج کی برستی تمازت میں دور کسی ریگستان کی ریت پر پانی کا گمان ہونا جیسے اس ریگستان میں کوئی چشمہ پھوٹ پڑا ہو ، لیکن اگر کوئی پیاسا ، پانی کا متلاشی اپنی رگیں تر کرنے کے ارادے سے اُس چشمے کی طرف سرپٹ دوڑے تو وہ چشمہ کسی ریت کے ڈھیر کی طرح پھسلتا چلا جائے اور انجام یہ ہو کہ ایک پیاسا شدتِ پیاس سے مرغِ بسمل بن جائے، اس اضطرابی حالت کو سراب کہتے ہیں ۔ سراب کنایہ کے طور پر دھوکا اور فریب کےلیے بھی استعمال ہوتا ہے، بالکل اسی طرح یہ دُنیا بھی عارضی اور سراب کی مانند ہے۔ خیال ہے یا خواب ہے یہ زندگی سراب ہے ریت کا سمندر ہے جو سامنے چناب ہے کانٹوں سے لہو رنگ یہ سُرخئ گلاب ہے    دُنیا کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ ’’ میں تم

نوجوان سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیں

کسی بھی قسم کی مثبت سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا نوجوانوں کو کافی فائدہ ہوتا ہے۔ والدین بھی اس حوالے سے بہت زیادہ سوچتے ہیں کہ انھیں اپنے بچوں کے لیے ایسے کیا کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بڑے ہوکر ترقی کریں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جب نوعمر افراد اپنی کمیونٹیز میں بامعنی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں تو وہ ترقی کی منازل طے کرتے ہیں۔جیسے جیسے بچے بڑے ہوتے ہیں وہ اپنے دوستوں، خاندان، کمیونٹی اور معاشرے کو زیادہ معنی خیز طریقوں سے جذباتی اور عملی مدد فراہم کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ حسن سلوک اور معاونت کرنے والا رویہ دراصل بچپن سے ہی فروغ پاتا ہے۔ نوعمری میں نوجوانوں کے خیالات اور سوچ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں آتی ہیں، ساتھ ہی ان کی جسمانی، علمی اور جذباتی صلاحیتیں یکجا ہوجاتی ہیں، جن کی بدولت وہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کو حقیقی فوائد پہنچانے میں اپن

علامہ شبلی نعمانی کامذہبی فہم

علامہ شبلیؔ ایک نابغہ تھے۔ان کی شخصیت ہمہ جہت تھی۔ وہ بڑی خوبصورتی اورنزاکت سے اپنے مقصد کواس طرح پیش کرتے ہیں کہ زبان میں مولویانہ یاواعظانہ انداز پیدا نہیں ہوتا بلکہ ان کامحققانہ انداز برابر باقی رہتاہے ۔ مولاناکے قلم میں ایک توازن ہے۔ وہ اپنوںکے بارے میں لکھ رہے ہوں یامغربی مستشرقین کے بارے میں،کسی اعتراض کاجواب دے رہے ہوں یااس پرخود اعتراض کررہے ہوں، وہ اعتدال کادامن ہاتھ سے نہیںجانے دیتے۔ ان کے ’مقالات‘ میںسنجیدگی اوررکھ رکھاؤ برابرنظرآتاہے اورکہیں جذباتی ہوئے نہیںنظرآتے بلکہ جوکچھ کہتے ،بڑے اعتماد ،وثوق اورتحقیق کے ساتھ ہی کہتے ہیں۔ مقالات کی پہلی جلد’مذہبی معاملات ‘پرمشتمل ہے۔ان مقالات میںکچھ تو ایسے ہیں، جن میںیورپ کے مستشرقین کے اعتراضات کاجواب دیا گیا ہے اورکچھ ایسے مقالات بھی ہیں جن میںاپنوںکی بعض غلط فہمیوں کے ازالہ کی کوشش کی گئی ہے ۔ ’

آج کاکسان اور انصاف کا تقاضا

لکھیم پور میں کسان کشی سانحہ کے بعد حکومتی عہدیداروں اور بی جے پی لیڈروںکی تقاریر اور بیانات اس بات کا بھرپور خلاصہ کررہی ہیں کہ مرکزی سرکارکسانوں کے تئیں اپنے موقف پر بدستور قائم ہےاور کسی بات پر سمجھوتہ کرنے کی موڈ میں نہیںہے۔بیشتر عوامی حلقےکسانوں کے مطالبات کی اَن دیکھی اور ان کے خلاف سرکار کا رویہ کو حیرت ناک قرار دے رہے ہیںکیونکہ سرکاریں لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے وجود میں آتی ہیں ،عوام کے دُکھ درد دور کرنے کے لئے اقدامات اٹھاتی ہیںاور انہیں درکار بنیادی ضروریات کی حصولیابی کے کئے سہولیات فراہم کرتی ہیں، اُن کی خوشحالی اور ترقی کے لئے منصوبے بناتی ہیںاور اُن کی بھلائی کے لئے حکمت ِ عملیاں ترتیب دیتی ہیں۔ مگر جب سے موجودہ مرکزی سرکار اقتدار میں آئی ہے عوام کے مسائل کم ہونے کے بجائے دن بہ دن بڑھتے ہی جارہے ہیں ۔مختلف معاملوں میںاُن کی پریشانیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہےجبکہ مہنگائ

تعلیم کی اقسام، درجہ بندی اور خصوصیات

تعلیم ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعہ علم، مہارت، اقدار یا رویوں کے علم کے حصول کو آسان بنایا جاتا ہے۔ تعلیم مختلف سیاق و سباق میں پائی جاتی ہے، اسے مختلف شکلوں میں پیش کیا جاسکتا ہے اور یہ مشمولات میں بھی مختلف ہوسکتی ہے ، لیکن مقصد ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے۔ تعلیم کی اقسام:    اگرچہ تعلیم ایک آفاقی تصور ہے، لیکن باقاعدہ تعلیم ایک ملک سے دوسرے ملک میں مختلف ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ ، ہر ثقافتی سیاق و سباق تعلیم کی راہ میں فرق پیدا کرتا ہے ۔ تعلیم رسمی اور غیررسمی انداز میں دی جاسکتی ہے۔ رسمی تعلیم :  رسمی تعلیم باقاعدہ تعلیم ہے۔ یہ تعلیمی مراکز میں پڑھائی جاتی ہے اور اس کی تین نمایاں خصوصیات ہوتی ہیں: رسمی تعلیم منظم انداز میں دی جاتی ہے، یہ ارادی طور پر دی جاتی ہے اور اس کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔رسمی تعلیم کو قانون کے ذریعہ باقاعدہ بنایا جاتا ہے۔ تعلیمی ایکٹ کے

موبائل فونوں کی بھرمار اور ہمارا معاشرہ

آج کے زمانے میں موبائل فون کے مضمرات،بُرے اثرات یا نقصانات کے بارے میں نکتہ چینی کرنا باعث ِشرمندگی ہی تصور کیا جائے گا،جس کی بڑی وجہ یا یوں کہیئےکہ سیدھی سادھی وجہ، موجودہ زمانے میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی مضبوط پکڑ ہے۔ پتھر کے زمانے سےآج تک انسان نے ہی انسانوں کی بھلائی اور بُربادی کے لئےکارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں۔ اپنی ذہنی توانائیوں کے ذریعے قدرتی وسایل کو بروئے کار لاکربے شمار ایجادات کئے ہیں اور مختلف ایجادات کے تحت ایسے انقلابات لائے ہیں کہ جن کی بدولت انسان ترقی کی منزلیںطے کر کے موجودہ زمانے میں قدم رکھ چکا ہے۔ظاہر ہے ہر عروج کا زوال بھی آتا ہے،ہر خوشی کے ساتھ غم بھی ہوتا ہے۔اسی طرح ہرفایدہ مند چیز نقصان دہ بھی بن جاتی ہے۔کسی بھی چیز کے غلط یا بے جا استعمال سے نقصان بھی پہنچتا ہے۔مشاہدہ میں بھی یہی آرہا ہے کہ ہر ترقی کے ساتھ کوئی نہ کوئی خرابی بھی پیدا ہوجاتی ہےاور ہر خر

دینی علوم سے محرومی افسوس ناک امر

علم دین کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ علم دین سے مراد وہ ضروری مسائل ہیں ،جس کا جاننا ہر مسلمان پر لازم و ضروری ہے۔ علم حاصل کرنے کے متعلق قرآن وحدیث میں بہت تاکید آئی ہے اور اس کی اہمیت و فضیلت کو ہمارے نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خوب اُجاگر کیا ہے مگر موجودہ دور میں دینی تعلیم سے نا آشنائی اتنی بڑھ چکی ہے کہ بہت سارے لوگ وضو اور غسل کے فرائض سے بھی نا واقف ہیں جو ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارے لیے کافی شرمناک ہے،اس محرومی کی سب سے بڑی اور اہم وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں والدین کی تربیت کا ڈھنگ بدل چکا ہے ،اب وہ اپنے بچوں کو پہلے انگریزی زبان اور مغربی تہذیب و تمدن سے آشنا کروانا پسند کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ بچپن ہی سے دینی تعلیم سے محروم ہونے کے سبب اسلام اور اس کی تعلیمات سے بہت دور ہو چکے ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ حرام و حلال کی تمیز بھی نہیں کر پاتے، جس کے ذمہ دار

گلاسگو ماحولیاتی کانفرنس۔مطالبات و توقعات

ماحولیاتی تبدیلی پر گلاسگو کانفرنس ایک سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے اگر ترقی یافتہ ممالک اپنی نقصاندہ گیسوں کے اخراج کو کم کرنے اور ماحولیاتی تبدیلی کو کم کرنے کے لیے ترقی پذیر اور غریب ممالک کی مدد کرنے کے لیے گلاسگو میں کسی پرعزم نظام کو قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔عالمی پیمانے پر ماحولیاتی تبدیلی سے رونما ہونے والے منفی اثرات سے کس طرح نبرد آزما ہوا جائے، اس کے بارے میں کوئی نئی حکمت عملی ترتیب دینے اور اس کے لیے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں طرح کے ملکوں کے نمائندوں کی تجاویز پر غور کرنے اور انھیں کوئی عملی جامہ پہنانے کے لیے اور گزشتہ اہداف کو ناپانے کے تئیں غوروغوض کرنے کے لیے تقریباً 190ملکوں کے سربراہان 31؍اکتوبر سے 12نومبر تک اقوامِ متحدہ کی زیرِ قیادت اور برطانیہ کی زیر میزبانی برطانیہ کے گلاسگو شہر میں جمع ہوں گے۔ CoP-26 (Conference of Parties -26) نام سے جانے والے ان اجلاس

حرام کو حلال سمجھنے کا رُجحان

جب کوئی گناہ عام ہو جائے تو اس کی نفرت دلوں سے نکل جاتی ہے اور جب کسی گناہ کی نفرت دل سے نکل جائے تو کسی کو اس گناہ میں مبتلا کرنے کے لئے شیطان کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی اور جب اس گناہ کی نفرت بھی دل میں نہیں ہوتی تو توبہ کی توفیق مشکل ہو جاتی ہے۔ تصویر کشی کا بھی یہی معاملہ ہے کہ جاندار کی تصویر بنانا، چاہے کسی بھی آلہ (چھنی ہتوڑی، قلم، کیمرہ) سے ہو حرام ہے۔ لیکن آج کل دیندار لوگ بھی کئی حیلہ سازیوں سے اس گناہ میں مبتلا ہو رہے ہیں، جو نہایت ہی افسوس ناک ہے۔ اُمت ِ مسلمہ آج جن حرام اعمال میں مبتلا ہے، ان میں سے ایک ''تصویر کشی ''بھی ہے۔ اس بدترین شوق نے اُمت ِ مسلمہ کی روحانیت پر زبردست حملہ کیا ہوا ہے، یہاں تک کہ عظیم ترین علمی ہستیاں بھی اس میں بری طرح ملوث ہیں۔بلکہ سچ کہوں تو علما کی وجہ سے تصویر کشی کا گناہ عوام کی نظر میں اب گناہ بھی نہیں رہا-لوگ دھڑادھڑ سے ف

کباب کلچر کتاب کلچر کو نگل رہا ہے

اس کالم کی تحریک دو کالموں سے ملی ہے۔ ایک کالم ہندوستانی ہے اور دوسرا پاکستانی۔ ہندوستانی کالم نگار شاہد لطیف ہیں جو روزنامہ انقلاب ممبئی کے ایڈیٹر ہیں۔ دوسرے کالم نگار حسن نثار ہیں جو پاکستان کے معروف دانشور، صحافی اور قلمکار ہیں۔ دونوں میرے پسندیدہ رائٹر ہیں۔ میں ان کے کالموں سے بہت کچھ سیکھتا اور اپنے اندرون کو روشن کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ایڈیٹر انقلاب کا کالم 16؍ اکتوبر کو روزنامہ انقلاب میں شائع ہوا جبکہ دوسرا کالم 18؍ اکتوبر کو روزنامہ جنگ کراچی میں شائع ہوا ہے۔ اول الذکر کا عنوان ہے ’’دل کی طرف حجاب تکلف اٹھا کے دیکھ‘‘۔ ثانی الذکر کا عنوان ہے ’’سائبان تحریک: کتابیں پڑھیں خرید کر پڑھیں‘‘۔ دونوں کالموں میں بہت زیادہ تو نہیں لیکن کسی حد تک مماثلت ضرور ہے۔ البتہ دونوں کا درد ’’دردِ مشترک‘‘ ہے۔ اول الذکر کالم میں

سورج اور زمین - کون متحرک کون ساکن ؟

ایک نا ایک دن فناہوجانے والے اس کائنات میں اللہ ربّ العزت کی تخلیق کے مظاہر بے شمار ہیں۔ اَجرامِ سماوِی اور ان مجموعہ ہائے نجوم کی بے شمار موجودگی کائنات کے حسن کو نکھارتے ہوئے اُسے ایک خاص انداز میں متوازن رکھتی ہے۔توازن ہی کائنات کا حقیقی حسن ہے، جس کے باعث مادّہ  (Matter)  اور ضدِمادّہ  (Antimatter)  پر مشتمل کروڑوں اربوں کہکشاؤں کے مجموعے  (Clusters) بغیر کسی حادثہ کے کائنات کے مرکز کے گرد محوِ گردش ہیں۔ ان کلسٹرز میں کہکشاؤں کا ایک عظیم سلسلہ اور ہر کہکشاں میں اربوں ستارے اپنے اپنے نظام پر مشتمل سیاروں کا ایک گروہ لئے کُنْ فَیَکُوْن کی تفسیر کے طور پر خالقِ کائنات کے اوّلیں حکم کی تعمیل میں محوِ سفر ہیں۔حرکت اِس کائنات کا سب سے پہلا اُصول ہے۔ حرکت کو ہی اِس کائنات میں حقیقی دوام اور ثبات حاصل ہے۔ حرکت زندگی ہے اور سکون موت ہے۔کائنات کے ماڈل کے متعلق کے سائ

معدے کی تیزابیت سے چھٹکارا کیسے ممکن؟

تیزابیت یا ایسیڈیٹی نظام ہاضمہ کے چند بڑے مسائل میں سے ایک ہے، جو بظاہر تو ایک معمولی طبی مسئلہ لگتا ہے، مگر جس شخص کو اس کا سامنا ہوتا ہے، اس کے لیے یہ تجربہ انتہائی ناخوشگوار ثابت ہوتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت اس مسئلہ کے پیش نظربے حد پریشان نظرآتی ہے۔ تیزابیت کی عام وجوہات :  اس کی عام وجوہات میں تناؤ، بہت زیادہ مسالے اور گوشت وغیرہ کا استعمال، تمباکو نوشی، بے وقت کھانے کی عادت، معدے کے مختلف عوارض اور مخصوص ادویات وغیرہ کا استعمال شامل ہے۔ تیزابیت میں مفید غذائیں:    صحت مند طرززندگی کے حصول کے لئے بہتر غذا کا استعمال بہت ضروری ہے۔ایسی غذائیں جن میں ایسڈ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے انھیں کھانے کے بعد ایسیڈیٹی کی شکایت ہونے کااندیشہ رہتاہے۔عموماً وہ افراد جن کی غذائی نالی کمزور یعنی عضلاتی نالی جوحلق سے پیٹ تک جاتی ہے، اس میں مقعد کوبند کرنے والاپٹھاہوتاہے جس کے سکڑنے

کووِڈ۔19سے متاثرہ صحت یاب لوگ | ایک سال بعد بھی دِل کو نقصان پہنچنے کا خطرہ

کووڈ کے شکست دینے کے ایک سال بعد بھی مریضوں کے دل کو نقصان پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے۔ماہرین کی تحقیقی رپورٹوں کے مطابق کووڈ 19 کے مریضوں کے دل کو پہنچنے والا نقصان بیماری کے ابتدائی مراحل تک ہی محدود نہیں بلکہ اسے شکست دینے کے ایک سال بعد بھی ہارٹ فیلیئر اور جان لیوا بلڈ کلاٹس (خون جمنے یا لوتھڑے بننے) کا خطرہ ہوتا ہے۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ویٹرنز افیئرز سینٹ لوئس ہیلتھ کیئر سسٹم کی اس تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ کووڈ 19 کی معمولی شدت کا سامنا کرنے والے افراد (ایسے مریض جن کو ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں پڑی) میں بھی یہ خطرہ ہوتا ہے۔ امراض قلب اور فالج پہلے ہی دنیا بھر میں اموات کی بڑی وجوہات بننے والے امراض ہیں اور کووڈ 19 کے مریضوں میں دل کی جان لیوا پیچیدگیوں کا خطرہ ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ کرسکتا ہے۔محققین نے بتایا کہ کووڈ 19 کے

اچھے اعمال انسان کو خدا سے ملادیتے ہیں

ایک انسان کی فطرت میں یہ بات موجود ہے کہ وہ مستقبل کے حوالے سے فکر مند رہتا ہے اور اس بات کو مدِ نظر رکھ کر وہ مختلف چیزیں جمع کرنے کے چکر میں لگ جاتا ہے۔شاہراہِ زندگی پر سفر کرتے ہوئے اگرچہ اسے نشیب وفراز کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن کامیابی سے ہمکنار ہونے کے لئے وہ ان چیزوں کی پرواہ کئے بغیر اپنا سفر جاری و ساری رکھتا ہے۔مستقبل کا خوف اسے چین سے سونے نہیں دیتا اور حالات پر کڑی نظر رکھ کر وہ وقت سے فائدہ اٹھا کر اپنی ضروریاتِ زندگی جمع کرنے میں ہی اپنی نجات سمجھتا ہے۔مستقبل کے حوالے سے متفکر رہنا انسان ہی میں نہیں بلکہ یہ ہمیں چھوٹے چھوٹے کیڑے مکوڑوں میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے،جن میں سرفہرست ’چیونٹی‘ ہے۔چیونٹی ایک عام معاشرتی مکوڑا ہے،جو تقریباً دنیا کے ہر حصے میں پائی جاتی ہے۔یہ حشرات الارض کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے،چیونٹیوں کا شمار دنیا کے مشقت کرنے والے مخلوقات میں ہوتا ہ

رسول رحمت ؐ۔ لاثانی قائد

ولادت باسعادت پوری عالم انسانیت کےلئے فیض برکت اور مقدس ترین دن ہے ۔پیغمبر آخر الزمان ؐنے اخوت ومحبت کا ایسا معاشرہ قائم کیا جو چشم فلک نے کبھی نہ دیکھا تھا ۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام خدا کے حکم سے مرکز توحید یعنی خانہ کعبہ تعمیر کر رہے تھے تو اس وقت حضرت ابراہیم ؑکے دل سے یہ دعا بے ساختہ نکلی: اے خدا ہماری نسل سے امت مسلم کو اٹھا ،تو اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو شرف قبولیت بخشا اور ڈھائی ہزار سال کے بعد 12ربیع الاول (20اپریل 570عیسوی)بروز سوموار کی وہ مبارک صبح تھی، جب رحمت ِالٰہی کے فیصلے کے مطابق اس باسعادت ہستی یعنی پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں جلوہ افروز ہوئے ۔تقریباً ساٹھ پشتوں کے واسطے سے آپ کا حسب و نسب حضرت اسماعیل بن حضرت ابراہیم علیہما السلام سے مل جاتا ہے۔اس نورِ نبوت نے جب اُجالا شروع کیا ہے تو دنیا طرح طرح کی تاریکیوں اور

بچے ہمارے عہد کے چالاک ہوگئے ہیں

اولاد اللہ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے ۔ہر شادی شدہ جوڑے کی خواہش رہتی ہے کہ اللہ ان کا دامن خوشیوں سے بھر دے اور یہ اس عظیم دولت سے مالا مال ہوجائے ۔اولاد کی خوشی نصیب ہونے کے بعد ہر والدین کی چاہت رہتی ہے کہ ان کا بچہ اچھی اور اعلی تربیت حاصل کرکے زندگی میں بہترین کامیابیاں حاصل کرکے ان کا نام روشن کردے جوکہ واقعی ایک محنت طلب مسئلہ ہے اور حقایق کی روشنی میں اگر دیکھا جاے تو زندگی کی سب سے بہترین انویسٹمنٹ بھی یہی ہے، جس کا اجر وفیض والدین کو بعد از مرگ بھی ملتا رہتا ہے۔ اس تعلق سے کہنا مناسب رہے گا کہ بچوں کی تربیت کرنا ہر دور میں اپنے اپنے تقاضوں کے مطابق دلچسپ عمل رہنے کے ساتھ ساتھ مشکل کام بھی گردانا گیا ہے۔ ہر دور کے اپنے اصول وضوابط طے پائےگئے ہیں۔ اپنی عملی زندگی کے مطابق،پیشہ وارانہ ضرورت نیز سماجی اقدار یا قایم شدہ ویلیوز کی بنیاد پر جہاں زندگی کو مختلف  ادوار میں

تازہ ترین