! قانون کابے جا استعمال ۔سپریم کورٹ کا اظہارِ تشویش | سوال کرنے والوں کو غدارِوطن تصور کیا جارہا ہے

جمہوریت کی آڑ میں جب من مانے نظام کی جڑیں مضبوط ہو نے لگتی ہیں تو حکمرانوں کا مزاج بھی نرالا بنتا جاتا ہے۔ آج ہندوستان میں کچھ ایسا ہی دکھائی دے رہا ہے ۔ملک کے دستوری اور قانونی اداروں کی آزادی اور ان کی غیر جابنداری مشکوک ہو تی جا رہی ہے۔ شہریوں کے حقوق اور ان کی آ زادیوں پر قدغن لگانے کی کوشش جا ری ہے۔ حکومت سے سوال کرنا یا کسی عوامی مسئلہ پر احتجاج کرنااب ملک سے غداری تصور کیا جا رہا ہے۔ مرکز ی حکومت اپنے ہی ملک کے شہریوں پر غداری کے اس قانون کو نا فذ کر رہی ہے جو بر طانوی حکمران تحریک آزادی کی جدوجہد کے دوران مجاہدین آ زادی کے خلاف استعمال کر تے رہے۔ ان حالات میں ملک کی عدلیہ نے اپنی دستوری ذ مہ داری نبھاتے ہو ئے حکومت سے سوال کیا کہ کیا ملک کی آ زادی کے 75سال بعد بھی برطانوی دور کے غداری کے قانون کو دستور میں رکھنا ضروری ہے۔ 15؍ جولائی 2021کو چیف جسٹس این وی رمنا کی زیر قیا

شاہ عبداللہ پر پھر امریکی نظرِ عنایت

جارڈن کے شاہ عبداللہ جنھیں کہ گزشتہ امریکی انتظامیہ نے بالکل حاشیہ پر رکھ دیا تھا، وہ ایک مرتبہ پھر امریکہ کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ اور دیگر مسلم مسائل پر صدر بائیڈن کے ساتھ کام کرتے نظر آئیں گے۔ شاہ عبداللہ عرب سربراہان میں پہلیقائد ہیں جنھیں امریکی انتظامیہ نے صدر جو بائیڈن سے ملاقات کے لیے واشنگٹن مدعو کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات گزشتہ ہفتے19جولائی کو عمل میںآئی۔ تاریخی طور پر امریکہ اور جارڈن کے تعلقات ہمیشہ نہایت قریبی اور دوستانہ رہے ہیں۔ ملاقات کے بعد صدر بائیڈن نے شاہ عبداللہ کو ایک مہذب اور قریبی دوست قرار دیا۔ گو کہ صدر بائیڈن کی خارجہ پالیسی کا محور چین اور روس تصور کیے جاتے ہیں، لیکن انھیں بھی یہ معلوم ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ اور عرب سیاست کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔ نئی انتظامیہ نے اب تک جو اشارے دیے ہیں ان کے مطابق وہ چاہتا ہے کہ علاقائی سیاست اور عرب- اسرائیل تنا

آکسیجن کی کمی،موت کا سبب،45دنوں میں500لوگ مرے ؟

یہ سچ ہے کہ کروناوبا کے دوسرے دور کا زور کچھ ٹوٹا ہےاور ملک نے راحت کی سانس لی ہے۔ اپریل اور مئی کے اخبار اٹھا کر دیکھ لیں توشائد ہی کوئی دن گذرا ہو جب آکسیجن نہ ملنے سے ہوئی اموات کا تذکرہ نہ ہو۔ آکسیجن کی حصولیابی کے لئےلوگ ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال کی طرف بھاگ رہے تھے اور سڑکوں پر غش کھا کر گر رہے تھے۔ آکسیجن نہ ہونے کی وجہ سے اسپتال مریضوں کو داخل کرنے سے انکار کر رہے تھےاورلوگ اپنے پیاروں کی جان بچانے کے لئے آکسیجن سلنڈر کے لئے لمبی قطاروںمیں لگ رہے تھے۔ ایسے میں کچھ خود غرض لوگ وزیر اعظم کے مشورے ’ آپدا میں اوسر‘ پر عمل کرتے ہوئے کرونا وبا کے علاج کے لئے ضروری انجکشن، دوائوں اور آکسیجن سلنڈر کی قیمت کئی گنا وصول کر رہے تھےاور اسپتالوں کی تو گویا لاٹری ہی نکل آئی تھی۔ چند روز کے علاج ، جس میں اکثر مریض کی موت ہی واقع ہو جاتی تھی، ا سپتال کئی کئی لاکھ کے بل تھما

گنجے پن سے نجات پانے کا علاج | علامات ،تحفظ ا ور تدارک

گنج پن مردوں کا ایسا مسئلہ ہے جو بہت عام اور ان کی ذہنی صحت کو پریشان کردینے والا ہوتا ہے مگر اب لگتا ہے کہ سائنسدانوں نے اس کا انتہائی آسان علاج ڈھونڈ نکالا ہے، جس کے لیے پیوند کاری کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔ یہ دعویٰ جاپان میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آیا۔ جاپان کی یوکو ہاما نیشنل یونیورسٹی کی تحقیق میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس میں فرنچ فرائز میں استعمال ہونے والا ایک کیمیکل گنج پن کا علاج ثابت ہوسکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق سیلیکون میں پائے جانے والا کیمیکل Dimethylpolysiloxane، جسے فرنچ فرائز بنانے کے لیے تیل میں شامل کیا جاتا ہے، گنج پن سے نجات دلا کر بالوں کو قدرتی طور پر اگاتا ہے۔ تحقیق کے دوران جب چوہوں پر اس کیمیکل کو استعمال کیا گیا تو بالوں کے غدود زیادہ بننے لگیں اور بال دوبارہ اگنا شروع ہوگئے۔ ابتدائی ٹیسٹ سے عندیہ ملا کہ یہ طریقہ کار ان

واٹس ایپ کا گروپ کالز میں آسانی کیلئے نیا فیچر متعارف | ویڈیو کالز میں لوگوں کی تعداد 4 سے بڑھا کر 8 کردی

مقبول ترین میسجنگ ایپ 'واٹس ایپ نے دنیا بھر میں ایک دوسرے سے رابطے کے لیے استعمال ہونے کے لیے گروپ کالز کے لیے نیا فیچر متعارف کرادیا ہے کہ اب صارفین کوئی بھی گروپ کال مِس نہیں کرسکیں گے۔واٹس ایپ کی جانب سے گروپ کالز سے متعلق صارفین کے لیے آسانیاں لاتے ہوئے اپنے بلاگ میں کہا گیا کہ ایک ایسے وقت میں جب ہم میں سے بہت سے لوگ ایک دوسرے سے دور ہیں، ایسے میں دوستوں اور اہلخانہ کے ساتھ ایک گروپ کال پر اکٹھے ہونے سے بہتر کوئی اور چیز نہیں ہے۔تاہم اس دوران اس سے زیادہ تکلیف دہ احساس کوئی نہیں جب آپ کسی خاص لمحے سے محروم رہ جائیں۔ واٹس ایپ کی جانب سے بلاگ پوسٹ میں کہا گیا کہ جیسے جیسے گروپ کالز کی مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے، سیکیورٹی اور اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن فراہم کرتے ہوئے صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے پر کام کیا جارہا ہے۔میسجنگ ایپلی کیشن کی جانب سے کہا گیا کہ اب کوئی گروپ کال شروع ہ

ورچوئل رِیلِٹی ۔تصورات کو حقیقت کو روپ دے رہا ہے

ٹیکنالوجی نے عالمی معیشت کی کئی صنعتوں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ایسی ہی ایک جدید ٹیکنالوجی کا نام ورچائل ریالٹی ہے۔ ورچوئل ریالٹی کے باعث دنیا اس وقت جن فوائد سے مستفید ہورہی ہے، چند برس پہلے ان کا تصور بھی محال تھا۔ اگر تعمیراتی صنعت کی بات کریں تو ورچوئل ریالٹی کی وجہ سے اب آپ، ایک تعمیراتی پروجیکٹ کے مکمل ہونے سے پہلے ہی اس کی سیر کرسکتے ہیں اور ایک اینٹ رکھے جانے سے پہلے پروجیکٹ کا مکمل انٹیریئر دیکھ سکتے ہیں۔ ورچوئل ریالٹی نے اب ممکن بنادیا ہے کہ آرکیٹیکٹ اور کلائنٹ حقیقی معنوں میں ایک پروجیکٹ کے ڈیزائن پر شراکت دار کے طور پر کام کرسکیں۔ اس سلسلے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ، جیسے جیسے تعمیراتی ادارے ورچوئل ریالٹی کے شعبےمیں اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرتے جائیں گے، اس جدید ٹیکنالوجی کے فوائد میں بھی اضافہ ہوگا۔ Enscapeنامی ایک انقلابی ’ریئل ٹائم رینڈرنگ ‘ سوفٹ ویئر ورچوئل

راجہ یوسف کی افسانہ نگاری

  راجہ یوسف کشمیر کے اسلام آباد ضلع اننت ناگ سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ ضلع میٹھے چشموں‘ صحت افزا مقام ’’پہلگام‘‘ اور دریائے جہلم کے منبع’’ ویری ناگ‘‘ کی بدولت کافی مشہور ہے۔راجہ یوسف افسانہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ تھیٹر آرٹسٹ اور ڈراما نگار بھی ہیں۔اردو اور کشمیری میں لکھتے ہیں۔کشمیری زبان میںان کی ایک اہم ضخیم کتاب’’ویتھ‘‘ کے نام سے ۲۰۱۷؁ء میںمنظر عام پر آئی ہے‘جسے ادبی حلقوں میں کافی پزیرائی ملی۔ اس کتاب میں کشمیر کے اہم تاریخی واقعات کو تخلیقی پیرایہ میں تمثیلی روپ دیا گیاہے جوکہ ایک تو قاری کو کشمیر کی تاریخ سے متعلق جستہ جستہ واقفیت بہم پہنچاتاہے اور دوسرا تمثیلی اسلوب کی دلکشی سے بھی نواز تا ہے۔ تاریخی واقعات کو تمثیلی یا ڈرامائی روپ دینا اور تخلیقی پیکر میں ڈالنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ یہ فنکا

خانہ بدوش لوگوں کی بدحالی | وجوہات اور تدارک

خانہ بدوش جو حرف عام میں بکروالوں کے نام سے جانے جاتے ہیں  جموں وکشمیر کے پشتنی باشندے ہیں اور تقریباً ہر ضلعے میں پائے جاتے ہیں ۔پہاڑوں ،ڈھوکوں ،مرگوں ،دروں اور چراگاہوں سے جونہی برف پگھلتی ہے تو یہ لوگ جموں کے مختلف اضلاع خاص کر راجوری ،ریاسی ،پونچھ اور ادھمپور  سے  مال مویشی سمیت وادی کشمیر کی طرف رخ کرتے ہیں ۔بیشتر لوگ دشوار ترین  پہاڑی راستوں سے گزر کر وادی کشمیر کی مرگوں اور ڈھوکوں میں وارد ہوتے ہیں ۔ان کا یہ سفر کوئی تفریح نہیں بلکہ مجبوری ہوتی ہے ۔یہ لوگ غربت کے شکار تو ہوتے ہی ہیں ساتھ ہی بیکار بھی ۔ ان کی بدحالی اور کسمپرسی ہماری سوچ سے زیادہ ہے ۔بھیڑ، بکریاں ، گھوڑے ،بھینس وغیرہ رکھنا کوئی آسان کام نہیں ہے کیونکہ ان چوپایوں کے لئے غذا کی فراہمی ہمیشہ ایک چلینج بنا رہتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ انہیں سال بھر جگہ جگہ گھومنا پڑتا ہے ۔مال مویشی کو ڈھوکوں اور بہ

سود کی ممانیت اور تباہ کاریاں

ابن ماجہ اور اصبحانی کی ایک روایت جو امامہ غزالی نے اپنی شہر آفاق کتاب مکاشفتہ القلوب میں بھی نقل کی ہے کے مطابق حضور ﷺ کے ایک فرمان میں یہ وضاحت فرمائی گئی کہ معراج کی رات جب ہم ساتویں آسمان پر پہنچے تو میں نے اوپر دیکھا تو مجھے گرج بجلیاں اور شدید اور تند اندھیاں نظر آئیں ۔ پھر میں ایسے لوگوں کے پاس پہنچا جن کے پیٹ مکانوں کی طرح تھے اور باہر سے جھانک کر ان کے پیٹوں میں سے سانپ نظر آرہے تھے۔ جبرئیل ؑ سے دریافت کیا کہ یہ کون لوگ ہیں جبر ئیل ؑ نے فرمایا یہ سود خور ہیں ابو سعید خدری ؓ کی ایک اور روایت جو اصبحانی سے نقل کی گئی ہے میں کہا گیا کہ حضور ﷺ نے فرمایا جب مجھے آسمانوں کی سیر کرائی گئی تو آسمانی دنیا میں دیکھا کہ وہاں پر ایسے آدمی ہیں جن کے پائوں بڑے بڑے مکانوں کی طرح ہیں اور جھُکے ہوئے تھے ال فرعون کی گذرگاہ میں پڑے ہوئے تھے اور ہر صبح و شام جہنم کے کنارے پر کھڑے ہوکر کہتے

حضرت ابودردا ۔ ایک عظیم صحابی | مصیبتوں کو چھُپا،قربِ حق نصیب ہوگا

حضرت سیدنا ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مشہور صحابی ہیں .آپ کا نام عویمر ابن عامرتھا ۔درداءآپ کی بیٹی کا نام تھا. آپ اپنے گھر والوں کے بعد ایمان لائے۔ آپ کے بھائی حضرت عبداللہ بن رواحہ جو اسلام لا چکے تھے .وہ آپ کو اسلام لانے کے بارے میں سمجھایا کرتے تھے۔لیکن وہ اس دعوت کو قبول نہیں کرتے تھے ۔حضرت عویمر نے اپنے گھر میں ایک بُت رکھا تھا ۔جس کی وہ عبادت کیا کرتے تھے۔ایک دن حضرت عبداللہ بن رواحہ نے حضرت عویمر کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھایا ،اپنے پاس موجود کلہاڑے سے اس بُت کو توڑنا شروع کر دیا ۔بصورتِ شعر بتوں کی مذمت کرنے لگے۔اللہ پاک کی وحدانیت کو بیان کرنے لگے۔جب حضرت عُوَیمر گھر آئے ،تو ان کی بیوی نے روتے ہوئے سارا واقعہ بتایا ۔جسے سن کر آپ غصّہ میں آگئے،قریب تھا کہ اپنے بھائی کے خلاف کوئی انتقامی کاروائی کرتے لیکن دریں اثناء دل میں ایک خیال پیدا ہوا کہ اگربُت کے پاس ک

جس نے غنچوں کو کھلایا اور گل تر کردیا

  جن کی کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک ان کی تدریس سے پتھر بھی پگل سکتے ہیں  ایک قوم کی تعمیر میں ایسا ہی مقام رکھتا ہے جیسا کہ پیغمبر اپنے مخصوص قوموں کی تعمیر اور تصحیح کے لیے مقرر کیے جاتے ہیں ایک پائدار اور ترقی یافتہ سماج کا منظر نامہ تب تک قائم نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ اس میں اساتذہ کی حیثیت کا مقام مقر ر نہ ہو ۔ استاد ایک ایسی شخصیت کا نام ہے جو نہ صرف اپنے طلبا ء بلکہ پوری عوام کے دلوں پر اپنے خیالات سے راج کرتے ہیں جن کی روحانی قوت طلبا کی روحانی قوتوں اور صلاحیتوں کو نکھارنے کا کام کرتے ہیں ۔ انہی شخصیتوں میں پروفیسر مجید مضمر ایک ایسے شخص گزرے ہیں جن کی قلندرانہ صفت نے وادی کشمیر کو ہزاروں روحانی سطح پر ایسے افراد تیار کر کے دیے جن کا فیض عام مختلف تدریسی اداروں میں رواں دواں ہے ۔ راقم کو یہ شرف حاصل رہا ہے کہ دوران ایم اے اردو کورس میں میں بھی ایک عام ط

پسِ زندان کی کہانی۔۔۔بابا کی زبانی

 اللہ تعالی کی عظیم نعمتوں  میں سے اولاد بھی  نعمت عظمی تصور کی جاتی ہے۔اسی اولاد کی پرورش اور نگہبانی  میںوالدین کو کن کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اس کا مجھے بخوبی ادراک ہے۔یہی اولاد جب بے گناہ قید وبند  میں شام و سحر گزار تا ہے تو والدین پر کیا بیتی ہے اس کا بھی مجھے پورا احساس ہے۔ میں نے بھی اپنی جوانی کے بارہ سال والدین کی غیر موجودگی میں گزارے ۔میرے والدین پر کیا بیتی ۔ تو پھرخاموشی سے سن لیجئے ۔میرا نا م بشیر احمد بابا ہے  اور میری پیدائی شہر خاص کے ایک مشہور علاقے رعناواری میں 14-04-19975 میں ہوئی ۔اس کے بعد اپنی ابتدائی تعلیم  اپنی ہی علاقے میں حاصل کی ۔  اسلامیہ کالج آف سائنس اینڈ کامرس حول سرینگر سے  بی۔ ای س۔سی2000 میں پاس کیا  اورساتھ ساتھ میں نے ٹیکنیکل ایجوکیشن  کے توسط سے کمپیوٹر سائنس میں ڈپلومہ بھی کیا اوراپنا ایک ک

علیم صبا نویدی کا ایک اور تحقیقی کارنامہ | ’’تمل ناڈو میں اردو افسانہ نگاری‘‘

اردو زبان وادب کی یہ خوش نصیبی ہے کہ اسے علیم صبا نویدی جیسامحنتی،باذوق اور بے لوث شاعر،محقق،نقاد،افسانہ نگار،تاریخ نویس،مترجم ،مفکر اور ایک نیک انسان نصیب ہوا ہے ۔ وہ تقریباً ساٹھ کتابوں کے مصنف ہیں اوروہ کتابیں ہیں جو زبان وبیان ،فکر واحساس اور حقائق کے لحاظ سے مستند اور حوالے  کا درجہ رکھتی ہیں ۔موصوف کی علمی وادبی جستجو کا یہ عالم ہے کہ وہ شعر وادب کی بیشتر اصناف میں کامیاب طبع آزامائی کرچکے ہیں ۔’’ٹمل ناڈو میں اردو ادب کی تاریخ ‘‘اُن کا ایک عظیم ادبی کارنامہ ہے جو دو جلدوں پہ مشتمل ہے اور تقریباً دوہزار صفحات  سے زائدپہ محیط ہے ۔انھوں نے جہاں ٹمل ناڈو میں اردو نثر نگاری کے بارے میں اردو والوں کو متعارف کرایا تو وہیں اس خطے میں نعت گوئی ،قدیم اردو غزل،جدید اردو غزل،پابند نظم ،آزاد نظم ،سانیٹ اورترائیلے جیسی جدید شعری اصناف کو نہ صرف تاریخی ،تہذیب

ذبح عظیم اور توحید کی بازیافت

صحابہ ؓ اگرچہ رسالتمآب ؐ سے بہت کم سوال کیا کرتے تھے، لیکن قربانی کے بارے میں جب آپ ؐ سے استفسار کیا جاتا تھا کہ: "ما ھذہ الاضاحی، یا رسول اللہ ؐ" اے اللہ کے رسولؐ! ہم جو یہ قربانی کرتے ہیں، یہ کیا ہے؟ رسول اللہؐ جوابا" فرمایا کرتے تھے کہ "سنت ابیکم ابراہیم ؑ!" یعنی یہ آپ کے باپ، ابراہیم ؑ کی سنت ہے! مطلب صاف ظاہر ہے کہ صحابہ ؓ سوال برائے سوال نہیں کرتے تھے۔ ان کی غرض و غایت یہ معلوم کرنا ہوتی تھی کہ قربانی کی شروعات کہاں سے ہوئی ہے۔ اصل میں قربانی ابراہیم ؑ کی اس عظیم سعی و جہد کی یادگار ہے جو آنجناب ؑ نے توحید کی بالادستی کے لئے عالمگیر پیمانے پر انجام دی ہے۔ اسی لئے اس کو قرآن نے "ذبح عظیم" (قرآن، 37:107) قرار دیا ہے اور آنے والوں کے لئے یادگار کے طور پر جاری کیا ہے۔ اس طرح یہ قربانی اس جدوجہد کا نقطہ عروج ہے جو ابراہیم ؑنے توحید کی بازی

یومِ عید ۔۔۔لغوی اور شرعی بحث

  لفظ ’’عید‘‘کااطلاق لغت میں ہر اُس دن پر ہوتا ہے جس میں کسی بڑے واقعے کی یادگار منائی جائے اور جو تسلسل کے ساتھ ہر سال آتارہے۱؎۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عید اُس اجتماعِ عام کوکہتے ہیں جو طے شدہ پروگرام کے مطابق باربار منعقد ہو خواہ ہر سال ہو ‘ہر مہینہ ہو یا ہر ہفتے۲؎۔ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ لکھتے ہیں کہ ’’عید کو عید اس لئے کہا جاتاہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر فرحت ومسرت کو لوٹاتے ہیں‘‘۳؎۔ ’’اعیاد‘‘اس کی جمع ہے ‘لیکن قاعدے کے مطا بق اس کی جمع’’اعْواد‘‘آتی ہے ۔پھر ’’اعیاد‘‘اس کی جمع کیوں بیان کی جاتی ہے مولانا عبدالحفیظ بلیاوی حفظہ اللہ نے اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ عربی میں چونکہ لکڑی کے لئے ’’العُوْد‘‘کا لفظ مستعمل ہے

قربانی کا اصل مقصد اور ہمارا معاشرہ

قر بان کا لفظ صدقہ اورقربانی دونوں کے لیے آتا ہے ۔ جوچیز بھی اللّٰه کے حضور قربِ اِلٰہی کے مقصد سے پیش کی جائے وہ قربان ہے اورقربانی کہلاتا ہے ۔ قربانی تسلیم ورضا اورصبر وشکر کا وہ امتحان ہے کہ جس کو پورا کیے بغیردنیا کی پیشوائی اورآخرت کی کامیابی نہیں ملتی ہے ۔ اصل میں اللّٰهِ‎  کے سامنےاپنے تمام جذبات ، خواہشات، تمناؤں اورآرزؤں کوقربان کردینا ہی قربانی ہے۔ قربانی اگر چہ ایک مختصر لفظ ہے ،لیکن انسانی زندگی میں اس کی غیرمعمولی اہمیت ہے۔ اس کی ضرورت انسان کو اپنی زندگی کے مختلف مقامات پر اور مختلف انداز میں پڑتی ہے۔ ساتھ ہی ہر قربانی کے پیچھے کوئی نہ کوئی مقصدہوتاہے۔ انسان جواپنی زندگی کے مختلف مسائل میں الجھا ہوتاہے،اسے قدم قدم پر قربانی دینی پڑتی ہے  اور مقصد جتناعظیم ہوتاہے قربانی بھی اتنی ہی بڑی ہوگی۔ مثلاًانسانی زندگی کا مقصد اطاعت الٰہی ہے جوتقرب الٰہی اور ک

یوم ِ عید ، سیرت ِ ابراہیمی کے چند درخشندہ اسباق

شب و روز کی گردش کے بعد عید الاضحی پھر قدم رنجہ ہے رحمتوں اور برکات کی سوغات لئے ،یہ یوم عظیم اُس رجل عظیم کے ایثار اور مولیٰ کے احکام کی تعمیل میں سر تسلیم خم کرنے کی بے مثال ادائوں کویاد دلاتا ہے جسے کائنات ِ انسانی سیدنا ابراہیم ؑ کے نامِ نامی سے  جانتی ہے ۔ یوں تو اس بطل جلیل کا اپنے فرزند دل بند اسماعیل ؑکو ذبح کرنے کا واقعہ اس عید کا بنیادی پس ِ منظر بھی ہے لیکن مہر نیم روز کی طرح یہ حقیقت بھی چمکتی دھمکتی ہے کہ ابراہیم ؑ کی ساری زندگی اور مبارک سیرت اس عید کی بنیاد بھی ہے اور وجہ بھی!ہاں ذبیحہ کا یہ واقعہ قربانی کا نکتہ عروج ہے۔ دیکھنے کی بات تو یہ ہے کہ کامل طور ایک بت پرست معاشرے میں خلیل اللہ ؑنے آنکھ کھولی اور ساری زندگی آنکھ کھول کر چلے ، آنکھ بند کرکے اس معاشرے کے طرزِ عبادت اور رسوم و رواج کو نہیں اپنایا بلکہ تلاش حق ،جستجو اور تحقیق اس کا شعاررہا ۔ یہاں تک کہ اس

عیدالاضحی کا پیغام

عید الاضحی کے ایام مبارک ہوتے  ہیںچناچہ یہ ایام مسلمانوں کے لئے مسرت اور شاد مانی کا پیغام لاتے ہیں۔ یہ وہ دن ہے جس کو رحمت کا دن کہا گیا ہے کہ اس ٖ دن حاجی صاحبان کے لئے ہر طرف اظہار وتشکر کا سماں ہوتاہے۔شکر کس بات کا ؟اس بات کا اللہ تعالی نے ہمیں ماہ ذی الحج کی صورت میں نیکیوں کا موسم بہار عطا فرمایا کہ اس  مبارک مہینے میں ہم اللہ کی رحمت ،مغفرت اور اجر ثواب سے اپنے دامن کو بھر کرآخرت کی کامیابی کا سامان فراہم کریں ۔۱۰  ذی الحجتہ وہ تاریخ اور مبارک اور عظیم شان قربانی کا یاد گار دن ہے ۔حضرت ابراہیم ؐ نے بڑھاپے میں عطا ہوئے لخت جگر سیدنا اسماعیلؐ کو حکم الہی  کی خاطر قربان  کرنے کا  ایساقدم اٹھایا  کہ آج بھی اس فیصلے کی تعیمل پر چشم فلک حیران  ہے جبکہ دوسری طرف فرمابرادی و جانثاری  کے پیکرسیدنا ابراہیمؐ کے فرزند ارجمند سیدنا اسماعیل ؐ نے

عید الاضحی..... ،کورونا اور وقت کا تقاضا

اس وقت پوری دُنیا سخت آزمایش کا شکار ہے کہ ایک نظر نہ آنے والے مہین سے وائرس نے، جسے ’’کورونا‘‘ کا نام دیا گیا ہے، نوعِ انسانی کو اپنے شکنجے میں یوں جکڑ رکھا ہے کہ ہر فرد خود کو بےبس ومجبور محسوس کررہا ہے۔ قرآنِ پاک کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ آزمایش کے اصول پر بنی اس دُنیا میں اگر اللہ چاہے، تو اپنی مخلوق کو مختلف طریقوں سے تنبیہ کرسکتا ہے، تو یہ اللہ کی طرف سے انتہائی سخت وارننگ ہی ہے،جو یقیناً اس کی ناراضی ظاہر کررہی ہے۔اب یہاں سوال یہ جنم لیتا ہے کہ اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟تو درحقیقت ہماری نیکیوں، عبادات کی وہ روح باقی نہیں رہی، جو اللہ پروردگارِعالم کو مطلوب ہے۔ حق تلفی، ناحق زیادتی، فواحش، ایسا کون سا عمل ہے، جو اس معاشرے میں بُرا سمجھا جاتا ہو اورعام نہ ہو۔دین و دُنیا دونوں ہی کے معاملات میں ہماری سرکشی و لاپروائی عروج پر ہے۔ تو بلاشبہ اللہ ہم سے سخ

قربانی کا حقیقی مقصد اور اس کی اہمیت

جنگ قادسیہ کا موقع تھا۔حضرت خنسا ؓ، جو عرب کی مشہور شاعرہ تھیں ،  اپنے شیر سے بیٹوں کو بلایا اورکہا:’’ بیٹا! کل جب جنگ  میں شریک ہونا تو سینے پر زخم کھانا ، پیٹھ پر زخم نہ کھانا‘‘ ۔ا س کے بعد شہادت پر ابھارنے والے اشعار پڑھے۔شہادت کے جذبے سے سر شار چاروں بیٹے میدان جنگ میں امّی کے اشعار پڑھتے ہوئے شہید ہو گئے جب حضرت خنساؓ کو پتہ چلا تو فرمایااللہ کا شکر ہے۔کل آخرت میں ، میں چار شہداء کی ماں کہلاؤں گی۔؎ شہادت مطلوب و مقصود مومن نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی کشادِ در ِدل سمجھتے ہیں اس کو  ہلاکت نہیں موت ان کی نظر میں آخر یہ قربانی ہی تو تھی کہ شراب جیسی محبوب چیز جب حرام قرار دی گئی تو دور صحابہ میں مدینہ کی گلیوں میں شراب سیلاب کے پانیوں کی طرح بہائی گئی کہ شراب مٹی میں جذب ہوتی تھی۔اس منظر کو دیکھ کر پرانے  یہودی بادہ کشو

تازہ ترین