تازہ ترین

عجم پر عالمِ عرب کی سرگرمیوں کے اثرات

دنیائے عرب کے اندر ماضی قریب میں دو ایسی پیش رفت وقوع پذیر ہوئیں جن کے اثرات سے جنوب ایشیا ،خاص طور سے بر صغیر ہند و پاک کا خطہ بہت حد تک متاثر ہوسکتا ہے۔ذرائع ابلاغ میں شائع اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ20ریال کے اُس کرنسی نوٹ کو تبدیل کررہا ہے جس میں آر پارجموں کشمیر کو بھارت اور پاکستان سے الگ خطہ دکھایا گیا تھا ۔مذکورہ کرنسی نوٹ کے اُلٹے طرف بنے اس نقشے کو لیکر نئی دلی نے سخت ناراضگی جتائی تھی۔اس نوٹ کی اجرائی سعودی عرب نے حالیہ جی۔20اجلاس کے موقع پر یادگار کے طور پرکیا تھا۔  ادھر متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ رشتوں کی باضابطہ استواری کے بعد اسلام آباد پر بھی ایسا ہی کرنے کا دبائو بنانے کے ساتھ ساتھ اپنے ہاں کے قوانین تک کو بدلنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ماہ ستمبر میں متحدہ عرب امارات کے اندر اسرائیل کی نیم برہنہ ماڈلز کو اپنے ملک کا پر چم لہراتے ہ

کیا انتظامیہ کو ڈائٹنگ کی ضرورت ہے؟

جموں کشمیر ہندوستان میں واحد خطہ ہے جہاں سرکاری ملازمین کی فی کس نسبت (Per Capita Ratio) سبھی ریاستوں سے زیادہ ہے۔ مہاراشٹرا، گجرات، مدھیہ پردیش، کرناٹک ، اْتر پردیش اور بِہار جیسی ریاستوں میں ہر سرکاری ملازم کے مقابلے شہریوں کی تعداد3500 سے 4000 کے آس پاس ہے جبکہ ہمارے یہاں ہر800 شہریوں کے مقابلے ایک سرکاری ملازم ہے۔ جموں کشمیر میں ہر شہری کے مقابلے  ملازمین ہیں اور جموں کشمیر مہاراشٹرا، گجرات، مدھیہ پردیش، کرناٹک ، اْتر پردیش اور بہار وغیرہ سے نہ صرف رقبہ بلکہ آبادی کے لحاظ سے بھی بڑی ریاستیں ہیں۔ اور اْدھر شہری۔ملازم کی نسبت ہمارے سے بہت کم کے باوجود وہاں انتظامیہ کا یہ حال نہیں جو ہمارے یہاں ہے۔  جموں کشمیر کا سالانہ بجٹ ایک لاکھ بیس ہزار کروڑ تک ہے اور اْس میں سے ہم40 ہزار کروڑ صرف سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر خرچ کرتے ہیں۔ بتایا تو جاتا ہے کہ بہت بڑی رقم تعمیراتی

وحشی سعید… رومانیت سے حقیقت تک

جموں و کشمیر اردو ادب کا ایک اہم دبستان ہیں جس نے اردو ادب کی تاریخ کو اپنی نگارشات سے مالا مال کیا ۔یہاں کے ادباء اور شعراء نے یہاں سے گزرتے ہوئے برصغیر میں بھی اپنی ایک شناخت قائم کی، غنی کاشمیری سے لے کر عصر حاضر میں ترنم ریاض تک ایسے کئی قلم کار ہیں جنہوں نے اپنے فن کی بدولت اردو زبان و ادب کو وسعت عطا کی ۔جموںوکشمیر میںجب بھی فکش خاص کر اردو افسانہ کی بات کی جائے تو وحشی سعید ساحل کا نام یہاں کے نامور افسانہ نگاروں کے ساتھ لیا جاتاہے۔ انہوں نے اردو افسانے کی خدمت کر کے اپنی ایک پہچان قائم کی ۔ انہوں نے اپنے ادبی سفر کا آغاز اپنی تعلیم کے دوران ایس پی کالج کے معروف میگزین ’’ پرتاپ ‘‘ سے کیا ۔شروع شروع میں ان کے افسانوں میں رومانیت کا عنصر زیادہ دیکھنے کو ملتا ہے،اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ وہ افسانے انہوں نے عنفوان شباب کے زمانے میں لکھے ہیں۔یہ افسانے ان

جواہر نوودیہ ودیالیہ

ملک کے ہر بچے کو اچھی تعلیم ملے یہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ شہری علاقوں میں سرکاری اور نجی اسکولوں کا جال بچھا ہوا ہے ان اسکولوں میں مکمل سرکاری امداد پر چلنے والے، جزوی طور پر حکومتی امداد یافتہ پرائیویٹ اسکول اور مکمل نجی یا پرائیویٹ اسکولوں میں تعلیم ہمارے ملک میں عام ہے۔ لیکن اس کے علاوہ بھی بالخصوص دیہی علاقوں میں پچھڑے اور قبائلی طبقات کے ذہین طلبہ کے ٹیلنٹ کو ابھارنے اور انھیں بھی اعلیٰ تعلیم دینے کی غرض سے ۱۹۸۶؁ء کی ایجوکیشن پالیسی کے مطابق ایسے دیہی ضلعوں میں رہائشی اسکولوں کا قیام کرنے کا آغاز کیا گیا ان اسکولوں کو ’’جواہر نو ودیہ ودیالیہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ اسکول براہِ راست مرکزی وزارت انسانی وسائل کے زیرِ انتظام اور مقامی اسکول منیجمنٹ کمیٹی ، جس کے چئیرمن اس ضلع کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ہوتے ہیں، کی نگرانی میں ملک کی مختلف ریاستوں رہائشی طرز پر بالکل مفت جاری

’عالمی زبان ‘ کا پروفیسر گوپی چند نارنگ نمبر

ڈاکٹر سیفی سرونجی علم و ادب کی ایک کہکشاں کا نام ہے جن کی بدولت ایوان ادب میں ہر سو روشنی پھیل رہی ہے۔ انھوں نے ایک عرصہ سے ’’انتساب‘‘اور ’’عالمی زبان‘‘کا اجرا کر رکھا ہے اور اس سلسلے میں انھوں نے جو کام کیا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ ’’انتساب‘‘ کے خاص نمبروں نے پوری دنیا میں ایک تہلکہ مچا رکھا ہے۔ وہ ’’انتساب ‘‘ کا بھی ایک ضخیم نمبر ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کے لیے نکال چکے ہیں ۔ ان کے فکر و فن پر ڈاکٹر سیفی سرورنجی کی دو کتابیں ’’ گوپی چند نارنگ او راردو تنقید ‘‘ اور ’’ مابعد جدیدیت او رگوپی چند نارنگ ‘‘ بھی منصہ شہود پر آچکی ہیں ۔ 17 نومبر 2020ء کو انھوں نے ’’عالمی زبان‘‘ کا ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نمبر شائع کر کے ایک بہ

مشرق ومغرب میں سائنسی تحقیق کا معیار | مذہب اور سائنس کا آپسی معرکہ

مادی کائنات کی گہرائیوں و وسعتوں کے بیچوں بیچ سائنس کی حیرت انگیز ترقی و ترفع اور اقبال و بلندی کے پس منظر میں انسان کا آج کی تاریخ میں بعض مسائل کے متعلق اپنی کم علمی اور نااہلی کا اعتراف کرنا ایک عام واقعہ نہیں ہے کہ جس کو نظر انداز کیا جائے۔بلکہ یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ جس کا اثر مستقبل میں تحقیق و تدقیق کے ہر پہلو میں نظر آئے گااور جس سے سائنس اور مذہب کے درمیان پیدا کی گئی خلیج رفتہ رفتہ کم ہوتی جائے گی۔سائنس کے اس اعتراف سے مذہب کے تئیں اس کے رویے میں مثبت تبدیلی کا اندازہ بآسانی لگایا جا سکتا ہے۔اس حوالے سے دور جدید میں سائنس اور مذہبی کتب (خصوصی طور پر قرآن) کے تقابلی جائزے کی کوششوں کا اہم رول ہے۔دور جدید میں سائنس کو قرآنی آیات کی روشنی میں جانچنے کی جو دلچسپی غیر مسلم محققین میں پیدا ہوئی ہے وہ نہایت اہمیت کی حامل ہے۔اگرچہ بائبل کا بھی موازنہ سائنس سے کیا گیا لیکن اس سے

ایڈس … اسلام سے دوری کا نتیجہ

یکم دسمبر کے موقع پر ہر سال پورے عالم میں ’’ عالمی یوم ایڈس‘‘ منایا جاتا ہے جس دوران مختلف ممالک میں محکمہ صحت کے علاوہ قائم انسداد ایڈس کے ادارے جانکاری فراہم کرتے ہیں۔ اس سال کے ایڈس کا نعرہ " ایڈس کے وباء کا خاتمہ…لچک اور اثر" ہے جس کے ذریعے اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ عالمی سطح سے اس وباء کے تیز پھیلاؤ کو روکنے کا سدباب کیا جائے - لیکن عملی طور پر کس حد تک لوگوں کو اس مہلک بیماری سے بچایا جاتا ہیں اس کی تصویر تمام ترقی پزیر ممالک بہت ہی خوب انداز میں پیش کرتے ہیں۔  ایڈس یعنی (Acquired Immuno Deficiency Syndrome) پھیلنے کی کئی وجوہات سائنسدانوں نے بیان کیں ہیں۔ایک رائے کے مطابق یہ بیماری افریقہ کے جنگلوں میں پائے جانے والے سبز بندروں میں وائرس کے موجود ہونے سے پھیلی ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ فرانسیوں نے یہ وائرس حیاتیاتی جنگ (Warfare

جسمانی صحت ہی نہیں، ذہنی صحت بھی اہم ہے

یہ یقینا ً اچھی بات ہے کہ آج کے دور میں دماغی صحت کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جاتی ہے جتنی جسمانی صحت کو، ورنہ ایک زمانہ تھا کہ انسان اپنی دماغی صحت کے بارے میں بے خبر تھا اور دماغی مسائل جیسے اسٹریس اور ڈپریشن کو ’مرض‘ تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔خوشی اور غمی زندگی کا حصہ ہیں۔ کسی وقت ہم خوش ہوتے ہیں تو کبھی افسردہ۔ اور جب انسان افسردہ یا پریشان ہوتا ہے تو یہ پریشانی اس کے معمولات زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ڈپریشن انسان کے احساسات پر اثر ڈالنے کے ساتھ ساتھ اس کے پورے جسم پر بھی منفی اثر ڈالتا ہے اور زیادہ ڈپریشن انسان کی ہنستی مسکراتی زندگی کو اجیرن کرکے رکھ دیتا ہے۔ ذہنی صحت کے مسائل کے باعث متاثرہ شخص کوعام جذباتی درد بھی بہت زیادہ گہرے محسوس ہوتے ہیں جو کسی کوبھی آسانی سے سمجھ نہیں آتے کیونکہ انھیں اس کاتجربہ نہیں ہوتا۔ ذہنی صحت کے کچھ عام مسائل مندرجہ ذیل ہیں، جوکسی بھی فر

قیمتوں میں اعتدال کا مسئلہ ،عملدرآمد کا نظام کہاں ہے؟ | ناقص حکمتِ عملی اور کمزور پالیسی سے کچھ بدلنے والانہیں

یہ حقیقت اٹل ہے کہ یاس و قنوط میں مبتلا کسی بھی قوم یا معاشرے میں جب مایوسی غالب آتی ہے تو اْس قوم یا معاشرے کی زندگی جہنم ِ زار بن جاتی ہے۔اُس کاسکون و اطمینان غارت ہوجاتا ہے اوروہ ٹینشن ،ڈپریشن و ذہنی تنائو کی زد میں آکر مرغِ نیم کشتہ کی سی زندگی گزارتا ہے جبکہ مایوسی کے ان جاں گسل حالات میںاکثر و بیشتر قنوطیت زدہ معاشرہ کازیادہ تر حصہ غلط ،ناجائز اور حرام کام کا ارتکاب کرلیتا ہے۔جس سے نہ اُسے دنیا ملتی ہے اور نہ آخرت۔سچ تو یہ بھی ہے کہ جو قوم اپنی تہذیب و روایات کو بھول جاتی ہے ،وہ یا تو صفحہ ٔ ہستی سے مِٹ جاتی ہے یا پھر مسلسل افراتفری اور بے چینی کی فضا میں سانس لینا اُس کا مقدر بن جاتا ہے، ایسی قوم کے بے اصول اور بے ترتیب معاشرے میں جھوٹ،چوری ،رشوت ،ناانصافی ،مہنگائی ،بے روز گاری ،مفاد پرستی اور دوسری کئی قسم کی بْرائیاں و خرابیاں پروان چڑھتی ہیںاورپورا معاشرہ نفسا نفسی کے عالم

عالمی معیشت اور کورونا: جی۔20اجلاس کے اہم موضوعات

ریاض میں منعقدہ جی۔20ورچول چوٹی کانفرنس سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان (ایم وی ایس) کی راست نگرانی میں منعقد کیا گیا جس کا مقصد عالمی اسٹیج پر سعودی عرب کی قائدانہ صلاحیتوں کو پیش کرنا تھا۔ توقع کے مطابق دو روزہ کانفرنس کے ایجنڈے میں کورونا وائرس کی وبا چھائی رہی۔ دنیا کی 20بڑی معیشتوں نے کورونا ویکسین کی دنیا بھر میں کفایتی اور مساویانہ رسائی کو یقینی بنانے اور مستقبل میں صحت کے بحران سے نمٹنے کے لیے تیاری کا عہد کیا۔ بین الاقوامی وبائی معاہدہ: چارلس مائیکل صدر نشین یوروپین کونسل نے مستقبل میں وباؤں کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ایک بین الاقوامی معاہدے کی تجویز پیش کی۔ مائیکل نے کہا : ’’تمام ممالک، اقوام متحدہ کے تمام اداروں اور تنظیموں کے درمیان خاص طور سے عالمی صحت تنظیم کے ساتھ مذاکرات ہونے چاہئیں۔ ڈبلیو ایچ او کو صحت سے متعلق ہنگامی حالات میں عالمی تعاو

مقامی صحافت :ماضی اور حال کے آئینے میں۔۔۔۔قسط پنجم

 گیارہ سال پہلے نومبر کے ہی مہینے میں یکے بعد دیگرے جموں و کشمیر میں دنیائے صحافت کی دو بڑی شخصیات اس جہان فانی سے کوچ کرگئیں ۔پہلے صوفی غلام محمد اور اس کے بعد خواجہ ثناء اللہ بٹ صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں زندگی کی جنگ ہار گئے ۔دونوں ایک دوسرے کے پیشہ ورانہ حریف تھے لیکن ایک دوسرے کے دوست بھی تھے ۔ ایک دوسرے کو پچھاڑنے کی دھن دونوں کے سروں پر سوار تھی لیکن دونوں ایک دوسرے کی ہر مشکل میں کام بھی آتے تھے ۔خواجہ ثناء اللہ بٹ کو کشمیر کا بابائے صحافت کہا جاتا ہے ،وہ اس لئے کہ انہوں نے عام کشمیریوں میں اخبار پڑھنے کی عادت ڈال دی ۔گزشتہ صدی کی پچاس کی دہائی میں انہوں نے بے سروسامانی کی حالت میں کشمیر کی وادی میں روزنامہ آفتاب کا اجراء کیا تھا ۔اس سے پہلے وہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک ہفت روزہ اخبار ’’کشیر‘‘شائع کرتے تھے ۔ چونکہ وہ خود مختار اور آزاد

حقیقت کا ادراک کریں

سماج کو درپیش مسائل میں اِس وقت رشتوں کا انتخاب بالخصوص لڑکیوں کی شادی ایک بہت اہم مسئلہ بن چکا ہے ۔کئی والدین چاہتے ہوئے بھی اپنی بیٹیوں کے ہاتھ پیلے نہیں کرپارہے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ غیر اسلامی اور غیر انسانی رسم و رواج کی وجہ سے غرباء کی بیٹیاں بے بسی اور بے چارگی کی چادر اوڑھے چار دیواری میں بیٹھے بیٹھے بوڑھی ہورہی ہیں۔اس بات سے ہم سب بخوبی واقف ہیں کہ لڑکی کا دنیا میں پہلا روپ ہی رحمت ہے ،جو بیٹی بن کر خاندان کے دلوں پر راج کرتی ہے۔بہن بن کر بھائی کی سچی اور مخلص دوست اور ماں کا بازو بن کر رہ جاتی ہے۔ بیوی ہوتی ہے تو ایک پختہ اور ہمیشہ ساتھ نبھانے والی اور جب وہ ماں بنتی ہے تو اللہ اس کا رتبہ اتنا بلند کر دیتا ہے کہ جنت کو اٹھا کراس کے قدموں میں ڈال دیتا ہے۔  معاشرے میں اس(عورت) کے ساتھ ہونے والے برتاؤ کا موضوع زمانہ قدیم سے ہی مختلف معاشروں اور تہذیبوں میں زیر بحث رہ

روشنی ایکٹ… نفاذ سے منسوخی تک

حال ہی جموں وکشمیر میں اراضی سے متعلق قوانین میں بڑے پیمانے پر ردِوبدل کیا گیا۔ کچھ پرانے قوانین سرے سے ہی منسوخ کئے گئے یا ان میں ترمیمات کی گئیں اور کچھ نئے قوانین نافذ کئے گئے۔9 اکتوبر 2020ء کو ہائی کورٹ کی طرف سے روشنی ایکٹ کے نفاذ کے خلاف  دائر شدہ مختلف کیسوں کی سماعت کے بعدہائی کورٹ نے اس قانون کو ہی کالعدم قرار دیاجس کے بعد لیفٹنٹ گورنر انتظامیہ کی طرف سے31 اکتوبر 2020ء کو روشنی ایکٹ کو بھی اسی ردِ بدل میں منسوخ کیا گیا۔ یہ قانون سال 2001 ء میں نیشنل کانفرنس کے دور اقتدار میں پاس کیا گیاتھا۔ اْس وقت یہ بتایا گیا تھا ریاست میں کہ 20,64,972 کنال سرکاری/ سٹیٹ لینڈ مختلف لوگوں کے ناجائز قبضے میں ہے جسکی مالیت 25,448 کروڑ روپیہ ہے۔ روشنی ایکٹ کے تحت اْس وقت 1990ء یا اس سے پہلے جن لوگوں کا اس زمین پر ناجائز قبضہ تھا ان سے سرکار کی طرف سے مقرر کردہ ریٹ کے مطابق قیمت حاصل کرکے مال

’دیرلس ارتغرل‘سے ’ممالک النار‘تک

دیرلس ارتغرل ایک ترک تاریخی ڈرامہ سیریز ہے جس کے مصنف اور تخلیق کار مہمت بوزداگ ہیں ۔انگن الٹن Engin Altinنے اس سریز میں بطورِ ارتغرل کے مرکزی اداکار کارول ادا کیا ہے۔ یہ ڈرامہ سلطنت ِعثمانیہ کے بانی عثمان اول کے والد ارتغرل غازی کی زندگی کے گرد گھومتا ہے۔ عثمانی روایات کے مطابق ارتغرل سلیمان شاہ کا بیٹا تھا ، جو اوغزOguz ترکوں کے ’’کییKIE‘‘ قبیلے کا رہنما تھا جنہوں نے منگول قتل عام سے بچنے کے لئے وسطی ِایشیا سے ہجرت کی تھی۔ پچھلے کئی برسوں سے اس ڈرامہ سیریز نے60 سے زائد ممالک میں اپنی کامیابی کا لوہا منواتے ہوئے کثیر تعداد میں لوگوں کو اپنا مداح بنایا ہے ۔ مشرقی وسطیٰ سے لے کر جنوبی افریقہ  ایشیاء اور جنوبی امریکہ کے بیشتر ممالک کے لوگوں کواس ڈرامہ سریز نے اپنا گرویدہ بنایا ہوا ہے ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اس سریز کو اسلامی ممالک میں مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ

روشنی: سکیم اور سکینڈل کے درمیان

اب تقریباً گزشتہ ایک ماہ سے افشاء ہوئی فہرستوں کی بنیاد پرروشنی سکیم ،جسے اب ’’روشنی گھوٹالہ ‘‘بھی کہتے ہیں،کی مناسبت سے مختلف خبر رساں ایجنسیوں اور اخبارات کی جانب سے میرے کو نمایاں طور اچھالایا اجاگر کیاجارہا ہے۔ اگر مقامی اور قومی اخبارات کایقین کیا جائے تواب مجھے غیر قانونی اراضی پر قبضہ کرنے والے دلالوںکا حصہ سمجھا جائے گا۔ ایسا لگ رہا ہے کہ میڈیا کو مبینہ25ہزار کروڑ روپے کے گھوٹالہ کے لئے مجھے واحد اور تنہا فائدہ اٹھانے والے کے طور پروجیکٹ کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔حقائق اور اعدادوشمار پر جائے بغیر یہ سیاسی زندگی(خواہ وہ قلیل ہی رہی ہو)میں رہنے کی قیمت ہے جو چکانا پڑ رہی ہے۔ اب جبکہ جموں و کشمیر حکومت نے جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل میں روشنی سکیم کے تحت مستفید ہونے والوں کی فہرست کو عوامی طور پرمشتہرکیا ہے ، اس لئے واقعات کی ترتیب کے سا

اولیاء اللہ۔ انسانیت کے محسن

پانچویں صدی ہجری کا زمانہ اسلامی تاریخ میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔یہ وہ زمانہ تھاجس میں مسلمانوں کے انتہائی عروج ،خوشحالی اور کرئہ ارض کی کوئی قوم مسلمانوں کی ہمسر نہ تھی۔بغداد عالم اسلام کا مرکز اعصاب اور علوم فنون کے اعتبار سے دنیا کے لئے پر کشش حیثیت اختیار کر چکا تھا۔جہاں مسلمان قوم ان بلندیوں کوچھو رہی تھی وہاں بیرونی نظریات وخیالات کی یلغار اس کے یقین واعتمادکی دیواروں کو کھوکھلی کر رہی تھی اورضرروت تھی کہ قدرت اپنی فیاضی سے کوئی ایسی شخصیت پیدا کرے جو اپنے قدوقامت میں صدیوں پر بھاری ہو اور جو اپنے ایمانی جذبے اور غیر معمولی صلاحیت سے اس دھارے کا رخ بد ل ڈالے۔اللہ تعالیٰ کی فضل کرم سے امام شریعت،سیداوّلیا ،قطبِ ربانی،محبوب سبحانی ،غوث صمدانی حضرت پیران پیرشیخ سید عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ یکم رمضان المبارک بروز جمعہ کے دن 470ھ بمطابق 1075ء کو طبرستان کے قصبے جیلان میں تولد ہوئ

گریٹر اسرائیل… پس ِ منظر اور پیش منظر

یہود ی مذہبی اوربنیاد پرست شاس پارٹی کے رہنما کے ساتھ یہ بیان منسوب ہے جو اس نے 5اگست 2000کو اپنے ایک خطبے میں دیاتھاکہ’’اسماعیلی تمام لعنت زدہ ہیں اور گنہگار ہیں ،خدائے واحد اور اس کی عظمت میں اضافہ ہو وہ اسماعیلیوں کو تخلیق کرکے پچھتارہا ہے ‘‘( نقل کفر ۔ کفر نہ باشد )۔اسی اخباری اطلاع میں عواد یا یوسف کوبراک حکومت کا مذاق اڑاتے ہوئے پوچھتا ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ کسی معاہدے کی کیا ضرورت ہے ، وہ وزیر اعظم براک کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ (براک تم ان سانپوں کو ہمارے دوش بدوش کیوں لانا چاہتے ہو ، تمہیں ذرا بھی عقل نہیں) اور یروشلم پوسٹ 5 اگست 2000 کی اطلاع کے مطابق مجمع نے تالیوں کی گونج سے ان ریمارکس کو سراہا۔  یہ چند جملے اہل یہود کی سوچ و فکر اور یرو شلم سے متعلق ان کے نقطہ نگاہ کی وضاحت کے لئے کافی ہونے چاہئیں لیکن اس بات کو ہمیں مدِ نظر رکھنا لازمی ہوگ

بھارتی آئین: ترقی اور استحکام کیلئے ریڑھ کی ہڈی

آزادی کے بعد، بھارت نے 26 نومبر 1949 کو اپنا آئین اپنایا، جو ایک تاریخی دن ہے۔ آج اس اہم تاریخی واقعہ کی 71 ویں برسی ہے، جس نے آزاد بھارت کی بنیاد رکھی ہے۔ ڈاکٹر راجندر پرساد، پنڈت جواہر لال نہرو، ڈاکٹر بھیم راؤ امبیدکر، سردار ولبھ بھائی پٹیل، شریمتی سوچیتا کرپلانی، شرمتی سروجنی نائیڈو، مسٹر بی۔ این۔ راؤ، پنڈت گووند ولبھ پنت، شری شریت چندر بوس، شری راج گوپالچاری، شری این گوپالاسوامی آیانگر، ڈاکٹر شیام پرساد مکھرجی، شری گوپی ناتھ برڈولوئی، شری جے بی کرپلانی جیسے اسکالروں نے آئین کی تشکیل میں اپنا کلیدی کردار نبھایا۔ بھارتی آئین کو تشکیل دینے کے لئے دنیا بھر کے تمام آئینوں کا مطالعہ اور وسیع تبادلہ خیال کیا گیا۔ آئین بنانے والوں نے اس کا مسودہ تیار کرنے کے دوران اس پر بڑے پیمانے پر غور وخوض کیا۔ اس حقیقت کو آئین کی مسودہ کمیٹی سے سمجھا جاسکتا ہے، جس نے کم وبیش 141 میٹینگیں کی

قرآن الحکیم کا ڈوگری میں ترجمہ

عذراچودھری کا وطنی تعلق جموں وکشمیرسے ہے ۔عذراچودھری کی والدہ کا نام رضیہ بیگم ہے اور ان کی داستان ِحیات نہایت الم ناک ہے ۔ جب1947ء میں ہندوستان آزاد ہوا تو اسی دوران جموں میں مسلمانوں کے ساتھ کافی زیادتیاں ہوئیں اور ان کاقافیہ حیات تنگ کیا گیا ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ مسلم خواتین کے ساتھ بھی زبردستی کی گئیں ۔ان ہی میں سے ایک عذراچودھری صاحبہ کی والدہ رضیہ بیگم بھی تھیں ،جن کے ساتھ بھی ناروا سلوک کیا گیا ۔ جموں فسادات میں رضیہ بیگم کے خاندان کا لوٹ کھسوٹ کیا گیا اور ان کے خاندان سے صرف رضیہ بیگم ہی بچنے میں کامیاب ہوئیںلیکن ان کی شادی زبردستی بلوان سنگھ کے ساتھ کی گئی اور انہیں مجبور اََ ان کے ساتھ رہنا پڑا ۔انھوں نے تین بچوں کوجنم دیا جن میں سے بیٹے کا نام کرن سنگھ ، دوسری بیٹی کا نام انجو او اور تیسری بیٹی کانام دیورانی رکھا گیا ۔ اس کے بعد حالات نے پھر سے کروٹ لی اور بلوان سنگھ لاپتہ ہو

ترنم ریاض: افسانہ ’ یمبرزل ‘ کے آئینے میں

ترنم ریاض ریاست کی ایک واحدفکشن نگار خاتون ہیں جنہوں نے اپنے فن کی بنا پر ریاست سے باہر یعنی بین الاقوامی سطح پر اپنا لوہا منوالیا ۔برقی میڈیا سے وابستہ ہونے کے باوجود انہوں نے اردو ادب،خاص طور پر فکشن کو اپنی نگارشات کی بدولت ایک جہت عطا کی اورجموں وکشمیرکے جن فنکاروں کو اردو ادب میں ایک پہچان حاصل ہے، ان میں ترنم ریاض کا نام بھی شامل ہے ۔انہوں نے اپنی تخلیقی کائنات سے قارئین کو اپنی طرف متوجہ کیا اور جلد ہی اردو کے ممتاز افسانہ اور ناول نگاروں میں شمار ہونے لگیں ۔اب تک ان کے چار افسانوی مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں جن میں یہ تنگ زمین ، ابابیلیں لوٹ آئیں گے، یمبرزل اور آخری مجموعہ جو ۲۰۰۸ء میں شایع ہوچکا ہے ’’میرا رخت سفر ‘‘ ہے ۔ ترنم ریاض کا کینواس موضوع کے لحاظ سے ریاست کے باقی قلمکاروں سے قدرے مختلف ہے۔ انہوں نے مقامی موضوعات کے ساتھ ساتھ برصغیر میں آ