تازہ ترین

وبائی دور میں آن لائن ایجوکیشن

کورونا وائرس ایک ناگہانی بلا کی صورت میںدنیا پر مسلط ہے۔ دنیا کا کوئی ملک اس بلائے ناگہانی کا سامنا کرنا تو کجا، اس سے بچاؤکا متحمل نہیں ہے۔کورونا کے پھیلاؤ کا سب سے بڑا خطرہ اسکولوں اور تعلیمی اداروں پرمنڈلاتے دیکھ کر انہیں فوراً بند کردیا گیا جس کی وجہ سے روایتی طریقہ تعلیم تقریباً منقطع ہوچکا ہے۔ یونیسکو کی ایک رپورٹ کے مطابق 114 سے زائد ملکوں میں تمام اسکول اور کالج بند پڑے ہیں۔ پوری دنیا میں ایک عرب طالب علم اس سے متاثر ہیں۔  بچوں کو اس وائرس سے محفوظ رکھنے کیلئے حفاظتی اقدامات کے بطورنجی و سرکاری تعلیمی ادارے غیر معینہ مدت تک بند کردئے گئے اوراب تعلیمی اداروں کو بند ہوئے تقریباً پانچ ماہ گزر چکے ہیں۔ جو غیر یقینی صورتحال پہلے تھی آج بھی جوں کی توں برقرار ہے۔ہم دنیا کے ایک ایسے حصے میں رہتے ہیں جہاں ہنگامی حالات کوئی نئی بات نہیں بلکہ اب تو ہم ان حالات کے اتنے عادی ضرو

منشیات۔۔۔ اغیار کا پنجہ استبداد

علامہ اقبال ؒ کا ایک مشہور شعر ہے ۔    ؎ ساحرِ الموط نے تجھ کو دیا برگِ حشیش  اور تو اے بے خبر سمجھا اسے شاخِ نبات ”الموط “قدیم زمانے میں عرب ممالک کے اندر ایک قلعہ تھا ،جس کے متعلق لوگوں میں یہ یقین بیٹھا تھا کہ جوبادشاہ اس قلعہ پر حاکم ہوجاتا ہے، اُسے اس قدر طاقت(power) حاصل ہوجاتی ہے کہ دنیا اس کے آگے سرِ تسلیم خم کرلیتی ہے۔اتفاق سے یہ قلعہ ایران کے بادشاہ حسن صباح نے فتح کر لیا اور وہ اس پر حاکم ہوگیا۔دیکھتے ہی دیکھتے اس کی سلطنت وسیع سے وسیع تر ہوتی گئی۔وہ اردگرد کے بیشتر شہروں اور بستیوں پر حکومت کرنے لگا۔اس کی رعایا میں مختلف مذاہب اور قوموں کے لوگ شامل تھے۔وہ اپنی حکومت کو دنیا کی طاقت ور ترین حکومت (   Super Power) بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش میں مصروف تھا۔وہ ہر قوم کو محکوم اور مغلوب بنارہاتھا ۔اُن پر اپنی جابرانہ حکومت اور قوان

اسپین کی جغرافیائی حدود

ملک اسپین ”جزیرہ نما“ ہے اِس کے تین سمتوں میں سمندر ہے ۔ مشرق اور جنوب میں بحیرہ روم ہے جسے ”بحر متوسط ، بحرشام اور بحر مشرق“ بھی کہتے ہیں ۔ جنوب میں آبنائے ”جبل الطارق“ ہے جسے آج کل آبنائے ”جبرالٹر“ کہا جاتا ہے اور اِسے عرب ”بحر زقاق“ بھی کہتے ہیں۔ ”آبنائے جبل الطارق“ ملک اسپین کے جنوبی گوشہ اور براعظم افریقہ کے شمالی گوشہ میں ہے ۔ یہی آبنائے براعظم یورپ کو براعظم افریقہ سے الگ کرتی ہے کیونکہ ملک اسپین براعظم یورپ کا حصہ ہے ۔ ملک اسپین کے جنوب مغرب میں ، مغرب میں اور شمال مغرب میں اور شمال میں ”بحر اوقیانوس“ ہے ۔ جسے عرب ”بحر محیط ، بحر ظلمات ، بحر مظلم اور بحر اعظم“ بھی کہتے ہیں۔ آج کل اِس کا نام ”بحر اٹلانٹک“ بھی ہے۔ ملک اسپین براعظم یورپ کے جنوب مغرب میں واقع ہے اور شما

ملازمتوں کیلئے اعلیٰ تعلیم یا فتہ ہونا ایک جرم

 یونین پبلک سروس کمیشن کے ایک تازہ حکمنامے کے مطابق گریجویٹ امیدواروں  کے علی الرّغم اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو سیول سروس امتحان میںشامل ہونے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔اس نو ٹیفکیشن کے پس پردہ کیا محرکات ہیں ،یہ جا ننا ابھی باقی ہے۔حکومت میں موجود افسران اور بیورو کریٹس اس حوالے سے کیا موقف رکھتے ہیں اور کس طرح سے اس معا ملے کو دیکھتے ہیں؟۔ ظاہر ہے اسکی بھی ابھی صرا حت نہیں ہوئی ہے ۔کئی سارئے افسران ایسے بھی ہیں جنہوں نے خود ڈاکٹریٹ اور ماسٹرس ڈگریاں حاصل کرنے بعد سول سروس امتحان میں حصہ لیا ہو۔ کیا ماضی میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو کبھی سول سروس امتحانات میں شامل ہونے سے محروم رکھا گیا؟ کیا عدلیہ میں اسکی کوئی گنجایش باقی ہے؟ کیا ایک متحرک سیاسی نظام کو چلانے کے لئے ایسی کوششیں بار آور ثابت ہوسکتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ  اسطرح قوم کی نیا کنارے نہیں لگ سکتی ہے بلکہ مستحقین

کورونا وائرس کا خطرہ اور ہمارا کام

 کرورونا وائرس کی وجہ سے اس وقت ساری دنیا پریشانی میں مبتلا ہے اور یہ وباء کئی ماہ سے مسلسل لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لیتی جا رہی ہے اور آج ہر طرف سے موت کی خبریں کثرت کے ساتھ سنائی دے رہی ہیں اور اس کی وجہ سے لوگ دہشت ووحشت محسوس کر رہے ہیں ۔ لیکن اس وقت ہمیں وحشت ودہشت میں پڑنے کے بجائے دو کاموں کی جانب توجہ دینا چاہیے ۔  ایک تو یہ کہ اس سے خود بچنے اور دوسروں کو بچانے کی فکر وتدبیر کرنا چاہیے ، کیوں کہ امراض اور وباؤں اور مصائب و پریشانیوں سے محفوظ رہنے کی فکر وتدبیر اسلامی نقطۂ نظر سے بھی ایک مشروع عمل ہے اور دنیوی نقطۂ نظر سے بھی ایک معقول بات ہے؛ مگر لوگوں میں اس سلسلے میں بے احتیاطی پائی جا رہی جو اس وائرس کے خطرے کو روز بروز بڑھا تی جا رہی ہے ۔  لہٰذا حکومت کی جانب سے اور اطباء کی جانب سے اس سلسلے میں جو احتیاطی تدابیر پیش کی جا رہی ہے ، ان کو اللہ کے بھ

’تھری جی ‘تو نا ملا ،اب’ فورجی ‘تو دیں

پندرہ اگست2017کو وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارت کی سترویں یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ سے اپنے روایتی انداز میں تقریر کی۔شعلہ بیانی میں توخیر وہ گفتار کے غازی ہیں ہی جیسا کہ کرپشن ختم کر دوں گا، بے روز گاری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکوں گا، کوئی غریب نہیں رہے گا، چوری سے ملک کے باہر بھیجا گیا دھن واپس آئے گا اور معیشت میرے آتے ہی آسمان سے باتیں کرنے لگے گی وغیرہ۔ یہ سب  نریندرمودی کی بے پناہ تقریری صلاحیتوں کا کمال تھا کہ ان میں ایک کام بھی ڈھنگ سے نہیں کیا لیکن دونوں مرتبہ یعنی2014 اور2019 میں جی بھر کے ووٹ بٹورے ۔ چلتے ہیں موضوع کی طرف، لال قلعہ سے اس بھاشن میں موصوف نے جموں و کشمیر کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور باقی ہم وطنوں کو صاف الفاظ میں ہدایات جاری کیں کہ 'نہ گولی سے نہ گالی سے، کشمیر کی سمسیا سلجھے گی گلے لگانے سے" ۔بظاہر تو بڑی اچھی بات لگی لیکن اندرون خانہ کچھ اور

دفعہ 370| پُل سے رُکاوٹ تک

1۔دفعہ 370 انتہائی متنازعہ اور بہت سی متصادم حقائق کی شدت سے دعویداری کی علامت تھی۔ سیاسی میدان عمل کے ہر رنگ ۔ علیحدگی پسندوں سے لے کر خود مختاری کے توسط سے انضمام پسندوں تک سبھی نے اپنے دائرہ کار میں اس کے معنی نکالے۔  2۔ دائیں بازو کی قدامت پسند جماعتوں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کے ساتھیوں کے لئے کشمیر کی خصوصی پوزیشن ان کے نظریہ ٔ قوم ،قومی ریاست اورقوم پرستی کی نفی تھی۔ وفاق ایک صوبہ کے ساتھ خود مختاری کو کیسے بانٹ سکتاہے؟ مسلم اکثریتی ریاست ہونے کی وجہ سے بلاشبہ جموں و کشمیر نے اسے نہ صرف نظریاتی طور پر گستاخانہ بنایا ، بلکہ سیاسی طور پر ناقابل قبو ل بھی بنایا۔  3۔ بے شک خصوصی آئینی انتظامات کے کچھ دن بعد ہی جن سنگھ ، جو بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) بن گئی ، نے جموں میں "ایک ودھان ، ایک پردھان ، ایک نشان" ایجی ٹیشن شروع کی جہاں اس

سماج اور سماجی اصلاح

اگر فرد بشر کو کتاب بشریت کی ایک پرت سے تشبیہ دی جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ اس پرت کے دورخ یعنی دو صفحے ہیں۔ ایک صفحہ پر اجتماعیت کا رنگ غالب ہے اور دوسرا صفحہ ذاتی و انفرادی نقش و نگار سے بھرا پڑا ہے۔ شیرازہ بندی نہ ہونے کی صورت میں بشریت کے یہ اوراق حادثاتِ زمانہ اور قدرتی آفات کے طوفان سے خس و خاشاک کی مانند کائنات کی وسیع فضا میں گم ہوسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قدرت نے فطری طور ان اوراق کی شیرازہ بندی کا انتظام کررکھا ہے۔ اس قدرتی شیرازہ بندی پر عالم انسانیت کی حیات کا دارومدار ہے۔؎  ہیں ربط باہمی سے قائم نظام سارے  پوشیدہ ہے یہ نکتہ تاروں کی زندگی میں واضح طور پر کہا جاسکتا ہے کہ خالق ہستی نے انسان کی فطرت میں ہی باقی ہم جنس انسانوں کیساتھ جذب و میلان رکھا ہے۔ نافہم بچے کا اپنی ماں یا دیگر مانوس افراد کی وقتی جدائی پر بھی چیخنا چلانا بتاتا ہے کہ انسان فطرتا ًانجمن

جموں و کشمیر کے خوشبو دار و ادویاتی پودے

کرۂ ارض پر زندگی کے ضامن سرسبز جنگلات،جن کی اہمیت و افادیت سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا ،قدرت کی عطا کردہ بے شمار نعمتوں میں سب سے انمول نعمت ہیں۔ ان کے ان گنت فوائدانہیں باقی تمام نعمتوں سے برتری عطا کرتے ہیں ۔ انسانی گردش زندگی میں انکا اہم کردار غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ان سے نہ صرف کھانے سے متعلق ضروریات کی تکمیل ہوتی ہے بلکہ روح عالم سے نازک توازن بنانے میں بھی یہ پیش پیش رہتے ہیں۔  کاربن سائیکل ہو یاغذائی سلسلہ کے پیرامڈ، دونوں میں بھی یہ اعلیٰ ترین مقام ہی حاصل کرتے ہیں۔ان کی افادیت کو دیکھتے ہوئے انہیں کئی ڈھانچوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ان میں ادویاتی پودے نہ صرف اپنی طبی اہمیت رکھتے ہیں بلکہ آمدنی کا بھی ایک ذریعہ بن جاتے ہیں۔ہمارے جسم کو صحت مند بنائے رکھنے میں ادویاتی پودوں کی بے شمار اہمیت ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی پرانوں،اپنشدوں،رامائن اور مہابھارت جیسے مستند نصو

مال و اسباب اطمینانِ قلب کا باعث نہیں

اسباب تعیش کے باوجودآج ہم پریشانی کا شکار ہیں ، روحانی اور قلبی سکون کسی کو حاصل نہیں ہر ایک کو بے برکتی کا شکوہ ہے۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ آج زمانہ ترقی پزیر ہے۔ سائنس نے اتنی ترقی کی کہ رزق حاصل کرنے کے لیے اور مال و دولت کمانے کے لئے وسیع تر امکانات پیدا کر دئیے ہیں۔ نئی نئی کمپنیاں اور کارخانیں وجود میں آئیں ، چلنے پھرنے کی دوڑتی ہوئی گاڑیاں ، بڑی بڑی عمارتیں ، خوبصورت رہائش گاہ، ایسی ہی رنگ برنگ چیزیں وجود میں آئیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ انسانی زندگی کے آسائش و آرام اور ارمانوں کی تکمیل کے لیے نئی نئی راہیں کھلتی گئی اور ترقی اس حد تک بڑھ گئی کہ جس انسان کو کل تک سائیکل بھی میسر نہیں تھی آج وہ قیمتی گاڑیوں میں سفر کر رہا ہے جھونپڑیوں میں زندگی بسر کرنے والے آج عالیشان رہائش گاہوں میں عیش و آرام کی زندگی گزار رہے ہیں۔جو کل تک ایک ایک پیسے کے لئے تڑپتا تھے وہ آج کروڑوں کے

برطانیہ میں مذہبی منافرت قانون پر نظر ثانی

ایسی اطلاعات ہیں کہ برطانیہ نے مذہبی منافرت قانون پر نظر ثانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اسی قانون کے تحت برطانیہ نے ہندوستانی مبلغ ڈاکٹرذاکر نائک کو 2010میں ملک میں داخل ہونے پر پابندی لگادی تھی۔ اطلاعات کے مطابق برطانیہ کے انسداد دہشت گردی کمیشن کے سابق سربراہ کی قیادت میں ایک کمیٹی موجودہ قانون پر نظر ثانی اور ایک نئے قانون کی سفارش کرے گی تاکہ سماجی اجتماعات کے ذریعہ یا سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کا استعمال کرکے منافرت پھیلانے کی رجحان کو روکا جاسکے۔ پیس ٹی وی کے خلاف کارروائی ڈاکٹر ذاکر نائک کو اشتعال انگیز تقریریں کرنے کی وجہ سے برطانیہ کی سابق وزیر اعظم تھیریسا مئے ، جو اس وقت وزیر داخلہ تھیں، نے برطانیہ میں داخل ہونے پر پابندی عائد کردی تھی۔انسداد انتہاپسندی کمیشن (سی سی ای) نے گزشتہ جون میں کہا تھا کہ ڈاکٹر نائک کا چینل اسلامی انتہاپسندی کی مثال ہے اور اس کے رویے نے منافرت کے خل

کمیونٹی کلاسزبہترین متبادل

ہمارا نظامِ تعلیم ابھی تک بھی معروضی طور طریقوں پر استوار ہے۔ ہم نئی نئی ایجادات و منکشفات کا خاطر خواہ استعمال نہیں کر رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے آنے سے جہاں ہر کسی شعبے میںانقلاب برپا ہوگیا ہے وہیں اس کا بہترین مصرف نظام تعلیم پر بھی ہو سکتا ہے۔ تعلیمی نفسیات (Educational Psychology)کے ضمن میں جہاں ماہرین نہایت ہی کارگر مشوروں سے نوازتے رہتے ہیں وہیں اُس کے بالمقابل ہم پرانے راگ الاپنے میں ہی مست ہیں۔ اسی صورتحال میں جب کورونا وائرس نے نظام زندگی کے ہر ایک شعبے پر یلغار کی تو اِس کا خاصا اثر نظامِ تعلیم پر بھی پڑا۔ ماہرین کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی اس صورتحال کو لے کر متبادل ڈھونڈنے پر مجبور ہو گئے۔ متبادلات کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہم اس ایک ماحول میں پہنچے جہاں ہمارے تمام پرانے طریقہ کاروں پر کاری ضرب پڑ گئی۔ مثال کے طور پر بچوں کا موبائل فون استعمال کرنااسے پہلے منع تھا، لیکن آج جس کے پاس مو

عربی زبان پرکورونا کے اثرات

  کرونا(کورونا) کے وبائی مرض نے ساری دنیا کو اپنی چپیٹ میں لے لیا ہے۔ ہر شعبۂ حیات پراس نے اپنا اثر مرتب کیا ہے۔حکومت ہویاعوام، امیرہو یا غریب، مردہو یا عورت، جوان ہو یا بوڑھا، حاکم یا عوام سبھی اس سے متاثر ہوے ہیں۔اس نے ہمیں اپنے اپنے گھروں میں قید کردیا ہے۔ایک دوسرے سے دور کردیا ہے۔ہمارے اخلاق وعادات رہن سہن کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ہمارے سونے جاگنے، اٹھنے بیٹھنے کے اوقات کو بدل دیا ہے۔ سیاسیات وسماجیات، صنعت وحرفت اورہماری اقتصادیات پر ایسا اثر ڈالا ہے کہ برسوں اس سے نکلنا مشکل ہوگا۔ہمارے جذبات واحساسات ، ہماری زبان، تہذیب اور کلچر پر بھی اس کے اثرات کافی طویل عرصے تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔ ہمارے شعراء ، ادباء ، کہانی کاروں نے جتنا اس وبائی مرض کو اپنے افکاروخیالات اورجذبات واحساسات کے پیکر میں ڈھالا ہے ماضی قریب میں اس کی مثال کم کم ملتی ہے۔ بے شمار شعر، غزلیں اور قصیدے کہے

ڈاکٹر فرید پربتیؔ

کچھ شعرا ء ایسے ہوتے ہیں جو جلد اپنے تمام تر امکانات ظاہر کردیتے ہیں اور پھر خاموش ہوجاتے ہیں۔کچھ ایسے ہوتے ہیں جو عمر بھر ایک ہی رنگ میں شاعری کرتے رہتے ہیں۔ایسے چند شعرا ء ہی ہوتے ہیں جوآخر تک اپنی بازیا فت و بازدید میں سر گرداں رہتے ہیں۔فریدپربتیؔ کا تعلق جموں و کشمیر کے شعراء کی اسی صف سے ہے ،جن کا تخلیقی سفر عمر بھر جاری رہا۔ شہر خاص کے ادبی ستاروں میں ایک نام ڈاکٹر فرید پربتی ؔکا بھی ہے ۔آپ کا اصلی نام غلام نبی بٹ ہے۔ آپ ۴ اگست۱۹۶۱ء شہر خاص کے سنگین دروازہ حول سرینگر میں تولد ہوئے۔فرید پربتیؔ نے اردوشاعری کا باقاعدہ آغاز1980 میں کیا۔اب تک اردو میں ان کے اٹھ شعری مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں۔جن میں’’ابر تر1987 ‘‘، ’’آب نیساں1992 ‘‘ ،’’اثبات1997 ‘‘ ، ’’فریدنامہ2003 ‘‘ ، ’&rsqu

اکیسویں صدی میں جموں وکشمیر میں اردو ادب

جموں وکشمیرمیں اُردوزبان وادب کی تاریخ دوسوسال سے کم ہے لیکن اس کے باوجود اس زبان میں یہاں ایسے نامورشعراوادباپیداہوئے جنھوں نے اُردوشعروادب میں ایک منفرد مقام حاصل کیاجن کی نگارشات کی وجہ سے یہاں اُردوشعروادب کاایک وافرذخیرہ موجود ہے۔اس ذخیرہ میں سے اگرچہ کہ بعض حصہ مختلف حادثات ،واقعات کے سبب تلف ہوچکاہے لیکن اس کے باوجوددبستان جموں وکشمیرمیں اُردوزبان وادب نے ترقی کی مختلف سیڑھیوں کوطے کیاہے ۔ابتدامیں یہاں شعروادب میں فنی تاریخ رقم کرنے والوں میں محمددین فوق ،نرسنگھ داس نرگس ،قدرت اللہ شہاب ،پریم ناتھ در ،پریم ناتھ پردیسی ،محمودہاشمی ،محمد عمرنورالٰہی ،صاحبزادہ محمدعمر،عزیزکاش ،موہن یاور ،جگدیش کنول ،سوم ناتھ زتشی،گلزاراحمدفدا ،غلام حیدرچشتی اوررامانند ساگرسے لے کرنورشاہ، پشکرناتھ ،علی محمد لون ،ویدراہی ،برج کتیال اور غلام رسول سنتوش وغیرہ تک افسانہ نگاراورادیب شامل ہیں وہیں شاعری م

ہمارا اجتماعی رویہ؟

قومیں اپنے اجتماعی رویے سے پہچانی جاتی ہیں۔ کسی قوم کے اجتماعی رویے میں تہذیب اور بلند اخلاقیات اْس وقت منعکس ہوتی ہیں جب شرحِ خواندگی بلندیوں کو چھو رہی ہو اور اساتذہ کی اخلاقیات بھی اعلی درجے کی ہوں۔ بدقسمتی سے تاحال ہمارے یہاں یہ دونوں ہی روبہ زوال ہیں جس کی وجہ سے ہمارے اجتماعی رویے شرمناک حد تک خراب ہیں۔آج کے اسِ کرونائی عہد میں بھی جب جب لاک ڈاون اٹھایا جاتا ہے تو کیا ہم مصروف بازاروں میں بھیڑ بھار کرنے سے پرہیز کرتے ہیں؟ لائن بنا کر مسافر بس میں سوار ہوتے ہیں؟جہاں کہیں بھی پبلک بیت الخلا (ٹوائلٹس )ہیں،کیا ان کی صفائی اطمینان بخش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں؟کرونا کی وبائی بیماری سے بچنے کے لئے احتیاتی تدابیر پر عمل کرتے ہیں؟ اس وقت بھی گھروں میں کھانا ضائع نہیں کرتیہیں؟ استاد اورامام کو حقارت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے ہیں؟ چلتی گاڑی سے سڑک پر کوڑا نہیں پھینکتے ہیں؟ بجلی کی چوری نہیں کرت

خطبہ حجۃ الوداع|اسلامی نظام کاجامع دستور العمل

 خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت کو23سال پورے ہونے کو تھے ، حج کامہینہ بالکل قریب آن پہنچا تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے 23سالہ دور رسالت کی ہمہ جہت تعلیمات کا خلاصہ پیش فرمانا چاہ رہے تھے ،چنانچہ دین کی جامع ترین عبادت حج کا ارادہ کیا ،اطرافِ مکہ میں آپ کی آمد کی اطلاع پہنچی، تمام قبیلوں کے سردار اور نمائندگان اپنے اپنے قبائل کے افراد کے ہمراہ اس عظیم اجتماع میں جمع ہونا شروع ہو گئے ، مسلمانانِ عرب کے بڑے بڑے قافلے جوق در جوق مکۃ المکرمہ جانے لگے۔26 ذوالقعدہ 10 ہجری اتوار کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرماکر احرام کی چادر اور تہبند باندھا،نماز ظہر کی ادائیگی کے بعدمدینہ سے مکہ کی طرف سفر شروع فرمایا۔ ازواج مطہرات بھی آپ کے ہمراہ تھیں۔ مدینہ سے چھ میل کے فاصلے پر ذوالحلیفہ جو مدینہ منورہ کی میقات ہے وہاں پہنچ کر شب بھر قیام فرمایا۔ اس کے بعد دو نف

قربانی اور ارشاداتِ نبویؐ

فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ: سو آپ اپنے پروردگار کی نماز پڑھئے اور قربانی کیجئے۔  اونٹ کی قربانی کو نحر کہا جاتا ہے، اس کا مسنون طریقہ اس کا پائوں باندھ کر حلقوم میں نیزہ چھری مار کر خون بہا دینا ہے، جیسا کہ گائے وغیرہ کی قربانی ذبح کرنا (یعنی جانور کو لٹا کر حلقوم پر چھری پھیرنا ہے) عرب میں چونکہ عمومًا قربانی اونٹ کی ہوتی تھی، اس لئے قربانی کرنے کے لئے یہاں لفظ و انحر استعمال کیا گیا۔ بعض اوقات لفظ نحر قربانی کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، اس سورہ کی پہلی آیت میں کفار کے زعم باطل مقدار میں عطا فرمانے کی خوشخبری سنانے کے بعد اس کے لشکر کے طور دو چیزوں کی ہدایت کی گئی ، ایک نماز دوسرے قربانی ۔ نماز بدنی اور جسمانی عبادتوں میں سب سے بڑی عبادت ہے، اور قربانی مالی عبادتوں میں اس بنا پر خاص امتیاز رکھتی ہے کہ اللہ کے نام پر قربانی کرنا بت پرستی کے شعار کے خلاف ایک جہاد بھی ہے۔

سُنتِ ابراہیمی اب بھی باقی

صنم تراشی شب وروز کامشغلہ تھا۔خالق کا تصور مخلوق کی نگاہوں سے مٹ چکا تھا۔کفر و عصیاں کی راہ و رسم میں تمام تر لوگوں کا مزاج پختہ ہو چکا تھا۔لوگوں کی رگ رگ میں حجر و شجر کی چوکھٹ پے جبین ساء کاجنون بدرجہ اتم, اللہ کی سرزمین کو مکدر اور تیرہ و تار کر رہا تھا۔ادھر بھی تو ادھر بھی, اپنے اپنے معبودوں کے بے جان مجسموں کو خون آدم سے رنگا جا رہا تھا۔انگنت خود تراشیدہ اصنام کی کثرت کے باوجود ایک بے یقینی تھی,ہو کا عالم تھا،خوف و ہراس اور بے چینی تھی،حسرت و ملال کا ایک نہ تھمنے والا طوفان بد تمیزی اولاد آدم کے وجود کو عتاب الٰہی کی طرف بہائے جا رہا تھا،آسمان اس منظر کو دیکھ کر شرما رہا تھا مگر ابلیس اس تباہی و بربادی پے شادماں و فرحاں اپنے کاررندوں کی کارگزاری سے بدمست و مخمور،جشن منارہا تھا،اس لئے کہ تخلیق حضرت آدم اسکے ابدی تنزل اور ملعونیت کا سبب بنا تھا۔ادھر رحمت خداوندی جوش میں آگئی تو

قربانی کے اسرا ر و رموز

قربانی کیا ہے؟اپنی محبوب ترین چیز رضائے الٰہی کے لیے قربان کر دینے کا نام ہے۔قربانی کیا ہے؟ اللہ پاک کی منشا کے آگے اپنی خواہشات سے بے اختیار ہو جانے کا نام ہے۔قومیں قربانیوں سے زندہ رہتی ہیں۔گیہوں کا جو دانہ مٹی میں ملتا ہے اس سے ہزار دانے پیدا ہو جاتے ہیں  اور جو دانہ دستر خوان کی زینت بنتا ہے اس کا  انجام ایسی چیز پر ہوتا جو قابل ذکر نہیں۔مگر آج کل قربانی کی روح ماند پڑ گئی ہے۔خلوص،عند اللہ ماجوریت، ایثار،سخاوت اور بے نفسی کی جگہ ریا کاری، خود غرضی، بخل اور نفس پرستی نے لے لی ہے۔وا حزناہ وویلاہ۔۔  عید الاضحی کے موقع پر گراں جانور خریدنا رواج پا چکا ہے۔شاعروں کی طرح شعر پر تو نہیں مگر اپنے جانور کی تندرستی اور خوبصورتی پر لوگ دوسروں کی جانب سے داد و دہش کے خواہاں نظر آ رہے ہیں۔اس مقصد کے تحت ایک جانب جانور وں کو بغرض نمائش اذیت دی جارہی ہے تو دوسری جانب قربانی ج

تازہ ترین