تازہ ترین

انتخابی حد بندی:سیاق و سباق

وفاقی حکومت نے 6 مارچ 2020 کو جموں و کشمیر یونین ٹریٹری کے ساتھ ساتھ دیگر چار ریاستوں کے انتخابی حلقوں (پارلیمنٹ اور اسمبلی) کی سرنو حد بندی کے لئے ایک حد بندی کمیشن تشکیل دیا۔ بادی النظر میں یہ انتخابی انتظامیہ میں معمول کی مشق ہے جو وقتاً فوقتاً کرائی جاتی ہے تاہم سیاسی طور یہ دو انتہائی اہم نوعیت کے معاملات کا فیصلہ لیتی ہے۔اول یہ کہ تمام ریاستوں میں عوامی نمائندوںکی تعداد کیا ہوگی جن میں ممبرا ن پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے ممبران شامل ہوتے ہیں ۔دوم پارلیمانی و اسمبلی حلقوںکی سر نو حدبندی کا کی نشاندہی کرنا۔  اگر انتخابی حدود وقتا فوقتا ایڈجسٹ نہیں کیے جاتے ہیں تو ریاستوں ، خطوں، صوبوں اور اضلاع میں آبادی میں عدم مساوات پیدا ہوتاہے۔یوںآئین ہند کے آرٹیکل 82 میں یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ دس سال کے بعدہر مردم شماری کے بعد حد بندی کی جانی چاہئے۔ یہ لوگوں کی موجودہ اور ہم عصر

موبائل فون اور تعلیمی نظام

آپ سب نے موبائل سکولوں کا نام تو سنا ہی ہوگا ۔یہ وہ سرکاری سکول میں جو جموں وکشمیر انتظامیہ نے خانہ بدوش طبقہ کے بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کیلئے بنائے ہیں ۔ان موبائل سکولوں کے ذریعہ جموں و کشمیر کے میدانی علا قوں سے اپنے مال مویشیوں کے ہمراہ پہاڑی علا قوں کی جانب ششماہی ہجرت کرنے کے دوران بچوں کو ڈھوکوں و میدانی علا قوں میں تعلیم فراہم کر نے کیلئے خصوصی ٹیچر تعینات کرنے کیساتھ ساتھ دیگر اقدامات اٹھائے جاتے ہیں جبکہ موبائل سکولوں کی پوری کارکردگی پر متعلقہ چیف ایجوکیشن آفیسران نگرانی رکھتے ہیں لیکن لاک ڈائون کے دوران موبائل فون بھی اب سکولوں کو چلانے کا کام کرنے لگے ہیں ۔ جموں وکشمیر میں موبائل فون کی آمد کے ساتھ ہی تعلیمی اداروں کی جانب سے بچوں پر موبائل فون ساتھ لانے پر پابندی عائد کر دی گی تھی جبکہ سکولوں و کالجوں میں اگر کسی بھی بچے سے موبائل فون ملتا تو متعلقہ ٹیچر و پرنسپل ا