تازہ ترین

وبائی بیماریوں کی قہر سامانیاں

جب بھی دنیا میں وبائی بیماریاں زور پکڑتی ہیں تو کارخانۂ قدرت سے بھی صدائے کن فیکون سے پوری دنیا متزلزل ہوجاتی ہے۔آفات، مصائب یا مشکلات اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے ناراض ہوکر ہی نازل کرتا ہے،اور اپنے نیک بندوں کو بھی آزماتا ہے تاکہ وہ اپنے رب کے سامنے گڑگڑ ائے اور منکسرالمزاج ہوکر بارگاہِ الٰہی میں اپنی التجائیں پیش کریں تاکہ اللہ راضی ہوسکے۔اللہ کو اپنے بندوں کی آہ وزاری نہات ہی پسند آتی ہے اورجب بندہ صرف اسی ذات کو اپنی دردبھری ندائواں سے التجاکرتا ہے تو رب کریم جلال میں اسے درگزر فرماتاہے۔ بندہ جب جب بھی روگردانی کی حالت میں ہوتا ہے تو اس وقت اللہ تعالیٰ اسے سبق سکھانے کا عمل شروع کرتا ہے۔ خدائے بزرگ و برتر اس انسان کو پہلے ڈھیل دیتا ہے ، کھلی چھوٹ دیتا ہے، اپنے من مانی کرنے میں اسے ایک دم پکڑتا نہیں البتہ اپنا شکنجہ ہروقت اس انسان کے لئے تیاررکھتا ہے جو اپنی برائیوں ، بدیوں ، ظلم

جہلم کی رعنائیاں کہاں گئیں؟

ارض کشمیر پر رب العالمین کی کچھ خاض نظرِ عنایت ہوئی ہے۔ یہاں کی خوبصورتی کی نظیر نہیں ملتی۔ ہر ایک شئے میں اللہ کے وجود کا ظہور نمایاں نظر آتا ہے۔یہاں کی خوبصورتی کو اور نکھارنے اور سنوارنے میں دریائے جہلم اپنا ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔دریائے جہلم کا آغاز ویری ناگ سے ہوتا ہے اور بہت سے مراحل طے کر کے دریائے چناب (پاکستان) سے جا ملتا ہے۔ دریائے جہلم کے کنارے صدیوں سے آباد بستیاں ہر روز اس دریا کا مشاہدہ کس نہ کسی صورت میں کرتی رہتی ہیں اور اس کی اہمیت و افادیت سے زیادہ تر یہی لوگ واقف ہیں۔ آج بھی ایک وسیع آبادی کا حصہ دریائے جہلم سے فیضیاب ہورہا ہے وہ چاہے پانی کی صورت میں ہو یا ذریعہ معاش کی صورت میں۔ میں بھی اْن خوش بختوں میں سے ہوں جنہوں نے اپنا بچپن دریائے جہلم کے گردونواح میں گزارا ہے اور آج بھی بہت ساری یادیں میرے ذہن میں گردش کر رہی ہیں۔ ماضی میں وقت گزارنے کا ایک حس

ذاکر فیضی کی افسانوی کائنات

ذاکر فیضی اب اردو ادب میں ایک جانا پہچانا نام ہے۔ وہ تقریباََ پچھلی دو دہائیوں سے افسانے لکھ رہے ہیں اور یہ افسانے ملک و بیرون ملک کے موقر رسالوں میں چھپ رہے ہیں۔ متعدد نقادوں و لکھاریوں نے ذاکر فیضی کے فن کی تعریف کی ہے اور انہیں نوجوان نسل کا ایک اہم افسانہ نگار قرار دیا ہے۔  حال ہی ذاکر فیضی کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’نیا حمام ‘‘ کے عنوان سے چھپ چکا ہے ۔اس مجموعے میں پچیس افسانے شامل ہے۔ ان افسانوں کو پڑھ کر مجھے محسوس ہوا کہ ذاکر فیضی کے یہاں نہ صرف موضوعات کی جدت پائی جاتی ہے بلکہ وہ افسانے کے فن سے بھی اچھی طرح واقف ہیں لیکن ابھی ان کا سفر تکمیل کو نہیں پہنچا ہے اور ابھی ان کے فن میں پختگی آناباقی ہے۔لیکن بات یہ ہے کہ ذاکر فیضی برابر لکھ رہے ہیں اور نئے نئے تجربے کر رہے ہیں۔انہوں نے نئے اور اچھوتے موضوعات کو اپنے افسانوں میں برتا ہے ۔ آج کے انس

نظر اور نظریہ

لے دے کے اپنے پاس فقط اک نظر تو ہے  کیوں دیکھیں زندگی کو کسی کی نظر سے ہم (ساحر لدھیانوی) کائنات کا مظاہرہ کرنے کے لیے اورفطرت کی بنائی گئی خوبصورت دنیا کو دیکھنے کی خاطر نگاہ یا نظر کا ہونا ضروری ہے ۔نظر کا تقاضا یہی ہے کہ یہ نظارہ قائم کر سکے اور نظارہ خود میں فطرت کا بے انتہا مظاہرہ رکھتا ہے جس کی لا تعداد وسعتیں کبھی تصویر جاناں کا روپ دھارلیتی ہے تو کبھی خیالات کی حسین وادیاں پیدا کرتی ہیں جن سے عام نظر یا نگاہ کا سفر نظریہ اور نظریات کی وسعی و عریض جہاں میں مسکن ڈالتی ہے جس کی نہ کوئی صورت ہوتی نہ ہی کوئی سیرت جو نہ کوئی خاکہ کھینچتی ہے اور نہ ہی کوئی ڈراما کھیلتی ہے ۔اس کے کھیلنے کا ہنر بھی نرالا ہے جو خیالات کی تمام دہلیزیںپار کر جاتا ہے تو زندگی کی نئی تعبیریں سامنے آتیں ہیں جن کی گہری نسبت انسانی مزاج، اس کی دانشمندی، اس کی بزلہ سنجی اور اسی طرح کے مختلف لسا

اقبال ؒ اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم

کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں  یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں شاعر مشرق و حکیم الامت اور فخر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کے نام سے کون شخص واقف و آشنا نہیں ہوگا۔ آپ کا نام اتنا مشہور و معروف ہے کہ چھوٹے بچے بھی نام اقبال سماعت کر کے ہی اپنے اذہان کو اقبالؒ کے ساتھ منسلک کرتے ہیں۔ آپ کی شخصیت اتنی عظیم و ارفع ہے کہ خود بقول اقبال  ؎  ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے   بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا چونکہ ہم سب اس بات سے واقف ہیں کہ علامہ اقبال ایک دیندار گھرانے میں پیدا ہوئے اور آپ کی زندگی کا ڈھانچہ جن اشخاص کے زیر سایہ تشکیل پذیر ہوا ہے، وہ سب کے سب محب دین اور متقی و پرہیز گار تھے۔ آپ کے والدین(شیخ نور محمد اور امام بی بی) اور اولین استاد مولوی میر حسن آپکی متقی و دین پسند زندگی میں بہت اہم ہیں۔ جب