بیت المقدس… آخری میدانِ کار زار

یہ سر زمین مقدس جس میں اللہ نے اپنی برکتیں رکھی  ہیں ، جہاںکی ارض خاک سے لگ بھگ سارے پیمبر ، اولیاء کرام ا ور بر گزیدہ شخصیات  اللہ کے بندوں کی ہدایت کے لئے مامور رہے ہیں ،اس ارض پاک میں جب حضرت عمر فاروق ؓکے قدم مبارک ۵۴۶ ء میں بحیثیت فاتح کے پڑے تو آپ ؓکی نظریں نیچی۔لب پہ اللہ کی کبریائی۔  آپ کی سواری پر آپ کا غلام اور سواری کی لگام آپ کے ہاتھ میں تھی ،سبحان اللہ ، یہ شانِ فقیری ، اور فاتح بیت المقدس کا عجز و انکسار…اور جب عیسائیوں نے ۹۹۰۱ ء میں بیت المقدس کو فتح کیا تو شہروں کے شہر جلادئے اور بیت المقدس کے احاطہ میں پناہ گزین 70ہزار مسلم مرد ،بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کا قتل عام کیا۔ تاریخ اب بھی محفوظ ہے اور اب بھی نوحہ کناں ہے کہ گھوڑوں کے ٹخنے خون نا حق میں ڈوبے اور اس طرح سے صلیبیوں نے انتقام کی آگ بجھا کر فخر و غرور سے سر اونچا کیا ۔پھر ایک بار صلاح الد

بعد اَزموت

موت تجدیدِمذاقِ زندگی کانام ہے۔موت ایک ایسی مسلّمہ حقیقت ہے جس سے کسی کومفرنہیں۔انسان میدانِ جنگ میںہویامحصورقلعے میں، زمین کی تہوں میں جاچھپے یاآسمان کی وسعتوں میں ڈیرا جمالے، حالتِ امن میں ہویا حالتِ جنگ میں، صحت مندجوانِ رعنا ہو یا بڑھاپے کی سرحدکو پہنچا ہوا کمزور و نحیف ہڈیوںکاڈھانچہ،مقربِ خدابندہ ہویاشیطان کاولی،غرض ہرایک کشاںکشاں اپنے رب سے ملاقات کی اوربڑھ رہاہے: ’تم جہاںبھی ہوگے،موت تمہیںجاپکڑے گی،چاہے تم مضبوط قلعوںمیںکیوںنہ رہ رہے ہو۔‘‘(النساء:۷۸) مولاناروم نے ’مثنوی‘میںکیاخوب لکھاہے  ؎  چوں قضا آمد طبیب ابلہ شود آں دوا درنفع خود گمرہ شود (جب وقت قضاآتاہے توطبیب(ڈاکٹر)بھی بے بس ہوجاتاہے۔نفع دینے والی دوابھی تب بے اثرہوجاتی ہے۔) زمین کی موت کاخوف نہیںبلکہ ہمیںموت کا شعور پیدا کرنا ہے۔ اس دنیامیںانتخاب ہورہاہے

بدلتے حالات میں اُردو تدریس کابدلتا منظر نامہ

کورونا جیسے مہلک مرض کے روز بہ روز پھیلتے دائرے اوراس کے نتیجے کے طور پر گھروں میں قید زندگی کو دیکھتے ہوئے سب کی زبان پر یہی جملے ہیں’’ اب کیا ہوگا؟‘‘ کیا لاک ڈاؤن پوری طرح کھل جائے گا؟ لاک ڈاؤن کھلنے کے بعد کیا ہوگا۔ اس پورے عمل میں جبکہ گذشتہ تین ماہ سے ہرکاروبارِ زندگی بُری طرح متاثر ہے۔ کورونا کے سبب لاک ڈاؤن کا ہونا اور جسمانی دوری کے فارمولے سے بیماری سے مقابلہ کرنے کے نتیجے میں پیدا شدہ تنہائی نے جیسے سارا منظر ہی بدل دیاہے۔ طرز ِ حیات بدل گیاہے۔ اب وہی باقی رہے گا جو وقت کے تقاضے کے مطابق خود کو ڈھال لے گا۔ زبانوں کے سامنے بھی ایسے ہی حالات درپیش ہیں، لیکن زندہ زبانیں ، خستہ سے خستہ حالات میں بھی دوب کی طرح دب دب کر پھر سر ابھارتی ہیں۔ اُردو بے شک زندہ زبان ہے۔ اسی لیے اُردو نے لاک ڈاؤن جیسی صورتحال میں خود کو آن لائن کرکے اپنا وجود ثابت کر دکھ

جدید تعلیم کی بے سود دوڑ

تاریخ شاہد ہے کہ جتنی لوٹ کھسوٹ،  بد اعمالیاں و بد عنوانیاں، رشوت، جرائم و دیگر برے اوصاف پڑھے لکھے افراد نے انجام دیئے ہیں، ان پڑھ افراد اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ تعلیم حاصل کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ تعلیم وہ طاقت ہے جو انسانی ذہن سے جہالت اور اندھیرے کے پردے کو چاک کرکے اس سے روشنی کی طرف صحیح رخ کے تعین کا فیصلہ کرنے میں مدد کرتی ہے۔ آج کل تعلیمی ادارے ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرنے کی دوڑ میں سبقت لینے میں لگے ہوئے ہیں۔ جہاں جمہوریت، سماجیت، ریاضی، تواریخ، سائنس، اردو و انگریزی جیسے مضامین پڑھائے جاتے ہیں مگر وہیںاخلاقی تعلیم سے محروم ہی رکھا جاتا ہے۔ اس طرح سے طلبا خام ہی رہ جاتے ہیں جس طرح بٹھے میں کچی اینٹ کو پکی کرنے کے غرض سے ڈالا جاتا ہے لیکن معمولی سی کمزوری کی وجہ سے کئی اینٹیں خام مال کی شکل میں ہی دوبارہ نظر آرہی ہیں۔ جو تع

تعلیم کی اہمت

تعلیم انفرادی اور اجتماعی طور پر سب کے لیے نہایت اہم ہے۔یہ ہر قوم کی بنیاد ہوتی ہے اور اسی سے سماجی ،معاشی ،شعوری اور سیاسی استحکام آسکتا ہے۔تعلیم ایک بہترین سرمایہ ہے جو ایک انسان کو دیگر مخلوقات سے اعلیٰ تر بناتی ہے اور ایک اچھا انسان بننے میں مدد دیتی ہے۔اجتماعی طور پر تعلیم یافتہ ہونا کسی بھی ملک کی ترقی و  استحکام کے لیے ضروری ہے۔یہی وہ دولت ہے جو ایک قوم کو سرخ روئی و سربلندی عطا کرسکتی ہے اور اسے ترقی کی نئی راہوں پر گامزن کرسکتی ہے۔تعلیم ہی ترقی کی بنیاد ہے۔ہمارے دینِ اسلام میں بھی تعلیم پر بہت زور دیا گیاہے۔چنانچہ ایک مرتبہ رسولِ رحمت ﷺ نے جنگی قیدیوں کو اس شرط پر آزاد کرایا کہ وہ مسلمان بچوں کوتعلیم فراہم کریں۔ آج کے اس پُرآشوب اور تیز ترین دور میں تعلیم بہت اہمیت کی حامل ہے۔ آج کا دور کمپیوٹر کا دور ہے، ایٹمی ٹیکنالوجی کا دور ہے ،سائنس اور صنعتی ترقی کا دور ہے۔

تازہ ترین