انسانی امن کی پرَکھ سماج میں ہوتی ہے

آج ہم جس عہد میں زندگی گزار رہے ہیں ،بلا شبہ اسے ڈِس انفارمیشن کا دور کہا جا سکتاہے۔ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا سے دن رات ہر قسم کا پروپیگنڈہ پڑھنے اور سننے کو ملتاہے۔ ایک ہی موضوع پر مثبت اور منفی، متضاد دلائل دستیاب ہیں۔ ایسے میں انسان حیران و پریشان رہ جاتاہے کہ سچ تک کیسے پہنچا جائے۔ انسان کے لئے اگرچہ سچ ڈھونڈنا دشوار ضرور ہوتا ہے ناممکن نہیں،لیکن بدقسمتی یہ ہوتی ہے کہ کوئی بھی انسان کسی نہ کسی طرح جھوٹ کی فضا میں بہک جاتا ہے اور جھوٹ میں بہہ کر سچ کے سامنے اندھا ،بہرا اور گونگا بن جاتا ہے،یہ جانتے ہوئے بھی کہ جھوٹ بالآخر جھوٹ ہی ہوتا ہے جسے چھپانے کے لئے بہت ساری سچائیوں کا دَم گھونٹناپڑتا ہے۔ جس کے نتیجے میںزیادہ تر انسان محض اپنی نفسیاتی اور فطری خواہشات کا محتاج بن کر رہ جاتا ہے اور اِس محتاجی کے باعث کسی بھی وقت اپنے اصل درجے سے گِر کر اْلجھ جاتا ہے ، بھٹک جاتا ہے اور پھر گم

معاشرے یونہی تبدیل نہیں ہوتے

انسان نے یقیناہر دور میں کوشش کی ہے کہ اس کی اجتماعی معاشرتی زندگی مستحکم رہے۔ جب حیاتِ انسانی کے ارتقا پر نظر ڈالیں تو ہمیں اِس کا رخ اجتماعیت کی طرف ہی نظر آتا ہے۔ تاریخ انسانی نے مختلف معاشرے تشکیل دئے اور گردشِ زمانہ نے مختلف معاشروں کو پیوند خاک بھی کیا جب انہوں نے اجتماعی طور پر فطرت کے متعین کردہ اصولوں سے انحراف کیا۔  کوئی بھی معاشرہ مکمل جامد تو کبھی نہیں ہوتا۔ کچھ نہ کچھ بدلتارہتا ہے۔ یہ عمل بالعموم غیر محسوس نوعیت کا ہوتا ہے۔ اندر ہی اندر بہت کچھ بدل چکاہوتا ہے تب کسی بڑی تبدیلی کا دیدار ہوتا ہے اور ہم حیران رہ جاتے ہیں۔ دنیا میں کوئی بھی معاملہ اپنی اصل میں حیرت انگیز نہیں۔ اگر ہم معاملات کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہیں اور دیکھنے والی نظر پیدا کریں تو بہت کچھ تبدیل ہوتا ہوا دکھائی بھی دیتا ہے اور محسوس بھی کیا جاسکتا ہے۔ کشمیری معاشرہ بھی تبدیلیوں کے مختلف مراحل سے گ

محکمہ جل شکی اقبالِ جرم کرے

پینے کے پانی کی قلّت سے متعلق سالہاسال سے خبریں اور مضامین شایع ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں شایع شدہ مضامین اور خبروں کی چند جھلکیاں:  * مضمون : ضلع پونچھ کے سیڑھی چوہانہ علاقے میں 35 سالہ خاتون سلمیٰ بانو کی کہانی کشمیر عظمیٰ میں ہی چھپی تھی۔ سلمیٰ نے پینے کے پانی کی قلّت کے باعث تعلیم کو ترک کردیا ہے کیونکہ پینے کا پانی لانے کے لئے اْسے روزانہ تین کلومیٹر سفر کرنا پڑتا ہے اور اس مہم میں تین گھنٹے صرف ہوتے ہیں۔ اْن کا کہنا تھا: ’’میں بچپن سے ہی کھانے پینے اور نہانے دھونے کے لئے پانی سر پر اْٹھا رہی ہوں۔ گھر میں مہمان ہوں تو اْنہیں تین گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے، دریا سے پانی لاتی ہوں پھر جاکے اْن کی تواضع کرتی ہوں۔ سیڑھی چوہانہ کی کئی بستیوں کا یہی حال ہے۔ * خبر:  پٹن کے گھاٹ علاقے میں سرپنچ کے گھر سے لاکھوں روپے مالیت کی پانی کی سپلائی پائپیں ضبط کی گئیں اور محک

صفحۂ کاغذ پر جب موتی لٹا تا ہے قلم

کانپتے ہیں اس کی ہیبت سے سلاطین زمین  دبدبہ فرمان رواؤں پر بٹھاتا ہے قلم جب قلم فیصلہ صادر کرنے والے لوگوں کے ہاتھ میں آتا ہے توموت اور زندگی کا تعین کرتاہے ۔یہی قلم جب حساب لکھنے والے فرشتوں کے ہاتھ آتا ہے تو آدمی گناہ اور ثواب کے ترازو میں لٹک جاتا ہے اور آخرت کے لئے قلمبند ہو جاتا ہے ۔ ایک طالب علم دنیا کے تمام علوم کو جب حاصل کر لیتا ہے ،پڑھ لیتا ہے ، جان لیتا ہے اور دماغ میں ان علوم کے حاصل شدہ مقاصد کو محفوظ رکھتا ہے تو اس کاابتدائی سفر قلم کی سیاہی سے ہی شروع ہو جاتا ہے ۔اس طرح طالب علم اور قلم کے درمیان گہرا رشتہ پیدا ہو جاتا ہے ۔یہ وہ رشتہ ہوتا ہے جس کا خون سے بھی عزیز تر ہونا لازم ہے کیونکہ اسی سے علوم کودوام حاصل ہے کہ وہ رقم ہو رہا ہے ۔  شاعر اور ادیب تب نام حاصل کرتے ہیں جب ان کا کلام ،کام تحریری صورت میں عوام یا قاری تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ رشتہ شاع

عقل بہترین رفیق کار

انسان کا اپنی خصوصیات سے نکلنا اور ایسے ذہنی و نفسیاتی مزاج سے علاحیدہ ہونا جس میں کوئی کجی نہ ہو ،انسان کی زندگی خراب کردیتا ہے اور اس کے طرز عمل میں انتشار پیدا کردیتا ہے۔کوّاجب ہنس کی چال چلنے لگتا ہے تو وہ نہ تو زمین پر ہی چل پاتا ہے اور نہ ہی آسمان میں اُڑپاتا ہے۔انسان کچھ اور بن جائے یہ تو بہت دشوار چیز ہے خواہ وہ کتنی ہی کوشش کیوں نہ کرلے۔ماہرین نفسیات کے حساب سے جو کچھ ہمیں ہونا چاہئے تھا اگر ہم اپنے آپ کو اس معیار پر جانچیں تو صاف نظر آئے گا کہ ہم نصف زندہ ہیں کیونکہ ہم اپنے جسمانی و ذہنی وسایل کا بہت کم حصہ استعمال کرتے ہیں یعنی ہم میں سے ہر شخص اُن تنگ حدوں میں زندگی گذارتا ہے جو اُس نے اپنی حقیقی حدوں کے اندر بنا رکھی ہیں۔وہ مختلف طرح کی بہت سی صلاحیتیں رکھتا ہے لیکن عام طور پر اُن کا احساس نہیں کرتا یا اُن کا بھرپور استعمال نہیں کرتا ۔ہماری تخلیق اتنی باریکی سے کی گئی ہ

تازہ ترین