تازہ ترین

انتخابی حد بندی:ہندو مسلم زاویہ | جموںوکشمیر اقلیتوں کے تئیں انتخابی مساوات کا مثالی نمونہ

1۔ دیسائی حد بندی کمیشن کیلئے جو واحد کام رہ گیا ہے ،وہ پہلے سے طے شدہ114اسمبلی حلقوں میں سے90حلقوں کو تقسیم بلکہ سرنو تقسیم کرنا ہے جبکہ باقی ماندہ 24نشستیں پاکستانی زیر انتظام کشمیر کیلئے مخصوص ہیں۔ 2۔ معیار کے لحاظ سے اور مجموعی طور پر نقطہ نظر کے لحاظ سے بھی انتخابی حلقوں کی الاٹمنٹ کا تعین کس طرح ہوگا؟ حد بندی کمیشن کے پاس لکھنا شروع کرنے کے لئے صاف سلیٹ یا کورا کاغذ نہیں ہے ۔ میراث میں بہت سارے معاملات ہیں۔ شروعات کرنے والوں کیلئے نشستوںکی موجودہ تقسیم ہے جس کو علاقائی نمائندگی کے لحاظ سے غیر متوازن سمجھا جارہا ہے ،خاص کر جموں بمقالہ کشمیر کے لحاظ سے۔  3۔ جموں ، جو ہندو اکثریتی انتظامی صوبہ ہے ، کئی دہائیوں سے یہ بحث کر رہا ہے کہ اعلیٰ سیاسی ڈھانچے میں اس کی نمائندگی بہت زیادہ کم ہے۔ یہ ان کا مؤقف رہا ہے کہ نہ صرف 1951 سے ہی ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے ، بلکہ

سُکڑتی وُلر جھیل | کشمیر کا خزانۂ آب تباہی کے دہانے پر

ستمبر 2014کا سیلاب کشمیر میں ہرسوتباہی پھیلاکر مکانات، پلوں، سڑکوں، کھیت اورفصلوں کوجہاں اپنے ساتھ بہالے گیا،وہیں لوگوں کو آنے والے برسوں کیلئے تلخ یادوں کاایک خزانہ بھی دے گیا۔اس تباہ کن سیلاب کی ایک بڑی وجہ ماہرین کے مطابق ریاست کی متواتر حکومتوں کی براعظم ایشیاء کے سب سے بڑے میٹھے پانی کے جھیل ،ولر کوتحفظ فراہم کرنے میں ناکامی تھی کیونکہ یہ جھیل ہرگزرتے دن کے ساتھ سکڑتی ہی چلی جاتی ہے۔نہ صرف اس جھیل میں آس پاس رہائش پزیدلوگوں نے مداخلت کرکے اس کے پانیوں پرناجائزقبضہ کیا،بلکہ ریاست کے محکمہ جنگلات نے جھیل کے اندر لاکھوں کی تعدادمیں درخت اُگاکردریائے جہلم کے بہاؤمیں رکاوٹ پیداکردی اور جب اس دریا کا بہاؤجوبن پرتھا،تویہ خطرناک سیلاب کاموجب بنا۔ 1911میں جھیل ولرکارقبہ217مربع کلومیٹر تھاجواب نصف سکڑچکاہے،اوراس جھیل کے سیاحتی مقام بننے کی صلاحیت بھی برسوں قبل ختم ہوچکی ہے۔ویٹ لینڈا

ذیابطیس میں کون سے پھل کھائیں؟

ذیابطیس کے مریضوں کو کھانے پینے میں بہت احتیاط کی ضرور ت ہوتی ہے لیکن اکثر وہ میٹھے کی طلب میں بد احتیاطی کر بیٹھتے ہیں جو ان کیلئے نقصان دہ ہوسکتی ہے۔ تاہم قدرت نے پھلوں کی صورت ہمیں میٹھے کا متبادل دیا ہے۔ امریکن ڈائیبٹیس ایسوسی ایشن (ADA)مشور ہ دیتی ہے کہ ذیابطیس کا مریض ہر قسم کا پھل کھا سکتاہے، سوائے اس کے جس سے مریض کو الرجی ہوتی ہو۔ 2014میں شائع ہونے والے برٹش میڈیکل جرنل سے پتہ چلتا ہے کہ جتنا زیادہ آپ پھل کھائیں گے، آپ کو ٹائپ ٹو ذیابطیس ہونے کا خطرہ اتنا ہی کم ہوگا۔ اس ضمن میں تازہ پھل اور ان کا رس فائدہ مند ہوتا ہے، پروسیسڈ پھل یا پھلوں کے مصنوعی مشروبات سے اجتناب کرنے کی ضرورت ہے۔ آئیں دیکھیں ، ذیابطیس کے مریض کونسے پھلوں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ بیریز ADAکے مطابق بیریز (رس بیریز ، بلو بیریز اور اسٹرابریز)ڈائبیٹک سپر فوڈ ہیں کیونکہ ان میں موجو د کئی اقسام کے

منشیات کے آتش فشاں پر سوئے لوگ

ہمارےاس معاشرے کی صحت کو جو اخلاقی اور روحانی روگ اندر ہی اندر کھوکھلا کررہے ہیں فی الوقت ان سبھی کی گنتی مقصود نہیں ہے۔ بلکہ جو سب سے بڑا مسئلہ اس حوالہ سے آج سراْٹھا کر اور پھن پھیلا کر ہماری غفلتوں پر تازیانے برسار ہا ہے وہ منشیات اور دیگر نشہ آور ادویات کا وہ پھیلائو ہے جو ہر گذرتے دن کے ساتھ بغاوت پر اْتر آئے تندوتیز سیلاب کی مانند اس معاشرے کی اخلاقی اور روحانی بنیادوں کی نہ صرف یہ کہ چولیں ہلا رہا ہے بلکہ اس کے لرزہ براندام دیوار ودر بھی ڈرا رہے ہیں، کہ اگر انجام گلستان کی فکر نہ کی گئی تو پھر اس کے بنجر بن جانے میںکوئی شک باقی نہیں رہ جائے گا۔ یہ بات تو طے ہے کہ منشیات کی لت ہماری کثیر آبادی کے ایک بڑے حصہ کو لگ چکی ہے۔ اور اب کچھ چونکا دینے والے انکشافات نے تو حساس لوگوں کے پائوں کی زمین سرکا کے رکھدی ہے ۔ جنوبی کشمیر کے کئی علاقے خطر ناک حد تک اس وبائی مرض کی زد میں آچکے

کورونا وائرس کی نئی قسم 9گنا زیادہ متعدی

نوول کورونا وائرس کی نئی قسم پہلے سے زیادہ متعدی ہے مگر وہ پرانی قسم کے مقابلے میں لوگوں میں کووڈ 19 کی شدت میں اضافہ نہیں کررہی۔یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا۔اس تحقیق میں ایسے ٹھوس شواہد دریافت کیے گئے کہ یورپ سے لے کر امریکا تک اس وائرس کی نئی قسم زیادہ تیزی سے پھیلی اور یہ اب بالادست قسم بن چکی ہے۔لا جولا انسٹیٹوٹ فار امیونولوجی کی تحقیق میں شامل محقق ایریکا اولیمن شیپری کا کہنا تھا 'یہ نئی قسم اب وائرس کی نئی شکل ہے'۔ جریدے جرنل سیل میں شائع تحقیق اس تحقیقی ٹیم کے سابقہ کام پر مبنی تھی جو کچھ عرصے پہلے پری پرنٹ سرور میں شائع کی گئی تھی، جس میں جینیاتی سیکونس کے تجزیے کے بعد عندیہ دیا گیا تھا کہ ایک نئی قسم نے دیگر پر سبقت حاصل کرلی ہے۔اب تحقیقی ٹیم نے نہ صرف مزید جینیاتی سیکونسز کا جائزہ لیا بلکہ لوگوں، جانوروں اور لیبارٹری میں خلیات پر

طاعون میں خیر کے پہلو سے آشنائی

کورونا کی مہاماری سے پوری دنیا پریشانی کے عالم میں گرفتار ہو چکی ہے۔ لیکن یہاں بھی دین اسلام کی نمایاں راہنمائی خوب نظر آرہی ہے۔ اسلام کے سامنے آج تک کوئی بھی چیلنج زیادہ دیر تک ٹک نہ سکا۔ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو نہ ماضی میں نامراد ہو کر بے سہارا چھوڑا اور نہ مستقبل میں ایسا ہوگا۔ یہ چیلنج دراصل مسلمان کے سامنے ہے کہ وہ دنیا کے دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی رہنمائی قرآن کریم و احادیث مبارکہ سے کیسے کریں۔  لاک ڈاؤن کے دوران جہاں مسلمانوں میں مطالعہ کرنے کا رجحان کافی حد تک بڑھ چکا ہے۔ وہاں غیر مسلم ممالک میں بھی اسلام کا کافی بول بالا ہوگیا۔ ہر طرف سے اسلام کے علاوہ کردہ ہدایات کو اجاگر کیا گیا۔ تمام ممالک نے اللہ کے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے طاعون کے بارے میں ارشاد مبارک کے مطابق اپنی سرحدیں بند کیں۔ جس سے نہ وہاں سے کسی کو جانے دیا اور نہ آنے دیا۔ وہ الگ بات ہے کہ ان

تازہ ترین