۔13 جولائی محض کوئی تعزیتی ریفرنس نہیں | کشمیر کا اپنے ماضی کیساتھ تعلق تبدیل کرنے کی کوشش

1۔آج "یوم شہدا" ہے۔ اس دن 89 سال پہلے مہاراجہ مخالف کارکن کے مقدمے کی سماعت کے خلاف احتجاج کرنے والے بائیس افراد کو ہری سنگھ کی پولیس فورس نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ 2۔ اس سال کے شروع میں یونین ٹیرٹری انتظامیہ نے  ہر سال 13 جولائی کو یوم شہداء منانے کی اپنی دیرینہ سرکاری سرپرستی واپس لے لی۔ آج کے دن اب سرکاری تعطیل نہیں رہی۔ حکومت کے سربراہ کی طرف سے " مزار شہدا" میں پھولوں کی چادر چڑھانے کی رسمی  تقریب اب سرکاری پروٹوکول نہیں رہے گا۔ 3۔ بادی النظر میں انتظامیہ میں کسی نے اس کا جارج اورول اچھی طرح سے پڑھا ہے۔ 1984 میں اپنی کلاسیکی تخلیق میں ارول نے لکھا ، "ماضی کو کنٹرول کرنے والا مستقبل کو کنٹرول کرتا ہے اور حال پر قابو رکھنے والا ماضی پر دسترس رکھتا ہے ‘‘۔  4۔ بزرگ کشمیریوں کے لئے تیرہ جولائی " سیکھی یا پڑھی ہ

احساسِ ذمہ داری کا جذبہ اور کشمیری عوام

تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جن قوموں یا معاشروںکیسیاسی قائدین یا مذہبی اکابرین کے مابین نظریات کا ٹکرائورہااور لوگوںکے اجتماعی مفادات کی حفاظت اور حصولِ مقاصدکے تئیں منافرت رہی ،اْن قوموں میں اصول پرستی اور اجتماعی مفادات کی جگہ خود غرضی اور منفعت پرستی نے لیلیں۔اْن کے دِلوں میں خوف ِ خدا کا تصورباقی نہ رہا اور اْنہیںہمہ گیر خرابیوں اور بْرائیوں نے گھیر لیا ،جس کے نتیجہ میںوہ ہمیشہ مسائل ،مشکلات اور مصائب میں مبتلا رہیں،اْن کا نہ کبھی بھَلا ہوا نہ ہی وہ کسی کام کی پیش رفت میں سرْخ رو ہوسکیںاوروہ ہر میدان اور ہر شعبہ? زندگی میں ناکام ثابت ہوئیں ،اسی طرح جن اقوام یا معاشروں میں ایثار و اخلاص اور احساسِ ذمہ داری کا جذبہ باقی نہ رہا ، وہ بھی خود پرستی،ہٹ دھرمی اور لاتعلقی کے دلدَل میں دھنس کر نیست و نابود ہوتی گئیں۔  بلاشبہ کشمیری قوم کی بد قسمتی رہی ہے کہ اْسے ہر اودار میں زیادہ ت

سازشی نظریات اور اس کے اثرات سے تحفظ کیسے ممکن ہے؟ | کووڈ۔ ۱۹ کے تناظر میں ایک تجزیاتی نقطہ نظر

انفجار اطلاعات کے اس دور میں صحیح اطلاعات کی پرکھ باقاعدہ ایک مشق کی طالب ہونے لگی ہے۔ تلبیس اطلاعات (Disinformation)یعنی اطلاعات کو ایسا لباس پہنانا جس سے کوئی خاص قسم کا مقصد حاصل ہوسکے، باقاعدہ ایک منفی فن کی حیثیت حاصل کرچکا ہے۔ سازشی نظریات انفجار اطلاعات کے دور کی ناقابل انکار حقیقت ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سازشی نظریات اس سے قبل موجود نہیں تھے۔ یقیناً سازشی نظریات کی تاریخ انسانی شعور کی تاریخ سے متصل ہے لیکن ماضی بعید و قریب اور حال میں یہ فرق ہے کہ پہلے ان سازشی نظریات کو پھیلانے ، عوام الناس میں ان کے نفوذ ، خواص کے ذہنوں میں اسے پیوست کرنے اور ان کے صحیح ہونے کے لیے غیر معمولی جدوجہد، پیسہ، اور باقاعدہ منصوبہ بندی درکار ہوتی تھی۔ اب مواصلاتی انقلاب کے بعد ان سازشوں کو پھیلانا اور عوام الناس میں ان کو معقول بنانا محض کلکس کا محتاج ہے اور یہ چٹکی بجانے سے زیادہ آسان کام

تازہ ترین