گوشہ اطفال|11جولائی2020

گُد گُد یاں…!!! ایک دیہاتی اور ایک انگریز گاڑی میں سفر کررہے تھے۔ دیہاتی حقہ پیتا تو انگریز کو غصہ آتا تھا اور جب انگریز اپنے کتے کو پیار کرتا تو دیہاتی کو غصہ آتا۔ دیہاتی کسی کام سے دوسرے ڈبے میں گیا تو انگریز نے اس کا حقہ اْٹھا کر باہر پھینک دیا۔دیہاتی جب واپس آیا تو وہ اپنا حقہ نہ پا کر بہت پریشان ہوا مگر آرام سے بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد انگریز کسی ضرورت سے گیا تو دیہاتی نے اس کا کتا پکڑ کر گاڑی سے باہر پھینک دیا۔ جب انگریز واپس آیا تو اس نے کہا۔ کہاں گیا میرا کتا؟…دیہاتی نے فوراً جواب دیا۔ وہ میرا حقہ پینے گیا ہے۔ ٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭ ایک آدمی کی گاڑی میں آگ لگ گئی۔ تمام لوگ آگ بجھانے کیلئے دوڑے لیکن دور سے ایک آدمی بہت تیزی سے دوڑتا ہوا آرہا تھا اور زور سے بولا، ٹھہرو ٹھہرو! لوگوں نے سمجھا کہ یہ آدمی آگ پر جلد قابو پانے کی کوئی ترکیب جانتا ہوگا، ا

انتظار اُس مسیحا کا جو مُردے میں جان ڈال دے

نیشنل کانفرنس کے روح رواں ، سابق وزیر اعلیٰ اور موجودہ ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی نظربندی ختم ہونے کا ان کے دوست اور دشمن سب بے صبری کے ساتھ انتظار کررہے تھے ۔بڑا تجسس تھا کہ وہ باہر آئیں گے تو کیا بولیں گے ۔ کس لہجے میں بات کریں گے اور کس رفتار کے ساتھ بولیں گے ۔لیکن ان کے باہر آنے کے ساتھ ہی یہ راز بھی کھلا کہ اب ڈاکٹر فارو ق عبداللہ وہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نہیں جس کی شوخی ٔ گفتار کا چرچا کشمیر میں ہی نہیں بلکہ برصغیر میں جاری و ساری رہا کرتا تھا ۔جس کی ہر ادا میں ایک نئی ادا ہوتی تھی ۔اُ س ڈاکٹر فاروق کو بھی 5اگست نے دفعہ 370کے ساتھ ہی نگل لیا ۔پابندیوں سے چھوٹ جانے کے بعدانہوں نے کوئی بڑی بات نہیں کی ۔کوئی الٹی سیدھی بات بھی نہیں کی۔ہر سوال کو ٹال دیا اور ہر بات کو گول کردیا ۔ان کے منہ سے کوئی تیکھا جملہ نہیں نکلا ۔لگتا ہے کہ اب وہ خود نہیں بول رہے ہیں بلکہ ان کی زبان سے

تازہ ترین