انتخابی حد بندی رقبہ کے زاویہ سے

حد بندی کے معیار کے طور پر رقبے کا استعمال اس بیماری کا علاج ہوگا جو موجودہی نہیں ہے۔در حقیقت یہ ایک نئی بیماری کا سبب بنے گا۔ 1۔حدبندی معاملہ پر کالم سیریز کے دوسرے حصے میں یہ دکھایا گیاتھا کہ صوبہ جموں اور صوبہ کشمیر کے مابین اسمبلی انتخابی حلقوں کی تعداد میں کسی قسم کی تفاوت کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ آبادی کی بنیاد پرمجموعی آبادی میں42.68فیصد حصہ داری کے باوجود جموں کو87 رکنی اسمبلی میں سے 37 نشستیں ملی ہیں جو قانون ساز اسمبلی میں نمائندگی کا 42.52 فیصد ہے۔  2۔تاہم جموں مرکوز سیاسی جماعتوں کی جانب سے جموں کے ساتھ امتیازی سلوک کا معاملہ اور جموں کے لئے زیادہ سے زیادہ نمائندگی کیلئے مطالبہ کی بنیاد یہ ہے کہ یہ رقبہ میں کشمیر سے بڑا ہے۔ نیز یہ بھی دلیل پیش کی گئی ہے کہ جموں کے ہر حلقہ انتخاب میں کشمیر کی نسبت لوگوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اس کو "ایک شخص ، ایک ووٹ"

ایس آر او 202کی منسوخی اور بیروزگاری

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ پہلے ریاست اور اب مرکزی حکومت کی طرف سے یوٹی کا درجہ دینے کے بعد جموں وکشمیر باقی ریاستوں کے مقابلے میں تعلیم کو فروغ دینے میں صف اول میں شمار ہوتی ہے۔جہاں اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں سے طلباوطالبات ہر سال ہزاروں کی تعداد میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے قلیل تعداد کے تعلیم یافتہ مختلف محکموں میں اچھے عہدوں پر فائز ہوتے ہیں۔لیکن ان مختلف شعبوں میں تعلیم کا شعبہ ایک اہم شعبہ مانا جاتا ہے۔اور اس سے منسلک استاد کا پیشہ سب سے معتبر پیشہ تصور کیا جاتا ہے۔جس کو حاصل کرنے میں عرق ریزی اور جانفشانی سے دن رات محنت شاقہ کرنی پڑتی ہے۔ان ہی اساتذہ صاحبان میں گورنمنٹ ہائراسکنڈریوں میں کام کرنے والے ایس آر او202کی سکیم کے تحت سال 2016میں تعینات بحیثیت لیکچراروں کی ماہانہ تنخواہ تقریباً باون ہزار کے قریب مقرر کی گئی ہے۔ان ہی ہائرسکنڈریوں میں تعینات عارضی طور پرلیکچراروں کی ماہ

تازہ ترین