غفلت سے بیدار ہوجا اے مسلمان | حال میں ذرا اپنی صورتِ حال تو دیکھ

انسانوں کے جو بھی مسائل ہوں چاہے وہ انفرادی ہوں یا اجتماعی ایک طرف مذہب اسلام نے اس کا سب سے بہتر حل پیش کیا ہے تو دوسری طرف حل تلاش کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے دل ودماغ عطا کیا ہے ۔جہاں تک مسلمانوں کا مسئلہ ہے تو ربّ کے قرآن اور نبیؐ کے فرمان پر عمل کے بغیر کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی ۔اسلام کی تعلیمات نے لوگوں کو ربّ کی بندگی کرنے اور انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ و رسولؐ کی غلامی کا احسن طریقہ بتایا ہے اور اسی پر عمل پیرا ہونا دونوں جہاں میں سرخروئی و کامیابی کی ضمانت ہے اور جو لوگ اس پر عمل پیرا ہیں وہ دونوں جہاں میں کامیاب ہیں۔ آج دنیا کی حرص اور ایک دوسرے پر دنیاوی سبقت حاصل کرنے کی دوڑ میں ہم اطیعو اللہ و اطیعو الرسول سے بہت دور ہوچکے ہیں اور دنیا کی کامیابی کو ہم نے اصل کامیابی سمجھ لیا ہے جبکہ دین کی خدمت کو چھوڑ کر، اسلام کی تعلیمات سے دور رہ کر ہم کبھی کامیاب ہوہی نہیں سکتے

ہمت ِمرداں | نوجوان محنت اور ہمت سے کام لیکر اپنے آپ پر یقین کرنا سیکھیں

پوری دنیا کے ساتھ ساتھ کشمیر کے متوسط گھرانوں کی اقتصادی حالت گذشتہ تین برس سے دگرگوں بنی ہوئی ہے۔ ایک طرف مہنگائی کا ا ژدہاپھن پھیلائے ہے اور دوسری طرف یہاںپرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے افراد کی کمائی میں مسلسل کمی واقع ہورہی ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ ہمارے یہاںپرائیویٹ سیکٹر نام کی چیز کبھی موجود تھی ہی نہیں بلکہ جس کو پرائیویٹ سیکٹر کہا جاتا ہے وہ چند سرمایہ داروں کی ذاتی جاگیریں تھیں اور وہ بھی اب معلوم اور نا معلوم وجوہات کی بنا پر اپنی سرگرمیوں کو محدود کئے ہوئے ہیں۔ان اداروں میں کام کرنے والوں کو کبھی انکی نوکری کا تحفظ حاصل نہیں تھا۔اب کیا مزدور اور کیا ہنر مند، 2019سے کشمیر میںنجی سیکٹر سے وابستہ ہر شخص حالات کی مار جھیل رہا ہے یہاں تک کہ اس سیکٹر کے مالکان یا سرمایہ کاروں کا حال سہما سہما ہے اور وہ جانے انجانے ایسے فیصلے لے رہے ہیں جن سے لگتا ہے کہ آنے والے وقت میں وہ غیر مقا

گجر بکروال خانہ بدوش قبائل | آو بتائیں تجھے کیسے جیتےہیں یہ لوگ

بلا شبہ گجر بکروال خانہ بدوش قبائل پسماندہ طبقہ میں شامل ہےاورآئین ِ ہند کی دفعہ 340 کی رو سے پسماندہ طبقوں کی فلاح وبہبود کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہےتاکہ اُن کی زندگی میں درپیش مصائب و مسائل کا کسی حد تک ازالہ ہوسکےاور انہیں بھی وہ بنیادی ضروریات مہیا ہوںکہ وہ بھی عام لوگوں کی طرح زندگی گزار سکیں۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ہر دور کی سیاسی پارٹیاں ہمیشہ ان خانہ بدوش قبائل کو محض ووٹ بینک کے طورپر استعمال کرتے رہے اوراِن کی باز آبادکاری یا راحت کاری کے لئے  کوئی کام نہیں کیا۔ہندوستان میں پہلا ’’پسماندہ طبقات کمیشن‘‘29 جنوری 1953ء کو صدارتی حکمنامے کے تحت ’’کاکا کیلکر‘‘ کی قیادت میں قائم ہوا تھا۔ جس نے 30 مارچ 1955ء کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی، جس میں 2399 پسماندہ طبقات،قوموں، قبائل یا برادریوں پر ایک مکمل رپورٹ درج کی گئ

بچوں سے پیار کیجیے لیکن رہے خیال

ایک بار میں اپنے ایک ایسے دوست کے یہاں کچھ دنوں کے لیے مقیم تھا جو بنیادی طور پربے حد شریف، پڑھے لکھے اور دیندار انسان ہیں،ان کے گھر کے دیگر افراد بھی سلجھے ہوئے اور سنجیدہ مزاج ہیں۔ ان کے یہاں قیام کو یہی کوئی دو تین روز ہی گزرے ہوں گے کہ میں نے ان کی مصروفیت اور ضرورت کے پیشِ نظر ان سے ایک روز کہا: آپ ایک بائک لے لیجیے، اس سے آپ کا بہت سارا کام آسان ہوجائے گا، کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ مسلسل بھاگ دوڑ میں رہتے ہیں۔ سماجی، فلاحی اور تجارتی ضرورتیں ہرپل آپ سے لپٹی رہتی ہیں، اسی لیے بلاتاخیر موڈ بنائیے، ان شااللہ میں بھی ساتھ رہوں گا،کسی طرح کی کوئی دقت نہیں ہوگی۔ میرے دوست کو بروقت یہ بات سمجھ میں آگئی، بالآخر کچھ دنوں بعد چمکتی ہوئی بائک ان کے دروازے تک پہونچ گئی، پھر کیا تھا، ضرورتوں کی رفتار بڑھ گئی اور ان کی روز مرّہ کی زندگی میں بھی ایک طرح سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ چمک

نوجوانوں کی معاشرتی علوم سے دوری کیوں؟ | روشن مستقبل کے لئے متحرک ہونے کی ضرورت

ملک و ملت کی معاشی ترقی اور خوشحالی میں نوجوانوں کا کردار ہر اول دستے کا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملت و معاشرے کا نوجوان علمی میدان میں کسی سے پیچھے نہیں۔ اس تحریر کے ذریعے میں ہمارے معاشرے میں سوشل سائنسز (معاشرتی علوم ) کی اہمیت اور اس سے منسلک نوجوانوں کا مستقبل بہت اہم ہے۔ سماجی علوم کا تعلق دراصل معاشرے کے سماجی رویوں اور ثقافتی پہلوؤں سے ہے۔  دنیا کے مختلف ممالک کی تاریخ ، قومی اور بین الاقوامی پسِ منظر میں سیاسی تعلقات، ملکی اور سماجی معیشت اور انسانی رویوں کے بارے میں سیکھنے کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ اگرچہ سائنس و ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی بہت اہمیت کے حامل موضوعات ہیں اور ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ میٹرک یا انٹر کے بعد ان ہی میں سے کسی فیلڈ کا چناؤ کرے، تاہم اگر غور کیا جائے تو معاشرتی علوم کی اہمیت و افادیت اس قدر ہے کہ فرسٹ ورلڈ کے ممالک اس کی تعلیم و ت

نوجوان نسل غلط راستو ں پر رواں دواں | گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

ہم نوجوانو ں کو یہ دنیا بہت پیاری لگتی ہے ۔دنیا والے ہمیں بہت عزیز ہیں ،دنیا کے دھندے ، رنگینیاں ،رونقیں ،رشتے ناتے سب بہت دل لبھانے والے ہیں مگر یہ دنیا اپنی تمام تر خوب صورتی کے باوجود قابلِ محبت نہیں ہے ۔یہ نہایت فریب کے ساتھ عروج وزوال کے کھیل کھیلتی ہے ۔یہ بے وفا کبھی کسی ایک کی نہ ہو سکی ،دنیا کی حقیقیت قرآن کے  نزدیک فقط اتنی ہے ،’’یہ دنیا کی زندگی چند روزہ فائدہ اٹھانے کی چیز ہے اور جو آخرت ہے وہی ہمیشہ رہنے والی ہے‘‘ ۔ اگر ہم دنیا کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو پتہ چلے گا کہ یہ زندگی کھیل تماشے کی جگہ نہیں ہے ،یہ وقت جو بغیر کسی وقفے کے گزرتا ہے ،یہ لمحے جو پل پل میں ختم ہو رہے ہیں ،یہ سانسیں جو لمحہ بہ لمحہ کم ہو رہی ہیں ،اگر ان کی حیثیت کو نظر میں رکھیں تو یہ تسلیم کرنے میں عار نہ ہو گی کہ زندگی کی قدر کرنی چاہیے ۔ اس زندگی کا وقت بھی انتہائی مخ

! مطالعہ کیسے کریں......؟ | مصنف کی تحریرذاتی تجربہ و مشاہدہ کے مطابق ہوتی ہے

کسی بھی تحریر یا تصنیف میں مصنف کے اپنے ذاتی خیالات ہوتے ہیں جو وہ مختلف حالات و واقعات سے اخذ کر کے سپرد قلم کرتا ہے۔ سپرد قلم کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جو تجربات و مشاہدات ایک مصنف اپنی تصنیف یا تحریر میں پیش کرتا ہے، وہ تجربات لوگوں تک پہنچ جائیں اور لوگ ان سے فائدہ حاصل کر سکیں۔مصنف جو کچھ لکھتا ہے ضروری نہیں وہ خیالات قاری کے ذہن میں ہوںاور کبھی کبھی ان خیالات سے قاری کا دور کا واسطہ بھی نہیں ہوتا کیوں کہ یہ ایک مصنف ہی ہے جو چھوٹی سی چھوٹی بات پر سوچ کر کچھ نیا اخذ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور پھر کامیاب بھی ہوجاتا ہے۔ اب جب ہم ان تحریروں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ناتجربی میں یعنی یہ جانے بغیر کہ مطالعہ کیسے کرتے ہیں، ہم کئی غلطیاں کرتے ہیں ،جن کی وجہ سے ہم مصنف کے اصل مقصد تک پہنچ نہیں پاتے۔ جو مقصد مصنف کے ذہن میں ہوتا ہے، اُن تجربات کو حاصل کرنے یا سمجھنے کے بجائے ہمارے ذہنوں میں

! طلاب میں مقصد تعلیم کا فقدان | قوم کے لئے تاریکی کا سبب

کسی بھی دور میں میں علم کی افادیت اور روحانیت سے انحراف نہیں کیا جاسکتا اور تعلیم ہمیشہ اس سماج کی زندہ دلی کا ثبوت دیتی ہے جہاں پہ تعلیم یافتہ نوجوان ہوں۔ تعلیم کے معنی اور اہمیت سے تو ہم سب لوگ واقف ہیں ہے۔ بچپن سے اب تک پڑھتے آ رہے ہیں کہ اصل میں تعلیم کا معنی کیا ہے ،اس کی اہمیت کیا ہے؟ اور اگر ہر کسی سماج  میںتو تعلیم ایک منفرد اور اعلی مقام رکھتی ہے۔ لیکن جو بات موجودہ سماج میں قابل لب کشائی اور قابل غور ہے تو وہ تعلیم کا مقصد ہے۔ تعلیم کے مقصد کے بارے میں کسی بھی جگہ بات نہیں ہو رہی ہے ، وہ ہمارے گھر کی چار دیواری ہو ، سماج کے مختلف شعبہ جات ہو یا ہمارے دنیاوی اور دینی درسگاہیں ہوں ، تعلیم کے اصل مقصد کا فقدان ہر جگہ نظر آرہا ہے۔ موجودہ دور میںکہیں بھی کوئی ایسا فرد نہیں مل پائے گا جو تعلیم حاصل کرنے سے انکار کرتا ہو ، خاص کر وہ قوم و ملت جس کے نبوت کا سلسلہ، جس کی وحی کا

تعلیم کا مقصدانسانی ذہن کی تشکیل | تعلیمی اداروں کو کھولنے میں انتظامیہ عاری کیوں؟

سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا۔۔(علامہ اقبال) اگر کامیابی کا راز کسی چیز میں پوشیدہ ہے تو وہ تعلیم اور علم حاصل کرنے میں ہے۔ پھر چاہے وہ دنیاوی کامیابی ہو یا دینی کامیابی، اس بات کا اعتراف تقریباً دنیا کا ہر ایک ذی شعور انسان کرتا ہے کہ ایک لاعلم اور اَن پڑھ انسان کو دنیا ایک نامکمل انسان سمجھتا ہے۔  اس انسان سے دنیا ویسا ہی سلوک کرتا ہے جیسے ایک گدھے کے ساتھ کیا جاتا ہے، غرض دنیا اس انسان کو بہت ہی چھوٹی نظر سے دیکھتا ہے۔  اگر بات ہم اپنے مذہب یعنی دین اسلام (جو کہ زندگی بسر کرنے کا بہترین اور مکمل طریقہ ہے) کی کرے تو اسلام میں تعلیم اور علم حاصل کرنے میں سخت طور پر تاکید و تلقین کیا گیا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنا جو پہلا پیغام و حکم اپنے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ

نوجوانوں کے سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے فوائید

کسی بھی قسم کی مثبت سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا نوجوانوں کو کافی فائدہ ہوتا ہے۔ والدین بھی اس حوالے سے بہت زیادہ سوچتے ہیں کہ انھیں اپنے بچوں کے لیے ایسے کیا کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بڑے ہوکر ترقی کریں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جب نوعمر افراد اپنی کمیونٹیز میں بامعنی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں تو وہ ترقی کی منازل طے کرتے ہیں۔جیسے جیسے بچے بڑے ہوتے ہیں وہ اپنے دوستوں، خاندان، کمیونٹی اور معاشرے کو زیادہ معنی خیز طریقوں سے جذباتی اور عملی مدد فراہم کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ دوسروں کے ساتھ حسن سلوک اور معاونت کرنے والا رویہ دراصل بچپن سے ہی فروغ پاتا ہے۔ نوعمری میں نوجوانوں کے خیالات اور سوچ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں آتی ہیں، ساتھ ہی ان کی جسمانی، علمی اور جذباتی صلاحیتیں یکجا ہوجاتی ہیں، جن کی بدولت وہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کو حقیقی فوائد پہنچانے میں اپن

غبارِحیات ۔دشت نوردئ ایام کی یادوں کا سنہرا مرقع

عربی کے معروف صحافی، ادیب، عربی ادبیات پر موسوعاتی گرفت رکھنے والے مؤرخ، ژرف نگاہ نقاد اور کئی یورپی زبانوں کے ماہر اور دسیوں مقبول عام کتابوں کے مصنف ڈاکٹر عمر فروخ کی خودنوشت سوانح کا خوبصورت ترجمہ موصول ہوا اور بقول فیض ایسا محسوس ہواجیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے۔ماہ اپریل میں جب وبا کی شدت، دہشت اور زندگی کی تمام اعلانیہ سرگرمیوں کی تالا بندی کے حکومتی فیصلے نے گھر کے نہاں خانہ میں پناہ گزین بنا دیا تھا۔ ایسے میں عمر فروخ کی آپ بیتی، زندگی کے تپتے ہوئے صحراء میں باد نسیم کی طرح فرحت بخش بن کر آئی۔ عمر فروخ اپنی متوازن شخصیت مضبوط کردار اور فکری خود مختاری کی بنا پر میرے انتہائی پسندیدہ ادباء میں سے ہے۔ اس کی خودنوشت کو اردو کے حسین قالب میں ڈھالنے والے ڈاکٹر شمس کمال انجم کا ارسال کردہ تحفہ جوں ہی موصول ہوا میں اس کی سرسری ورق گردانی میں لگ گیا۔ ارادہ تھا کہ اس کتاب کو

! قانون کابے جا استعمال ۔سپریم کورٹ کا اظہارِ تشویش | سوال کرنے والوں کو غدارِوطن تصور کیا جارہا ہے

جمہوریت کی آڑ میں جب من مانے نظام کی جڑیں مضبوط ہو نے لگتی ہیں تو حکمرانوں کا مزاج بھی نرالا بنتا جاتا ہے۔ آج ہندوستان میں کچھ ایسا ہی دکھائی دے رہا ہے ۔ملک کے دستوری اور قانونی اداروں کی آزادی اور ان کی غیر جابنداری مشکوک ہو تی جا رہی ہے۔ شہریوں کے حقوق اور ان کی آ زادیوں پر قدغن لگانے کی کوشش جا ری ہے۔ حکومت سے سوال کرنا یا کسی عوامی مسئلہ پر احتجاج کرنااب ملک سے غداری تصور کیا جا رہا ہے۔ مرکز ی حکومت اپنے ہی ملک کے شہریوں پر غداری کے اس قانون کو نا فذ کر رہی ہے جو بر طانوی حکمران تحریک آزادی کی جدوجہد کے دوران مجاہدین آ زادی کے خلاف استعمال کر تے رہے۔ ان حالات میں ملک کی عدلیہ نے اپنی دستوری ذ مہ داری نبھاتے ہو ئے حکومت سے سوال کیا کہ کیا ملک کی آ زادی کے 75سال بعد بھی برطانوی دور کے غداری کے قانون کو دستور میں رکھنا ضروری ہے۔ 15؍ جولائی 2021کو چیف جسٹس این وی رمنا کی زیر قیا

شاہ عبداللہ پر پھر امریکی نظرِ عنایت

جارڈن کے شاہ عبداللہ جنھیں کہ گزشتہ امریکی انتظامیہ نے بالکل حاشیہ پر رکھ دیا تھا، وہ ایک مرتبہ پھر امریکہ کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ اور دیگر مسلم مسائل پر صدر بائیڈن کے ساتھ کام کرتے نظر آئیں گے۔ شاہ عبداللہ عرب سربراہان میں پہلیقائد ہیں جنھیں امریکی انتظامیہ نے صدر جو بائیڈن سے ملاقات کے لیے واشنگٹن مدعو کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات گزشتہ ہفتے19جولائی کو عمل میںآئی۔ تاریخی طور پر امریکہ اور جارڈن کے تعلقات ہمیشہ نہایت قریبی اور دوستانہ رہے ہیں۔ ملاقات کے بعد صدر بائیڈن نے شاہ عبداللہ کو ایک مہذب اور قریبی دوست قرار دیا۔ گو کہ صدر بائیڈن کی خارجہ پالیسی کا محور چین اور روس تصور کیے جاتے ہیں، لیکن انھیں بھی یہ معلوم ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ اور عرب سیاست کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔ نئی انتظامیہ نے اب تک جو اشارے دیے ہیں ان کے مطابق وہ چاہتا ہے کہ علاقائی سیاست اور عرب- اسرائیل تنا

آکسیجن کی کمی،موت کا سبب،45دنوں میں500لوگ مرے ؟

یہ سچ ہے کہ کروناوبا کے دوسرے دور کا زور کچھ ٹوٹا ہےاور ملک نے راحت کی سانس لی ہے۔ اپریل اور مئی کے اخبار اٹھا کر دیکھ لیں توشائد ہی کوئی دن گذرا ہو جب آکسیجن نہ ملنے سے ہوئی اموات کا تذکرہ نہ ہو۔ آکسیجن کی حصولیابی کے لئےلوگ ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال کی طرف بھاگ رہے تھے اور سڑکوں پر غش کھا کر گر رہے تھے۔ آکسیجن نہ ہونے کی وجہ سے اسپتال مریضوں کو داخل کرنے سے انکار کر رہے تھےاورلوگ اپنے پیاروں کی جان بچانے کے لئے آکسیجن سلنڈر کے لئے لمبی قطاروںمیں لگ رہے تھے۔ ایسے میں کچھ خود غرض لوگ وزیر اعظم کے مشورے ’ آپدا میں اوسر‘ پر عمل کرتے ہوئے کرونا وبا کے علاج کے لئے ضروری انجکشن، دوائوں اور آکسیجن سلنڈر کی قیمت کئی گنا وصول کر رہے تھےاور اسپتالوں کی تو گویا لاٹری ہی نکل آئی تھی۔ چند روز کے علاج ، جس میں اکثر مریض کی موت ہی واقع ہو جاتی تھی، ا سپتال کئی کئی لاکھ کے بل تھما

گنجے پن سے نجات پانے کا علاج | علامات ،تحفظ ا ور تدارک

گنج پن مردوں کا ایسا مسئلہ ہے جو بہت عام اور ان کی ذہنی صحت کو پریشان کردینے والا ہوتا ہے مگر اب لگتا ہے کہ سائنسدانوں نے اس کا انتہائی آسان علاج ڈھونڈ نکالا ہے، جس کے لیے پیوند کاری کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔ یہ دعویٰ جاپان میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آیا۔ جاپان کی یوکو ہاما نیشنل یونیورسٹی کی تحقیق میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس میں فرنچ فرائز میں استعمال ہونے والا ایک کیمیکل گنج پن کا علاج ثابت ہوسکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق سیلیکون میں پائے جانے والا کیمیکل Dimethylpolysiloxane، جسے فرنچ فرائز بنانے کے لیے تیل میں شامل کیا جاتا ہے، گنج پن سے نجات دلا کر بالوں کو قدرتی طور پر اگاتا ہے۔ تحقیق کے دوران جب چوہوں پر اس کیمیکل کو استعمال کیا گیا تو بالوں کے غدود زیادہ بننے لگیں اور بال دوبارہ اگنا شروع ہوگئے۔ ابتدائی ٹیسٹ سے عندیہ ملا کہ یہ طریقہ کار ان

واٹس ایپ کا گروپ کالز میں آسانی کیلئے نیا فیچر متعارف | ویڈیو کالز میں لوگوں کی تعداد 4 سے بڑھا کر 8 کردی

مقبول ترین میسجنگ ایپ 'واٹس ایپ نے دنیا بھر میں ایک دوسرے سے رابطے کے لیے استعمال ہونے کے لیے گروپ کالز کے لیے نیا فیچر متعارف کرادیا ہے کہ اب صارفین کوئی بھی گروپ کال مِس نہیں کرسکیں گے۔واٹس ایپ کی جانب سے گروپ کالز سے متعلق صارفین کے لیے آسانیاں لاتے ہوئے اپنے بلاگ میں کہا گیا کہ ایک ایسے وقت میں جب ہم میں سے بہت سے لوگ ایک دوسرے سے دور ہیں، ایسے میں دوستوں اور اہلخانہ کے ساتھ ایک گروپ کال پر اکٹھے ہونے سے بہتر کوئی اور چیز نہیں ہے۔تاہم اس دوران اس سے زیادہ تکلیف دہ احساس کوئی نہیں جب آپ کسی خاص لمحے سے محروم رہ جائیں۔ واٹس ایپ کی جانب سے بلاگ پوسٹ میں کہا گیا کہ جیسے جیسے گروپ کالز کی مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے، سیکیورٹی اور اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن فراہم کرتے ہوئے صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے پر کام کیا جارہا ہے۔میسجنگ ایپلی کیشن کی جانب سے کہا گیا کہ اب کوئی گروپ کال شروع ہ

ورچوئل رِیلِٹی ۔تصورات کو حقیقت کو روپ دے رہا ہے

ٹیکنالوجی نے عالمی معیشت کی کئی صنعتوں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ایسی ہی ایک جدید ٹیکنالوجی کا نام ورچائل ریالٹی ہے۔ ورچوئل ریالٹی کے باعث دنیا اس وقت جن فوائد سے مستفید ہورہی ہے، چند برس پہلے ان کا تصور بھی محال تھا۔ اگر تعمیراتی صنعت کی بات کریں تو ورچوئل ریالٹی کی وجہ سے اب آپ، ایک تعمیراتی پروجیکٹ کے مکمل ہونے سے پہلے ہی اس کی سیر کرسکتے ہیں اور ایک اینٹ رکھے جانے سے پہلے پروجیکٹ کا مکمل انٹیریئر دیکھ سکتے ہیں۔ ورچوئل ریالٹی نے اب ممکن بنادیا ہے کہ آرکیٹیکٹ اور کلائنٹ حقیقی معنوں میں ایک پروجیکٹ کے ڈیزائن پر شراکت دار کے طور پر کام کرسکیں۔ اس سلسلے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ، جیسے جیسے تعمیراتی ادارے ورچوئل ریالٹی کے شعبےمیں اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرتے جائیں گے، اس جدید ٹیکنالوجی کے فوائد میں بھی اضافہ ہوگا۔ Enscapeنامی ایک انقلابی ’ریئل ٹائم رینڈرنگ ‘ سوفٹ ویئر ورچوئل

راجہ یوسف کی افسانہ نگاری

  راجہ یوسف کشمیر کے اسلام آباد ضلع اننت ناگ سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ ضلع میٹھے چشموں‘ صحت افزا مقام ’’پہلگام‘‘ اور دریائے جہلم کے منبع’’ ویری ناگ‘‘ کی بدولت کافی مشہور ہے۔راجہ یوسف افسانہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ تھیٹر آرٹسٹ اور ڈراما نگار بھی ہیں۔اردو اور کشمیری میں لکھتے ہیں۔کشمیری زبان میںان کی ایک اہم ضخیم کتاب’’ویتھ‘‘ کے نام سے ۲۰۱۷؁ء میںمنظر عام پر آئی ہے‘جسے ادبی حلقوں میں کافی پزیرائی ملی۔ اس کتاب میں کشمیر کے اہم تاریخی واقعات کو تخلیقی پیرایہ میں تمثیلی روپ دیا گیاہے جوکہ ایک تو قاری کو کشمیر کی تاریخ سے متعلق جستہ جستہ واقفیت بہم پہنچاتاہے اور دوسرا تمثیلی اسلوب کی دلکشی سے بھی نواز تا ہے۔ تاریخی واقعات کو تمثیلی یا ڈرامائی روپ دینا اور تخلیقی پیکر میں ڈالنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ یہ فنکا

خانہ بدوش لوگوں کی بدحالی | وجوہات اور تدارک

خانہ بدوش جو حرف عام میں بکروالوں کے نام سے جانے جاتے ہیں  جموں وکشمیر کے پشتنی باشندے ہیں اور تقریباً ہر ضلعے میں پائے جاتے ہیں ۔پہاڑوں ،ڈھوکوں ،مرگوں ،دروں اور چراگاہوں سے جونہی برف پگھلتی ہے تو یہ لوگ جموں کے مختلف اضلاع خاص کر راجوری ،ریاسی ،پونچھ اور ادھمپور  سے  مال مویشی سمیت وادی کشمیر کی طرف رخ کرتے ہیں ۔بیشتر لوگ دشوار ترین  پہاڑی راستوں سے گزر کر وادی کشمیر کی مرگوں اور ڈھوکوں میں وارد ہوتے ہیں ۔ان کا یہ سفر کوئی تفریح نہیں بلکہ مجبوری ہوتی ہے ۔یہ لوگ غربت کے شکار تو ہوتے ہی ہیں ساتھ ہی بیکار بھی ۔ ان کی بدحالی اور کسمپرسی ہماری سوچ سے زیادہ ہے ۔بھیڑ، بکریاں ، گھوڑے ،بھینس وغیرہ رکھنا کوئی آسان کام نہیں ہے کیونکہ ان چوپایوں کے لئے غذا کی فراہمی ہمیشہ ایک چلینج بنا رہتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ انہیں سال بھر جگہ جگہ گھومنا پڑتا ہے ۔مال مویشی کو ڈھوکوں اور بہ

سود کی ممانیت اور تباہ کاریاں

ابن ماجہ اور اصبحانی کی ایک روایت جو امامہ غزالی نے اپنی شہر آفاق کتاب مکاشفتہ القلوب میں بھی نقل کی ہے کے مطابق حضور ﷺ کے ایک فرمان میں یہ وضاحت فرمائی گئی کہ معراج کی رات جب ہم ساتویں آسمان پر پہنچے تو میں نے اوپر دیکھا تو مجھے گرج بجلیاں اور شدید اور تند اندھیاں نظر آئیں ۔ پھر میں ایسے لوگوں کے پاس پہنچا جن کے پیٹ مکانوں کی طرح تھے اور باہر سے جھانک کر ان کے پیٹوں میں سے سانپ نظر آرہے تھے۔ جبرئیل ؑ سے دریافت کیا کہ یہ کون لوگ ہیں جبر ئیل ؑ نے فرمایا یہ سود خور ہیں ابو سعید خدری ؓ کی ایک اور روایت جو اصبحانی سے نقل کی گئی ہے میں کہا گیا کہ حضور ﷺ نے فرمایا جب مجھے آسمانوں کی سیر کرائی گئی تو آسمانی دنیا میں دیکھا کہ وہاں پر ایسے آدمی ہیں جن کے پائوں بڑے بڑے مکانوں کی طرح ہیں اور جھُکے ہوئے تھے ال فرعون کی گذرگاہ میں پڑے ہوئے تھے اور ہر صبح و شام جہنم کے کنارے پر کھڑے ہوکر کہتے

تازہ ترین